تازہ ترین

ستمبر2014 کاتباہ کن سیلاب: پانتہ چھوک کے دکاندار 4برسوں سے امدادکے منتظر

10 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر// وادی میں آئے تباہ کن سیلاب کے4سال گزر جانے کے بعد بھی متاثر ہوئے پانتہ چھوک کے تاجروں نے سرکار کی طرف سے انہیں نظر انداز کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔کشمیر عظمیٰ دفتر پر آئے دکانداروں کے ایک وفد نے بتایا کہ2014میں آئے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے پانتہ چھوک میں تاجروں کو کافی نقصان سے دو چار ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں سرکار نے تاجروں کو معاوضہ و امداد فراہم کرنے کا اعلان کیاجو اعلان تک ہی محدود رہا۔تاجروں کا کہنا تھا کہ تمام دستاوزیزات اور دیگر ضروری کاغذات کو جمع کرنے کے علاوہ انتظامیہ نے دکانداروں کو ہوئے نقصانات کا جائزہ بھی لیاتاہم صرف منظور نظر تاجروں کو ہی امداد دی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی50کے قریب ایسے چھوٹے دکاندار ہیں،اور بقول انکے جنہیں اثر ورسوخ حاصل نہیں تھا،کو 4 برس گزر جانے کے باوجود بھی امداد فراہم نہیں کی گئی۔انہوںنے مزید بتایا کہ اس حوالے سے کئی بار انتظامیہ کی نوٹس میں یہ بات لائی گئی،تاہم اس کے باوجود بھی سرکاری افسران نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر انہیں مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔تاجروں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں۔