تازہ ترین

صبغے اینڈ سنز

2 قسط

10 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

مشتاق۱حمد یوسفی
ہر  چند کہ ان کا روئے سخن اپنی ہی طرف تھالیکن ایک دوسرے صاحب نے (جو خیر سے صاحب دیوان تھے اور روزانہ اپنے دیوان کی بکری کا حال پوچھنے آتے اور اردو کے مستقبل سے مایوس ہوکر لوٹتے تھے) خود کو اس اسامی کے لئے پیش ہی نہیں کیا بلکہ شام کو اپنے گھر واپس جانے سے بھی انکار کردیا ۔یہی صاحب دوسرے دن خزانچی جی کہلائے جانے لگے۔صورت سے سزا یافتہ معلوم ہوتے تھے اور اگر واقعی سزا یافتہ نہیں تھے تو یہ پولیس کی عین فرض ناشناسی تھی۔بہر حال یہاں ان کی ذات سے خیانت مجرمانہ کا کوئی خدشہ نہ تھا کیونکہ دوکان کی ساری بکری مدتوں سے اُدھار پر ہورہی تھی ۔یوں تو دوکان میں پہلے دن سے ہی ’’آج نقد کل ادھار‘‘کی ایک چھوڑتین تین تختیاں لگی تھیں مگر ہم دیکھتے چلے آرہے تھے کہ وہ کل کا کام آج ہی کر ڈالنے کے قائل ہیں،پھر یہ کہ قرض پر کتابیں بیچنے پر ہی اکتفا کرتے تو صبر آجاتالیکن آخر میں یہاں تک سننے میں آیا کہ بعض گاہک ان سے نقد روپے قرض لے کر پاس والی دوکان سے کتابیں خریدنے لگے ہیں۔
میں موقع کی تلاش میں تھا ،لہٰذا ایک دن تخلیہ پاکر انہیں سمجھایا کہ بندہ ٔخدا! اگر قرض ہی دینا ہے تو بڑی رقم قرض دو تاکہ لینے والے کو یاد رہے اور تمہیں تقاضا کرنے میں شرم نہ آئے۔یہ چھوٹے چھوٹے قرضے دے کر خلق خدا کے ایمان اور اپنے اخلا ق کی آزمائش کاہے کو کرتے ہو؟میری بات ان کے دل کو لگی۔دوسرے ہی دن خزانچی جی سے نا دہندہ خریداروں کی مکمل فہرست حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب کرائی اور پھر خود ہی اسی ترتیب سے اُدھار وصول کرنے کا پنچ روزہ منصوبہ بنا ڈالا لیکن الف ہی کی ردیف میں ایک ایسا ناہنجار آن پڑا کہ چھ مہینے تک ب سے شروع ہونے والے ناموں کی باری نہیں آئی۔میں نے یہ نقشہ دیکھا تو پھر سمجھایا کہ جب یہ حضرات تمہارے پاس حروف تہجی کی ترتیب سے قرض لینے نہیں آئے تو تم اس ترتیب سے وصول کرنے پر کیوں اَڑے ہوئے ہو؟سیدھی سی بات تھی مگر وہ منطق پر اُتر آئے ۔کہنے لگے اگر دوسرے بے اصول ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں بھی بے اصولا ہوجائوں۔دیکھتے نہیں اسکول میں غیر حاضر ی کے وقت بچوں کے نام حروف تہجی کی ترتیب سے پکارے جاتے ہیں مگر بچوں کو اسی ترتیب سے پیدا یا پاس ہونے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔ بولتے کیوںنہیں؟‘‘اس کے باوجود میری نصیحت کا اتنا اثر ضرور ہوا کہ اب کتاب اُدھار نہیں بیچتے تھے ،تحفتاً دیا کرتے تھے ۔کہتے تھے جب رقم ڈوبنی ہی ہے تو پھر ثواب سے بھی کیوں محروم رہوں؟اُدھر کچھ عرسے سے انہوںنے بہی کھاتے لکھنا بھی چھوڑ دیا تھا ،جس کا یہ معقول جواز پیش کرتے کہ میں نقصان مایہ میں جان کے زیاں کا اضافہ نہیں کرنا چاہتا ،مرزا ؔنے یہ لٹس مچتی دیکھی تو ایک دن پوچھا :’’آج کل تم حکومت کے فرائض کیوں انجام دے رہے ہو؟‘‘
’’کیا مطلب ؟‘‘
’’تم نے قوم کی مفت تعلیم کا ذمہ کیوں لے رکھا ہے؟‘‘
اب ان کے چہرے پر دانائی کی وہ چھوٹ پڑنے لگی جو عموماً دوالیہ نکلنے کے بعد طلوع ہوتی ہے ۔مرزا ؔکا خیال ہے کہ جب تک دو تین دفعہ دوالیہ نہ نکلے ،آدمی کو دوکانداری کا سلیقہ نہیں آتا ۔چنانچہ اس مبارک بادی کے بعد وہ بجھ سے گئے اور ہر شئے میں اپنی کمی محسوس کرنے لگے ۔وہ دائمی (Built -in)مسکراہٹ بھی غائب ہوگئی اور اب وہ بھول کر کسی گاہک سے سیدھے منہ بات نہیں کرتے تھے۔مبادا وہ ادھار مانگ بیٹھے۔اکثر دیکھا کہ جونہی گاہک نے دکان میں قدم رکھا اور انہوں نے کھرک کر پوچھا :’’کیا چاہئے؟‘‘ایک دن میں نے بڑبڑایا ’’اندھے کو بھی نظر آتا ہے کہ کتابوں کی دکان ہے ،پھر تم کیوں پوچھتے ہو ’کیا چاہئے‘‘۔فرمایا :’’کیا کروں ،بعضے بعضے کی صورت ہی ایسی ہوتی ہے کہ یہ پوچھنا پڑتا ہے ۔‘‘کتابیںرکھنے کے گناہ گار ضرور تھے ، طوعاً و کرہاًبیچ بھی لیتے تھے ’’لیکن عیار طبع خریدار دیکھ کر‘‘
ان کے نک چڑھے پن کااندازہ اس واقعے سے ہوسکتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص پوچھتا ہوا آیا: ’’لغت ہے؟‘‘لغت کا تلفظ اس نے لطف کے وزن پر کیا ۔انہوں نے نتھنے پھلاکر جواب دیا :’’اسٹاک میں نہیں ہے۔‘‘ووہ چلا گیا تو میں نے کہا :یہ سامنے رکھی تو ہے ، تم نے انکار کیوں کردیا ؟کہنے لگے :’’ یہ! یہ تو لغت ہے ۔پھر یہ بھی کہ اس بچارے کا کام ایک لغت سے تھوڑا ہی چلے گا ۔‘‘ہاں ! تلفظ پر یاد آیا کہ اس دور ِابتلاء میں انہوں نے دوکان میں ایک ازکارِ رفتہ ریڈیو رکھ لیا تھا، اُسی کو گود میں لئے گھنٹوں گڑگڑاہٹ سنا کرتے تھے ،جسے دو مختلف ملکوں کے موسم کا حال کہا کرتے تھے ۔بعد میں مرزاؔ کی زبانی غایت سمع خراشی یہ معلوم ہوئی کہ اس ریڈیائی دمے کی بدولت کم از کم گاہکوں کی غلط اردو تو سنائی نہیں دیتی۔
یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیںکہ کتب فروشوں کو ہر کتاب پر اوسطاً تیس چالیس فیصد کمیشن ملتا ہے ۔بلا کدو کاوش ،جس پیشے میں منافع کی یہ شرح عام ہو اس میں دوالیہ نکالنے کے لئے غیر معمولی دل و دماغ درکار ہیں اور وہ ایسے ہی دل و دماغ کے مالک تھے۔اپنی حسابی صلاحیتوں کا دستاویزی ثبوت وہ اس زمانے ہی میں دے چلے تھے ،جب سہ ماہی امتحان کی کاپی میں وہ اپنا نام ’’شیخ صبغت اللہ ‘‘لکھتے اور غیر سرکاری طور پر محض صبغے کہلاتے تھے ۔اسی زمانے سے وہ اپنے اس عقیدے پر سختی سے قائم ہیں کہ علم الحساب در حقیقت کسی متعصب کافر نے مسلمانوں کو آزار پہنچانے کے لئے ایجاد کیا تھا ۔چنانچہ ایک دن یہ خبر سن کر بڑی حیرت ہوئی کہ رات ان پر علم الحساب ہی کے کسی قاعدے کی رُو سے یہ منکشف ہوگا ۔منافع کی یہ اندھا دُھند شرح سن کر مرزاؔ کے بھی منہ میں پانی بھرآیا ۔لہٰذا نزدیک ترین گلی سے صبغے کے پاس وہ گھوم کر پہنچے،جس کی مدد سے وہ بھی اپنے پرانے کونوں کی دوکان میں تالہ ٹھونک کرفی الفور اپنے دلدر دور کرلیں۔
صبغے نے کان میں لگی ہوئی پنسل کی مدد سے اپنے فارمولے کی جو تشریح کی اس کا لب لباب سلیس اردو میں یہ ہے کہ اب تک ان کا یہ معمول رہا کہ جس دن نئی کتابیں خرید کر دوکان میں لگاتے ،اسی دن ان پر ملنے والی چالیس فیصد منافع کا حساب (قریب ترین پائی تک)لگاکر خرچ کر ڈالتے لیکن جب یہ کتابیں سال بھر تک دوکان میں پڑی بھٹکتی رہتیں تو ’’کرسمس سیل‘‘میں ان گنج ہائے گراں مایہ کو پچاس فیصد رعایت پر فروخت کر ڈالتے اور اس طرح اپنے حساب کی رُو سے ہر کتاب پر نوے فیصد ناجائز نقصا ن اٹھاتے لیکن نیا فارمولہ دریافت ہونے کے بعد اب وہ کتابیں یکسر فروخت ہی نہیں کریں گے ،لہٰذا اپنی اس حکمت عملی سے نوے فیصد نقصان سے صاف بچ جائیں گے اور یہ منافع نہیں تو کیا ہے؟
کتب فروشی کے آخری دور میں جب ان پر پیمبری وقت پڑا تو ہر ایک گاہک کو اپنا مالی دشمن تصور کرتے اور دوکان سے اس کے خالی ہاتھ جانے کو اپنے حق میں باعث خیر و برکت گردانتے ۔ہفتے کو میرا دفتر ایک بجے بند ہوجاتا ہے ۔واپسی میں یوں ہی خیال آیا کہ چلو آج صبغے کی دکان میں جھانکتا چلوں ۔دیکھا کہ وہ اونچے سٹول پر پیر لٹکائے اپنے قرض داروں کی فہرستوں سے ٹیک لگائے سو رہے ہیں ۔میں نے کھنکار کر کہا ۔’’قیلولہ۔۔۔۔؟‘‘
’’اسٹاک میں نہیں ہے ۔‘‘آنکھیں بند کئے کئے بولے۔یہ کہہ کر ذرا گردن اُٹھائی ۔ چندھیائی ہوئی آنکھوں سے اپنی داہنی ہتھیلی دیکھی اور پھر سوگئے۔داہنی ہتھیلی دیکھنا ان کی پرانی عادت ہے جسے زمانہ طالب علمی کی یاد گار کہنا چاہئے ۔ہوتا یہ تھا کہ دن بھر خوار و خستہ ہونے کے بعد وہ رات کو ہوسٹل میں کسی نہ کسی کے سر ہوجاتے کہ صبح تمہارا منہ دیکھا تھا ۔ چنانچہ ان کے کمرے کے ساتھی اپنی بدنامی کے خوف سے صبح دس بجے تک لحاف اوڑھے پڑے رہتے اور کچھوے کی طرح گردن نکال نکال کر دیکھتے رہتے کہ صبغے دفع ہوئے یا نہیں۔جب اپنے بیگانے سب آئے دن کی نحوستوں کی ذمہ داری لینے سے یوں منہ چھپانے لگے تو صبغے نے ایک ہندو نجومی کے مشورے سے یہ عادت ڈالی کہ صبح آنکھ کھلتے ہی شگون کے لئے اپنی دائیں ہتھیلی دیکھتے اور دن بھر اپنے آپ پر لعنت بھیجتے رہتے ۔پھر تو یہ عادت ہی ہوگئی کہ نازک و فیصلہ کن لمحات میں مثلاً اخبار میں اپنا رول نمبر تلاش کرتے وقت ،تاش پھینٹنے کے بعد اور کرکٹ کی گیند پر ہٹ لگانے سے پہلے ایک دفعہ اپنی داہنی ہتھیلی ضرور دیکھ لیتے تھے ۔جس زمانے کا یہ ذکر ہے ان دنوں ان کو اپنی ہتھیلی میں ایک حسینہ صاف نظر آرہی تھی جس کا جہیز بمشکل ان کی ہتھیلی میں سما سکتا تھا ۔الماریوں کے اَن گنت خانے جو کبھی ٹھساٹھس بھرے رہتے تھے ،اب خالی ہوچکے تھے جیسے کسی نے بھٹے کے دانے نکال لئے ہوں ،مگر صبغے ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے والے نہیں تھے ۔چنانچہ اکثر دیکھا کہ ظہر سے عصر تک شیشے کے شو کیس کی فرضی اوٹ میں اپنے خلبرے چچہیرے بھائیوں کے ساتھ سر جوڑے فلش کھیلتے رہے ۔ان کا خیال تھا کہ جوا اگر قریبی رشتہ داروں کے ساتھ کھیلا جائے تو کم گناہ ہوتا ہے ۔رہی دوکانداری تو وہ ان حالوں کو پہنچ گئی تھی کہ تاش کے پتوں کے سوا اب دکان میں کاغذ کی کوئی چیز نہیں بچی تھی ۔گاہکوں کی تعداد اگرچہ تگنی چوگنی ہوگئی مگر مول تول کی نوعیت قدرے مختلف ہوتے ہوتے جب یہ نوبت آگئی کہ راہ چلنے والے بھی بھائو تائو کرنے لگے تو خزانچی نے خاکی گتے پر ایک نوٹس نہایت پاکیزہ خط میں آویزاں کردیا ۔’’یہ فرنیچر کی دوکان نہیں ہے۔‘‘
یاد رہے کہ ان کی نصف زندگی ان لوگوں نے تلخ کردی تو قرض پر کتابیں لے جاتے تھے اور بقیہ نصف زندگی ان حضرات نے تلخ کررکھی تھی جن سے وہ قرض لے بیٹھے تھے ۔اس میں شبہ نہیں کہ ان کی تباہی میں کچھ شائبہ خوبی تقدیر بھی تھا ۔قدرت نے ان کے ہاتھ میں کچھ ایسا جس دیا تھاکہ سونے کو ہاتھ لگائیں تو مٹی ہوجائے لیکن انصاف سے دیکھا جائے تو ان کی بربادی کا سہرا قدرت کے علاوہ ان مہربانوں کے سر تھا جو انتہائی خلوص اور مستقل مزاجی کے ساتھ دامے درمے سخنے ان کو نقصان پہنچاتے رہے ۔دوسری وجہ جیسا کہ اوپر اشارہ کرچکا ہوں ،یہ تھی کہ وہ اپنے خاص دوستوں سے اپنی حاجت اور ان کی حیثیت کے مطابق قرضہ لیتے رہے اور قرضے کو منافع سمجھ کر کھا گئے ۔بقول مرزاؔ ان کا دل بڑا تھا اور قرض لینے میں انہوں نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا ۔قرض پر لین دین ان کے مزاج میں اس حد تک رَچ بس چکا تھا کہ مرزاؔ کا خیال تھا کہ صبغے دراصل سروری حکومت کو کہکھ کرنے کی غرض سے اپنی آمدنی نہیں بڑھاتے ۔اس لئے کہ آمدنی بڑھے گی تو لامحالہ انکم ٹیکس بھی بڑھے گا ۔اب تو ان کی یہ تمنا ہے کہ بقیہ عمر عزیز بنک اور ڈرافٹ پر گوشہ بدنامی میں گزار دیں لیکن ان کی نیت بری نہیں تھی ۔یہ اور بات ہے کہ حالات نے ان کی نیک نیتی کو ابھرنے نہ دیا ،گزشتہ رمضان میں ملاقات ہوئی تو بہت اداس اور فکر مند پایا ،بار بار پتلون کی جیب سے ید بیضا نکال کر دیکھ رہے تھے ۔پوچھا :صبغے کیا بات ہے ؟بولے ،کچھ نہیں ۔پروفیسر عبدالقدوس سے قرض لیے تیرہ سال ہونے کو آئے ،آج یونہی بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ اب واپسی کی سبیل کرنی چاہئے ورنہ وہ بھی دل میں سوچیں گے کہ شاید میں نادہندہ ہوں۔
جوانی میں خدا کے قائل نہیں تھے مگر جیسے جیسے عمر بڑھتی گئی ایمان پختہ ہوتا گیا ،یہاں تک کہ اب وہ اپنی تمام نالائقیوں کو سچے دل سے من جانب اللہ سمجھنے لگے تھے ۔طبیعت ہی ایسی پائی تھی کہ جب تک چھوٹی بات  کے لئے بڑی سے بڑی قربانی نہ دے دیتے ،انہیں چین نہیں پڑتا تھا ۔بقول مرزا ، وہ انالحق کہے بغیر سولی پر چڑھنا چاہتے تھے ۔تجارت کو انہوں نے وسیلہ معاش نہیں ،حیلۂ جہاد سمجھا اور بہت شہادت کا درجہ پایا۔دوکان کی دیوار کا پلاسٹر ایک جگہ سے اُکھڑ گیا تھا ۔اس مقام پر جو تقریباً دو مربع گز تھا ،انہوں نے ایک سرخ تختی جس پر ان کا فلسفۂ حیات بخط نستعلیق کندہ تھا ،ٹانک دی   ع
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم 
اس میں قطعی کوئی تعلی نہیں تھی بلکہ دیکھا جائے تو باطل، وہ حق سے بھی دبنے والے نہیں تھے ۔مرزاؔ اکثر نصیحت کرتے کہ میاں کامیابی چاہتے ہو تو کامیاب کتب فروشوں کی طرح بقدر ضرورت سچ بولواور جو کتاب کے حسن و قبح پر ضدم ضدا کرنے کی بجائے گاہکوں کو انہی کی پسند کی کتابوں سے برباد ہونے دو۔جو بے چارہ تربوزے سے جل جائے اُسے زبردستی انگور کیوں کھلاتے ہو؟لیکن صبغے کا کہنا تھا کہ بیسویں صدی میں جیت انہی کی ہے جن کے ایک ہاتھ میں دین ہے اور دوسرے میں دنیا ۔اور دائیں ہاتھ کو خبر نہیں کہ بائیں میں کیا ہے ۔ تجارت اور نجابت میں سنجوگ ممکن نہیں ۔تجارت میں فوری ناکامی ان کے نزدیک مقیاس الشرافت تھی ۔انہی کا مقولہ ہے کہ اگر کوئی شخص تجارت میں بہت جلد ناکام نہ ہوسکے تو سمجھ لو کہ حسب نسب میں فی ہے ۔اس اعتبار سے انہوں نے قدم قدم پر ،بلکہ ہر سودے میں اپنی نسبی شرافت کا وافر ثبوت دیا ۔
حساس آدمی تھے ،اس پر بدقسمتی یہ کہ ایک ناکام کتب فروش کی حیثیت سے انہیں انسانوں کی فطرت کا بہت قریب سے مطالعہ کرنے کا موقع ملا،اسی لئے بہت جلد انسانیت سے مایوس ہوگئے ۔انہوں نے تمام عمر تکلیفیں ہی تکلیفیں اٹھائیں ۔شاید اسی وجہ سے انہیں یقین ہوچلا تھا کہ وہ حق پر ہیں ۔زندگی سے کب کے بیزار ہوچکے تھے اور ان کی باتوں سے ایسا لگتا تھا گویا اب محض اپنے قرض خواہوں کی تالیف قلوب کے لیے جی رہے ہیں ۔اب ہم ذیل میں وہ تاثرات و تعصبات مختصر اً بیان کرتے ہیں جو اُن کی چالیس سالہ ناتجربہ کاری کا نچوڑ ہیں۔
دوکان کھولنے سے چار پانچ مہینے پہلے ایک ادبی خیر سگالی وفد (ادارہ برائے ترقی انجمن پسند مصنفین) کے ساتھ سیلون ہو آئے تھے ،جسے حاسد لنکا کے نام سے یاد کرتے تھے ۔اس جزیرے کی سہ روزہ سیاحت کے بعد اٹھتے بیٹھتے ’’ترقی یافتہ ممالک‘‘کی ادب نوازی و علم دوستی کے چرچے رہنے لگے ۔ایک دفعہ برادران ِوطن کی ناقدری کا گلہ کرتے ہوئے فرمایا:’’آپ کے ہاں تو ابھی تک جہالت کی خرابیاں دور کرنے پر کتابیں لکھی جارہی ہیں ۔
(بقیہ منگل کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)