تازہ ترین

ریاست کی آئینی شناخت داؤپر؟

ظلم کو عدل سے بدل دیجئے گا

10 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

مقصود احمد ضیائی پونچھ جموں وکشمیر

آرٹیکل  ( اے)35کا دفاع اور تحفظ ریاست جموں وکشمیر کے ہر ذی شعور اور دور اندیش کی اہم ترین ذمہ داری ہے ۔ ا س کاہر حال میں دفاع کیا جائے، کسی کو بھی ریاست کی وحدت انفرادیت اور اجتماعیت کو پارہ پارہ کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس آرٹیکل سے ریاست جموں وکشمیر کے لوگوں کو ملک کی دوسری ریاستوں میں رہنے والے لوگوں کے مقابلے میں نہ صرف یہ کہ خصوصی درجہ حاصل ہے بلکہ کوئی بھی بیرون ریاست کا شہری ریاست میں نہ توجائیداد خریدسکتا ہے اور نہ ہی یہاں کاشہری بن سکتا ہے ۔ریاست کے لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ آرٹیکل(A)35کے ساتھ کسی کو بھی چھیڑ چھاڑ کرنے کی اجازت قطعاًنہ دیں ۔ مقام شکر ہے کہ پوری قوم آرٹیکل(اے)35کے بارے میں متحد ومنظم ہے اور آئندہ بھی رہے گی ۔ چند مٹھی بھر سر پھرے لوگ اس خصوصی آرٹیکل کو زک پہنچاکر ریاست کے خصوصی درجے کو ختم کرنے کے جوکھلی آنکھوں کے خواب دیکھ رہے ہیں ،انہیں کسی صورت پورانہ ہونے دیا جائے گا ۔ چونکہ ہماری ریاست جموں وکشمیر کی خوبصورتی آرٹیکل35.Aمیں ہی پنہاں ہے  ،اس لئے ہمیں اس بابت جاننا چاہیے کہ آرٹیکل35.A ہے کیا ؟ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہاں آرٹیکل 35.Aکے اہم اہم نکات کو اختصار کے ساتھ ذکر کیا جائے۔واقعہ یہ کہ1954ء میں صدارتی حکم نامہ کے ذریعے آئین ہند میں شامل کی گئی۔ آئین ہند کی یہ دفعہ ریاست جموں وکشمیر میں رہائش کا حق انہی باشندگان تک محدود رکھنے کی غرض سے آئین ہند میں شامل کرلی گئی تھی جو ریاست کے قانونی طو رپر مستقل اور پشتینی باشندے ہوں ۔یہ قوانین ڈوگرہ شاہی دور میں1927ء اور1932ء میں مرتب کئے گئے تھے اور بعدازاں سن سنتال میں اُن ریاستی باشندوں کے لئے بھی ریاست میں واپس آنے کا حق محفوظ رکھا گیا جو 1947کے پر آشوب دور میں پاکستان مہاجرت کر گئے، بشرطیکہ وہ1927ء ور1932ء میں مرتب شدہ قوانین وضوابط کے تحت ریاست جموںوکشمیر کے مستقل باشندے رہے ہوں۔ واضح رہے1927ء اور1932ء میں ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے ہی دوراندیشی کام لے کر ان قوانین وضوابط کو وضع کیا اور انہیں قومی و ریاستی آئین میں بھی شایان ِ شان جگہ مل گئی ۔ ان قوانین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مرکزی آئین کی دفعہ(A)35کے دستوری عنوان کے ساتھ مرکزی آئین میں شامل کیا گیا ۔کچھ آئینی ماہرین کا ماننا ہے کہ دفعہ35Aکی ترمیمی شکل نہیں بلکہ بالکل یہ نئی اور منفرد آئینی دفعہ ہے ۔ اس سلسلے میں جو ڈرافٹ کمیٹی ریاستی آئین ساز اسمبلی نے اس واسطے مقرر کی تھی تاکہ وہ مرکزی آئین کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات پیش کرے، اس کمیٹی نے دفعہ35.Aمیں شامل کچھ شقوں کو حذف کرنے کی سفارش کی جسے من و عن قبول کیا گیا ۔ اسی تناظر میں دفعہ35.Aمعرض وجود میں آئی۔ ریاست جموں وکشمیر کی اپنی آئینی شناخت ہے جو اس آئین ساز اسمبلی کی مرتب کردہ ہے جو1951ء میں وجودمیں آئی، اس آئین ساز اسمبلی نے ممبران کی ایک کمیٹی تشکیل دی جسے ڈرافٹ کمیٹی کانام دیا گیا۔ کمیٹی کے ذمے یہ کام تھا کہ وہ آئین ہند کی مختلف دفعات کا مطالعہ کرے اور ان دفعات کوریاست میں اجراء یا عدم اجراء کرنے کی سفارش کرے۔ اس کمیٹی میں گردھاری لال ڈوگرہ درگا پرشاددھر ، سید میر قاسم ،غلام رسول رینز اور ہر بھنس سنگھ آزاد شامل تھے۔ کمیٹی نے آئین ہند کی بعض دفعات کو بالکل مسترد کردیا جب کہ بعض دفعات کے بارے میں اپنے اعتراضات پیش کئے ۔جموں وکشمیر آئین ساز اسمبلی کی ڈرافٹ کمیٹی نے دفعہ 35.Aکے مطالعے کے بعد جو اپنی سفارشیں پیش کیں ان میں یہ آیا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر سے متعلق(16:3اور32:3)کو حذف کیا جائے، بالفاظ دیگر کلاس اول ودوم میں 1927ء اور1932ء کے اعلانات واحکامات کے مطابق جولوگ یہاں دائمی اقامت کا حق رکھتے ہیں، ان میں سے یکم مارچ سنتالیس   کے بعد جو حضرات پاکستان چلے گئے ان کی واپسی اور ریاست میں اقامت کے حق کو محفوظ ماننے کے علاوہ مئی1954ء کی تاریخ سے دس سال پہلے کسی باشندے نے قانونی طریقے سے غیر منقولہ جائیداد ریاست میں حاصل کی ہو،اُسے بھی ریاست میں دائمی اقامت کا حق دارماننے کے علاوہ کسی اور غیر ریاستی باشندے کے نام ریاست میں حق کار اور اقامت دائمی قانوناً محفوظ نہیں ہوسکتا ،بھلے ہی وہ بھارتی شہری کسی بھی منصب اور عہدے پر ہو۔ چنانچہ 16:3کو35Aسے حذف کیا گیا اور یہ دفعات ترمیمی صورت میں نہیں بلکہ ایک نیاعنوان لے کر ریاست میں لاگوکی گئی چونکہ یہ دفعات قانونی شکل اختیار کر چکی تھیں، لہٰذا قابل ترمیم نہیں رہی تھیں۔ چنانچہ دفعہ35.Aکا نیا عنوان 35.Aرہاجو صرف ریاست جموںوکشمیر میں قابل اجراء ہے۔ جہاں دفعہ35.Aکے تحت ریاست جمو ں وکشمیر میں صرف ریاست کے مستقل باشندے سکونت اختیار کرسکتے ہیں، ریاست کے حدود میں ذریعہ معاش حاصل کرنے کا حق انہی کے نام محفوظ ہے۔ کمیٹی نے۱۱ ؍فروری1954ء کو اپنی سفارشات پیش کیں اور15فروری1954ء کو جموں وکشمیر آئین ساز اسمبلی نے ان سفارشات کو مان لیا اور ریاستی سرکار سے یہ کہا گیا کہ یہ سفارشات صدر جمہوریہ ہند کو پیش کی جائیں ۔جموںوکشمیر سرکار نے ریاستی آئین ساز اسمبلی کی سفارشات کو صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر راجندراپرشاد کے سامنے پیش کیں جنہوں نے انہیں من وعن قبول کرتے ہوئے14؍مئی1954ء کے روز اس پر اپنے دستخط ثبت کئے اور ایسے میں صدارتی حکم نامہ جاری ہواجس کی رُوسے 35.Aکی روشنی میں 1927ء اور1932ء سے لاگوشدہ ریاستی اقامتی قوانین کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا۔ آئینی طور طے شدہ معیارات کے مطابق اگر کوئی ریاستی باشندہ مارچ کی پہلی تاریخ1947ء کے وقت پاکستان منتقل ہوگیا ہو، اس کی واپسی کی صورت میں اس کا حق باشندگی محفوظ سمجھاجائے گا ۔اس کے علاوہ14؍مئی 1954ء کی تاریخ سے دس سال پہلے کسی شخص نے قانونی طریقے سے غیر منقولہ جائیداد اس ریاست میں حاصل کی ہو تو اُسے بھی دائمی اقام(Permanant Residence) کا حق دار سمجھا جائے گا ،جب کہ غیر ریاستی باشندے نہ ریاست میں مستقل اقامت اختیار کرسکتے ہیں اور نہ کوئی غیر منقولہ جائیدا خرید سکتے ہیں۔ اس واحد قانون کے مطابق غیر ریاستی باشندے نہ ہی ریاست میں مستقل اقامت اختیار کرسکتے ہیں اور نہ ہی کوئی غیر منقولہ جائیداد خریدسکتے ہیں۔ نیز اس قانون کے مطابق غیر ریاستی باشندے جموں وکشمیر میں سرکاری نوکریاں اسکالر شپ یا تعلیمی امداد بھی حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔اس قانون کے تحت وہ خواتین بھی پشتینی باشندگی سے محروم ہوجاتی تھیں جو غیر ریاستی باشندوں سے شادی کریں ۔تاہم 2002ء میں ریاستی ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ غیر ریاستی باشندے سے شادی کرنے والی ریاست کی پشتینی خاتون ریاستی شہریت کے حق سے محروم نہیں ہوسکتی ہیں تاہم ایسی خواتین کے بچوں کو ریاستی شہریت نہیں مل سکتی ہے۔ ان اقامتی قوانین کو تجزیے کی میزان میں تولاجائے تو کوئی ایسی قانونی صورت نظر نہیں آتی جس میں غیر ریاستی شہریوں کو ریاست کے مستقل ساکنان کادرجہ دیا جائے۔ غرض یہ کہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت آرٹیکل 35.Aکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے اس کی ہیت کو تبدیل کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے اور اس کے لیے سپریم کورٹ آف انڈیا کا غلط سہارالیا جارہا ہے۔ یہ سارا کھیل مٹھی بھر دیش دروہی اور کشمیر دشمن لوگ کھیل رہے ہیں جنہوں نے اس دفعہ کی تنسیخ کا عَلم اٹھا کر ریاست میں سنگین حالات پیدا کردینے کا تہیہ کیا ہو ا ہے۔ جب اس قسم کے ظالمانہ بلکہ احمقانہ اقدام کا جواب سڑکوں پر احتجاج ، جیل بھر وتحریک ،بھوک ہڑتال  اور واویلاکی شکل میں سامنے آیا تو یہ مٹھی بھر لوگ اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے جیسی حرکات شروع کردیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو نہ عدل سے غرض سے ، نہ عقل سے اور نہ قوم کی وحدت سے بلکہ اگر سچ میں ان کی حرکات کا معروضی جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ انہیں ملک کے سب سے بڑے عادلانہ ادارے سپریم کورٹ کا احترام بھی نہیں، ورنہ وہ اس ایوان عدل کا وقت بے ہودہ بحث ومباحثے میں ضائع کر نے اور وہ عوام کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑانے کا یجنڈ الے کر دفعہ ۳۵؍ اے کوہٹانے کا بیڑا نہ اٹھاتے ۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ یہ مٹھی بھر فسطائی طبقہ اس قسم کے ظالمانہ و امن دشمنانہ قدم نہ اٹھائے تو آج ریاست میں  ناگفتہ بہ حالات پیدا ہی نہ ہوتے ۔

35.A ڈوگروں ،کشمیریوں اور لداخیوں کے لیے یکسان طور ایک تحفظ کی دیوار ہے، یہ مہاراجہ ہری سنگھ کا دیا ہوا ایک عظیم تحفہ بھی ہے جس کا تحفظ ریاست کے ہر باشندے کا اولین فریضہ ہے۔اگر35.A ؍ بالفرض محال کالعدم کیا گیا تو ایک ظلم عظیم برپا ہوگا ، ریاست کے تمام باشندگان کا بلا تمیز مذہب وملت، زبان وخطہ بہت بھاری سیاسی اور معاشی نقصان ہوگا ، اُن کی مخصوص ساکھ بحیثیت ریاستی شہری ختم ہو کر رہ جائے گی اورہندوستان کا کوئی بھی شہری ریاست جموں وکشمیر میں سکالر شپ اور سرکاری ملازمت حاصل کرنے کا حق داار ہوگا۔ نتیجہ یہ کہ جموںوکشمیر کے نوجوان پیڑی سرکاری ملازمتوں سے محروم ہوجائے گی، بیرون ریاست کے لوگ یہاں کی زمینیں بغیر کسی رُکاوٹ کے خریدسکیں گے اورجموں وکشمیر کے پشتینی باشندے اپنے ہی وطن میں اجنبی بن کر رہ جائیں ، ان کی  زمینوں سے انہیں بڑی آسانی سے بے دخل کردیا جائے گا اور چلتے چلتے جموں و کشمیر کی مقامی آبادی چند ہی برسوں میں اقلیت میں بدل جائے گی جیساکہ دنیا کی دیگر بے نو اقوموں کے ساتھ ہوتا رہاہے اور اب بھی ہورہاہے ۔ اس لیے ہم سب مل کر اپنے تشخص اور آئینی انفرادیت کو قائم رکھنے کے لئے ریاست بھر میں ایک آواز ہوجائیں ۔ یہ ہماری زندگی اور موت کا سوال ہے ۔یا درکھئے ملک صرف برسر اقتدار لوگوں کا ہی نہیں ہوتا بلکہ ملک، ملک میں بسنے والے ہر محب وطن شہری کی مشترکہ میراث ہوتا ہے، ملک کی حفاظت اوراس میں امن وامان اور یک جہتی کا قیام  ملک کے ہرہر فرد کی یکسان ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس اصول کو پیش نظر رکھ کر ریاستی عوام کو آرٹیکل ۳۵؍ اے کی حفاظت کے لئے مکمل طور کمر بستہ ہونا وقت کی پکار ہے ۔
 اس وقت ریاست جموں وکشمیر کی مخصوص شناخت ( جسے آئین ِ ہند کی ضمانت حاسل ہے )کے بقاء اور عدم بقا ء کے درمیان ایک بہت ہی فیصلہ کن جنگ بپا ہے ۔یہ جنگ ہمیں کسی بھی حال میں اور کسی بھی قیمت پر جیت لینی ہے کیونکہ قانون کی یہ جیت ہمارے لئے اسی طرح کلیدی اہمیت رکھتی ہے جیسے زندہ انسانی وجود کے دوام کے لئے سانس کی ضرورت ہر چیز پر فائق ہوتی ہے ۔ بلاشبہ دفعہ ۳۵؍ اے کو جن ریاست مخالف اورامن بیزار عناصر کی طرف سے عدالتی چلنج کا سامنا ہے وہ ملک کی جمہوریت کے ساتھ ساتھ ریاست جموں وکشمیر کے درپے  ٔآزار ہیں ۔بنابریں ہمیں ازخود فیصلہ لینا ہوگا کہ آیا ہم باشندگانِ ریاست بلا امتیاز رنگ ونسل ، مذہب و زبان اس  آئینی دفعہ کی حفاظت کے لئے متحد ومنظم ہوکر اپنی مخصوص شناخت وانفرادیت سے بہرہ ور ہوں یا خدانخواستہ بانت بانت کی بولیاں بول کر اس سے ہاتھ دھوبیٹھیں ۔ شاید ہی کوئی سیلم العقل ریاستی باشندہ ہوگا جو زیر بحث دفعہ کے خلاف انیس بیس کا فرق بھی قبول کرے کجا کہ اسے آئین سے کالعدم کرانے کی حامی بھرلے ۔ اصل یہ ہے کہ   اس دفعہ کے بقاء میں تمام طبقات اور علاقوں کا مشترکہ فائدہ جڑا ہوا ہے۔ المختصر اگرآج ہم نے اس قانون کے باب میں کوئی تساہل اور تغافل برتا تو لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزاپائی کی صورت میں ہمیں اور ہماری آئندہ کی نسلوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اس وقت ذراسی بھی غفلت اور لاپرواہی کرنا گویا اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارناہے او ر اس بھول چوک سے ہم ہی نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی مسائل کے جہنم میں بھسم ہو جائیں گی۔ لہٰذا تمام باشندگان ریاست وبرادران وطن ریاست کی اس خصوصی پوزیشن کے بچاؤ میں متحد بھی ہوں ،پرامن احتجاج بھی کر یں ، عدالت عظمٰی میں قانونی جنگ بھی لڑیں ، آپسی بھائی چارے بھی قائم رکھیں، کسی بھی قسم کی  ہلڑ بای اوربدامنی کو ہرگز نہ برداشت کریں جائے تاکہ ایک طرف گنگاجمنی تہذیب کی دھار بھی بہتی رہے اور دوسری طرف ریاست جموں وکشمیر کی انفرادیت کا ضامن آرٹیکل 35.A ؍بھی برقرار رہے ۔ یہی ایک موثر حکمت عملی ہے جس کو اپنا کر ہم دفعہ فرقہ پرست اور ریاست میں سکھ شانتی برباد کر نے والے عناصر کو مہذب اندا زمیں جواب دے سکتے ہیں ۔
آخری بات: ہم دعوت فکر دیتے ہیں مرکز میں برسر اقتدار جماعت کو بھی کہ وہ ذرا سا اس امر کااحسا س کر ے کہ وشال دیش کی آبادی نے اسے جواعتماد کا ووٹ دیا تھا وہ اچھے دنوں کی آمد کے لئے دیا تھا تاکہ کمزوروں کی مدد ورفاقت ہو، ملک کی تعمیرو ترقی کرے ، امن وامان قائم رہے ۔انہی خوابوں کو شرمندہ ٔ تعبیر کر نے کے لئے ملکی عوام نے بھاجپا کا ساتھ دیا نہ کہ افراتفری اور انتشار پھیلانے کے لئے ، لوگوں میںنفرتیں پیدا کر نے کے لئے یا اقلیتوں کے صبر کا امتحان لینے کے لئے ۔ نیز کشمیریوں کا گلے لگانے کا مطلب یہ کہاں ہے کہ آئین ہند نے انہیں جو احساس ِ تحفظ دیا تھا اس کی بھی تکا بوٹی کی جائے؟ اس احساس تحفظ کو مزید استحکام بخشئے ، انصاف کا اجال کیجئے ، دوریاں پاٹئے ،کدورتیں ختم کیجئے، اقلیتوں کو اپنایئے تاکہ اکیسویں صدی کا ہندوستان قوموں کی برادری میں سر اٹھا کر چلے اور ہم ستاروں سے آگے جانے کی ہمت کرسکیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رابطہ نمبر : 9682327107/9596664228
E-mail.-  ahmedmaqsood645@gmail.com