تازہ ترین

سکون قلب چاہیے تو کیا کریں

دستک

10 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

میر غلام حسن
سکون ِقلب کی طلب دنیا ئے فانی میں ہر کسی کو ہے مگر یہ نایاب دولت بہت کم لوگوں کو حاصل ہے۔ کچھ لوگ بظاہر نہایت راحت و آسائش والے معلوم ہوتے ہیں ، مگر ان کی اندرونی دنیا پریشانیوں کا نشانہ  ہوتی ہے ۔ ویسے بھی دنیا ہے ہی ایسی کہ ایک آرزو ختم نہیں ہوتی کہ دوسری شروع ہوجاتی ہے ۔ موجودہ زمانے میں آپ کو ہر آدمی کودل کے سکون واطمینان سے خالی پائیں گے ۔ حالانکہ آج ہمارے پاس وہ تمام آسائشیں ہیں جن سے ہمارے اسلاف محروم تھے، مگروہ ہمارے مقابلے میں وہ زیادہ پر سکون تھے۔ کہتے ہیں کہ آبِ حیات بحر ظلمات میں پایا جاتا ہے ۔ یورپ عالم ظلمات تو ہے لیکن اس میں آبِ حیات نہیں ، وجہ یہ کہ وہاں لوگوں کی توجہ لوہے ، جمادات اور برق و بخارات پر مرکوز ہیں ۔ انہوں نے پرندوں کی طرح اُڑنا اور مچھلیوں کی طرح تیرنا سیکھ تو لیا لیکن زمین پر انسانوں کی طرح رہنا نہیں سیکھا ۔ ابن آدم نے اپنے سکون وآرام کے لئے بہت سارے راستے اختیار کئے لیکن اسے سکون قلب حاصل نہ ہوا۔ کوئی سوچتا ہے راحت و سکون اقتدار میں ہے لیکن اقتدار سے لمحہ بھر کا سکون بھی حاصل نہیں ہوتا۔ عبد الرحمٰن اُموی اسپین میں پچاس برس تک حاکم رہا ، جب دنیا سے رخصت ہوا تو لوگوں سے کہا میں نے اپنی پوری زندگی میں صرف چودہ دن سکون کے پائے ۔ بات صاف ہے کہ دنیوی جاہ و جلال سے سکون قلب نہیں ملتا ، مال وزرسے بھی یہ عظیم نعمت حاصل نہیں ہوتی ،سرمایہ داروں کو رات کو اکثر نیند نہیں آتی،ان کے لئے خواب آور گولیاں بھی ناکام رہتی ہیں ۔ سکون اگر کہیںمل سکتا ہے تو صرف ذکراللہ میں ۔جو بندہ دنیا سے کٹ کر اپنے رب کو یا دکر ے اللہ اُسے سکون کا انمول سرمایہ عطا کرتاہے ۔ اس کے واسطے تلاوت بھی ذکر ہے ،نماز بھی ذکر ہے ، توبہ واستغفار بھی ذکر ہے اور درود شریف کی کثرت بھی ذکر ہے مگر ساتھ ہی ساتھ کسی کے کام آنا ، کسی کی مشکلات دورکرنا ، کسی سائل کا مسئلہ حل کر نا، کسی پژمردہ چہرے پر مسکراہٹ لانا بھی کچھ کم عبادت نہیں۔ انہی کاموں سے اللہ اپنے بندے کو طمانیت ِقلب کا تحفہ عطا کرتاہے۔
    نوٹ:مضمون نگارجموں کشمیر پیپلز پولیٹکل فرنٹ سے وابستہ ہیں ۔
  9596483484