تازہ ترین

دراس میں ادبی تقریب اور مشاعرے کا انعقاد

رُودادِ مجلس

10 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد شفیع ساگر
دُنیا کے دوسرے سرد ترین علاقے دراس میں2 ستمبر کوپہلی بار ایک شاندار ادبی تقریب اور مشاعرہ منعقد کیا گیا جس سے یہاں علم وادب کی تپش وحرارت نے فضا کو مسحور کر کے رکھ دیا ۔اس تقریب میں نامور شاعروں ، ادیبوں اور باذوق سامعین نے گرم جوشانہ شرکت کر کے ادب نوازوں کے حوصلے بلند کئے ۔ یہ ادبی تقریب ڈاک بنگلہ دراس کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی ۔ اس کا اہتمام وانصرام ادارۂ علم نما دراس نے کیا تھا۔ تقریب کی صدارت خطہ لداخ کے نامور شاعر و ادیب جناب کاچو اسفندیار خان فریدونؔ صاحب نے کی ۔ تقریب میں شریک مہمانانِ گرامی نے اس کی رونقیں دوبالا کیں ۔ جن مشہور شاعروں ، قلم کاروں اور افسانہ نگار پر مشتمل کہکشاں مجلس میں شرکت کی،ان میں ڈاکٹر ریاض توحیدی، اے سی ڈی کرگل برکت علی نظامی ، ایڈیٹرنیوز 18راجیش رینہ ، ڈاکٹر راشد عزیز، تحریک ادب کے مدیر جاوید انور ، تعمیل ارشاد کے ناظم نذیر، ریاض رُبانی کشمیری بطور مہمانان پُر وقار تقریب میں جلوہ زن ہوئے ۔ ان کے علاوہ مشہور افسانہ نگار جناب ُعبدالرشید راہگیر ، ڈاکٹر شمیم شبنم اور طارق شبنم بھی رونق ِ محفل بنے۔ تقریب کی ابتداء میں شبیر مصباحی، دراس کی کتاب ’’تعلیمی نفسیات و بیداری‘‘ کی رسم نقاب کشی بھی ہوئی۔پروگرام کا باضابطہ آغاز صبح دس بجے ہوا اور سب سے پہلے ادارۂ علم نما کے چیف ایڈیٹر جناب محمد شفیع ساگرؔ نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔ اُنہوں نے تمام مہمانوں کا تعارف بھی کرایا ۔ اس کے بعد جناب کاچو اسفندیار خان نے رِبن کاٹ کر مصباحی شبیر کی کتاب کی رسم رونمائی کی ۔ مولانا عبدالرحمن مصباحی نے اس کتاب پر اپنا خوبصورت تبصرہ پیش کیا ۔ آخر میں کتاب کے مصنف شبیر مصباحی نے اپنے زریں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تمام مہمانوںکا شکریہ ادا کیا۔ 
پروگرام کا دوسرا حصہ محفل مشاعرہ سے شروع ہوا ۔ اس کی صدارت جناب کاچو اسفندیار خان فریدونؔنے کی ۔ مشاعرے میں 21شعرا ئے کرام نے شرکت کی اور اپنے کلام بلاغت نظام سے محفل کو چار چاند لگائے ۔ شعراء میں کاچو اسفندیار خان فریدون ؔ،خیالؔ لداخی ، رضا امجدؔ، مختار زاہدؔ ، احمد جوانؔ، برکت علی لون نظامیؔ، شفیع ساگرؔ، عبدالمجید صحراؔ ، فیروز چراغؔ، عطا اللہ پرواز، خمارؔ تومیلی ، بلال فہیمؔ ، جی ایم نگاہؔ سمیت کئی مقامی شاعر شر یک مجلس رہے اوراپنی بہترین شعری نتخلیقات سے شرکائے محفل کو محظوظ کیا ۔ آخر میں کاچو اسفندیار خان نے بتایا کہ لداخ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ یہاں ایک یادگار سطح مشاعرہ منعقد ہوا ۔اس کے لئے منتظمین مرحبااورشکریہ کے حق دار ہیں ۔ ڈاکٹر ریاض توحیدی نے اپنے تاثرات میں بتایا کہ اس دور دراز علاقے میں اُردو زبان میں اس قسم کی شاعری دیکھ کر ہم متاثرہی نہ ہوئے بلکہ دنگ بھی رہے۔ اس خطے کے شاعر اور ادیب بہت زیادہ ادبی صلاحیتوں کے مالک ہیں ۔ نیوز 18 کے ایڈیٹر راجیش رینہ نے ادارہ علم نما کو ایک متاثرکن ادبی تقریب منعقد کر نے پر مبارک باد پیش کی ۔ اُنہوں نے بتایا کہ ای ٹی وی نے ہمیشہ اس خطہ کے مسائل کو اُجاگر کیا ہے اور آئندہ بھی ہم ایسا کرتا رہیں گے ۔ مراد آباد سے آئے ہوئے مہمان شاعر جناب ڈاکٹر راشد عزیز نے اپنی تقریر دلپذیر میں ادارے کو کامیاب  مشاعرہ منعقد کر نے پر سراہا اور اُمید ظاہرکی کہ یہاں آئندہ بھی ایسے پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا ۔ تقریب کی نظامت کے فرائض تحریک ادب کے مدیر جاوید انور نے بہ حسن و خوبی انجام دئے ۔ آخر پر ادارہ علم نما کے چیئرمین جناب اما ن للہ امانؔنے تمام مہمانوں اور سامعین کا پھر ایک بار شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے ادارہ علم نما کے اغراض و مقاصد پر بھی مفصل روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر میں دراس ایک پس ماندہ علاقہ ہے ، سردی کے لحاظ سے یہ دُنیا میں دوسرے نمبر پہ آتا ہے ، البتہ ہمیں فخر ہے کہ یہاں کے لوگ اُردو زبان سے والہانہ محبت رکھتے ہیں ، بلکہ یہاں اُردو زبان مادری زبان جیسی حیثیت رکھتی ہے ۔جب بھی ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنی مطلوب ہو تو یہاںکے پیروجوان اورعورتیں اُردو کو بڑے شوق سے استعمال کرتے ہیں ۔ کرکٹ کومنٹری ہو، مسجد میں وعظ و نصیحت ہو ، اسکول میں رنگا رنگ پروگرام کا موقع ہو ، اُردو زبان ہمارے جذبات وخیالات کے ساتھ ہم قدم رہتی ہے ۔ البتہ دور افتادہ اور پچھڑا ہوا علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں کوئی فروغِ زبان واداب کوئی جانب توجہ نہیں دیتا ، اس لیے یہاں اُردو کادم دن بدن گھٹتاجا رہا ہے ۔ مقام شکر ہے کہ آج کی تقریب اور محفل ِشعر نے یہاں کے لوکل شعرا ء میں ایک نیا جوش وخروش بھر دیا ہے ۔ مجھے امید ہے کہ اس قسم کے ادبی پروگرام امستقبل میں بھی دراس میں ہوتے رہیں گے ۔ یہ ایک معقول سبب ہوسکتا جس سے یہاں اُردو زبان پھر سے نکھر سکتی ہے اور شایقین اُردو کے اظہار خیال کے لئے بہترین مواقع مل سکتے ہیں ۔  