تازہ ترین

ہمارے عزیز کو انسانی بنیادوں پر رہا کیا جائے

کیرن کے کنبے کا گورانتظامیہ سے مداخلت کا مطالبہ

9 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
 سرینگر //7ماہ قبل پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے حدمتارکہ کے اس طرف غلطی سے داخل ہونے والے ایک 17سالہ نوجوان تجمل ثاقب کے رشتہ داروں نے گورنر انتظامیہ او ر پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ اُسے انسانی بنیادوں پر رہا کر کے اپنے والدین کے پاس سرحد پار بھیج دیا جائے کیونکہ نوجوان کے والدین اور پانچ بہنیں اُس کی رہائی کیلئے ٹرپ رہی ہیں ۔ سرحدی قصبہ کیرن کے رہنے والے مزکورہ نوجوان کے نانا اور ماما نے کشمیر عظمیٰ کے آفس پر آکر بتایا کہ 5فروری کو ساقب سرحد پار سے نہانے کے دوران غلطی سے سرحد عبور کر آیا جسے فورسز نے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ۔17سالہ نجمل ساقب ولد محمد اظہر کے نانا حاجی غلام احمد بٹ ساکن کیرن نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 90کی دہائی میں کیرن سے 125کنبے سرحد عبور کر کے پاکستان کی زیر انتظام کشمیرکوچ کرگئے تھے اور اُن کنبوں میں میری بیٹی اور دامادبھی شامل تھے ۔انہوں نے کہا کہ غلطی سے سرحد عبور کرنے والے میرے نواسے کی پیدائش سرحد پار ہوئی اور یہ اپنے6بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہجرت سے قبل میری بیٹی کے یہاں ایک لڑکا اور دو لڑکیاں تھی اور دو لڑکیاں اور ساقب سرحد پار ہی پیدا ہوئے ہیں اور وہاں یہ ایک مہاجر کیمپ میں رہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ میرا نواسا کیرن میں کشن گنگا میں نہانے کے دوران غلطی سے سرحد عبور کر آیا تھا جس کو فورسز نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا جبکہ ہمیں اُس سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی ۔نوجوان کے ماما ماسٹر شمیم نے بتایا کہ انہوں نے اُس کی رہائی کی خاطر کئی دفاتر کے چکر کاٹے لیکن ابھی تک اُس کو رہا نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ سرحد پار ساقب کی 5بہنیں اور والدین اُس کی رہائی کو لیکر فکر مند ہیں اور ہم سب اُس کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں کہ اُسے انسانی بنیادوں پر رہا کیا جائے ۔شمیم نے کہا کہ ساقب اُس وقت کوٹ بلوال جیل میں بند ہے۔اپنے آبائی گھر سے گرفتار کئے گے ساقب کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ کیرن ایک ایسا علاقہ ہے جو سرحد سے بالکل نذدیک ہے اور اس سے قبل بھی کئی ایک لوگ وہاں سے سرحد عبور کر کے اپنے آبائی وطن لوٹ آئے ہیں اور انہیں انسانی بنیادوں پر رہا بھی کیا گیا ہے لیکن میرے نواسے کو رہائی نہ ملنے کی وجہ سے پورے کنبے کا سکھ وسکون چھن گیا ہے ۔ماسٹر شمیم نے مزید بتایا کہ وہ اپنے بھانجے کی پوری یقین دہانی دیتے ہیں کہ وہ کسی بھی ایسی جرم میں ملوث نہیں ہے جس سے امن وامان کو خطرہ ہو ۔انہوں نے کہا کہ اگر اُس کا ننہال یہ ضمانت دیتا ہے تو پھر اُسے کیوں انسانی بنیادوں پر رہا نہیں کیا جاتا ۔انہوں نے کہا کہ اگر اُسے سرحد پار بھیجنے میں سرکار کو کوئی رکاوٹ ہے تو اُسے اپنے نانہال کے یہاں ہی چھوڑا جائے کیونکہ یہاں اُس کی زمین بھی ہے ۔انہوں نے ریاستی انتظامیہ اور خاص کر ریاست کے گورنر ست پال ملک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ از خود مداخلت کر کے انسانی بنیادوں پر اُس کی رہائی عمل میں لائیں تاکہ اُس کی تعلیم پر اثر نہ پڑے ۔