تازہ ترین

وید کو ڈی جی پی عہدہ سے ہٹانے کیخلاف پنتھرس پارٹی کااحتجاجی مظاہرہ

9 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 جموں// جموں وکشمیر کے نومنتخب گورنر ستیہ پا ل ملک کو ڈاکٹر شیش پال وید کو ہٹاکر اُن کی جگہ دلباغ سنگھ کو عبوری ڈائریکٹر جنرل آف پولیس تعینات کئے جانے پرنیشنل پنتھرس پارٹی نے اعتراض جتاتے ہوئے ریاستی گورنرانتظامیہ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔سنیئر ترین آئی پی ایس افسر ڈاکٹر ایس پی وید کو ڈی جی عہدہ سے ہٹاکر ’ٹرانسپورٹ کمشنر‘تقرری پر بھی پنتھرس پارٹی لیڈران حیران ہیں۔جموں وکشمیر نیشنل پینتھرز پارٹی نے ڈی جی پی وید کو اس طرح ہٹائے جانے کو ڈوگرؤں کی بے عزتی قرار دیاہے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پینتھرز پارٹی کے چیئرمین ہرشدیو سنگھ نے کہاکہ مرکزی اور ریاستی سرکار نے ایکبار پھرجموں کے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا ئی ہے۔ دیانتداری، ایمانداری اور دور اندیشی کے لئے جانے جانے والے ڈاکٹر وید نے ریاست میں امن کی بحالی کے لئے ناقابل فراموش خدمات انجام دیں اور وہ پولیس اہلکاروں کے لئے عظیم ترغیبی طاقت تھے۔ انہوں نے کہاکہ بڑی مشکل سے ایک ڈوگرہ افسرکو ریاستی پولیس فورس کی سربراہی کا موقع دیاگیاتھا لیکن اُ س کو اِ س طرح سے ہٹاناڈوگرؤں کی بے عزتی اور پولیس فورس کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ ہرشدیو سنگھ نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایک طرف سرکار امرناتھ یاتر ا کے شفاف اور پر امن انعقاد کا جشن منا رہی ہے لیکن وہیں دوسری اور ایک سنیئر پولیس افسر کو ہٹایاگیا۔ ہرشدیو سنگھ نے کہاکہ مرکزی وریاستی سرکار کا یہ فیصلہ بی جے پی کے اشاروں پر لیاگیاہے۔ انہوں نے نے الزام لگایاکہ نیاگورنر بی جے پی کا’یس مین ‘ہے۔بی جے پی لیڈران کو ایس پی وید کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی اور ایسا کرنے میں ناکام رہنے پر اس کو ہٹایاگیا۔ انہوں نے کہاکہ بی آر شرما جوکہ جموں وکشمیر کے چیف سیکریٹری رہے کو بھی اسی طرح زعفران جماعت نے بغیر کسی وجہ ہٹادیاتھا۔ بی جے پی قیادت والی سرکار جب نئی دہلی میں آئی تو ڈوگرہ سنیئربیروکریٹ انیل گوسوامی کو اہم عہدہ سے ہٹادیاگیا۔ہرشدیو سنگھ نے اس فیصلہ کو واپس لینے کامطالبہ کرتے ہوئے متنبہ کیاہے کہ ڈوگرے اس طرح حقیرسیاسی مفادات رکھنے والوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بنیں گے۔ انہوں نے مزید کہاکہ بی جے پی نے دعویٰ کیاتھاکہ نیا گورنر ستیہ پال ملک ’اپنا بندہ‘ہے اس کو عملی طور ثابت کردیا۔دریں اثناء مرکز وریاستی سرکار کے اس فیصلہ پربحث جاری ہے کہ آیا ایک سول انتظامیہ کی پوسٹ ’ٹرانسپورٹ کمشنر‘پر ایک سنیئر ترین آئی پی ایس افسر کی تقرری کیوں اور کس طرح عمل میں لائی گئی۔