تازہ ترین

مودی کسی اور ملک میں ہوتے تو استعفیٰ دینا پڑتا

نوٹ بندی پر منموہن سنگھ اور کپل سبل کا وزیراعظم پروار

9 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی//سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے نریندر مودی حکومت کو نوٹ بندی اوربے روزگاری کے معاملے پر گھیرا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سبھی محاذ پرناکام رہی ہے اوروہ 2014 میں کئے گئے وعدوں کو پورانہیں کرپائی ہے۔ وہ کانگریس کے سینئرلیڈرکپل سبل کی کتاب "شیڈس آف ٹوتھ  کے اجرا کے موقع پر خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر کپل سبل نے کہا کہ جی ایس ٹی کوجلد بازی میں نافذ کیا گیا اوراس سے تاجروں کو نقصان ہوا۔ سبل نے نوٹ بندی کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "عظیم لیڈر نے 2014 کے بعد ہمیں نوٹ بندی دی، جس سے 1.5 فیصد ڈی جی پی کا نقصان ہوا۔ اگرکوئی اورملک ہوتا تو انہیں استعفیٰ دینا پڑتا۔منموہن سنگھ نے کہا کہ اب ملک میں متبادل پرغورکرنے اوراپنانے کی ضرورت ہے۔ اس حکومت میں کسان اورنوجوان پریشان ہیں، تو دلتوں اوراقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں زرعی بحران ہے۔ کسان پریشان ہیں اوراحتجاج کررہے ہیں۔ نوجوان دو کروڑنوکریوں کا انتظار کررہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صنعتی پیداواراور رفتار تھم گئی ہے۔سنگھ نے کہا کہ نوٹ بندی غلط طریقے سے نافذ کی گئی۔ جی ایس ٹی کی وجہ سے کاروبار پراثرپڑا۔ بیرون ممالک میں مبینہ جمع رقم کو لانے کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔ دلت اوراقلیت خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے حکومت پربیرون ممالک پالیسی کے محاذ پرناکام رہنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پڑوسیوں کے ساتھ ہمارے رشتے خراب ہوئے ہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ "تعلیمی آزادی پر لگام لگایا جارہا ہے۔ یونیورسٹیوں کے ماحول کو خراب کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو متبادل پر غور کرنے اور اپنانے کی ضرورت ہے۔ منموہن سنگھ نے کتاب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "یہ کتاب بہت اچھی طرح تحقیق کرنے کے بعد لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب مودی حکومت کا مجموعی تجزیہ ہے۔