تازہ ترین

’’اگر ریاست کا آئین غلط ہے تو الحاق بھی غلط‘‘

۔35اے پر ضمانت نہ ملی،تواسمبلی اور پارلیمانی انتخابات کا بھی بائیکاٹ کیا جائیگا:ڈاکٹر فاروق

9 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید

  مسلمانوں ، دلتوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں پر ظلم، بھارت کی بربادی کی علامت

 
سرینگر //آئین ہند کی شق 35اے پر مرکزکے موقف کو پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات سے جوڑتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے دو ٹوک الفاظ میںکہا کہ اگر مرکزی سرکار اس قانون پر اپنے موقف کو واضح نہیں کرتی، تو نیشنل کانفرنس نہ صرف پنچایتی بلکہ آئندہ ہونے والے لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات سے بھی کنارہ کشی اختیار کرے گی ۔انہوں نے مرکزی سرکار پر الزام عائد کہا کہ وہ گاندھی کے ہندستان کو بدلنا چاہتے ہیں اور اگر بھارت میں پھیلائی جا رہی نفرتوں کو کم نہیں کیا گیا تو بھارت کی بربادی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ وہ نسیم باغ سرینگر میں مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے 36ویں یوم وصال کے موقعہ پر منعقد ہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔

آرٹیکل 35اے 

 ڈاکٹر فاروق نے کہا ’’ الحاق مہاراجہ صاحب نے کیا اوراس الحاق کے تحت ایسا قانون بنایا گیا جس کے تحت ریاست کے لوگوں کو حقوق فراہم کئے گئے اور ایسا اس لئے ہوا کہ ہم ایک ہندو اکثریت ملک کے ساتھ شامل ہو رہے تھے ،بڑا ضروری تھا کہ ریاست کے لوگوں کا تحفظ ہو تا اور یہی وجہ تھی کہ ریاست کا الگ جھنڈا اور الگ آئین ہے‘‘ ۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ اپنے ہی لیڈران نے کرسی کیلئے سودہ کیا اورریاست میں جی ایس ٹی لاگو کر کے 370کو کھوکھلا کرایا اور اب 35Aپر حملے کئے جا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی اس دفعہ کے خلاف سپریم کورٹ میں2 بار درخواست دائر کی گئی تھی اور اُسے سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ یہ ایک ایسا دفعہ ہے جو ریاست کو ملک کے ساتھ جوڑتا ہے‘‘ ۔انہوں نے کہا کہ اس بار پہلے سرکار گرائی گئی اور پھر دفعہ کے دفاع کیلئے کوئی کارگر اقدامات نہیں کئے گئے ۔ڈاکٹر فاروق نے کہا ’’ سرکار نے اس دفعہ کے دفاع کیلئے جو وکیل مقرر کیا اُس کو چاہئے تھا کہ وہ سپریم کورٹ میں درخواست پیش کرتا کہ اس سے قبل 2بار اس کو رد کیا گیا ہے ،یہ دوبارہ سپریم کورٹ میں نہیں آنا چاہئے تھا ،لیکن سرکاری وکیل نے ایسا نہیں کیااور اس سے لگ رہا ہے کہ مرکز کا مقصد دفعہ کو ہٹانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے ارادے نہ پہلے ٹھیک تھے اور نہ اب ٹھیک ہیں ۔انہوں نے نیشنل سیکورٹی ایڈوائز اجیت دول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اُس نے یہ کہہ کر کشمیریوں کی پیٹ میں پھر چھرا گونپ دیا ہے کہ’’ جو آئین کشمیر کیلئے ہے وہ ٹھیک نہیں ہے ،یہ نہیں ہونا چاہئے۔‘‘ڈول اور مرکزی سرکار کو جواب دیتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا ’’  اگر یہ آئین غلط ہے تو پھر الحاق بھی غلط ہے ۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ ایک طرف آپ کہتے ہیںآپ ہمارے ہیں ہمیں کشمیریت اور جمہوریت کو بلند کرنا ہے لیکن وہ کہیں دکھائی نہیں دیتا ۔انہوں نے مرکزی سرکار سے کہا کہ اگر آپ کو اس ریاست کو اپنے ساتھ رکھنا ہے تو ایسے حربے استعمال کرنابند کریں ۔

انتخابات

انہوں نے کہا کہ ہم نے پنچایتی انتخابات نہ لڑنے کا اعلان سب کے سامنے کیا ،ہم انتخابات کے خلاف نہیں مگر جو 35Aآپ نے بیچ میں لایا ہے اُس سے یہاں کے لوگ مایوس ہیں،تو دو چیزیں کیسے ممکن ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھاتی وزیر اعظم نے ہٹلر کی طرح لال قلہ سے ا علان کیا کہ ہم انتخابات کرانا چاہئے ہیں ،یہ ٹھیک بات ہے مگر آپ 35A اوردفعہ 370 آئین کو ختم کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں اور ایسے میں کس طرح لوگوں سے ووٹ مانگنے جا سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سبھی پارٹیوں کیساتھ مشارت کے بعد کوئی فیصلہ لیا گیا ہوتا تو قابل عمل تھا لیکن ایسی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔انہوں نے کہا کہ جب تک مرکزی سرکار دفعہ 35Aپر اپنا موقف صاف نہیں کرتی تب تک ہم نہ صرف پنچایتی بلکہ پارلیمنٹ اور اسمبلی انتخابات بھی حصہ نہیں لیں گے اور جب آپ کا موقف اس پر صاف ہو گیا تو ہم انتخابات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔

میڈیا چینلیں

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ میڈیا کے کچھ ادارے کشمیر کے متعلق پتہ نہیں کیا کیا دکھا رہے ہیں۔انہوں نے میڈیا سے کہا آپ کو کشمیر کے حالات کو اچھی طرح سے بیان کرنا چاہئے ، میں نے بھارت ماتا کی جے کیا بول دیا ،تو ایک دن میں مجھے ہیرو بنا دیا اور جب یہاں الیکشن بائیکاٹ کی بات کی تو مجھے ہیرو سے زیرو کر دیا ۔انہوں نے قومی میڈیا سے کہا کہ آپ لوگوں کو سنبھل کر کام کرناچاہئے کیونکہ ریاست ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے ۔انکا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت نے ہندو اور مسلمان کو الگ کرنے کی کوشش کی آج جموں ایک طرف اور کشمیر  دوسری طرف ہے اور اس کو جوڑنا اب انتہائی مشکل ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست بالخصوص وادی کے لوگوں کے خلاف جو پروپگنڈا میڈیا کرتا ہے وہ انہیں بند کرنا چاہئے کیونکہ اُن کے پروپگنڈے سے کشمیر کا رزق بند نہیں ہو گا۔رزق دینے والی رب کی ذات ہے ۔ 

پاکستان سے بات چیت 

ڈاکٹر فاروق نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان  کے متعلق کہاکہ وہ بھارت کئی بار آئے ہیں یہاں کرکٹ بھی کھیلے ہیں اور ہمیں اُمید ہے کہ ایک نیا رشتہ دونوں ممالک کے درمیان شروع ہو گا اور یہ رشتہ ہمارے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ ہمارے مسائل دوستی اور بات چیت سے ہی حل ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ اس کیلئے میڈیا کا اہم رول بنتا ہے، مگر کچھ قومی ٹیلی ویژنل چینل ایسے ہیں جو نہیں چاہتے بھارت اور پاکستا ن میں بات چیت ہو جبکہ پاکستان اور بھارت میں بھی کچھ ایسے مفاد پرست لوگ ہیں جو نہیں چاہتے ہیں کہ امن لوٹ آئے ۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت سے ہی راستے نکلتے ہیں ،جب واجپائی جیساآر ایس ایس کا لیڈر پاکستان کے لاہور شہر میں جا کر یہ کہتا ہے کہ میں بھارت کا لیڈر ہوں او ر بھارت کی عوام یہ قبول کرتی ہے کہ پاکستان ایک ملک ہے اور ہم آپ کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہئے، تو ہمیں یہ الفاظ نہیں بھول جانے چاہیں ۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ اگر آج پاکستان یہ صاف طور پر کہہ رہا ہے کہ ہم دوستی چاہتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ بھارت دوستی کا ہاتھ نہیں بڑھاتا ،کیا ہمیں وطن نہیں بچانا ہے یا پھر نفرتیں پھیلانی ہیں ۔

بھارت کے حالات 

انہوں نے کہا کہ جس طرح آج بھارت میں مسلمانوں ، دلتوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں پر ظلم ہو رہا ہے یہ کارروائیاں ہمارے وطن کو بربادی کی طرف لے جا رہی ہیں ۔انہوں نے اس دوران ایک شعر پڑھتے ہوئے کہا ’’ تمہاری بربادی کے چرچے ہیں آج کل آسمانوں میں ،نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اے ہندستان والو ،تمہاری داستان بھی نہ ہو گی داستانوں میں‘‘۔ اگر اس چیز کو بدلنا ہے اور اس ماحول سے باہر آنا ہے تو ہم لوگوں کو، ہر انسان جو اس وطن میں رہتا ہے اُس کی عزت کرنی ہے اور ہر مذہب کی حفاظت کرنی ہے ۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا ’’ کسی مسلمان نے کبھی کسی ہندو سے نہیںکہا کہ تم اپنا راستہ بدلو ،تم جس طرح پوجا کرتے ہو تو کرو ،جس مندرمیں جانا چاہتے ہو جائو ،کسی نے نہیں روکا، مگر جب یہ لوگ ہم کو یہ کہتے ہیں کہ نماز اس طرح نہیں پڑھ سکتے ، اذان نہیں دے سکتے تو  یہ گاندھی کا ہندستان تو نہیں، آپ گاندھی کے ہندستان کو بدلنا چاہتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں سب مذاہب کے لوگ رہتے ہیں اور سب کا مقام اعلیٰ ہے اسلئے نفرتیں کم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اگر بھارت کو بچانے کی کوشش نہیں کریں گے تو بھارت ہی نہیں رہے گا پھر کہاں مسلمان کہاں ہندو اور کہاں سکھ اور عیسائی ،اگر وطن کو بچانا ہے تو سب مہذبوں کی عزت کریںاور ہم سب کو جینے کا حق دیں جو ہمارے آئین نے ہمیں دیا ہے ۔

پنڈتوں کی حفاظت 

ڈاکٹر فاروق نے اپنی تقریر میں کہا ’’آج کل ایک خطرہ یہاں پیدا ہو رہا ہے، پچھلے دنوں ایک پنڈت کنبہ چھٹیوں میں نشاط آیا تھا ،عید سے ایک دن قبل اُس کو اپنے ہی ایک ساتھی نے یہ کہہ کر یہاں سے نکل جانے کو کہا کہ یہاں کل کچھ ہونے والا ہے، رات کو ہی وہ یہاں سے بھاگ گیا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ایسے غلط لوگ یہاں بیٹھے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ ایجنسیاں ہیں جن کا ہم سب کو ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ایسا اس لئے کیا جا رہا ہے تاکہ کشمیری پنڈت یہاں سے بھاگ جائیں اور ہندستان میں ایک کہرام پیدا ہو۔انہوں نے ریاست کے لوگوں سے اپیل کی کہ ایسی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور پنڈتوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں کیونکہ وہ ہمارے بھائی ہیں اور اس وطن کے مالک ہیں ۔