تازہ ترین

شاہپور کنڈی ڈیم پروجیکٹ : جموں کشمیر اور پنجاب کا معاہدے پر دستخط

کام عنقریب شروع ہو گا ، جموں کشمیر کو 20 فیصد بجلی ملے گی

9 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
 سرینگر//ریاست کے چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم نے آج پنجاب کے اپنے ہم منصب کرن اوتار سنگھ کے ساتھ شاہپور کنڈی ڈیم پروجیکٹ کی عمل آوری کے حوالے سے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کئے جو پچھلے کئی برسوں سے التوا میں پڑا تھا ۔ معاہدے پر دستخط ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک اور پنجاب کے آبی ذخائیر کے وزیر سکھبندر سرکاریہ کی موجودگی میں کئے گئے۔ گورنر کے مشیر بی بی ویاس اور خورشید احمد گنائی کے علاوہ سیکرٹری پی ایچ ای ، آبپاشی و فلڈ کنٹرول فاروق احمد شاہ اور آبی ذخائیر کی مرکزی وزارت میں انڈس کمشنر پی کے سکسینہ بھی اس موقعہ پر موجود تھے ۔ شاہپور کنڈی ڈیم پروجیکٹ دریائے راوی پر قایم کیا جائے گا اور یہ آبپاشی کے اعتبار سے بڑا پروجیکٹ ہو گا جس سے دونوں جموں کشمیر اور پنجاب کو فائدہ ہو گا ۔ جموں کشمیر دریائے راوی سے 0.69 ایم اے ایف پانی حاصل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے جس میں سے ریاست اس وقت صرف 0.215 ایم اے ایف پانی ہی بروئے کار لا رہا ہے ۔ راوی کنال کا 79.5 کلو میٹر تعمیر کیا گیا ہے جبکہ جموں کشمیر میں 493 کلو میٹر تقسیم کاری نیٹ ورک بھی مکمل کیا جا چکا ہے تا ہم شاہپور کنڈی ڈیم پروجیکٹ میں سُست روی اور تھین ڈیم سے جُڑے کئی تنازعات کی وجہ سے جموں کشمیر دریائے راوی سے اُتنا پانی استعمال نہیں کر پاتا ہے جس کی یہ اہلیت رکھتا ہے ۔ آج کے معاہدے پر دستخط ہونے سے اس پروجیکٹ کی بدولت کٹھوعہ اور سانبہ اضلاع زیادہ مستفید ہوں گے اس کے علاوہ جموں ضلع کے کچھ حصے بھی فائدہ حاصل کر پائیں گے ۔ پروجیکٹ کی بدولت کنڈی علاقوں میں 32 ہزار ہیکٹر اراضی کو آبپاشی سہولیات دستیاب ہوں گی اور اس عمل سے ان علاقوں کے کسان ترقی کی راہ پر گامزن ہوں گے اور خطے کی مجموعی ترقی ممکن ہو سکے گی ۔ جموں کشمیر اس پروجیکٹ میں سے 41 ایم ڈبلیو بجلی حاصل کرے گا اس کے علاوہ تھین ڈیم میں سے ریاست کو 20 فیصد بجلی ملے گی ۔ یہ پروجیکٹ پنجاب حکومت کی طرف سے تین برسوں میں مکمل کیا جائے گا اور توقع ہے کہ جموں کشمیر کو 2020 کے آخر تک پانی ملنا شروع ہو جائے گا ۔ معاہدے کے مطابق جموں کشمیر کو 1979 کے معاہدے کے مطابق 1150 کیوسک پانی کی مکمل مقدار دستیاب ہو گی تا ہم اس میں بالائی حد 0.69 ایم ایف ہو گی ۔ معاہدے کے اہم نکات کے مطابق پروجیکٹ کی عمل آوری کا کام حکومت پنجاب انجام دے گی تا ہم ایک سہ فریقی ٹیم بھی پروجیکٹ کی دیکھ ریکھ پر معمور کی جائے گی جس کی سربراہی سی ڈبلیو سی کے ممبر کریں گے اور دونوں ریاستوں کے چیف انجینئر اس میں شامل ہوں گے اور وہ ہر تین ماہ کے بعد اس بات کا جائیزہ لیں گے کہ تعمیراتی کام معاہدے کے مطابق ہو رہا ہے ۔ تھین ڈیم کیلئے حصول اراضی کے معاوضے کی 115 کروڑ روپے کی رقم معاہدے کے مطابق فوری طور سے حکومتِ پنجاب ادا کرے گی ۔ اراضی دینے والوں کو نوکریاں پنجاب حکومت کی طرف سے دی جائیں گی ۔ معاہدے کے مطابق منتقل شدہ 861 باقی ماندہ کنبوں کو اسی مد کے تحت روز گار فراہم کیا جائے گا ۔ حکومت پنجاب جموں کشمیر کو تھین ڈیم سے پیدا ہونے والی کُل بجلی کا 20 فیصد حصہ سی ای آر سی کی طرف سے مقرر کردہ شرحوں پر فراہم کرے گا تا ہم اس میں 3.50 روپے فی یونٹ کی حد مقرر کی گئی ہے ۔ پروجیکٹ کی تاخیر سے عمل آوری کے حوالے سے دونوں ریاستوں کے دعوں اور جوابی دعوں کو 1979 معاہدے کے مطابق نمٹایا جائے گا ۔ حکومت جموں کشمیر کے پاس شاہپور کنڈی ڈیم سے 20 فیصد بجلی ایس ای آر سی کے شرحوں کے مطابق حاصل کرنے سے انکار کرنے کا حق ہو گا ۔ دونوں ریاستوں کو پانی کی سپلائی کا معاملہ جوائیٹ سٹیرنگ اینڈ سُپر ویژن کمیٹی کے تحت ہو گا جس میں سی ڈبلیو سی ، پنجاب اور جموں کشمیر کے نمائندے شامل ہوں گے ۔ واضح رہے کہ جو اہم عنصر اب متعارف کیا گیا ہے اور جو 2017 کے مفاہمت نامے یا 2017 کے کابینہ کے فیصلے میں نہیں تھا وہ یہ ہے کہ ڈیم کے چالو ہونے کے دوران جوائینٹ سٹیرنگ اینڈ سُپر ویژن متعارف کرنا ہے ۔ یہ ایک ایسا سیفٹی مد ہے جس کی بدولت جموں کشمیر کبھی بھی اپنے پانی کے اصل حصے سے محروم نہیں ہو گا اور اس کے مفادات کو بھی تحفظ حاصل ہو گا ۔