تازہ ترین

بومئی سوپور میں حریت رکن جاں بحق

نسیم باغ میں نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں اونتی پورہ کا نوجوان ہلاک

9 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

غلام محمد+بلال فرقانی+عارف بلوچ

اچھہ بل اننت ناگ میں پولیس چوکی پر حملہ،مقامی جنگجو مارا گیا، پولیس اہلکار زخمی

 
سوپور+سرینگر+اننت ناگ//سوپور کے مضافاتی علاقہ بمئی میں حریت(گ) کے ایک سرگرم کارکن اور حبک حضرتبل میں اسلامک یونیورسٹی کے ایک سابق طالب علم کو دن دھاڑے گولیاں مار کر جاں بحق کیا گیا۔ادھر اچھہ بل میں پولیس چوکی پر حملہ کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک جنگجو مارا گیا جبکہ واقعہ میں ایک پولیس اہلکار شدید زخمی ہوا۔

بمئی سوپور

 ریشی پورہ بمئی سوپور میں ہفتہ کو اْس وقت سنسنی اور دہشت کی لہر دوڑ گئی جب نامعلوم بندوق برداروں نے ایک مزاحمتی کارکن کو نزدیک سے گولی مار کر ابدی نیند سلادیا ۔ حریت (گ)  کے کارکن حکیم الرحمان سلطانی ولد مولوی نظام الدین کو اپنی رہائش گاہ کے نزدیک گولی ماری گئی ،جسکی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔ اگر چہ انہیں خون میں لت پت فوری طور پر سب ضلع اسپتال سوپور پہنچایا گیا،تاہم ڈاکٹروں نے اْنہیں مردہ قرار دیا ۔مہلوک مزاحمتی کارکن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ سید علی گیلانی والی حریت کانفرنس(گ) کے ساتھ وابستہ تھا اور حال ہی میں انہیں جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ادھرجونہی ان کی نعش اسپتال سے اس کے آبائی علاقہ ریشی پورہ بومئی پہنچائی گئی تو وہاں چاروں طرف صف ماتم بچھ گیا اور آس پاس علاقوں کے لوگ اسکی آخری رسومات میں شرکت ہونے کے لئے اس کے گھر کی طرف دوڑ پڑے۔ بومئی میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور انہوں نے نعرے بازی کی۔ بعد میں انہیں لوگوں کے جم غفیر میں سپرد خاک کیا گیا۔واضھ رہے کہ مذکورہ نوجوان نے فروری 2009میں بومئی ایجی ٹیشن میں کلیدی رول ادا کیا تھا جب فوج نے تجر شریف سے آئے ہوئے دو شہریوں کو بلا وجہ ہلاک کیا تھا۔اس کے بعد یہاں بھر پور ایجی ٹیشن چلی اور بالآخر فوجی کیمپ کو ہٹایا گیا۔اس واقعہ کے بارے میںپولیس نے کہا ہے کہ ریشی پورہ بمئی سوپور میں عسکریت پسندوں نے عام شہری حکیم الرحمان کو گولی مار کر قتل کیا ۔اس سلسلے میں کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی گئی ۔

سرینگر 

سرینگر کے مضافاتی علاقے نسیم باغ میں ایک نوجوان کو نامعلوم بندوق برداروں نے گولی مار کر ہلاک کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول نوجوان ایک عسکریت پسند تھا،اور انصار غزوۃ الہند سے تعلق رکھتا تھا،جبکہ اس سے پستول بھی برآمد ہوا۔ سرینگر کے نسیم باغ علاقے میں قائم تقدیر پارک میں سنیچر کو بعد از دوپہر نامعلوم بندوق برداروں نے ایک نوجوان پر گولیاں برسائیں،جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوا۔ابتدائی طور پر مہلوک نوجوان سے جو شناختی کارڈ برآمد ہوا،اس میں،اس کا نام ارشد احمد تحریر کیا گیا تھا،جبکہ کارڈ سے معلوم ہواکہ مذکورہ نوجوان اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ کا طالب علم ہے۔ ذرائع کے مطابق آصف اسلامک یونیورسٹی میں بی ٹیک کی ڈگری حاصل کر رہا تھا جس دوران وہ گھر سے لاپتہ ہو گیا اور انہوں نے عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کی  ۔ پولیس نے تاہم بعد میں بتایا کہ مہلوک نوجوان سے ایک پستول اور2میگزئن برآمد ہوئے۔پولیس نے بتایا کہ مہلوک نوجوان کی شناخت آصف نذیر ڈار ولد نذیر احمد ڈار ساکن پنجگام اونتی پورہ کے بطور ہوئی،اور وہ سال2017سے متحرک ایک جنگجو تھا۔پولیس کے مطابق آصف ڈار اسلامک یونیورسٹی کا سابق طالب علم تھا،جس کے بعد جنوری2017کے اوائل میں انہوں نے حزب المجاہدین میں شرکت کی،اور بعد میں ذاکر موسیٰ کی سربراہی والی تنظیم غزوۃ انصار الہند میں شمولیت اختیار کی۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہا کہ انکے والد مرکزی سرکار کے محکمہ میں ملازمت کرتے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کے فوری بعد پولیس کی ایک ٹیم جائے واردات پر پہنچی،اور نعش کو تحویل میں لیکر قانونی لوازمات پورے کئے گئے،جبکہ نعش سے ایک پستول اور2 میگزئن برآمد ہوئے۔سٹی پولیس چیف کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں کیس درج کر کے مزید تحقیقات کا سلسلہ شروع کی گئی۔

اچھہ بل

اچھ بل اننت ناگ میں جنگجوئوں اور پولیس کے درمیان شبانہ فائرنگ تبادلہ میں ایک مقامی جنگجو جاں بحق جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔پولیس کے مطابق جنگجوئوں نے جمعہ و سنیچر کی درمیانی رات رانی پورہ اچھ بل اننت ناگ میں اقلیتی طبقے کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملہ کرکے ہتھیار اُڑانے کی کوشش کی ،جس دوران طرفین کے مابین مختصر فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔فائرنگ کے اس واقعہ میں جنگجو بلال احمد بٹ ولد عبد الاحد بٹ ساکن یاری پورہ کولگام جاں بحق ہوا جبکہ ایک پولیس اہلکار حوالدار جنک راج زخمی ہوا، جس کو علاج معالجہ کیلئے اسپتال میں داخل کیا گیا ،جہاں اسکی حالت مستحکم ہے ۔جائے واردات سے ایک رائفل کے ساتھ ساتھ دو گاڑیاں ضبط کی گئیں جو غالباََ جنگجوئوں نے حملے میں استعمال کی تھیں ۔پولیس کے مطابق مہلوک جنگجو لشکر طیبہ سے وابستہ تھا اور وہ تین مہینے قبل جنگجوئوں کے صفوں میں شامل ہوا تھا ۔مہلوک ہتھیار چھینے و فورسز اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے وارداتوں میں ملوث تھا۔ جنگجو کی ہلاکت کے سبب اننت ناگ و کولگام اضلاع میں موبائیل انٹرنیٹ سروس سہ پیر تک جبکہ بانہال سرینگر ریل سروس بھی بند رہی ۔ مہلوک جنگجو کو بعد دوپہر آبائی علاقہ میں سپرد خاک کیا گیا۔جہاں نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوںنے شرکت کرکے اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے ۔ انکی3مرتبہ نمازجنازہ ادا کی گئی۔نماز جنازہ کے دوران جنگجوئوں کا ایک گروپ نمودار ہوا اور ہوا میں گولیاں چلا کر اپنے ساتھی کو سلامی پیش کی ۔ 
 

کارکن کی ہلاکت ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کی جائیگی:مزاحمتی قیادت

نیوز ڈیسک
 
سرینگر//مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے بومئی سوپور میں نوجوان حریت پسند رہنما حاکم الرحمان کو اپنے گھر کے نزدیک گولی مار کر انتہائی بے دردی کی حالت میں شہید کئے جانے کی بزدلانہ کارروائی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی قیادت حریت پسند سیاسی رہنماؤں کو قتل کئے جانے کے المناک واقعات کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔مزاحمتی قیادت کا کہنا ہے کہ مذکورہ نوجوان حال ہی میں ڈیڑھ برس سے زائد عرصہ جیل میں گزارنے کے بعد رہاہوا تھا۔مزاحمتی قیادت نے اس المناک سانحہ کی تفصیلات جاننے کے لئے ایک چھ رُکنی کمیٹی کوبمئی روانہ کردیا ہے، تاکہ اس المناک واقعہ کے مضمرات کے پیش نظر آئندہ کی حکمت عملی وضع کی جاسکے۔ مزاحمتی قیادت نے حریت پسند عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ صبروتحمل اور نظم وضبط کے دامن کو مضبوطی سے تھام لیں، تاکہ ان اندوہناک سانحات کے پیچھے تحریک دشمنوں کے مذموم ارادوں اور ناپاک سازشوں کو طشت از بام کرنے کے بعد ناکام ونامراد بنایا جاسکے۔ مزاحمتی قیادت نے حاکم الرحمان کے اہل خانہ، ان کی بیوہ اور پانچ کم سن بچیوں کے ساتھ اپنی دلی تعزیت اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے حاکم الرحمان کے اہل وعیال سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
 
 

پلوامہ میں کار پر فائرنگ

جواں سال خاتون مضروب

پلوامہ /سید اعجاز/ پلوامہ قصبے میں نا معلوم بندوق برداروں نے ایک کار پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک جواں سال لڑکی مضروب ہوئی۔پولیس کے مطابق شام کے وقت جامع مسجد کے نزدیک مشتبہ جنگجوئوں نے ایک پرائیوٹ کار پر فائرنگ کی جس میں کچھ  لوگ سرینگر کی طرف جارہے تھے۔فائرنگ کی وجہ سے کار میں سوار سعدہ کدل سرینگر کی ایک جواں سال لڑکی سمیرا جان شدید زخمی ہوئیں جنہیں برزلہ منتقل کردیا گیا۔پولیس نے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر جائے وقوع پر پہنگ گئے اور انہوں نے علاقے کو گھیرے میں لیا۔اس ضمن میں تھقیقات شروع کردی گئی ہے۔