تازہ ترین

تہران سہ فریقی سربراہی اجلاس

ایران کاامریکہ سے غیر قانونی مداخلت ختم کرنے کا مطالبہ

9 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

تہران//اطلاعات کے مطابق تہران میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، ترک صدر رجب طیب اردگان اور حسن روحانی کے درمیان ہونے والے سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شام کے معاملہ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکہ فوری طور پر شام میں اپنی غیرقانونی مداخلت اور موجودگی کو ختم کردے ۔ ایرانی صدر نے سربراہی اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران سات برس سے جاری شام کے مسئلہ کے حل کے لیے 6 نکات پیش کیے اور کہا کہ یہ عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ اسرائیلی حکومت کے اقدامات کا توڑ کرے ۔ اسرائیل کے خلاف اقدامات پر زور دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو اسرائیل کی شام کی سرزمین میں مسلسل قبضے ، شامی حکومت اور قوم کے خلاف بڑھتے ہوئے اقدامات کو روکنا ضروری ہے ۔حسن روحانی نے کہا کہ ''شام کے مسئلے کے لیے کسی بھی سیاسی مذاکرات میں شام کی علاقائی سالمیت اور آزادی کا احترام کرنا ضروری ہے ''۔ انہوں نے شام میں دہشت گردوں کے خاتمہ تک جنگ جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور خاص کر شمال مغربی صوبے ادلب کا ذکر کیا۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ عالمی برادری شامی مہاجرین کو اپنے گھروں کی جانب واپسی کے دوران پیش آنے والے مسائل اور جنگ سے متاثرہ ملک کی تعمیر پر خاص توجہ دینی چاہیے اور ایرانی اس حوالے سے اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے ۔ حسن روحانی نے شام کے مسئلے کے حل کے لیے تہران، انقرہ اور ماسکو کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تینوں ممالک کو دمشق میں مکمل قیام امن کے لیے مزید کوششوں اور تعاون کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے ۔ روسی صدر پیوٹن نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گرد ادلب میں اشتعال انگیزی سمیت کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تیاری کررہا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ''باقی ماندہ انتہا پسند گروپس نے اس وقت صوبہ ادلب کے قدرے پرامن زون پر توجہ مرکوز کررکھی ہے ''۔پیوٹن نے کہا کہ ''دہشت گرد جنگ بندی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں، وہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سمیت مختلف شرانگیزیوں کی تیاریوں میں مصروف ہیں''۔انہوں نے کہا کہ ''شام کی آئینی حکومت کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی قومی سرحدوں کو قبضے میں لے ''۔بی بی سی کے مطابق روسی صدر نے شام میں انسانی بحران کے پہلوؤں اور جنگ زدہ ملک کی تعمیر کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ بہت سارے لوگ جو دوسرے ممالک منتقل ہوئے تھے اب واپس آرہے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ادلب میں خونی کھیل سے بچنے کے لیے جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔طیب اردگان کا کہنا تھا کہ ''اگر ہم یہاں پر جنگ بندی کو یقینی بناتے ہیں تو یہ اس اجلاس کا ایک اہم قدم ہوگا اس سے عوام کے لیے بڑے اطمینان کی بات ہوگی''۔ انہوں نے کہا کہ ''ہم کبھی نہیں چاہتے کہ ادلب خونی کی ہولی میں تبدیل ہوجائے ''۔ترک صدر نے کہا کہ ''ادلب میں کسی بھی حملے کے نتیجے میں ایک بحران، قتل عام اور سنگین انسانی بحران جنم لے گا''۔طیب اردگان نے کہا کہ''ادلب نہ صرف شام کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے لیکن ہماری قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی ضروری ہے ''۔خیال رہے کہ ترکی، روس اور ایران کے درمیان آستانہ میں ہونے والے معاہدے کے تحت شامی مہاجرین کی ملک واپسی اور اپنے علاقوں میں آباد کاری کے ساتھ ساتھ امن قائم کرنے کے ضامن ہیں۔تینوں صدور کے درمیان نومبر 2017 میں روس کے شہر سوچی میں اجلاس ہوا تھا جس کے بعد رواں سال اپریل میں ترک دارالحکومت انقرہ میں اسی حوالے سے اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔یو این آئی