تازہ ترین

غزلیات

9 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

غم ہے ہمیں کیوں غم نہیں ہے
یہی غم ، وہ کہیں، کیا کم نہیں ہے
 
اُڑا دے دھجیاں ہر بات کی وہ
ہماری بات میں کیا دم نہیں ہے 
 
اسے ہر حال میں کٹنا  پڑے گا
ہمارا سر جو ہوتا خم نہیں ہے
 
ہمارا لازمی رسوا ہے ہونا
ہمارے حق میں جو ہمدم نہیں ہے
 
کہاں ر خسار پہ آنسوں ٹکیں گے
گُلوں پر ٹھہرتی شبنم نہیں ہے
 
خزاں کے بعد آتی ہیں بہاریں
سدا اک سا رہے موسم نہیں ہے
 
یقیں اُس پر کرے گا کون انجمؔ
جو رہتا وعدے پہ قائم نہیں ہے
 
پیاساانجمؔ
رابطہ؛ریشم گھر کالونی جمّوں،موبائل نمبر؛7889872796
 
 
 
زندگی بد سلوک شہزادی
ہو بھی سکتی ہے چوک شہزادی!
سسکیوں سے محل نہ ٹوٹے گا
اور شدت سے کُوک شہزادی
آبھی جائے گا کیا ضروری ھے
کوئی سیف الملوک،شہزادی
وہ کہ ٹھہرا غریب چرواہا
تم نے کب دیکھی بھوک شہزادی؟
پھر تصور میں آگیا چہرہ
من میں اٹھتی ہے ہوک شہزادی
پھرستم ڈھا رہی ہے یاد اسکی
ہجر میں خون تھوک شہزادی
خودکو مصروفِ جستجو رکھنا 
یہ ہے نسخہ اچوک شہزادی
پیار دل میں بھرو تو لگتی ہے
زندگی  اک  ملوک شہزادی
تجھ کو غرقاب کر نہ دیں زریابؔ
اپنے دل کے شکوک شہزادی
 
 ہاجرہ نور زریابؔ
رابطہ؛آکولہ مہاراشٹر ،9922318742 
 
 
 
 
دوریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں تکرار کے ساتھ
کون چلتا ہے جہاں میں دلِ بیمار کے ساتھ
 
ہوش اپنا نہیں مجھ کو نہ زمانے کی خبر
جب سے یارانہ ہوا ہے مرا میخوار کے ساتھ 
 
میں تو زنداں میں بھی خاموش طبع رہتا ہوں
راز منسوب ہیں زنجیر کی جھنکار کے ساتھ
 
غیر ممکن ہے کہ اب میری دعا ء کام کرے
تم بھی آواز ملاؤ مری گفتار کے ساتھ
 
بڑھتا جاتا ہے تری فرقت میں مرا جوشِ جنوں
رات بھر کرتا ہوں باتیں درو دیوار کے ساتھ
 
اب بھی جاوؔید وہ تیری ہی طرف لوٹے گا
ٹک نہ پائے گا بہت دیر وہ اغیار کے ساتھ
 
سردار جاوید خان 
پتہ: مہنڈر پونچھ،موبائل نمبر؛ 9697440404
 
 
ہر طرف ہیں اب غم و آلام میرے شہر میں
خوف و دہشت کی فضا ہے عام میرے شہر میں
 
نوبتِ غارتگری آتی یہاں ہے بار بار
سلسلہ ہے مقبروں کا عام میرے شہر میں
 
یہ شہنشاہ اپنی دُھن میں اسقدر مصروف ہیں
گرچہ پل پل ہوگئے بدنام میرے شہر میں
 
جن کی فطرت میں ہمیشہ مؤجزن تھی روشنی
وہ ستارے ہوگئے گمنام میرے شہر میں
 
دل شکستہ ہر کوئی، فریاد کس سے ہم کریں
گو گواہ ہیں در، دریچے، بام میرے شہر میں
 
ہیں مسافرؔ چار جانب بے بسی کے دائرے
دِن ہُوا ہے کِس قدر اب شام میرے شہر میں
 
وحید مسافرؔ
باغات کنی پورہ نوگام
موبائل نمبر؛9419064259
 
 
عبدالحمید عدم کے مشہور شعرکی طرح
 
خود کو بے اختیار کرتے ہیں 
کس قدر اُن سے پیار کرتے ہیں
چھوڑ جاتے ہیں پھر وہی آخر
جن پہ ہم اعتبار کرتے ہیں 
اپنی خوشیوں کو ڈھونڈنے والے
ہر  خزاں کو بہار کرتے ہیں
وہ نہ آئینگے لوٹ کر اب تو
پھر بھی ہم انتظار کرتے ہیں
پیار تو ایک بار ہوتا ہے
لوگ کیوں بار بار کرتے ہیں؟ 
بارہا ان کا نام لے لے کر 
خود کو ہم بے قرار کرتے ہیں
شورِ نغمہ ہے کیسا لوگوں میں
جانے کس کی پکار کرتے ہیں 
دشمنی بھی تو ایک جذبہ ہے
جو فقط اپنے یار کرتے ہیں
بے خطا ہیں عقیلؔ وہ لیکن 
منتیں کیوں ہزار کرتے ہیں 
 
عقیل ؔفاروق
طالب علم:- شعبہ اُردو کشمیر یونیورسٹی سرینگر
موبائل نمبر :-8491994633
 
 
ـََ’’کرو گے یادتم جب ہم نہ ہونگے‘‘
اندھیرے زندگی کے کم نہ ہونگے
 بچھڑنے کا کوئی  بھی غم نہ ہوگا
اگر رستے میں ہم باہم  نہ ہونگے
بڑا  ظالم  ہے  وہ  نیتا  ہمارا
ستم اس کے کبھی  بھی کم نہ ہونگے
خوشی کے دن نہیں  رہتے ہمیشہ
نہ سوچو زندگی میںغم نہ ہونگے
منیؔ با طل  خُدائوں کے تو آ گے
ہمارے سر کبھی  بھی خم نہ ہونگے
 
ہریش کمار منیؔ بھدرواہی
hkmani1990@gmail.com
 
 
کٹھن راہیں نہ ہونگی تو سفر اچھا نہیں لگتا
محبت گر نہ ہوگھر میں تو گھر اچھا نہیں لگتا
جمال و حُسن یہ تیرا ہے حق اپنی جگہ لیکن
یہ نظریں پھیر کر تیرا، گزر اچھا نہیں لگتا
سبھی کچھ معاف ہے تجھکو، سبھی کچھ معاف کردینگے
کہ آنا دیر سے تیرا، یہ گھر اچھا نہیں لگتا
خدارا نام میرا بھی کبھی لے اپنی محفل میں
ارے ظالم تو اتنا بے خبر اچھا نہیں لگتا
لبوں پہ جھوٹ آنکھوں میں لگی برسات آنسوں کی
ضیائیؔ کو بھی یہ تیرا ہنر اچھا نہیں لگتا
 
امتیاز احمد ضیائیؔ
پونچھ، موبائل نمبر؛9697618435