تازہ ترین

افسانچے

9 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر نذیر مشتاق

دوری

ڈاکٹر جلیل ملک زادہ خوشی سے ہوا میں اُڑ رہا تھا۔ آج لندن میں اُسکی تحریر کردہ کتاب ’’بوڑھوں کے مسائل‘‘ کو ایک اعلیٰ لٹریری ایوارڑ سے نوازا گیا تھا۔ سینکڑوں لوگوں نے اُسے مبارکباد پیش کی۔ کتاب کے پبلیشر نے اُس سے کہا کہ اِس کتاب کی لاکھوں جلدیں فروخت ہوں گی۔ رات کو وہ اپنی بیوی کے ساتھ شراب سے دل بہلا رہا تھا اور ساتھ ساتھ فیس بک پر اپنے چاہنے  والوں کے تاثرات و لوگوں کے لائکس پڑھ کر ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو رہا تھا۔ فیس بک پر سرچ کرتے کرتے اُسکی نظروں میں ایک تصویر آگئی۔۔۔ وہ چونک پڑا۔۔۔ تصویر کے نیچے لکھا تھا ’’اس بوڑھی ضعیف اور اکیلی بدنصیب عورت کو اپنے عالی شان مکان کے بیڈروم سے کئی دنوں کے بعد مردہ حالت میں نکالا گیا۔ محلے والوں نے چندہ جمع کر کے اسکی تجہیز و تکفین کا انتظام کیا۔۔۔اُس کے ہاتھ سے شراب کا جام گر پڑا اور اُس کے حلق سے دبی دبی چیخ نکل گئی۔۔۔ ’’ماں‘‘۔
 
 

مزدور

عظمت علی شاہ سوٹ بوٹ پہن کر باہر جارہا تھا۔ جانے سے پہلے اُس نے اپنے شنا سا مزدور سے کہا ’’جبار کاکا اس بنجر زمین کے ٹکڑے کو قابل کاشت بنادو ۔۔۔ میں تمہیں مالا مال کروں گا۔۔۔ میں ایک جلسے میں جارہا ہوں۔ گھر میں کوئی نہیں ہے سب دعوت پر گئے ہیں اِسلئے گھر کا خیال رکھنا۔ یہ کہہ کر اُس نے سگریٹ سلگایا اور دوچار کش لیکر چلا گیا۔جبار کاکا نے بنجر زمین کھودنا شروع کی۔۔۔ اُسے بیوی کے کہئے ہوئے الفاظ یاد آرہے تھے ’’بچے کئی مہینوں سے گوشت کے ایک ٹکڑے کے لئے ترس رہے ہیں، آج واپسی پر آدھا کلو گوشت لانا۔۔۔‘‘ اُس نے سوچا کہ صاحب آج مجھے پانچ سو روپے مزدوری دے گا تو میں گوشت خرید لوں گا۔ یہ سوچتے سوچتے وہ پھرتی کے ساتھ زمین کھودنے میں مصروف ہوگیا۔ عظمت علی مزدوروں کی انجمن کے اجلاس میں مہمان ذی وقار تھا۔ اُس نے مزدوروں اور مہمانوں کے سامنے ایک زوردار تقریر کی اور کہا کہ مزدوروں سے ہی ملک کا نظام چلتا ہے۔ مزدور نہ ہوں تو فصلیں کیسے لہلہائیں گی۔ مزدور ہی ملوں اور کارخانوں میں اپنا خون پسینہ بہاتے ہیں اور ملک کو ترقی سے ہمکنار کراتے ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ مزدور کی مزدوری اُس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ہی ادا کی جانی چاہئے۔۔۔ مزدور زور زور سے تالیاں بجا رہے تھے۔ جبار کاک کا سارا جسم پسینے میں شرابور ہوا تھا۔۔۔ اُس نے باغ میں لگے ہوئے نل سے پانی پی کر پیاس بجھائی اور دوبارہ کام کرنے میں مصروف ہوگیا۔ زمین کھودتے کھودتے وہ بند آنکھوں سے دیکھ رہا تھا کہ اس کے بچے بہت خوش ہیں اور تیز تیز گوشت کے ٹکڑے چبارہے ہیں اور ہڈیاں چوس رہے ہیں۔ شام ہوگئی جبار کاکا نے کپڑے بدلے، ہاتھ منہ دھویا اور عظمت علی کا انتظار کرنے لگا۔ اُسے اب شدت سے اپنی مزدوری کا انتظار تھا۔ اُس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ پانچ سو روپے ۔۔۔ بچوں کے لئے گوشت اور۔۔۔ عظمت علی اُس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔ اُس نے سگریٹ سلگایا اور کھودی ہوئی زمین کا جائزہ لیا۔ کمال کیا ہے جبار کاکا نے آپ نے ایک ہی دن میں اتنا کام۔۔۔ جبار کاکا کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ عظمت علی نے اپنا دایاں ہاتھ جبار کاکا کے کاندھے پر رکھا اور اُس سے کہا ’’جبار کاکا اب تم اِس زمین میں سبزیاں اُگائو۔۔۔ جب سبزیاں تیار ہوا کریں گی۔ آدھا حصہ تمہارا اور آدھا حصہ ہمارا۔۔۔
رابطہ: ہمدانیہ کالونی بمنہ سرینگر
فون نمبر9419004094