تازہ ترین

نئے ادبی رجحانات کا نقیب

’انہماک انٹر نیشنل‘

9 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

طارق شبنم
مدیراں: سید تحسین گیلانی،سیدہ آیت
معاونین:شفقت محمود ۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیر
رسالہ انہماک کا پہلا شمارہ ۷۳۶ صفحات پر مشتمل انتہائی ضخیم شمارہ ہے جس میں شعر وادب کی متنوع اصناف سے تعلق عکھنے والی تخلیقات اورمضامین شامل ہیں‘جن کا مطالعہ فیض بخش نظر آیا۔زیر تبصرہ جریدے کے مدیر اول سید تحسین گیلانی کا تحریر کردہ اداریہ کئی اہم موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔ جن میں ادب اورجدیدیت،فکشن ،جدید فکشن،مابعد جدید فکشن کچھ باتیں،مکالمے کی اہمیت و ضرورت اور مائکر و فکشن نام کا قضیہ وغیرہ شامل ہیں۔مابعد جدیدبیانیہ کے متعلق اُن کا یہ خیال ’’ ما بعد جدیدتخلیق کار وہ ہے جو مکمل ذہنی آزادی کا قائل ہوتا ہے وہ کسی بھی طئے شدہ فارملے یا طئے شدہ فکر سے الگ کرکے خود کوخالص تخلیق سے جوڑتا ہے ‘‘ ما بعد جدید بیانیہ کے حوالے سے کئی گھتیوں کو کھول دیتاہے۔ اسی طرح یہ جملہ بھی کافی معنی خیز ہے ،’’فکشن کتنا ہی تجدیدی وعلامتی کیوں نہ ہواسے کہیںنہ کہیںپیر لگانے پڑ ہی جاتے ہیں۔‘‘ اداریہ میں مکالمے کی اہمیت پر بھی مفید روشنی ڈالی گئی ہے ۔نقش اولین موضوع کے تحت مدیرہ سیدہ آیت کی تحریربھی کافی دلچسپ ہے ملاحظہ ہو یہ اقتباس۔
’’ ایک لمحے کے لئے تصور کیجئے کہ اگر نظم نہ کہی جائے۔۔۔ غزل نہ پڑھی جائےم کہانی نہ لکھی جائے۔۔۔ قلم اور قرطاس صفحہ ہستی سے ہجرت کرجائیںاور حرف ولفظ حجاب اوڑھ لیں۔۔۔ تو کیسا ہوگا۔۔۔؟؟؟
بھلا سوچیئے ا س دنیا میںکوئی رنگ کوئی رونق کوئی دلکشی باقی رہ جائے گی؟؟؟ نہیں!!!۔۔۔۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔‘‘۔
رسالے کے کئی ابتدائی صفحات حسب روایت دلوں کو ٹھنڈک پہنچانے والے حمد ونعت سے سجے ہیں جن کے مطالعے سے قاری تاثیر کی ایک نئی دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔
آپ کے لطف وکرم کی انتہا کوئی نہیں
آپ کے دربار سے خالی گیا کوئی نہیں
امبیاء تو یوں زمانے میں کئی آئے مگر
سرور کونین جیسا دوسرا کوئی نہیں 
     ( نعت رسولﷺص۲۵)                                    
فکری ادب کے حوالے سے رسالے میں کئی پر مغز اور فکر انگیز مضامین ، جن میں ستیہ پال آنند کا بین المتونیت کے بارے میں کچھ  معروضات، احمد سہیل کا دریدا اور ردتشکیلیت اور مار کسزم۔۔۔ ایک مختصر فکری اورانتقادی مخاطبہ،فرح ندیم(جدید فیبل تکنیک ایک نوٹ)
ڈاکٹر ریاض توحیدی(علامتی افسانہ ۔۔۔ تخلیقی مضمرات) ارشد عبد الحمید (جدید فکشن ۔۔۔ اہم تقاضے)عاکف محمود(پری ماڈرن،ماڈرن اور پوسٹ ماڈرنٹی)اسماء حسن(علامت کچھ باتیں)شامل ہیں۔ ان مضامین کے مطالعے سے قاری کے ذہن کے کئی در وا ہوتے ہیں اور ادب کی مختلف جہتوں کے بارے میں عمدہ جانکاری ملتی ہے۔رسالے میں فکشن (۱) اور فکشن( ۲) کے تحت ہند وپاک اور دنیا کے دیگر ممالک میں مقیم معروف مرد و خواتین افسانہ نگاروں کے مختلف الرنگ افسانے شامل اشاعت ہیں،جن پر اگر تفصیل سے بات کی جائے تو ایک ضخیم تحریر وجود میں آئے گی۔ مختصراً اتنا کہنا کافی ہے کہ افسانوں کا انتخاب خوب سے خوب تر ہے۔ رسالے میں کئی ادیبوں، جن میں محمد ظفر اقبال ہاشمی،جمیل احمد عدیل، گلزار ملک،ثمینہ تبسم کے گوشے بھی شامل ہیںجن ، کے متعلق گوشوں کے مطالعے سے مذکورہ ادیبوں کے ادبی خدمات کے بارے میں اس قدر بھر پور جانکاری ملتی ہے کہ ان کی تصانیف کو پڑھنے کا شوق قاری کے دل میں پیدا ہوجاتا ہے ۔دیگر مشمولات میں غزلوں اور منظومات کی صورت میں نامور شعرا کا دل کو چھو لینے والاکلام قاری کو ایک نئی دنیا کی سیر کرتا ہے۔ 
قاتلوں کی نعرہ بازی کان میں پڑھ جائے تو پھر
خندقیں کھودیں، صفیں باندھے کھڑے ہوں
سانپ تو موجود ہے دالان میں کنڈلی جمائے
اپنے فن کاڑھے ہوئے پھُنکارتا ہے
( نظم ص۲۵۰) 
غزلیات کے چند اشعار بھی پیش خدمت ہیں ۔
روح  تجھ  میں  حلول  ہوگئی  ہے 
ایک  دعا  تھی  قبول  ہوگئی   ہے 
دشت  ناراض  لگ رہا  ہے  بہت 
تجھ  سے  کیا  ایسی بھول ہوگئی ہے
(غزل ص ۳۷۲)
دیگر مشمولات میں افسانچے (۱۱)،گوشہ مائکرو فکشن و مائکر وف جس میں سید تحسین گیلانی کا طلعت زہرا(کینیڈ ا)سے مکالمہ کے علاوہ مائکر و فکشن کی ضرورت نسیم سعید (کینیڈا) مائئکرو فکشن ایک تعارف ڈاکٹر ریاض توحیدی (انڈیا)مائکرو و فکشن کیا ہے؟ شفقت محمود (کراچی) مائکرو و فکشن اور اس کی ضرورت سید صداقت حسین (کراچی) مائکرو و فکشن کیا بلا ہے فیصل سعید(کراچی )مائکرو و فکشن کی بات ابن مسافر (اسلام آباد ) اورمائکر و فکشن اور انہماک سیدہ آیت (مدیرہ انہماک )کے موضوع کے مناسبت سے مفید مختصر مضامین شامل ہیں جن کے مطالعے سے مائکر و فکشن کے حوالے سے عمدہ جانکارہ حاصل ہوتی ہے ‘مثلاََ یہ معنی خیز اقتباس دیکھیں۔۔۔۔۔۔
’’در اصل مائیکر و فکشن فلیش فکشن کی ایک ذیلی شاخ تصور کی جاتی ہے جو کہ ہیتی اعتبار سے 300 سے600  الفاظ پر مشتمل ہوتا  ہے اگر چہ الفاظ کی تعداد میں اختلاف رائے بھی موجود ہے ۔لیکن تکنیکی اور موضوعی طور پرمائکر و فکشن یا مائکر وف کا دار ومدارصرف الفاظ کی تعداد پر ہی منحصر نہیںبلکہ اسلوب اور ہیت کے لحاظ سے مائکروفکشن کا پلاٹ الفاظ ومعنی اور خیالات کی معنی خیز پیشکش پر استوار ہوتا ہے ۔اس میں نہ تو افسانے کی طرح تمہیدی منظر نگاری کی گنجائیش ہوتی ہے اور نہ ہی حکایتی اسلوب کی یکسانیت کے لئے جگہ ہوتی ہے بلکہ اس کابیانیہ تخلیقی نوعیت کا ہویعنی ہر جملہ اور مکالمہ تخلیقی رچائو کا حامل ہوتا ہے‘‘۔مائکرو فکشن ۔۔۔ ایک تعارف(ڈاکٹر ریاض توحیدی ص۶۴۳)۔
علاوہ ازیںرسالے میں مائکرو فکشن و نینو فکشن ، طنز و مزاح ،کتب پر تبصرے اوربیاد آئیزیک عمرکئی مضامین شامل اشاعت ہیں ۔الغرض رسالے کے مدیران نے رسالہ کافی محنت اور دلجمعی سے ترتیب دیا ہے اور اس میں بہترین تخلیقات کے ساتھ ساتھ فکشن کی مختلف اصناف کے حوالے سے معلومات کا خزانہ ہے ۔اگر رسالے کا یہی معیار بر قرار رہا تو یہ بات اعتماد کے ساتھ جا سکتی ہے کہ رسالہ بہت جلد عالمی ادبی حلقوں میں اپنا ایک خاص مقام بنانے میں کامیاب ہوگا۔میری ذاتی رائے میں رسالے کی ضخامت کو کم کرنے اور قمیت پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔اس انتہائی ضخیم شمارے کے لئے مدیراں رسالہ کو پر خلوص مبارک باد اور نیک تمنائیں۔
   رسالے کا رابطہ : علی کمپیوٹرس العزیز سپر مار کیٹ کالج روڑ پورے والا پنجاب پا کستان۔
٭٭٭
رابطہ اجس بانڈی پورہ کشمیر،موبائل نمبر؛9906526432
ای میل ۔۔۔۔۔۔ tariqs709@gmail.com