تعلیمی نظام نقائص کا مجموعہ کیوں؟

8 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

  رائج الوقت نظام ِ تعلیم کے بارے میں عمومی رائے یہ ہے کہ یہ فرسودہ ہے ، لایعنی ہے اور صرف تعلیم یافتہ بے روزگاروں کی فوج بڑھا تاجارہاہے ۔ اس میں بھی دورائے نہیں کہ یہ صرف تعلیم کی بارگاہ ہے جس کے بل پر ہم نے تاریک فضاؤں ا ورمایوس کن حالات میں بھی اپنی خداداد لیاقت و قابلیت کا ڈنکا بجایا اور ذہانت کی قندیلیں روشن کیں ۔ بات یہ نہیں ہے کہ ہمارے طلبہ وطالبات میں بہترین صلاحیتوں کا فقدان ہے یا وہ ستاروں سے آگے جانے کی قوت ِ پرواز سے محروم ہیں بلکہ اصل بیماریاں یہ ہیں کہ تعلیم وتعلم کا مردم ساز مشن اپنی جہت بھی کھو گیا ہے اور مقصدیت بھی۔ اس لئے تعلیم کا مطلب صرف ڈگریوںکے حصول تک محدود ہے۔ تعلیم کے نور سے قوم کی اخلاقی تعمیر نو منور کر نے کانظریہ سرے سے ہماری نظروں سے اوجھل ہے ۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ سماج میں اساتذہ کی تعظیم وتکریم کو بٹہ لگا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ کبھی اساتذہ کی تنخواہیں مہینوں رُکی پڑی رہتی ہیں ، کبھی ان کی قابلیت اور ڈگریوں پر بلا تکلف شک کی سوئیاں گھمائی جاتی ہیں، کبھی ان سے وہ کام لئے جاتے ہیں جوان کے شایانِ شان ہوتے ہیں نہ ان کے پیشے سے کوئی مطابقت رکھتے ہیں۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ اساتذہ کو کلاس روم چھوڑ کر وقفے وقفے سے سڑکوں پر آکر اپنے مطالبات منوانے کی جنگ لڑنا پڑتی ہے ۔ یہ سب جہاںاساتذہ کے تئیں متعلقہ حکام کے منفی طرز عمل پر دلالت کر تاہے، وہیں تعلیم کے ساتھ کھلواڑ کر نے کا واضح ثبوت ہے۔ نئے آنریبل گورنر اور ان کے فاضل مشیروںپر یہ اہم فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ نظامِ تعلیم کو لاحق ان مسائل ا ور بیماریوں کا موثر علاج کریں اور بر سر احتجاج اساتذہ کی جائز مانگوں پر ہمدردانہ غور کریں۔بصورت دیگر ہمارے یہاںتعلیم کانور مزید ماند پڑسکتا ہے اور ہمارا معاشرہ جس ہمہ گیر بگاڑ اور زوال کی ڈگر پر پہنچا ہے،وہ اور زیادہ گھمبیرتا اختیار کر سکتا ہے ۔ اگر ہم تعلیم کی وساطت سے ایک تہذیب یافتہ، احساس ِ ذمہ داری سے لیس اوراصلاح پسند معاشرے کی تعمیر و تشکیل چاہتے ہیں تو اس کے لئے ہمارے تدریسی سسٹم کا اوپر سے نیچے تک اصلاح یافتہ ہونا شرط اول ہے ۔ ا س اصلاح شدہ تعلیمی نظام کے زیر سایہ جواں نسل کی اُٹھان ایسے انداز میں ہو نے کی امید کی جاسکتی ہے کہ ہم دیش اور دنیا میں سر اُٹھا کر جینے کے قابل ہو سکیں گے ۔ تاریخ یہ درس دیتی ہے کہ جوقوم علم وآگہی میں آگے ہو وہ دیر سویر اپنے بحرانوں پر قابو پاتی ہے ،جب کہ ناخواندہ قوم ذہنی پسماندگی اور بیمارسوچ کی شکار ہوکرا پنا مقصد ِزیست کا راستہ بھٹک جاتی ہے۔ بایں ہمہ اس قوم کو مرحبا ملنی چاہیے کہ لاکھ خرابیوں اور ہزارہا مشکلات کے باوجو یہ تعلیم وتدریس کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ کر نے پر تیار نہیں بلکہ اس نے نامساعد حالات میں بھی تعلیم کے ٹمٹماتے چراغ کوگل نہ ہونے دیا۔ہمارے تعلیمی نصاب کے بارے میں روزِاول سے حقیقت شناس اور بیدار ذہن لوگوں کو یہ شکایت رہی ہے کہ اس میںسے اخلاقیات کا عنصر کھرچ کر ہمارے اپنے حکمرانوں اور قائدین نے قوم کے مستقبل کے ساتھ کچھ اچھا نہ کیا۔ اب وقت کی پکار ہے کہ جب بھی تعلیمی حکام نظام تعلیم کی اور ہالنگ کی توفیق پائیں گے تو سب سے پہلے وہ اس جانب اپنی فکریں مر کو زکریں گے کہ ہمارا نظام ِ تعلیم اخلاقیات کی مہک سے آراستہ ہو تاکہ جواں نسل اس کے طفیل مختلف شعبہ ہائے حیات میں اپنے فرائض کا میابی اور ایمانداری سے اداکرنے کے قابل ہو سکے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ تعلیم سے ذہنی نشوونما کے ساتھ ساتھ اگر کردارسازی کا کام بھی لیا گیا ہو تا تو شاید آج جوان نسل منفی راہوں کی طرف بڑی تیزی کے ساتھ لڑھکتی نظر نہ آ تی ۔ اب اس جان لیوا روگ کا تدارک کر نا تبھی آسان ہوگا جب تعلیمی نصاب میں درسیات اور اخلاقیات کا ایک حسین امتزاج پھر سے متعارف کرایا جائے۔ البتہ یہ بات ہمیں زیر نظر رہے کہ نظام ِ تعلیم کو عملاًچلانے میں اساتذہ کا رول شہ رگ کی حیثیت رکھتاہے ۔ جب ٹیچر فرض شناس ہوں ،ا پنے پیشے کے تقدس سے آگاہ ہوں، نئی نسل کی تعلیم وتربیت میں اپنی ذمہ داریوں سے انصاف کرنے والے ہوں تو فبہا، ور نہ کوئی تعلیمی اسکیم کتنی بھی کارآمداور عمدہ ہو سب رائیگاں ۔ تعلیم و تدریس کے کثیرالجہت موضوع پر بات کی جائے تواس حقیقت کی گرہیں خود کھل جائیں گی کہ آج بھی اُستاد کا مقا م زندہ قو مو ں میں قابل ِرشک ہے کیونکہ اسی آدم گر کے دم قدم سے فکروعمل کی روشنیاں جگمگا تی ہیں کہ انسانی سماج کے تہذیب وارتقاء کا سفر جا ری رہتا ہے۔ جس قوم کا ٹیچر اپنے پیشے کی اصل اہمیت کا قائل ہو، بصیرت کاشناور ہو، زندہ ضمیرکامالک ہو، ہمددری کا مجسمہ ہو ، لازماً اُس قوم کے قدم کا میابیاں چو منے سے نہیں رُکتے، عز ت و آبرو کے چاند تا رے اُسے جھک جھک کر سلام کر تے ہیں، پیا راوروقار کے پھول اس کا مقدر بنتے ہیں ، مگر یہ فخریہ چیزیں قابل وفرض شناس اساتذہ کی تدریسی کاوشوں کی صدائے بازگشت ہوتی ہیں۔ماضی ٔ قریب تک ہما رے یہا ں ایسے سنجیدہ فکر اور صالح مزاج اساتذہ کرام کی بھر ما ر تھی جن سے طلبہ اپنی اپنی طلب اور ظرف کے مطابق استفادہ کرتے تھے، ایسے استادوں کی سماج میں عزت وتوقیر ہوتی تھی اور یہ و الدین کا دل موہ لیتے ۔ مسلم تو مسلم اس پیشہ سے تعلق رکھنے والے نیک خصلت پنڈت اور عیسائی مشنری والے بھی اپنے پیشے پر سب کچھ نچھاور کر نے والے ہواکرتے تھے۔ دیانت ،مہارت ، شفقت،سادگی، سچائی ، خلو ص اور ہمدردی کے پتلے ایسے اساتذہ آ ج خال خال ہی نظر آتے ہیں ، کڑوا سچ یہ ہے کہ اب ہر شعبۂ زندگی میں ایسے لوگ عنقا ہیں۔اس بد قسمتی کی ایک نہیں سینکڑو ں وجوہات ہیں۔ اسی بناپر ہمارے نظام ِتعلیم کو اب ایسے فرشتوں کی زیادہ تلاش وجستجو ہے جن پر میردرد ؔ کا یہ مصرع’’دامن نچوڑ دیں تو فر شتے وضو کر یں‘‘ صادق آئے۔ اگر سچ مچ تمام ٹیچر سو سائٹی میں اپنے کھو ئے ہوئے وقار کی بحا لی اور مالک ِارض وسماء کی رضاچاہتے ہیں ،تو انہیں اس کے لئے تعلیم گاہوں میں محنت ، تندہی اور لگن کااینٹ گا را، خلو ص کا سامان ِ آرا ئش اورسب سے بڑھ کر خدمت ِخلق اللہ کی قندیلیں فروزاں کرنا ہوں گی ، مگر اس کے لئے نظام ِتعلیم کی دُرستگی اور صحیح الفکر نظر یہ ٔ  تعلیم بھی ایک لازم وملزم ہے ۔ 
 

تازہ ترین