تازہ ترین

گستاخانہ خاکے!

عمل سےغافل ہوا مسلمان

8 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

سہیل احمد عظمیٰ
یہودونصاریٰ کی صفوں میں فتنہ پرور عناصراکثر  وبیشترامت مسلمہ کے جذبہ ایمانی کو جانچنے کے لئے اسلام کا مذاق اڑانے کی سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں ہالینڈ میں نو مبر کے ماہ میں متنازعہ اور اشتعال انگیز خاکوں کی نمائش کا اعلان کیاگیا جس کے جواب میں پوری امت مسلمہ کے دو ارب مسلمانوں کا غصہ ہوناقابل فہم بات ہے ۔ پاکستان ،بنگلہ دیش ،بھارت ،ترکی ،سوڈان ،انڈونیشیا ،ملائشیاودیگر کئی اسلامی ممالک میں عوام اور بعض حکمرانوں کی طرف سے شدیدرد عمل دیکھنے میں آیا۔ پاکستان کی سینٹ میں اس مکروہ وناپاک حرکت کے خلاف قرارداد پاس کی گئی ۔دیگر قومی وصوبائی اسمبلی کے ایوانوں میں بھی تقاریر کی گئیں ،ہالینڈ کے سفیر کو بلا کر احتجاج کیاگیا ۔او آئی سی کا اجلاس بلوانے کی درخواست کی گئی، احتجاجی مظاہروں میں ہالینڈ سے سفارتی تعلقات ختم کرنے ،معاشی بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا گیا ۔سوڈان کے صدر نے ہالینڈ کا سفارت خانہ بند کرکے اس کی جگہ مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا ۔ترکی نے عملی طور پر اپنا سفیر واپس بلایا اور ہالینڈ کے اشیاء کے خلاف عملی بائیکاٹ ترکی میں ہی شروع ہوا۔امت مسلمہ کے اس تیکھے رویہ کو دیکھتے ہوئے ہالینڈ کی حکومت نے اسلام کے خلاف گستاخانہ خاکوں کی نمائش پر پابندی لگادی ۔یہ تو ہوا تصویر کا ایک رُخ ، تصویر کادوسرا رُخ یہ ہے کہ کاش اُمت مسلمہ اسوہ حسنہ ؐ کو اپنی زندگی میں اپنا ئے ، اس سے نہ صرف ہمارے روحانی ،معاشی ،اقتصادی ،سیاسی ،دفاعی اور تعلیمی حالات سدھرجائیں گے بلکہ اس کے مثبت اثرات پانچ ارب غیر مسلموں پر بھی پڑیں گے۔بدقسمتی سے جب ایک غیر مسلم دین حق کا مذاق اڑاتا ہے تو ہمیں دکھ ہوتا ہے لیکن جب مسلمان تمام زندگی اسوہ حسنہؐ کے خلاف اپنی زندگی گزارتے ہیں تو ہمارے ماتھے پر ناگواری کی کوئی ایک شکن بھی نہیں پڑتی ،اس کا کوئی رنج وغم نہیں ہوتا ۔ حالانکہ اسلام کی شان تا قیام قیامت باقی ر ہے گی چاہے یہود ونصاریٰ گھناؤنی ،مکروہ اور ناپاک سازشیں رچائیں یا مسلم غفلت وجمود کی نیند میں پڑے رہیں ۔ البتہ ہمیں اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے اسلام مخالف قوتوں کی نازیبا حرکات کا جواب عملاً اپنی زندگی میں اسلام اپنا کر دینا ہوگا ۔آج اگر اُمت مسلمہ اسوۂ حسنہ ؐپر تھوڑا بہت بھی چلے توہمارے تمام تر دینوی واخروی مسائل چٹکیوں میں حل ہوسکتے ہیں ۔ہم نے غیروں کے طریقوں کو اپنا نے میں اپنی کامیابی سمجھی جس کے باعث ہماری مثال آدھا تیتر اورآدھا بٹیر جیسی ہوگئی ۔اغیار کی تقلید سے ہمارے گھر گھر میں غیر اسلامی اثرات پہنچ گئے اور ہماری طرز زندگی کوبے دینی کے رنگ میں رنگ دیا۔ ماشاء اللہ ہم مسلمان آپؐ سے محبت کرنے کے دعویدار ہیں لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہے، یہ صرف زبانی جمع خرچ کی حد تک ہے ، ہم ہیں کہ یہود نصاریٰ کے فیشن اور تمدن کو بے دریغ اختیار کررہے ہیں۔ نبیؐ نے فرمایا نماز اداکرو، مگر نوے پچانوے فیصد مسلمان نماز سے دور اور 98 فیصد زکوٰۃ کی ادائیگی سے محترز ہیں۔ہمیں سودی نظام سے بچنے کاتاکیدی حکم دیا گیا مگر ہماری ساری معیشت سودی لین دین میں جکڑی ہوئی ہے ، ہمیں عدل وانصاف کی شاہراہ پر چلنے کو کہا گیا مگر عدل وانصاف تو دور ہم سراسر ظلم وزیادتی کی آخری حد چھونے سے نہیں کتراتے ۔ ہمیں تعلیم یہ دی گئی کہ تم جس قوم سے مشابہت کرو گے، قیامت کے روز اسی کے ساتھ اٹھائے جاؤ گے  اورہماری مشابہت اُن یہود ونصاریٰ سے ہے جو اسلامی شعائر کا مذاق اڑاتے پھر رہے ہیں ۔حال ہی میں مسلمان کہلانے والے وزیر صاحب نےڈاڑھی اور حجاب کے بارے میں بڑا ہی مضحکہ خیز بیان دیا ،جب کہ ایک دوسری جگہ اعلان فرمایاکہ وہ اب میڈیا کے ذریعے زیادہ سے زیادہ فلمیں ، فلمی گانے ،ڈرامے وغیر ہ کو پرموٹ کریں گے ۔ حجاب کے بارے میں یورپ میں نو مسلم خواتین بڑی ہی حوصلہ اور ایمان افروز جدوجہد کررہی ہیں اور اسلامی ملک کے وزیر اطلاعات یہ گل افشانیاں فرماتے ہیں۔ بہر حال اگر ہم خود مسلمانانہ زندگی اختیار کریں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہود ونصاریٰ ہمیں اپنا رول ماڈل نہ بنائیں ، اور یہی ایک موثر توڑ ہے اُن کی ریشہ دوانیوں اور فتنہ انگیزیوں کا ۔ ظاہر ہے جب ہم خاتم النبین  ؐکی پاک زندگی کو عملی طور ساتھ لے کر دنیا میںچلیںگے تو پھر اللہ کی مدد ونصرت ہمارے ساتھ ہو گی ، ہم غیروں کے دل بھی اپنی انسانیت نوازی سے فتح کر لیں گے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ہم تعداد میں کم اور نہتے تھے تواپنے سے کئی گناہ زیادہ اور قوی لشکروں ، حکمرانوں کو ہم نے یکہ وتنہا شکست فاش دی لیکن آج ہم تعداد میں زیادہ ہیںبلکہ دنیا کے نقشے پر 57 ؍ مسلم ممالک موجود ہیں لیکن سیلاب میں جھاگ کی مانند۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کے برابر چھوٹا سا اسرائیل ہمیں تگنی کا تاج نچا رہا ہے ۔حضورؐنے ایک مرتبہ صحابہ کرامؓ سے فرمایا کہ عنقریب ایسا وقت بھی امت مسلمہ پر آئے گا کہ یہودونصاریٰ تم پر ایسے ٹوٹیں گے جیسے لوگ ایک دوسرے کو بلاکر کھانے پرٹوٹتے ہیں وہ تمہیں اسی طرح قتل کریں گے ۔صحابہ کرامؓ نے سوال کیا کہ کیا ہم تعداد میں کم ہوں گے ۔آپ نے فرمایا تم تعداد میں بہت زیادہ ہو گے لیکن حب جاء اور حب مال کی حرص تمہیں تباہ و برباد کردے گی ۔۔۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ شام ،فلسطین ،عراق ،لیبیا ،مصر ،ہندوستان ، برما،افغانستان،پاکستان میں کیا ہورہا ہے ، اُمت مسلمہ کا قتل عام جاری ہے ۔ہمیں ہر طرف نشانہ بنایا جارہا ہے، یہ صرف ہماری دین سے دوری کی مار ہے۔ امت مسلمہ جو کہ اغیار کو جہنم کی آگ سے بچانے کا ذریعہ ہے خود اپنے آپ کو نہیں بچا پارہی ہے ۔ایک کے بعد ایک مسلمان ملک کی باری آرہی ہے ۔ برماجیسے چھوٹے ملک میں مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا ،ان کے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے لیکن کسی مسلم ملک نے ماسوائے ترکی کے میانمار کی جابر وظالم حکومت کے خلاف آف تک نہ کی۔ ہماری اوآئی سی صرف کاغذی گھوڑے چلانے کی حد تک فعال ہے ۔ بہر صورت عملی طور پر ہمیں ہمارا دین اور دین کی اجتماعی محنت ،اسوۃ حسنہؐ کی اتباع ہی تمام تر کفریہ سازشوں سے بچاسکتا ہے ، ورنہ اس کے بغیر ہمیں آگے بھی ہالینڈ ہی جیسی اشتعال انگیز بے دین حرکات کا سامنا کرنا پڑے گا۔