تازہ ترین

ہولو کاسٹ ایک فرضی کہانی!

زیر پردہ ہیں حقائق آج بھی

8 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بابرالیاس چچوتنی
مرگِانبوہ جسے انگلش میں Holocaust کہا جاتا ہے، دراصل دوسری جنگ عظیم کے دوران میں جرمنی کے چانسلر ہٹلر کی نازی افواج کے ہاتھوں مبینہ قتل عام کا شکار ہونے والے یہودیوں سے منسوب ہے۔ اس کو یہودیوں کی نسل کشی بھی قرار دیا جاتا ہے۔ ہالوکاسٹ دراصل یونانی لفظ λόκαυστον سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں “ مکمل جلادینا“۔ اس طرح لاکھوں یہودی مرد، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے علاوہ اشتراکیت میں  پولینڈ کے مشترکہ قومیت کے حامل باشندوں،غلاموں،معذوروں،ہم جنس پرستوں،سیاسی اور مذہبی اقلیتوں کو انتہائی بے دردی سے موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل کو افسانوی انداز میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔  ہزاروں نظمیں، ڈرامے اور ناول لکھوائے گئے اوراس واقعے کو ’’ہولوکاسٹ‘‘ کا نام دیا گیا۔ ہولو کاسٹ کے مرنے والوں کو اس قدر’’ مقدس درجہ‘‘ عطا کیا گیا کہ ان کے خلاف لب کشائی کرنے والا نفرت پھیلانے والا قرار دے کر قابل تعزیر بنادیا گیا۔ ہولوکاسٹ کی نہ صرف تردید کرنا جرم ٹھہرا، بلکہ یہودیوں کی جانب سے بیان کردہ ’’مقتولین‘‘ کی ساٹھ لاکھ تعداد میں چند ایک کی کمی کرنا بھی قابل سزا جرم بنا دیا گیا۔متعدد یورپین صحافی، مصنف اور کالم نگار ہولوکاسٹ میں یہودیوں کی جانب سے بیان کردہ تعداد کو صرف غلط کہنے کی پاداش میں جیلوں میں بند کردیے گئے۔ ہولوکاسٹ کے خلاف زبان کھولنے والے دانشوروں کے صرف ملکی ہی نہیں، بلکہ عالمی سطح پر وارنٹ جاری کیے گئے۔ حالانکہ تحقیق کا دروازہ کبھی اور کسی ملک میں بند نہیں ہوتا، لیکن ہولوکاسٹ پر تحقیق کرنا اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرنا بھی قابل تعزیر جرم قرار پائے ہیں۔بہت سے ممالک میں ہولوکاسٹ پر زبان بندی کے حوالے سے سخت قانون سازی کی گئی، صرف یورپ کے تقریباً تین درجن ممالک میں ہولوکاسٹ کے حوالے سے قوانین موجود ہیں، جن کے تحت اس بارے میں ہر نوعیت کا منفی اظہار رائے جرم ہے، جس پر قید اور جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔ برطانیہ کی لبرل پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ ڈیوڈ وارڈ نے اپنے بلاگ میں صرف یہ لکھ دیا تھا کہ ’’میں ہولوکاسٹ کے دور میں یہودیوں کے لیے پیش آئے ناقابل یقین واقعات پڑھ کر غم زدہ ہوجاتا ہوں، لیکن یہودی جنھوں نے یہ مصائب و آلام برداشت کیے ہیں، وہ کیونکر فلسطینیوں کے خلاف مظالم ڈھا رہے ہیں۔‘‘جب سے’’ ہولوکاسٹ کارٹون کانٹیسٹ‘‘ کروانے کی تجویز دی گئ ، اور سوشل میڈیا دلاوروں نے لبیک کہا، تب سے اب ہر طرف ہولوکاسٹ پر پوسٹ ہوتی نظر آرہی ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی وزیراعظم جناب عمران خان صاحب نے بھی سینیٹ تقریر میںہولوکاسٹ کا لفظ استعمال کر کے اس کے پلڑے میں اپنا وزن نہ جانے کیوں ڈالا؟بدقسمتی سے آج مسلمانوں کی نئی نسل لفظ ’’ہولوکاسٹ‘‘ سے بالکل ناواقف ہے۔ مسلمانوں نے تحقیق کرنا ہی چھوڑ دیا ہے اور صرف یہود و نصاریٰ کی تخلیق کردہ اشیاء کے رحم و کرم پر زندگی گزار رہے ہیں۔ افسوس صد افسوس !!!لفظ ہولوکاسٹ بظاہر بہت چھوٹا ہے لیکن اس کے پیچھے بہت بڑی تاریخ چھپی ہے جس پرایک بڑی کتاب لکھی جاسکتی ہیں۔ میں یہاں مختصرا ہولوکاسٹ کا ذکر کروں گا تاکہ ہماری نئی نسل ہولوکاسٹ کے پیچھے چھپی اصل کہانی کو آسان الفاظ میں سمجھ سکے۔
پہلے صیہونیوں کا عقیدہ تھا کہ جب تک ان کا مسیحا یعنی دجال نہیں آئے گا ،اُن کے لیے اس دنیا میں الگ وطن حاصل کرنا ناممکن ہے۔ ہولوکاسٹ سے پہلے تک صیہونیوں کا یہی عقیدہ رہا لیکن بعد میں صیہونیوں کے دانا بزرگوں نے اس عقیدہ کی تھوڑی مختلف تشریح پیش کی جس کے مطابق یہودیوں نے طے کیا کہ اپنے مسیحا کے انتظار سے پہلے ہمیں اپنی معاشی برتری حاصل کرنی چاہیے اور اس معاشی طاقت کے بل بوتے پر یہودیوں کو الگ وطن حاصل کرلینا چاہیے اور اس وطن میں اپنے مسیحا یعنی دجال کا تخت بنانا ہوگا جب ہی ہمارا مسیحا (دجال) آئے گا۔یہ نئی تشریح یہودی نوجوانوں کو بھا گئی، یہودیوں کی نوجوان تحریکوں نے زور پکڑا اور انہوں نے الگ وطن کی آواز کو سیاسی ایشو بنایا۔ ہر طرف تحریکیں شروع کردیں گئیں لیکن مسئلہ یہ تھا کہ دنیا بھر میں موجود یہودی ہجرت کرکے فلسطین آنے کو راضی نہیں ہورہے تھےاور اسی مقصد کے لیے صیہونیوں نے یہودیوں کا ازخودقتل عام شروع کروایا تاکہ وہ اپنے وطنوں سے ڈر کے مارے بھاگ کر فلسطین میں پناہ گزیں ہوں ۔ صیہونیوں کی یہ نئی تشریح عام یہودیوں کے لیے تھی مگر اس کے پیچھے اصل کہانی کچھ اور تھی۔ صیہونیوں کا اصل پلان یہ تھا کہ پہلے پوری دنیا میں معاشی بحران پیدا کیا جائے جس کے نتیجے میں عالمی جنگ کروائی جائے اور جنگ کے اختتام پر ایک آزاد یہودی ریاست (اسرائیل)کا اعلان کروایا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ دنیا بھر میں موجود یہودیوں کو فلسطین منتقل کروایاجائے ، جو نہیں آنا چاہیں انہیں ہر اوچھا حربہ استعمال کرکے ہجرت کرنے پر مجبور کیا جائے ،چاہے اس کے لیے کچھ یہودیوں کو قتل ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔یاد رہے دوسری عالمی جنگ سے پہلے صیہونی کا پلان کردہ عالمی معاشی بحران 1929 میں پیدا کیا گیا جس کے نتیجے میں کئی ممالک ایک دوسرے پر چڑھ دوڑے اور وہ جنگ صیہونیوں کے عین منصوبے کے مطابق ایک عالمی جنگ کی شکل اختیار کرگیا۔1929 میں عالمی معاشی بحران پیدا کیا گیا، ٹھیک 10 سال بعد 1939 میں عالمی جنگ شروع کروادی گئی جو 1945 تک ایک منصوبہ بند حکمت عملی کے تحت جاری رہی۔ اس کے ٹھیک 3 سال بعد 14 مئی 1948 کو امریکی اور برطانوی صیہونیوں کی مدد سے فلسطین پر قبضہ کرکے ’’اسرائیل‘‘ کا ناپاک وجود قائم کیا گیا۔
قارئین یاد رکھیں 1929 میں عالمی معاشی بحران پیدا ہوتا ہے، اس کے چند سال بعد جرمنی میں 1933 میں ہٹلر کی نازی پارٹی جرمنی میں اقتدار میں آتی ہے۔ ہٹلر کی یہودیوں سے نفرت کی کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں جن میں ہٹلر کے متعلق منفی پروپیگنڈہ کہ وہ یہودی باپ کی اولاد ہے، ہٹلر کی ماں کی موت،صیہونیوں کی جانب سے عالمی معاش بحران پیدا کرنا، دنیا بھر میں ہر برائی کی جڑ صیہونیت سے شروع ہونا وغیرہ چیزیں اہم ہیں۔سب سے زیاد اہم بات جس پر ہٹلر یہودیوں سے نفرت کرتا تھا ،وہ یہ تھی کہ ہٹلر جان گیا تھا کہ دنیا بھر بےحیائی، معاشی بحران یا قتل و گارت گری وغیرہ الغرض ہر بڑی برائیوں کے پیچھے صیہونیوں کا ہی ہاتھ ہے ،اس لیے ہٹلر نے اپنے ملک جرمنی سے صیہونیوں کو نکالنے کا قطعی فیصلہ کیا ۔ یہ ایک طرف کی سوچ ہے اور دوسری سوچ یہ ہے کہ ہٹلر خود بھی صیہونی صفت سفاک قاتل انسان تھا، اس نے صیہونیوں کی ہی مدد کی، ایک طرف اپنے ملک سے یہودیوں کو نکالنا چاہا تو دوسری طرف ان یہودیوں کو جرمنی چھوڑ کر فلسطین جانے کو کہا۔ بظاہر جرمنی سے نکالنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ فلسطین جاکر آباد ہوں اور پھر وہاں اسرائیل قائم کردیا جائے۔یاد رکھیں ہٹلر بذات خود کوئی عظیم ہیرو نہیں بلکہ وہ بھی قاتل سفاک اور ظالم صفت انسان تھا مگر یہاں کئی دانشور ایک بات نظرانداز کردیتے ہیں کہ ہٹلر کی نازی پارٹی کے صیہونیوں سے خفیہ یارانے تھے۔ آپ گوگل پر نازی پارٹی کو سرچ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس پارٹی کا لوگو ہی صیہونی فری میسن والا ہے۔ ہٹلر خود بھی اندر سے صیہونیوں سے ملا ہوا تھا۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر ہٹلر صیہونیوں سے ملا ہوا تھا تو اس نے لاکھوں یہودیوں کو کیوں قتل کیا؟ جناب یہی تو مسئلہ ہے کہ صیہونیوں نے اصل معلومات کو اتنا گڈمڈ کروادیا ہے کہ کوئی انسان بھی اپنی سوچ کو کسی ایک زاؤیے میں رکھ ہی نہیں سکتا۔ ہر طرف سے انہوں نے ایسے ایسے خیالات اور سوالات اور اشکالات پروان چڑھائے ہوئے ہیں کہ انسان سوچ سوچ کر خاموش ہوجاتا ہے لیکن اسے سراغ نہیں ملتا کہ آخر ہوا کیا تھا اور اس سب فسانے کے پیچھے تھا کون؟اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف، غور سے پڑھیے۔عالمی معاشی بحران صیہونیوں نے ہی پیدا کیا، اس بحران کے چند سال بعد ہٹلر برسر اقتدار آتا ہے اور پھر وہ صیہونیوں کو جرمنی سے نکالنا شروع کردیتا ہے۔آخر کیوں؟ کیونکہ ہٹلر کا صیہونیوں سے خفیہ معاہدہ تھا جس کی رُو سے دونوں نے اتفاق کیا تھا کہ جرمنی میں موجود لاکھوں صیہونیوں کو نکال کر فلسطین منتقل کر وانا ہے۔ یہاں بھی بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں کہ آخر صیہونیوں نے یہودیوں کو نکالنے کے لیے ہٹلر کی مدد کیوں لی اور ہولوکاسٹ کہاں سے آیا ؟اصل میں جب صیہونی ’’دانا ؤں‘‘ نے فلسطین کی مقدس سرزمین پر قبضے کا پلان بنایا تو اس وقت یہودی پوری دنیا میں پھیلے ہوئے تھے مگر ان سب میں سب سے زیادہ یہودی ہٹلر کے ملک جرمنی میں موجود تھے ،ان کی تعداد تقریبا 40 لاکھ کے اوپر بتائی جاتی ہے۔ اب یہ تمام یہودی عشروں سے جرمنی میں رہ رہے تھے اور اپنے آباؤ اجدا کے گھر اور جائداد کو چھوڑنے پر ہرگز تیار نہیں ہورہے تھے ،دوسری طرف صیہونیوں کو معلوم تھا کہ جب تک یہ سب یہودی فلسطین منتقل نہیں کئے جاتے ہم الگ ملک اسرائیل کا اعلان نہیں کرسکتے۔ابلیس کی اس مجلس شوریٰ نے سر پکڑ لیا کہ اب کیا کیا جائے؟ کس طرح یہودیوں کو زبردستی فلسطین پہنچایا جائے؟ابلیس نے مشورہ دیا کہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں جس سے یہودی یہ سمجھنے پر مجبور ہوجائیں کہ پوری دنیا میں اُن پر ظلم کیا جارہا ہے، اُنہیں اپنا نہیں سمجھا جارہا اور انہیں بےدردی سے قتل کیا جارہا ہے، ٹھیک اس قتل عام کے وقت صیہونی ان عام یہودی خاندانوں کی مدد کو کود پڑیں اور انہیں مجبور کریں کہ تمہاری جان و مال دنیا میں کہیں بھی محفوظ نہیں سوائے فلسطین کے، فلسطین چلو ،وہاں ہم یہودیوں کا الگ وطن اسرائیل قائم کریں گے۔ابلیس کی مجلس شوریٰ کا مشورہ منظور کیا گیا اور ہٹلر کے زریعے جرمنی میں موجود یہودیوں کا نکالنے کا کام شروع کیا گیا۔ ہٹلر نے یہودیوں کو پکڑ پکڑ کر ملک سے نکالنے کا کام کیا، جو جرمنی بدر ہونےپر آمادہ نہ ہوتے، انہیں ہٹلر کی فوجیں پکڑ کر سرعام گولیوں سے بھون دیتیں۔ ہٹلر سے مدد لینے کے بعد صیہونیوں نے اسی ہٹلر کو ہولوکاسٹ کے نام سے بدنام بھی کیا۔یاد رکھیں ہٹلر کا مقصد یہودیوں کی نسل کشی نہیں بلکہ انہیں جرمنی سے نکالنا تھا۔ بقول ہٹلر ’’ ہماری جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک آخری یہودی جرمنی سے نکل نہ جائے‘‘۔ وہ جرمنی سے اسی لیے نکالنا چاہتا تھا کہ یہودی جاکر فلسطین میں آباد ہوجائیں اور اسرائیل کے قیام کا خواب ایک حقیقت کا روپ دھارن کر ے۔اگر ہٹلر یہودیوں کی نسل کشی کرتا تو یہودیوں کے امراء کو کیوں چھوڑ دیتا؟ تاریخ گواہ ہے کہ ہٹلر نے امیر یہودیوں کو مال مسروقہ لے کرچھوڑ دیا اور عام یہودیوں کو ملک سے نکلنے پر مجبور کیا اور جو نہ نکلتا اسے قتل کردیا جاتا۔میرے خیال سے ہولوکاسٹ ایک ایساپیچیدہ اور تہ درتہ موضوع ہے جس کو سمجھنے کے لیے ہمیں ہٹلر کا خفیہ پلان اور صیہونیت کی چال بازیاں دونوں کو سمجھنا ہوگا۔ہٹلر نے جن یہودیوں کو جرمنی چھوڑنے پر مجبور کیا اور نہ جانے والوں کو قتل کیا اسے یہودی ’’ہولوکاسٹ‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ ہولوکاسٹ مطلب آگ سے قتل عام کرنا۔یہودیوں کے بقول ہٹلر نے 60 لاکھ سے زائد یہودیوں کو قتل کیا جب کہ بقول ہٹلر ’’ہولوکاسٹ‘‘ محض جھوٹ اور صیہونیوں کی تخلیق کردہ فرضی کہانی ہے جس کی بنیاد پر صیہونی دنیا بھر میں خود کو مظلوم بناکر پیش کرتے ہیں جب کہ حقیقت میں جرمنی میں عام یہودیوں کی نسل کشی کروانے کے پیچھے بھی انہیں صیہونیوں کا اپنا ہاتھ تھا۔
قارئین ! ہولوکاسٹ اصل میں ایک فرضی کہانی تھی جسے گھڑنے والے صیہونی تھے،یہ کہانی سناکر یہودی پوری دنیا میں روتے رہے کہ ہمارے ساتھ اتنا بڑا ظلم ہوا، قتل عام چند لاکھ کا ہوا مگر یہودی کہتے رہے کہ ہٹلر نے 60 لاکھ سے اوپر یہودیوں کا قتل عام کیا تھا۔ دنیا بھر کے مورخین حیران ہیں کہ اس وقت تو پورے جرمنی میں 60 لاکھ یہودی ہی نہیں تھے، تو اتنے قتل کیسے ہوگئے؟کئی عالمی مورخین نے اس معاملے پر ریسرچ کرنی چاہی تو صیہونیوں نے نہیں کرنے دی۔ فرانس کی سوربون یونیورسٹی کے سابق سربراہ پروفیسر رابرٹ فروسین کا نام اس معاملے میں پوری دنیا میں مشہور ہوا۔ پروفیسر صاحب ایک مانے ہوئے عالمی تاریخ دان تھے، انہوں نے اپنی کتاب لکھی جس میں یہودیوں کے مفروضے ہولوکاسٹ کا پوسٹ پارٹم کردیا، ایسے ایسے حقائق پیش کیے کہ جسے کوئی انکار ہی نہ کرسکا۔ پروفیسر رابرٹ فروسین نے واضح کیا کہ اس وقت جرمنی میں 60 لاکھ یہودی تھے ہی نہیں اور نہ ہی اتنے یہودیوں کا قتل عام ہوا ،اور نہ ہی جرمنی میں کسی گیس چیمبر کا سراغ ملا۔ پروفیسر صاحب کے بقول یہ سب صیہونیوں کا مفروضہ اور جھوٹی کہانی ہے جو جان بوجھ کر گھڑی گئی تاکہ اس رولا ڈالنے پر عالمی شیطان امریکہ اور برطانیہ یہودیوں پر رحم کھاکر انہیں فلسطین میں الگ وطن دلوادیں۔بالآخر بعد میں ہوا بھی ایسا ہی۔ جیسے ہی عالمی جنگ ختم ہوئی، امریکہ ،برطانیہ اور فرانس نے مل کر صیہونیوں کی مدد کرتے ہوئے فلسطینی مقدس سرزمین پر ایک ناپاک ریاست اسرائیل کا اعلان کردیا۔پروفیسر رابرٹ فروسین کو اس تحقیقات کی پاداش میں ’’مسلح یہودی ملیشا‘‘ کے غنڈوں نے تقریباً پانچ مرتبہ شدید تشدد کا نشانہ بنایا، انہیں نوکری سےنکلوادیا، ان کا پورے فرانس، برطانیہ اور امریکہ میں سوشل بائیکاٹ کروایا گیا اورا نہیں ہر جگہ ذلیل و خوار کیا گیا مگر صیہونی آج تک پروفیسر رابرٹ کی تحقیقات کو دلائل سے ردنہیں کرسکے۔پروفیسر صاحب کے ہاتھوں صیہونیوں کے بےنقاب ہونے پر دنیا کے کئی مورخین اور تاریخ دانوں نے ہولوکاسٹ پر تحقیقات شروع کردیں، صیہونی ڈر گئے کہ اگر تحقیقات کا سلسلہ چل نکلا تو ایک دن دنیا کو معلوم ہوجائے کہ ہولوکاسٹ ایک جھوٹ اور مکر وفریب کا گورکھ دھندا ہے ، اس لیے صیہونیوں نے اپنے عالمی گماشتوں کی مدد سے یورپ، امریکہ اور کینڈہ و فرانس جیسے ممالک میں ہولوکاسٹ پر تحقیقات کرنے پر پابندی لگوادی، میڈیا کو ہولوکاسٹ پر بات کرنے سے روک دیا گیا ،یہاں تک کئی ممالک نے ہولوکاسٹ پر تحقیقات کرنے یا اسے مفروضہ یا جھوٹی کہانی کہنے پر سزائے موت کا قانون پاس کردیا۔صیہونی ویسے تو’’ تحقیق ‘‘کے بڑے شوقین ہوتے ہیں، انگریز خودریسرچ پر اربوں ڈالرز خرچ کرتے ہیں لیکن کیا وجہ تھی کہ ہولوکاسٹ پر تحقیقات کرنے کو جرم قرار دیا گیا؟وجہ صرف یہی تھی کہ ہولوکاسٹ پر تحقیقات ہونے سے صیہونیوں کا جھوٹ پکڑا جاتا اور ان سے اسرائیل خالی کرنے کے مطالبے شروع ہوجاتے جو کہ صیہونی اور ان کے ناجائز باپ امریکہ اور ان کی ناجائز ماں برطانیہ کبھی نہیں چاہیں گے۔ یاد رہے صیہونیوں کا اصل گڑھ برطانیہ ہے، اسرائیل تو بعد میں بنا ہے ۔قصہ مختصر’’ہولوکاسٹ‘‘ایک فرضی جھوٹی کہانی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ البتہ ہٹلر نے جرمنی سے یہودیوں کو نکالنے کے لیے بے شمار یہودی خاندانوں کا قتل عام کیا۔ لفظ ہولوکاسٹ کا ڈرامہ صیہونیوں نے اس لیے رچایاتاکہ جرمنی اور دنیا بھر میں آباد یہودیوں کو یہ باور کروایاجائے کہ تم پوری دنیا میں کسی بھی ملک میں اتنے محفوظ نہیں رہ سکتے جتنے فلسطین میں، اس لیے اپنے اپنے ملکوں سے ہجرت کرکے فلسطین چلو، جہاں اسرائیل کا اعلان کیا جائے۔ چونکہ یہودی فلسطین جانے کو تیار نہیں ہوئے اس لیے ان کی نسل کشی کروائی گئی، انہیں قتل کیا گیا، ان پر شدید تشدد کروایا گیا تاکہ وہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ اس زبردستی کی ہجرت کروانے کے بعد عالمی صیہونی فری میسن نے امریکہ برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر اسرائیل کا ناپاک وجود قائم کیا اور وجود قائم کرنے بعد یہ پوری دنیا کے سامنے مگرمچھ کے آنسو بہاتے رہے کہ دیکھو ہمارے ساتھ کتنا بڑا ظلم ہوا، 60 لاکھ کا جھوٹا عدد بتاکے کہتے رہے کہ ہٹلر نے ہمارے 60 لاکھ سے اوپر یہودیوں کو قتل کیا، ہم مظلوم ہیں، ہماری مدد کرو، یہ مسلمان اور نازی ہمیں مار دیں گے، یہ رونا پیٹنا جاری رہا تاکہ عالمی طاقتیں صیہونیوں کی مدد کریں ۔ اس کے بعد امریکہ برطانیہ نے مسلسل اسرائیل کو امداد جاری رکھی جو آج تک جاری و ساری ہے۔آج اگر آپ ہولوکاسٹ کو جھوٹ کہیں تو یہودیوں کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے، وہ یہ سننا بھی گوارا نہیں کرتے کہ کوئی ہولوکاسٹ کو جھوٹ کہے، کیونکہ اسی جھوٹ کی بنیاد پر ان کے اسرائیل کی بیساکی کھڑی ہے۔ آپ یہودیوں کے مقابلے میں ہٹلر کی تعریف کریں تو تب بھی یہودیوں کو آگ لگ جاتی ہے۔ یہودی دنیا کی ڈکشنری سے لفظ ہولوکاسٹ کو ہمیشہ کے لیے مٹادینا چاہتے ہیں کیونکہ اس لفظ سے ان کے زخم تازہ ہوجاتے ہیں ۔ اگر کوئی ہولوکاسٹ پر علمی تحقیقات کرنا شروع کردے تو عام یہودیوں کو معلوم ہوجاتا ہے کہ جرمنی میں یہودیوں کی نسل کشی ہٹلر نے نہیں خود صیہونیوں نے کروائی تھی تاکہ یہودی جرمنی سے نکل کر اسرائیل منتقل ہوں۔صیہونی ان تحقیقات کو روکنا چاہتے ہیں، ہولوکاسٹ پر بات کرو تو روتے ہیں کہ ہماری توہین کی جارہی ہے جب کہ ابلیس کے یہ چیلے ہمارے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں گستاخی کرنے کو آزادی ٔاظہار رائے کا نام دیتے ہیں۔آج مسلمان بھی ابلیس کی ان صیہونی اولادوں کو ہولوکاسٹ کے حوالے سے پوری دنیا کو بتائیں کہ ہولوکاسٹ محض ایک جھوٹ ہے، جرمنی میں ہٹلر کے ہاتھوں بعضے یہودیوں کی نسل کشی کرنے والے یہ صیہونی خود تھے۔ یہودیوں کو یہ امر واقع سناکر کچھ نہیں تو کم ازکم ہم انہیں ان کی اوقات تو یاد دلائیں گے تاکہ انہیں احساس ہو کہ ’’آزادی اظہار رائے‘‘ کی بھی کچھ حدود ہوتی ہیں۔جس دن ان کو احساس ہوگیا کہ فریڈم آف اسپیچ کی بھی حدود ہونی چاہیں، اس دن یہ خود ہی مان جائیں گے نبی رحمۃ العالمین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گستاخانہ خاکے جاری کرواکے وہ کتنی غلط کرتے تھے۔ہمیں ابلیس کی اولادصیہونیوں کو احساس دلانا ہے کہ انہوں نے اگر مسلمانوں کو پتھر مارا ہے توہم انہیں اینٹیں ماریں گے۔انہوں نے عالم اسلام سے پنگا لیا ہے، ہم انہیں بتادینا چاہتے ہیں کہ تم نے جعلی ہولوکاسٹ پر بہت ناٹک کرلیے، ایک دن آئے گا جب پوری دنیا کے مسلمان مل کر تمہیں حقیقی ہولوکاسٹ کا مزہ چھکائیںگے۔ اللہ کی قسم وہ دن ضرور آئے گا، یہ رب عزوجل کا وعدہ ہے، یہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیش گوئی ہے، یہودی پہلے بھی غضب سے دھتکارے گئے تھے، آئندہ بھی اللہ کا عذاب چھکیں گے۔ دنیا انتظار کررہی ہے ’’ ملحمہ‘‘ کا اور اسرائیل کابچہ بچہ جانتا ہے ملحمہ کونسی جنگ ہے۔رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے فیصلہ کن جنگ نہ لڑلیں۔ اس جنگ میں مسلمان یہودیوں کو خوب قتل کریں گے، یہاں تک کہ اگر کوئی یہودی کسی پتھر یا درخت کی آڑ میں چھپے گا تو وہ پتھر اور درخت بول اٹھے گا؛ اسے مسلمان ! اے اللہ کے بندے ! میرے پیچھے یہودی چھپا بیٹھا ہے، تو ادھر آ اور اسے قتل کردے۔ سوائے غرقد نامی درخت کے، (وہ نہیں بولے گا) کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔(صحیح مسلم، 7523)اور یہی حقیقی ہولوکاسٹ ابھی ہونا باقی ہے ۔
