تازہ ترین

کیرالہ: سیلاب زدگان سے مرکز کا معاندانہ سلوک !

8 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

رشید انصاری۔۔۔۔ حیدر آباد
 سنگھ  پریوار اور بھاجپا پر آج کل 2019ء کے انتخابات میں کامیابی کا بھوت سوار ہے۔ اس کی خاطر پریوار قومی اہمیت کے تمام مسائل سے گویا لاتعلق ہے۔ چنانچہ کیرالا میں آئی حالیہ سیلابی تباہی کو بھی اس نے سیاسی موضوع بنالیا ہے ۔ آفت زدہ ریاست کیرالا کے لئے کسی بیرونی امداد قبول نہ کرنے کا اعلان کرکے مودی سرکاریہ ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ اب ملک کی معیشت اب بہت مضبوط ہے اور اب ہندوستان کو ایسے ہنگامی اخراجات کے لئے کسی کی مدد درکار نہیں ہے۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ معیشت کے حوالے سے مودی حکومت نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کو گمراہ کررہی ہے۔ ملک کی اصلی معاشی حالت ہمارے اور آپ کی طرح عام آدمی زیادہ جانتا ہے لیکن سنگھ پریوار عوام کو گمراہ کرتے ہوئے  ڈرتی ہے اور نہ منہ بولتے حقائق کا پاس ولحاظ کر تی ہے۔ اسی لئے بڑی شان سے اعلان کیا گیا کہ ہندوستان اپنی ضروریات کے لئے اب خود کفیل ہے۔ اسے کیرالہ کے سیلاب زدگان کے لئے کسی کی مالی امداد کی ضرورت نہیں ، یہ بھی ظاہر کیا کہ ہندوستان معاشی لحاظ سے مودی کے چار سالہ دور میں روبہ ترقی ہے ۔جہاں تک بیرونی امداد قبول نہ کرنے کا مسئلہ ہے ،وہاں یہ بات تاریخ کا حصہ ہے 2013ء میں اُتراکھنڈ میں تباہی کے بعد اور 2014ء میں کشمیر میں تباہی کے بعد منموہن سنگھ نے بیرونی امداد قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ منموہن سنگھ کے اس فیصلہ پر کسی نے اعتراض نہیں کیا تھا لیکن مودی حکومت کے اس فیصلہ پر نہ صرف کیرالا کے وزیر اعلیٰ پینائی وجین اور مودی کابینہ کے ایک وزیر کے جے الفونس نے شدید اعتراض کیا ہے۔ اسی سے مودی حکومت کے فیصلوں کی اصلیت کھل جاتی ہے۔ 
کیرالا کے لئے بیرونی امداد قبول نہ کرنے کا اعلان کرنے والے وزیراعظم مودی نے کیرالا کی امداد کے لئے مرکزی حکومت کی جانب سے صرف 500 کروڑ کی رقم کا اعلان کیا ہے جب کہ حکومت کیرالا کا مطالبہ 2ہزار 200سے 2ہزار 500کروڑکا ہے ۔ اصل بات تو یہ ہے کہ یہ مودی حکومت کا کیرالا کے عوام اور ووٹرس پر ایک طرح کا انتباہ ہے کہ اگر وہ بی جے پی کو ووٹ نہیں دیں گے تو ان کا یہی حشر ہوتا رہے گا۔ یہ گویاتباہی کے شکار عوام پر دبائو ڈالنا ہے کیونکہ ہزرا کوشش اورسابق وزیر اعلیٰ کیرالا انتونی کی سرپرستی اور مدد کے باوجود کیرالا میں بی جے پی کا کنول کھل نہ سکا۔ اس لئے اب بی جے پی یہ انہونے حربے استعمال کررہی ہے اور عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اگر مرکز اور ریاست میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہو تو ریاست کی ترقی آسانی سے ہوتی ہے جب کہ کشمیر میں باوجود اس کے کہ بی جے پی تین سال سے زائد شریک اقتدار رہی لیکن محبوبہ مفتی پر بی جے پی کی مخلوط حکومت نے کشمیر کے حالات کو بد سے بتر بنادیا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تلنگانہ،آندھراپردیش، بنگال اور دہلی کی مخالف بی جے پی حکومتوں نے باوجود مرکزی حکومت سے زیادہ تعاون اور مدد نہ ملنے کے ایسی ریاستوں کے مقابلوں میں جہاں بھاجپا کی حکومت ہے، زیادہ ترقی کی ہے۔ 
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ مرکزی حکومت واضح انداز میں کیرالا سے عدم تعاون کی پالیسی اختیار کرکے بھاجپا کو ہی نقصان پہنچا رہی ہے اور واضح طور بھاجپامخالف حکومتوں سے معاندانہ اور انتقامی رویہ اختیار کرکے ان ریاستوں میں بی جے پی خود کو تنقیدوں کا نشانہ بنارہی ہے۔ 
Ph: 07997694060
Email: rasheedansari050@gmail.com