تازہ ترین

پنچایت اور میونسپل الیکشن

سیاست کی گردش نئے موڑ پر ہے

8 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر جاوید اقبال
ریاستی  حکومت کے اعلانیہ کے مطابق پنچایت الیکشن دو ماہ بعد نومبرمیں شروع ہو کے مختلف مراحل سے گذرتے ہوئے دسمبر 2018ء میں پایہ تکمیل تک پہنچنے کا پروگرام طے ہے۔ ان انتخابات سے پہلے بلدیاتی الیکشن ماہ اکتوبر میں کروانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اسی دوران نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے گزشتہ دنوں ان انتخابات کے حوالے سے اپنا موقف یکسر بدلتے ہوئے مجوزہ الیکشنوں کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا تا وقتیکہ مرکز ی اور ریاستی سرکار یں دفعہ ۳۵؍ اے کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح نہیں کر تیں اور عدالت عظمٰی کے اندر اور باہر اس کا موثردفاع نہیں کرتیں۔ دہلی سرکارا رو جموں و کشمیر میں گورنر انتظامیہ یہ الیکشن کسی بھی صورت میں کروانے کامن بنا چکی ہیں۔ ریاستی حکومت نے اسی تعلق سے سپریم کورٹ میں  35-؍کی سنوائی کو معطل کروانے کی عرضداشت پیش کی کہ ریاست جموں و کشمیر میں پنچایت اور میونسپل الیکشن ہونے والے ہیں ،لہٰذا دفعہ ۳۵؍ اے کی اگلی سنوائی کی جنوری 2019ء تک موخر کی جائے۔عدالت عظمیٰ نے دہلی سرکار اور ریاستی سرکار کی اس مشترکہ درخواست کو پذیرائی میں جنوری 2019ء کی 19؍تاریخ اگلی پیشی کیلئے مقرر کی ۔ عدالت عظمیٰ میں کسی مقدمے کے ضمن میں جرح و بحث اور الیکشن کروآنے کا اپسی سمبندھ کیا ہے؟ یہ ایک نہ سمجھنے والا معمہ بن گیا ہے ۔اسی کے ساتھ ساتھ الیکشن سے جڑے امنیت عامہ کا موضوع بھی عدالت عالیہ کو سنایا گیا اِس اشارے کے ساتھ کہ دفعہ  35-Aکے ضمن میں جرح و بحث سے امنیت عامہ کی صورت حال مخدوش ہونے کا امکان ہے۔بہر حال دفعہ   35-Aکے بارے میں عدالتی کاروائی آج ہمارا موضوع بحث نہیں ہے بلکہ آج کا موضوع پنچایتی و بلدیاتی الیکشن سے جڑے مسائل ہیں ۔
ریاستی حکومت جو کہ آج کل گورنر کی سربراہی میں چل رہی ہے، معمول سے زیادہ دہلی سرکار کے احکامات پہ عمل کرنے کی پابند ہے۔اِسی مناسبت سے الیکشن عمل کو شد و مد سے شروع کرنے پروگرام بنایا جا رہا ہے۔ ایک وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ الیکشن کروانے کیلئے جو رقم کثیر دہلی سرکار مختص کر چکی ہے نہ ہونے کی صورت میں فنڈس زائل ہونے کا خدشہ ہے ۔یہ خدشات سپریم کورٹ میں بھی دہرائے گئے۔صر ف نظر از اینکہ مختص شدہ رقم زائل ہو گی کہ نہیں الیکشن کے عمل کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے جو دوسرے تماتر خدشات حتّی کہ اُس کی اقتصادی نوعیت پر بھی بھاری پڑ سکتا ہے۔الیکشن کروانے کے ضمن میں کئی سوالات در پیش ہیں اور اِن سب سوالات میں سے اہم ترین سوال یہ ہے کہ آیا ریاست کی مجموعی صورت حال الیکشن کروانے کیلئے کسی بھی صورت میں مناسب ہے ؟ثانیاََ کیا الیکشن کروانے سے اُس سیاسی سوال کا حل ملنے کی کوئی توقع ہے جو کہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کیلئے سب سے اہم بلکہ حیاتی ہے ؟یہ سیاسی سوال مسلہ کشمیر کا حتمی و دیر پا سیاسی حل ہے جو اِس مسلے سے جڑی ہر پارٹی کیلئے قابل قبول ہو۔الیکشن کا عمل ریاست جموں و کشمیر میں بار بار دہرایا گیا لیکن اُس سے بنیادی مسلہ حل نہیں ہوا نہ ہی آئندہ حل ہونے کی کوئی صورت نظر آتی ہے۔مسلہ کشمیر کے لائنحل رہنے سے ریاست میں تشدد کی فضا چھائی ہوئی ہے جس میں ریاستی تشدد کا پہلو نمایاں ہے جس کے نتیجے میں تقریباََ ہر روز جانوں کا زیاں ہو رہا ہے اور مجروحین کی تعداد بھی رو بہ افزائش ہے اور اِن مجروحین میں سے سب سے درد ناک وہ افراد ہیں جو پیلٹ گن سے ناشی جراحات سے اپنی قوت بینائی پوری کی پوری یا بہت حد تک کھو چکے ہیں۔ہزاروں کی تعداد میں افراد لا پتہ ہیںاور کئی قبرستان ایسے بھی ہیں جن میں دفن اجساد کے بارے میں کوئی پتہ نہیں کہ کون مرا ،کیسے مرا اور اُس کا اتا پتہ کیا ہے؟
تشدد کی اِس بڑھتی ہوئی فضا میں اور خاصکر دیہی علاقوں سے حقوق بشر کی خلاف ورزیوں کی شکایات کی صورت میں پنچایت الیکشن کس درد کا مدوا بن سکتے ہیں؟ اگر کسی نہ کسی صورت سے یہ الیکشن کروائے بھی گئے تو کیا اِس سے سیاسی صورت حال پہ مثبت اثرات پڑنے کا کوئی بھی امکان نظر آتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ریاست کے سیاسی و سماجی حلقوں میں پوچھے جا رہے ہیں ۔دیکھا جائے تو اِن سوالات کا جواب قبل از وقت دینا مناسب نہیں رہے گا البتہ ماضی کے تجربات میں اِن سوالات کا جواب ڈھونڈا جا سکتا ہے ۔ماضی کے تجربات سے سوالات کا  جواب اخذ کرنے کی مشق کو شروع کرنے سے پہلے یہ کہنا ضروری محسوس ہوتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد شہری علاقوں اور قصبہ جات کے مختلف امور کو چرخانے کیلئے الزامی ہے اور ایک جمہوری معاشرے میں اِن انتخابات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔اِسی مناسبت سے کہا جا سکتا ہے کہ بر صغیر ہند و پاک میں آبادی کا بیشتر حصہ دیہاتوں میں ہونے کی خاطر پنچایتی انتخابات کا ہونا جمہوریت کی بنیاد کو مضبوط بنانے کیلئے انتہائی ضروری ہے کیونکہ اِس کی جمہوریت کی جڑیں دور دور تک پھیلتی ہیں ۔یہ سیاسی قدرت کو سماج کی پائیں تریں سطح تک پہنچانے کا ایک موثر ذریعہ ہے ۔ دیہات میں رہنے والے لوگ اکثر و بیشتر تعلیم سے نا بلد ہوتے ہیں یا اُن کی تعلیم کی سطح شہری افراد کی نسبت بہت کم ہوتی ہے اِس کے باوجود وہ اپنے مسائل سے نبٹنے کی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں اور پنچایت اُنکو اپنے مسائل سے خود نبٹنے کا موقعہ و محل فراہم کرتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ پنچایت کو سیاست کی نرسری کہا جاتا ہے جہاں جمہوریت پھلتی و پھولتی ہے۔ 
 پنچایتی انتخابات کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا البتہ جموں و کشمیر کے مخصوص سیاسی مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا پنچایتی انتخابات کی اہمیت وافادیت بھی یہاں اُسی پیمانے میں پرکھی جا سکتی ہے جس پیمانے میں اِن انتخابات کو بر صغیر کے دوسرے مقامات میں پرکھا جاتا ہے؟ بر صغیر ہند و پاک میں آر پار کسی بھی خطے،کسی بھی صوبے کی سیاسی پوزیشن پہ وہ سوالیہ نہیں لگا ہے جو پچھلے  71برس سے ریاست جموں و کشمیر پہ لگا ہوا ہے۔ اِس ریاست کی سیاسی حثیت متنازعہ ہے ۔ریاست دوحصوں میں بٹی ہوئی اور دو حصوں کے بیچوں بیچ ایک لکیر کھنچی گئی ہے جسے لائن آف کنٹرول کا نام دیا گیا ہے۔اِس لکیر کے آر پار کافی خون بہا ہے اور بہتا جا رہا ہے جو اِس بات کی دلیل ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کی سیاسی حثیت متنازعہ ہے۔لائن آف کنٹرول کے آر پار کے علاقوں کو بھارتی انتظامیہ کشمیر اور پاکستانی انتظامیہ کشمیر کہا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کی گوناگوں قراردادوں میں اِس مسلے کا حل آر پار کے ریاستی باشندوں کے حق خود ارادیت کوتسلیم کرتے ہوئے رائے شماری مقرر کیا گیا ہے جو آج تک مختلف وجوہات کی بنا پہ نہیں ہو سکی۔رائے شماری کے بجائے اُس کا نعم البدل الیکشن کے عمل کو مانا گیا اور یہ سلسلہ 1951ء سے چلا آ رہا ہے۔  1951ء میں آئین ساز اسمبلی کے لئے الیکشن ہوئے جس میں کچھ نشستوں کو چھوڑ  کے تقریباََ سب ہی نشستوں پہ ممبراں بلا مقابلہ کامیاب قرار دئے گئے۔ 
1951ء کے انتخابات کے بارے میں اقوام متحدہ کی ایک قرار داد بھی منظر عام پہ آئی جس میں یہ کہا گیا کہ انتخابی و آئین سازی کا عمل اقوام متحدہ میں منظور شدہ قرادادوں پہ اثر انداز نہیں ہو سکتا ۔1957ء میں آئین سازی کا عمل ختم ہونے کے بعد قانون ساز اسمبلی کیلئے انتخابات ہوئے اور اِسی سال اقوام متحدہ کی ایک اور قرارداد میں کم و بیش وہی دہرایا گیا جو 1951  ء میں کہا گیا تھا یعنی الیکشن عمل کی نفی کی گئی۔1957ء میں اور اُس کے بعدقانون ساز اسمبلیوں کیلئے بلا مقابلہ منتخب ہونے کا سلسلہ کئی دَہائیوں کے انتخابات میں رواں رہا اورجہاں جہاں نمائشی انتخابی عمل انجام پذیر ہوا وہاں دھاندلیوں کی شکایات سامنے آئیں جس نے اِس سارے عمل کو مخدوش بنایا۔1977ء کے الیکشن کو چھوڑ کے 1987ء کے الیکشن تک انتخابات کے ایک لمبے سلسلے پہ سوالیہ بنا رہا۔1996ء کے الیکشن میں لوگوں کی شمولیت نہ ہونے کے برابر تھی۔ 2002ء کے بعد کے الیکشن میں علاقائی تنظیموں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے مابین ٹکراؤ نے الیکشن کے عمل کو ایک نیا رخ دیا۔اِن علاقائی تنظیموں کو باری باری اقتدار حاصل ہو الیکن کولیشن میں بنی ہوئی حکومتوں کو اقتدار میں بنے رہنے کیلئے آل انڈیا تنظیموں کانگریس اور بھاجپا کی ضرورت پڑی جس کی وجہ سے وہ علاقائی مسائل کی موثر ترجمانی میں بے بس نظر آئیں۔ قصہ مختصر اینکہ انتخابی عمل مسلہ کشمیر کا حل نہیں بن سکا ۔یہ حقیقت جتنی کل عیاں تھی اتنی آج بھی ہے۔ 
2018ء کے ماہ نومبر اور دسمبر میں جو پنچایتی الیکشن گورنر کی انتظامیہ کے تحت ہونے کا اعلان ہوا ہے اُس کے بارے میں گورنر ایس پی ملک کا کہنا ہے کہ یہ خالص پنچایت کے وسیلے سے جموں و کشمیر کی دیہاتی آبادی کو سیاسی قدرت سے لیس کرنے کا عمل ہے تاکہ وہ اپنے مسائل پنچایت کی سطح پہ خود حل کر لیں اور اِن انتخابات کا مسلٔہ کشمیر سے کوئی تعلق نہیں۔گورنر موصوف نے کم و بیش وہی بات کہی ہے جو اِس سے پہلے بھی ہر الیکشن پہ دہرائی جاتی ہے۔اب کی بار فاروق عبداللہ بھی گورنر کی ہاں میں ہاں ملانے میں پیش پیش رہے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ فاروق عبداللہ گورنر کے ذاتی دوستوں میں شمار ہوتے ہیں اور یہی بات مرحوم مفتی محمد سید کے بارے میں کہی جاتی ہے کہ وہ بھی گورنر موصوف کے کافی قریب تھے۔گورنر موصوف کی ڈفلی کے ساتھ ڈفلی بجانے کے عمل کو نیشنل کانفرنس کی لیڈرشپ کا کھوئے ہوئے اقتدار کی بازیابی کی تلاش ماننا ہو گا۔مین اسٹریم سیاستداں چاہے نیشنل کانفرنس کے ہوں یا پی ڈی پی کے قانون ساز اسمبلی کے الیکشن پہ بھی یہی کہتے ہوئے نظر آتے ہیںکہ الیکشن خالص ایک انتظامیہ چلانے کیلئے منعقد ہو رہے ہیں لیکن جونہی الیکشن کا عمل مکمل ہوتا ہے تواُسے مین اسٹریم سیاستداں جمہوریت کی فتح کا نام دیتے ہیں جبکہ بھارتی رہنما وسیع پیمانے پہ عالمی سطح پہ اِسے بھارتی جمہوری عمل پہ جموں و کشمیر کے عوام کے مکمل اعتماد کی دلیل کے طور پہ تشہیر کرتے ہیں ۔یہاں 2011ء کے پنچایتی الیکشن میں بھی یہی بات دہرائی گئی کہ یہ لوگوں کے اعتماد کا مظاہرہ تھا۔ 2011ء کے پنچایتی الیکشن کم و بیش چہار دَہائیوں کے بعد کروائے گئے تھے ۔سات سال پہلے ہوئے اِس الیکشن کے کچھ نمایاں پہلو رہے ہیں جس کی تجزیہ کاری سے مستقبل کے پنچایتی الیکشن پہ روشنی ڈالی جا سکتی ہے۔
2011ء کے پنچایتی الیکشن غیر جماعتی طرز پہ منعقد ہوئے لیکن مختلف مین اسٹریم جماعتوں نے امیدواروں کو اپنی اپنی جماعت سے منصوب کر لیا جس سے منتخب شدہ پنچایتی ممبر جو سیکورٹی سے کم و بیش محروم تھے خطرے میں پڑ گئے ۔ 16پنچایتی ممبر اپنی جاں گنوا بیٹھے اور بہت سے ایسے ممبراں رہے جو اپنی نشست سے مستفعی ہوئے اور ایسے میں یہ انتخابی عمل عوامی سطح پہ تردید کا شکار ہوا۔ ہزار ہا امیدواروں کو سیکورٹی دائرے میں لانا ایک مشکل امر ہے اور وہ بھی ایک ایسی صورت حال میں جہاں سیکورٹی ایجنسیوں کو پہلے ہی مختلف مشکلات کا سامنا ہے ۔ عمر عبداللہ نے ایک حالیہ ٹویٹ میں اِس کا ذکر تب کیا تھا جب پولیس فورس کے گیارہ رشتہ داروں اغوا کر لئے گئے۔پوچھا جا سکتا ہے کہ جہاں سیکورٹی کی صورت حال اتنی مخدوش ہے وہاں پنچایتی انتخابات کروانے کی اتنی جلدی کیا ہے؟ ظاہر ہے سرکار کو ہر امیدوار کو سیکورٹی کور فراہم کرنا ہو گا جو ایک مشکل امر ہے۔ ماضی قریب میں سرینگر پارلیمانی نشست سے جب فاروق عبداللہ کا انتخاب ہوا توصرف و صرف 7فیصدی وؤٹ پڑے اور انتخابات کے دوراں تشدد کے سبب کئی افراد اپنی جاں گنوا بیٹھے۔سرینگر پارلیمانی انتخابات کے بعد آج تک جنوبی کشمیر کے پارلیمانی حلقے میں الیکشن کا عمل امکاں پذیر نہیں ہو سکا اور ایسے میں بلدیاتی اور پنچایتی الیکشن کا بگل بج گیا جو بن بھانس کی بنسری لگتی ہے!
پنچایتی الیکشن اگر کسی نہ کسی طرح ہوئے بھی پھر بھی ماضی کے تجربات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ریاستی سطح پہ پنچایتوں کو سیاسی قدرت میں حصہ دار بنایا جائے مشکل نظر آتا ہے۔ 2011ء کے پنچایتی الیکشن کے بعد یہ شکایات سامنے آئیں کہ پنچایتوں کو اختیارات منتقل کرنے میں ریاستی سرکار لیت و لیل سے کام لے رہی ہے۔ریاست کے جو بھی محکمہ جات دیہاتیوں کے مسائل سے وابستہ ہیں وہ اُن اختیارات سے دستبردار ہونے کیلئے تیار نہیں جو عرصہ دراز سے اُن کی دسترس میں ہیںبنابریں پنچایتوںکے عمل کو فعال بنانے کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔ایک اور مشکل سیکورٹی ایجنسیوں کا وسیع جال ہے جو دور دور تک قریہ قریہ نظر آتا ہے۔سیکورٹی ایجنسیوں کے اِس وسیع جال میں پنچایتی اعمال کیلئے میدان کھلنا مشکل ہی نہیں نا ممکن نظر آتا ہے۔اِن سب مشکلات کے تجزیے میں پنچایتی انتخابات ریاست جموں و کشمیر کیلئے فال نیک ثابت ہو بعید نظر آتا ہے۔
Feedback on:Iqbal.javid46@gmail.com