تازہ ترین

رائی کا پربت

کہانی

2 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

شاہدہ شاہین
کار کی اگلی سیٹ کا دروازہ کھول کراندر بیٹھنے سے پہلے پری وش ٹھٹک کر رہ گئی۔ اس کا محیر رہ جانا بجا تھا ۔۔۔۔۔ نہ تو اس نے اپنے جوڑے میںپھول لگا رکھے تھے اور نہ اپنے پیرہن کو عطر میں بسایا ہواتھا پر جانے کہاں سے گلاب چمپا چمیلی کی خوشبو سے معطر ایک زوردارہواکاجھونکا اس کے نتھنوں سے ٹکرایا تھا۔ جیسے ہی اس کی نظرپچھلی سیٹ پر گئی اس غیر مترقب خوشبو کا ماخذدکھائی دے گیا۔۔۔۔۔۔۔پچھلی سیٹ پربے شمار پھول بکھرے پڑے تھے!  بغور جائزہ لینے پر ایسا لگا مانو ماضی قریب میںوہاں براجمان کسی ہستی کے ادائے ناز سے اپنے سر کو جھٹکا دینے کے نتیجے میں جوڑے کے کچھ پھول اپنا مستقر چھوڑ کر نیچے آ گرے ہوںیا کسی کو ازراہِ محبت پیش کیا گیا گلدستہ مسل گیا ہو۔۔۔۔۔یا پھر ۔۔۔۔۔۔ پری وش کے دماغ کے خیالی گھوڑے سرپٹ دوڑ رہے تھے اورتصور میںپردہ سیمیں کی مانند ایک کے بعد ایک منظر بدل رہے تھے۔ 
اس کا شوہرکاشف کل رات تاخیر سے گھر لوٹا تھااور بے حد تھکا ہوا لگ رہاتھا۔ دریافت کرنے پر بتایا کہ اس کے آفس میں کوئی تقریب تھی اس لئے دیر ہو گئی ۔اس نے کھانا بھی نہیں کھایا ۔آتے ہی غسل کیااور پھر بستر پرڈھیر ہوگیا۔کاشف کسی مشہور فرم میں ایک ایکزیکٹیوعہدے پر فائز تھا، اپنے دفتر کے کاموں کے سلسلے میں کچھ زیادہ ہی مصروف رہتا تھاحتٰی کہ دوران اوقاتِ کار اپنے موبائل فون پر رابطہ قائم کرنے کی بھی سخت ممانعت کررکھی تھی۔
اگلے دن ناشتے کی میز پر پری وش نے معنی خیز لہجے میںکار کی پچھلی سیٹ پر بکھرے ہوئے ان پھولوں کے بارے میں پوچھ ہی لیا۔ کاشف نے پہلے تو لاعلمی ظاہر کی پھر ٹھٹک کررہ گیا۔ ماتھے پر بل ڈالے گہری سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے ہوئے اس کے چہرے کی طرف دیکھتا ہوا پُرخیال انداز میں بولا:
’’مجھے کچھ کچھ اندازہ ہو رہا ہے کہ تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے !پگلی ۔۔۔۔
اس کا جملہ پورا ہونے سے قبل ہی فون کی گھنٹی بج اٹھی،آفس سے کال تھا ، اس نے جلدی سے بچا کچھا ناشتہ ختم کیا اور فوراََ نکل گیا۔ شرارت آمیز انداز میں مسکراتے ہوئے کہہ گیا تھا۔۔۔۔۔’’ شام کو تیار رہنا، کہیں باہر گھومنے چلیں گے۔‘‘
پری وش کے اندازے کے عین مطابق وہ نہیں آیا۔ہمیشہ کی طرح تھکا ہارارات کے تقریباََدس بجے گھرآیا۔چہرے پر ہلکا سا میک اپ کئے نفیس ساری میں ملبوس پری وش نے جب دروازہ کھولا تو اسے سرتا پیردیکھتا ہوا بولا۔۔۔۔۔۔’’بڑی پیاری لگ رہی ہو ،کسی پارٹی میں گئی تھیںکیا۔‘‘ 
پری وش ایک دم پھٹ پڑی ۔’’ میری دنیاتو آپ سے شروع ہو کر آپ پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ بھلا آپ کے بنا کبھی کسی پارٹی میں گئی ہوںجو آج چلی جاؤنگی۔‘‘   
اس فوری ردّعمل کے نتیجے میںوہ یکبارگی چونک اٹھا اوراسے اپنا وعدہ یاد آگیا۔انتہائی ندامت کے ساتھ مصروفیت کا عذر پیش کرتے ہوئے فوراََ کان پکڑ کر معافی مانگی پھر اتوار کا دن اکٹھے باہر چلنے کا پکا وعدہ کر لیا۔ اس کی رومان پرور باتوں میںپری وش اس قدر الجھ گئی کہ سارے گلے شکوے بھلا دئے ۔ان کی شادی کو صرف دس مہینے گزرے تھے۔دریں اثناپری وش نے بارہا محسوس کیا تھا کہ وہ غلط بیانی سے کام لے رہا ہے یعنی اس کے ساتھ ہوا کچھ ہے اور وہ بیان کچھ اور کر رہا ہے۔
پری وش سارا دن گھر پر اکیلی رہ کر بور ہوجاتی ۔ میکے ہو آنے کا ارادہ ظاہر کرتی تو کاشف کے چہرے پر عود کر آئے اداسی کے گھنے بادلوں کو دیکھ کراسے اپنا ارادہ ترک کردینا پڑتا۔ اس اجنبی شہر میں اس کا کوئی شناسا بھی تو نہیں تھا۔ فون کرے بھی تو کس کو، اس کی ساری سہیلیاں اپنے گھربار، بچوں اور جاب میں اس قدر مصروف ہو گئی تھیںکہ آج کل کسی کے پاس فالتو وقت ہی نہیں ہوتاتھا۔محض دل بہلاوے کی خاطرکوئی پارٹ ٹائم جاب کرلینے کی اس کی لتجا بھی یہی کہتے ہوئے مسترد کر دی گئی کہ:
’ ’پیسہ کمانے کے لیے میں اکیلا کافی ہو ں، تم بس گھر پر رہواور میرے بچوں کی دیکھ بھال کرو جو ایک آدھ درجن سے کم تو نہ ہونگے۔ ‘‘                                  
وہ اپنی انگلیوں پر حساب کرنے لگا۔ پری وش کھسیا کراسے مارنے دوڑی اور وہ اسے گھر بھر میں دوڑاتا رہا۔وہ جب بھی ساتھ ہوتا اسے ساری دنیا بھلا ئے رکھتا، اس کی غیر موجودگی میں سارا گھر بھائیںبھائیں کرتا رہتا ۔خالی درو دیوار مانو کاٹنے کو دوڑتے۔شاذونادرہی ایسا ہوتا تھاکہ کاشف گاڑی گھر پر چھوڑ جاتا اور وہ اکیلی لانگ ڈرایئو پر نکل جاتی ۔ اس کا بس یہی ایک شغل تھا۔                                                                                                       
پری وش کا باہرجاب کرنا کاشف کو قطعی نا پسند تھا۔وہ چاہتا تھا کہ جب وہ تھکا ماندہ کام سے لوٹے توپری وش اسے گھر پر ملے، مسکرا کر اس کا خیر مقدم کرے۔ بالآخرپری وش نے زچ ہو کر کہا:
’’ فی الحال تمہارے اپنے دفتر میں ہی مجھے کسی چھوٹے موٹے کام پر لگا دو تاکہ دن بھر تمہیں دیکھتی رہوں۔‘‘                                                                
اس پر وہ کانوں کو ہاتھ لگا کر بولاتھا۔’’نہ بابا میں تو ویسے ہی زن مرید مشہور ہوں ،مزید بدنام کرنا چاہتی ہو کیا!‘‘
وہ سوچتی رہ گئی۔’’زن مرید کیاایسے ہوتے ہیں، ایک بار گھر سے نکل جانے کے بعد گھنٹوں کوئی خیر خبر نہیں لینے والے۔سب بناوٹی باتیں ہیں۔‘‘
پھر تو حد ہی ہو گئی۔ کار کی پچھلی سیٹ پر اکثر پھول بکھرے ہوئے پائے جانے لگے ۔بازپرس کرنے پر وہ لاپروائی سے ٹال دیتا۔ پری وش  نے تلخی کے ساتھ سوچا :                   
’’ویسے جواب دینے کے لیے اس کے پاس ہے ہی کیا سوائے اقرارِ گناہ کے۔‘‘ 
ازراہِ تجسس ایک دن پری وش نے اچانک اس کے دفتر فون کیا توریسپشنیسٹ نے فون کا کنکشن براہِ راست اس کے چیمبر سے جوڑ دیا۔ وہاں کاشف نہیں تھا۔اس کے ساتھی نے فون ریسیو کیا اور اپنا نام احمر بتایا اور اطلاع دی کہ کاشف کسی ضروری کام کے سلسلے میں باہر گیا ہوا ہے ۔
اُدھرکاشف کی مصروفیات اور ادھر پری وش کا شک اس قدر بڑھ گئے کہ وہ ہر چارچھے گھنٹوں میں ایک کال اس کے دفتر ضرور کر لیتی۔ وہاں سے اکثر یہی جواب ملتا کہ وہ اپنے چیمبر میں نہیں ہے۔ پری وش کو شک گزرا آیا وہ دفتر میں تعینات ہے بھی کہ نہیں۔ پھرخیال آیا ۔۔۔۔۔۔اگر ایسانہ ہوتا تو کوئی اس کے نام پر فون کیوں ریسیو کرتا!      
بار بار دفتر فون کرنا مناسب نہیں تھا ۔اس طرح ٹوہ لینے پردوسرے ملازم بھلاکیا سوچیں گے لیکن اس دل کا کیا کرتی جو روز بروز لاتعداد وسوسوں کی آماجگاہ بنتا جا رہا تھا۔ اس کی سہیلیوں نے ٹھیک ہی کہاتھاکہ مرد ذات پر کبھی اعتبار مت کرنا۔ شادی سے قبل اسے شوہر کو اپنی مٹھی میں رکھنے کے کئی گر بتائے گئے تھے جن پر عمل پیرا ہوکر گھر کی چاردیواری کے اندر رہتے ہوئے بھی اس کے شب و روز کے بارے میں ٹھیک اندازہ لگا یا جاسکتاتھا۔لِہٰذاکاشف کے گھر آتے ہی وہ اس کے لباس کا بغور جائزہ لیتی ،آیا اس پر کسی لپ اسٹک کے نشان تو نہیںیا کسی کی زلفِ گرہ گیر سے جدا ہو کر کوئی بال تو اٹکا نہیں رہ گیالیکن آج تک ایسا کوئی ثبوت ہاتھ نہیں لگا تھا ۔ وہ سمجھتی تھی کہ اس کا شوہر بہت چالاک ہے لیکن آج کل اس پر چھائی ہوئی بے خودی کے نتیجے میں اکثر کار کی پچھلی سیٹ پر پڑے ملے پھول لاتعداد کہانیاں سنا جاتے جن کا تصور بھی اس کے لئے سوہانِ روح تھا۔                            
بالآخرعزتِ نفس نے اسے اس قدرمجبور کردیاکہ اس نے مائیکے چلے جانے اورپھرکبھی نہ واپس آنے کی قسم کھا لی ۔قبل اس کے کہ اچانک وہ کسی کی باہوں میں باہیں ڈالے گھر آئے اور اسے باہر نکل جانے کو کہے وہ خود یہ گھر چھوڑ دینا چاہتی تھی لیکن ایک آخری باربطور آزمائش دفتر فون کرنے کی ٹھان لی اور دل کو مضبوط کر کے فون گھمایا۔ حسبِ معمول ادھر سے وہی گھسا پٹا جواب ملاپھر احمر نے فون ریسیو کیا:
’’بھابھی آپ اس وقت کہاں ہیں۔‘‘ دریں اثنااحمر سے اس کی اچھی خاصی جان پہچان ہو گئی تھی اور دونوں کے بیچ کافی بے تکلفی قائم ہو چکی تھی۔                   
’’آپ  سے مطلب۔‘‘وہ ایک دم تپ کر بولی
’’اوہ۔۔۔۔۔۔ لگتا ہے آپ کے یہاں درجہ حرارت خوب چڑھا ہوا ہے۔لیجئے آپ کے میاں آگئے۔ انہی سے دو دو ہاتھ میرا مطلب ہے بات کر لیجئے۔‘‘
لیکن پری وش نے فوراََ فون کاٹ دیا۔ وہ اس بے وفاانسان کی آواز بھی نہیںسننا چاہتی تھی جس نے اس قدر ذلت اور درد بے کراں سے ہم کنار کردیا تھا ۔شام تک بھی کاشف تو کُجا اس کا فون بھی نہیں آیا۔اچانک فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ پری وش نے دیوانہ وار آگے بڑھ کر فون اُٹھایا ،فون پر احمر تھا۔وہ انتہائی شگفتہ انداز میںاس کی خیریت دریافت رہا تھا۔ پری وش کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ کاشف کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کے تناظر میں احمر کا لب و لہجہ استہزائیہ سا لگا۔اس نے پھٹ سے فون بند کیااور جلدی جلدی اپنا سامان پیک کرنے لگی۔
مائیکے آئے ہوئے ایک گھنٹہ بھی نہیں گزرا تھا کہ احمر کا کال آگیا۔وہ چھوٹتے ہی بولا :   
’’مجھے پتہ ہے آپ اس وقت کہاں ہونگی۔۔۔۔۔۔اس قسم کے حالات کی ماری اکثرخواتین جو قدم اٹھاتی ہیں وہی آپ نے بھی کیاہوگا۔۔۔۔۔۔اچھاکوئی قریبی لینڈ مارک بتائیے میں آپ سے ملنا چاہتاہوں ۔‘‘
’’لیکن میں اپنے تلخ ماضی کو یکسر بھلا دینا چاہتی ہوں لہٰذاکاشف یا اس کے کسی ہوتے سوتے سے ناطہ رکھنا نہیں چاہتی۔‘‘
وہ بے حد سنجیدہ ہوکربولا۔’’ جذبات میں آکراس قدر بلند بانگ دعوے مت کیجئے گا کہ بعد میں پچھتانے کا بھی موقع  نہ ملے۔۔۔۔۔۔ خیال رہے،رشتے کانچ کے نازک آبگینوں کے مانند ہوتے ہیں ۔ تھوڑی سی بے رخی یاذرا سی بد گمانی بھی انہیں کرچی کرچی کر بکھیر دینے کے لیے کافی ہے۔۔۔۔۔۔خیر آپ کی رہائش گاہ کا پتہ میں خودلگا لوں گا۔‘‘            
یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا ۔ اگلے چالیس منٹ کے وقفے کے اندر وہ اس کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔پری وش بہت اداس اور غمگین تھی ۔اس کی خوبصورت آنکھوں سے چھم چھم آنسوؤں کی برسات جاری تھی۔ احمر کہہ رہا تھا :
’’ میرے دوست کوبہت مزا آتاہے جب وہ اپنے کسی عزیزو اقارب کو یک بیک اچنبھے میں ڈال کرایک خوبصورت استعجاب سے ہمکنار کر دیتا ہے۔یہ اس کی پرانی عادت ہے لیکن ہر کس وناکس کے ساتھ ایسا رویہ مناسب نہیں ہوتا۔ آپ کے معاملے میں میں نے اسے ٹوکنے کی بہت کوشش کی پر وہ نہیں مانا۔          
جب کسی کی خود اعتمادی ساتویں آسمان کو چھونے لگے تو منہ کے بل گر پڑنے کا خطرہ لاحق رہنا لازمی ہے۔ جناب کی انتہائی رازداری کے پیش نظر راز کو طشت از بام کرتے کچھ اچھا نہیں لگ رہا لیکن پانی سر سے اونچا ہونے لگے تو کیا کیا جا سکتاہے۔۔۔۔۔۔۔بات بس اتنی سی ہے کہ وہ اپنی شادی کی پہلی سالگرہ پر آپ کو ایک خوبصورت فلیٹ تحفے میں دینا چاہتا ہے جس کے لیے اس نے کچھ قرضہ لے رکھا ہے۔ قرضہ لوٹا نے کے چکر میں اسے رات دن اوور ٹائم کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کی جانفشانی اور ایمانداری کو دیکھتے ہوئے آفس کا ہرضروری کام اسے تفویض کیا جاتا ہے۔چونکہ وہ کئی زبانوں کا ماہر ہونے کے علاوہ کافی مؤدب ،تیز فہم اور خوش طبع بھی ہے لہٰذا کاروباری اغراض سے آنے والے غیر ملکی نمائندوں کے استقبال میں تازہ پھولوں کے ہاراور گلدستہ پیش کرخوش آمدیدکہنے کے ساتھ ساتھ اپنی کار میں مہمانوں کورہائشی ہوٹل پہنچانے کی ذمہ داری اکثراسی کو سونپی جاتی ہے۔ بہتر ین کارکردگی کے نتیجے میں جلد ہی اس کا پروموشن بھی ہونے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔ بھابھی !میرا دوست تو مر ہی جائے گا جب اسے پتا چلے گاکہ آپ اس کے بارے میں ایسا سوچتی ہیں اور وہ بھی اتنے وثوق کے ساتھ۔‘‘
پری وش مبہوت ہوکر احمر کی باتیں سن رہی تھی ۔ کبھی کبھی انسان اپنی تنگ نظری کے زیر اثر اس قدر منفی سوچ میںگھرجاتا ہے کہ پل بھر میںرائی کا پہاڑ کھڑا کر لیتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی آنکھوںپرسے وہم و گمان کے سارے پردے ہٹتے جارہے تھے اور کاشف کی معصوم شبیہ ذہن میں ابھر آئی تھی۔ معاََ اس کا دل ہلکا ہوکر خلاؤں میں پرواز کرنے لگااور چہراصبح دم شبنم کی بوندوںسے دھلے ہوئے پھول کی مانند کھل اٹھا۔ چہکتی ہوئی آواز میں بولی:
’’ احمر بھائی جان !آپ نے ایک منہ بولے بھائی کا حق ادا کردیا۔آپ کے بے لوث جذبے کی وجہ سے میری زندگی تباہ ہوتے ہوتے رہ گئی۔بس ایک بات کا خیال رہے ۔۔۔۔۔۔نہ میرے کانوں نے کچھ سنا اور نہ آپ نے کسی راز پر سے پردہ اٹھایا ،ہمارا توکبھی آمنا سامنا ہی نہیںہوا،پر اگلے ہفتے آپ ہماری شادی کی سالگرہ پر ضرورگھر تشریف لارہے ہیں۔‘‘
وہ بسورتی ہوئی سی صورت بنا کربولا۔’’ہمارے ایسے نصیب کہاں۔۔۔۔۔۔۔شادی کی پہلی سالگرہ تو آپ دونوں انڈمان جزائرمیں منائیں گے ۔میں نے بہت پہلے ہوائی جہاز کی ٹکٹیں بک کر رکھی ہیں ۔ یہ میرا سرپرائز ہے آپ دونوں کے لیے۔‘‘ پھران دونوںکا فلک شگاف قہقہ فضا میں گونج اٹھا۔
���
میسو ر(کرناٹک)
موبائل نمبر:  9742345786