تازہ ترین

کشمیر:حل میں سب کی بھلائی

1 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 پاکستان کی وفاقی وزیر برائے حقوق انسانی شریں مزاری نے حال ہی میں اپنے ایک ٹاک شو کے دوران دعویٰ کیا کہ انہوں نے کشمیر حل کے ضمن میں اپنی تجویز مرتب کی ہے جسے وہ وزیراعظم عمران خان سمیت اپنے کابینی ساتھیوں اور دیگر سٹیک ہولڈروں کے سامنے عنقریب پیش کر رہی ہیں ۔ یہ تجویز کیا ہے ،اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا ۔ قبل ازیں جنرل مشرف نے بھی اپنے دورِحکومت میں اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہٹ کر اپنا آوٹ آف بکس کشمیر حل وضع کیا جسے تاریخ چار نکاتی فارمولہ سے موسوم کر تی ہے مگر یہ فارمولہ بھی حسب سابق نقش برآب ثابت ہوا ۔ وجہ ظاہر ہے کہ جب تک نئی دلی سے کشمیر حل کے کسی فارمولے یا تجویز کو پذیرائی اور قبولیت نہیں ملتی ،اس وقت تک مسئلہ کشمیر کا حتمی حل ایک خواب وسراب بن کر رہے گا ۔یہ ایک کھلا راز ہے کہ گزشتہ اٹھائیس سال سے وادی ٔ کشمیر میں کشت و خون کا باز ار مسلسل گرم ہے ۔ اس طویل عرصے کے دوران شاید ہی کوئی دن ایسا گزر اہو جب یہ بہشت نما سرزمین ابن آدم کے خون سے ایک یا دوسرے بہانے سے لالہ زار نہ ہوئی ۔ افسوس صدافسوس کشمیر کے طول وعرض میں انسانیت کی تذلیل ہوئی ، بستیاں اُجڑ گئیں ، نامساعد حالات کے چلتے اتنی بہاریں خزان رسیدہ ہوئیں کہ اس کا کوئی شمار نہیں ، جابجا معلوم ونامعلوم قبرستان بنے، زندان اور عقوبت خانے آبا د ہوئے ، یتیموں اور بیواؤں کی فوج کے علاوہ نیم بیواؤں کی درد بھری داستانیں رقم ہوئیں۔غرض چہار سُو تباہیوں اور بربادیوں کے فسانے چھڑ گئے ۔ اس سب کے باوجود مسئلہ کشمیر کا دردسر اپنی جگہ آج بھی من وعن موجودہے ۔ سوال ہے کہ آخر اتنی تباہیوں ، بربادیوں اور زورآ زمائیوں کے بعد بھی آج بھی مسئلہ کشمیر وہیں پہ کیوں لٹکا ہو اہے جہاں یہ پہلے روز تھا ۔ بے شک انڈیا اورپاکستان نے کبھی اپنے انشیٹیو پر اور کبھی دوسروں کے دباؤ میں وقتاًفوقتاًمسئلہ کشمیر پر گفت وشنید کی میزیں سجائیں ، ٹریک ون ا ور ٹریک ٹو سطح پر سفارتی مراسم قائم کئے ، مختلف مواقع پر خوش نمااعلامیے جاری کئے ، اپنی’’دوستی اور مفاہمت‘‘ کو ناقابل تبدل تک جتلایا ، سارک فورم پر مصافحے ومعانقے بھی کئے، دلی لاہور بس سروس کا اجراء بھی کیا ، بحالی ٔ اعتماد کے نام سے لائین آف کنٹرول پر آرپار بس سروس اور محدود تجارتی سرگرمیاں بھی شروع کیں، کرکٹ میچ کھیلے ،ثقافتی وفود کی آر پار آمدو رفت بھی ہوئی، برتھ ڈے کیک کاٹے، نواز شریف اور مودی نے اظہار ِ محبت کے طور آپس میںشال اور ساڑھی کے تبادلے بھی کئے ، اور اس سب کے بین بین یوپی اے سرکار نے داخلی طور کشمیر کی گرہیں سلجھانے کے لئے گول میز کانفرنسیں بھی منعقد کیں ، آٹھ ورکنگ گروپ بھی بنائے ، سہ رُکنی مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دی ، انٹر لوکیٹروںکی تقرریاں بھی عمل میں لائیں ، مالی پیکجوں کے اعلانات بھی کئے وغیرہ وغیرہ مگر نتیجہ ندارد ۔ ان نیم دلانہ کارروائیوںکا اَکارت جانا طے تھا، سو وہی ہو ا، کیونکہ حتمی اور منصفانہ کشمیر حل کے بغیر دوطرفہ کدوکاوش کا حشر یہی ہوتا رہے گا۔ شیخ محمد عبداللہ کے ایکارڈ سے لے کر آپریشن آل آؤٹ تک کی ساری کشمیر کہانی اسی اٹل حقیقت پر مہر تصدیق کر تی ہے ۔ آج کی تاریخ میں ہند پاک سردمہری کا رُخ بہت ہی کڑاہے ۔ یہ گویا اس چیز کا برملااظہار ہے کہ نئی دلی اور اسلام آباد کی تاحال حکومتیں کشمیر حل کو سنجیدگی سے نہیں لے ر ہیں ۔ نتیجہ یہ کہ جہاں کشمیر کے جنوب وشمال میں عسکریت اور فوجی آوپریشن بدستورجا ری ہیں ، وہاں گاہے گاہے لائین آف کنٹرول پر بھی دوطرفہ جنگ کا دل دہلانے والا سماں بند ھ جاتا ہے ۔ کشمیر کے دشت ومیدان میں اور حد متارکہ کے آرپار حالات کس وقت کیا کروٹ لیں ، کسی کو اس کاپیشگی علم نہیں ۔ یہ بھی ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ ایل او سی کے دونوں اطراف میں فوجیوں کی لاشیں ہی نہیں گرتیں بلکہ عام لوگوں کی جانیں بھی جاتی ہیں ، ان کے گھربار اور مال مویشی بھی پھونکے جاتے ہیں ۔ ایسے میں نہ کسی سیاسی جیوتشی کو حالات میں بہتری کے آثارنظر آسکتے ہیں اور نہ کسی تجزیہ کار کو کشمیر کے زمینی حالات میں سدھار کی کوئی کرن دکھائی دے سکتی ہے ۔ وقت آیا ہے جب اس ستر سالہ جنجال پر تینوں فریق حقیقت پسندانہ غور وفکرغور شروع کریں ۔ اس میں بھی دورائے نہیں کشمیر مسئلے کاڈراؤنا سایہ ہمیشہ برصغیر کے امن وآشتی ، تعمیر وترقی اور نیک ہمسائیگی کے لئے نحوست آمیز ثابت ہوتار ہے گا بلکہ یہ جوہری طاقت سے لیس دونوں ہمسائیوںمیں دراڑیں پیدا کرتا رہے گا تاوقتیکہ تینوں فریق کشمیر حل کا کوئی پُرامن اور پائیدار فارمولہ نفع نقصان اور ہارجیت سے اوپراُٹھ کر وضع نہیں کر تے ۔ اس کے بغیر معاملہ کہاوت کے پیرائے میں یہی ہوگا کہ کنوئیں سے سو بالٹیاں پانی تونکال تودیں لیکن کتے کو وہیں کا وہیں چھوڑ ا۔ اس پر عقل سلیم یہی فتویٰ دے گی کہ کتے کو نکالے بغیر کنواں ناپاک ہی ر ہا۔بہرصورت عقل وشعور کا تقاضا ہی نہیں بلکہ برصغیر کے ان دو غریب ہمسایہ ممالک کا قومی مفاد اسی امر میں مضمر ہے کہ دونوں ملک عالمی طاقتوں کی خودغرضانہ اورتاجرانہ سیاست کا مہرہ بنے بغیر مسئلہ کشمیر سے جتنی جلدی ممکن ہو گلوخلاصی حاصل کر نے کی سعیٔ بلیغ کریں ۔ اگر اہل کشمیر کو اول تاآخر اعتماد میں لے کر دلی اور اسلام آباد گفت و شنید کی میز پر آ ئیں تو خرابی ٔ بسیار کے باوجود کوئی نہ کوئی بات ضرور بنے گی ۔ دونوں حکومتوں کو چاہیے کہ ماضی وحال کی تلخیاں بھلاکر بقائے باہم کے جذبے سے زندہ رہنا سیکھیں ، تناؤاور کشیدگی کی فضا میں پروان چڑھیں دشمنیاں اور انتقام گیریاں بہت آزمائی جا چکی ہیں، اب خلوص دل سے جیو اور جینے دو کے جذبے سے عدل ، امن اور دوستی کو موقع دیا جائے، کشمیر پر اپنے بے لچک ومتضاد مواقف کو ووٹ بنک سیاست سے جوڑ نے کا سلسلہ ترک کیا جائے، اصل قضیہ کا سیاسی تصفیہ کر نے کے لئے جمہوری انداز ِ فکر اپنایا جائے ، سب سے بڑھ کر وادی ٔ کشمیر میں امن و آشتی کی پروائیاں چلانے کے لئے فوری طور افسپا کے مضرات ونقصانات کے پیش نظر اسے مکمل طور واپس لیا جائے۔ کشمیر کوجنگ وجدل کااکھاڑہ بنانے اور یہاں تخریب وتشدد کی آگ بھڑکانے سے نہ دلی کا بھلا ہوگا ، نہ اسلام آباد کا اور نہ اہل کشمیر کا ۔ آج اٹھائیس سال گزرنے کے بعد جب ہم خون کے آنسو رُلادینے والی کشمیر کی الم انگیز سر گزشت پر سر سری نظر ڈالتے ہیں تو یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں رہتا کہ کشمیر کاز ہلاکت خیز اسلحہ کے انبار ، مظالم ومصائب کی گھٹاؤں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے باوجود زندہ وجاوید حقیقت ہے جس کے منصفانہ حل سے برصغیر ہندوپاک کی دوستی ، نیک ہمسائیگی اورہمہ گیر ترقی مشروط ہے۔