تازہ ترین

لباس ہو تو کیسا؟

حسن وجمال کی مہک شرم وحیاء میں ہے

30 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

شفا بنت ثناء۔۔۔ سرائے بالا، سری نگر
 ڈریس  کوڈ ایک وسیع المعنی اصطلاح ہے جس سے کسی قوم یا معاشرے کی تہذیب اور اس کے تمدنی احوال کا اظہار ہوتا ہے ۔اسلام بھی بہ حیثیت مکمل دین ِانسانیت اپنے پیرو کاروں میں منفرد ڈریس کوڈ یا مخصوص لباس کا تصور متعارف کرتاہے ،جس کا لب لباب انسانی ستر کا اہتمام ، شخصیت کاتزئین اور موسمی حالات وکوائف کا پاس ولحاظ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کا اصل تعلق پہناوے کے طور طریقوں سے نہیں بلکہ دل کی دنیا سے ہے اور یہ چاہتا ہے کہ دلوں کی زمین پہ صرف اور صرف اللہ اور رسول ؐکا راج تاج ہو۔کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ دین کا تعلق روح سے ہے ظاہری جسم سے نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ ہم یہ بات ذہن نشین کریں کہ دین اسلام کے احکام ہمارے جسم پر بھی نافذ ہوتے ہیں اور روح پر بھی لاگو ہوتے ہیں ، ظاہر پر بھی اور باطن پر بھی ۔ قرآن مجید کی تعلیم ہے کہ ہم ظاہر کی آلائش اور باطن کے گناہ کلی طور چھوڑ دیں۔ ایک بزرگ فرماتا ہے جب کوئی پھل خراب یا بوسیدہ ہو جاتا ہے تو اس کے گلنے سڑنے کے اثرات ہمیں اس کے چھلکے پر داغ دھبوںکی شکل میں نظر آتے ہیں اور جب تک یہ اندر سے خراب نہ ہوا ہو تب تک اس کی سڑاند کے اثرات ظاہر پر نمایاں نہیں ہوتے ۔ اسی طرح جس شخص کا ظاہر خراب ہو تو یہ اس چیز کی نشانی ہے کہ باطن میں بھی کچھ خرابی ضرور ہے۔ یہ کہنا بالکل غلط ہوگا کہ ظاہر سے کچھ نہیں ہوتا باطن ٹھیک ہونا چاہئے۔ مثال کے طور پر ہم جب مکان بناتے ہیں تو اس کا باطن یہ ہوتا ہے کہ چار دیواریاں ہوں اور اوپر سے چھت ڈالی جائے ۔ یہ توباطن کا مقصد حاصل ہوگیا،اس پر اور کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، نہ پلاسٹر، نہ پینٹ وغیرہ مگر ایسا نہیں ہوتا جب ہم مکان تیار کرتے ہیں تو ہمیں اس کا باطن استوار کرنے کے بعد اس کا ظاہر سنوارنے کی فکر ہوتی ہے، اس کی زیب و زینت کے لئے ہم متفکر رہتے ہیں۔ یہاں ہم صرف باطن یا روح ٹھیک کرنے کا فارمولہ استعما ل نہیں کرتے۔ کیوں؟ یہی نہیں بلکہ دنیا کا کوئی بھی کام ہو ہمیں پہلے ظاہر کی فکر ہوتی ہے پھر باطن کی مگر جب دین کی بات آتی ہے جس کے بارے میں ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمیں باطن کی اچھائی چاہئے، ظاہر نہیں تو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ یہ سوچ شیطان کا ہتھکنڈہ ہے اور بربادی کی طرف لینے والی سوچ ہے۔اس سے انسان نہ دنیا کا رہتا ہے اور نہ آخرت کا۔ چاہے معاملہ لباس کا ہو یا کھاناکھانے کایا آدابِ معاشرت کا، اگر چہ ان کا تعلق ظاہر سے ہوتاہے لیکن ان سب کا عمیق اثر انسانی روح پریعنی باطن پر بھی ہوتا ہے۔ جو لوگ ظاہر باطن کی اصطلاحوں کا غلط استعمال کر کے اپنی غلط باتیںپھیلاتے ہیں یا ان کی نشرو اشاعت کرتے ہیں، انہیں جان لینا چاہیے کہ اگر انسان کاظاہر اس کے باطن سے تعلق نہ رکھتاہو تا تو قرآن کریم میں لباس کے متعلق احکامات و اصول ہوتے نہ ہمارے نبی ؐ نے لباس کی طہارت وزینت کے تعلق سے کوئی ہدایات دی ہوتیں ، نہ اسلام میں اس بارے میں کوئی تعلیم ہوتی، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ؐ نے لباس کے پہننے سے لے کر لباس کے رنگ تک کے متعلق اپنی امت کو تعلیم و ترغیب دی ہے، نیزمرد اور عورت کیلئے لباس کے احکام بھی الگ الگ فرمائے ہیں۔
اسلامی شریعت نے لباس کے بارے میں ہمیں بہت متوسط اور معتدل ہدایتیں عطا کی ہوئی ہیں۔ دین حق نے پہننے کے لئے کوئی مخصوص وضع قطع مقرر نہیں کی ہے البتہ ہر انسان وہی ساتر اور شریفانہ لباس پہنے جو اس کے شایان ِشان ہو۔ اسلامی شریعت ہر ملک اور قوم کے حالات، ضروریات اور وہاں کے موسمی تغیرات کو مدنظر رکھتے ہوئے حالات کی مناسبت سے موزون لباس پہننے کی تعلیم دیتا ہے۔ بالفاظ دیگر مختلف جگہوں پر لباس مختلف ہوسکتا ہے ۔ اسلام لباس کے بارے میںکچھ بنیادی اصول و آداب مقرر کرتا ہے جن کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہم سب کیلئے ضروری ہے۔
اصول:۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اے بنی آدم! ہم نے تمہارے لئے ایسا لباس اُتارا جو تمہاری پوشیدہ اور شرم کی چیزوں کو چھپاتا ہے اور جو تمہارے لئے زینت کا سبب بنتا ہے اور تقویٰ کا لباس تمہارے لئے بہتر ہے۔
 اس آیت مبارکہ میں لباس کا پہلا مقصد بیان کیا گیا ہے کہ لباس ایسا ہو جو تمہاری پوشیدہ یعنی چھپانے والی اور شرم کے اعضاء کو چھپاسکے ،جس کے ظاہر کرنے میں انسان کو شرم و جھجک محسوس نہ ہو۔ ہمارا لباس ستر کے مطابق ہو کیونکہ لباس کا پہلا بنیادی اصول ستر ہے۔ عورت کے لئے چہرے اور سینے سے لے کر ہاتھ اور ٹخنوں تک سب کا سب ستر میں آتا ہے ۔ پائوں، چہرے اور ہاتھ کو چھوڑ کر باقی تمام اعضاء کو چھپانا چاہیے ۔
مردوں کے ستر کا حکم یہ ہے کہ ناف سے لے کر گھٹنوں تک کا حصہ چھپاناضروری ہے ۔جو لباس شریعت کے متعین کئے ہوئے ستر کے حصوں کو نہ چھپائے یاستر کے مقاصد کو پورا نہ کرے ،وہ شریعت کی نگاہ میں لباس ہی نہیں۔ لباس کے بنیادی اصول کو پورا نہ کرنے کی جو جوعلامات ہوسکتی ہیں کہ لباس اتنا چھوٹا ہو کہ پہننے کے باوجود جسم کا کچھ حصہ کھلا رہے ،دوسری علامت یہ کہ لباس اتنا باریک ہو کہ پہننے کے باوجود جسم کا کوئی ایک یاہر حصہ نظر آئے ، تیسری علامت یہ کہ لباس اتنا تنگ ہو کہ جسم کی بناوٹ اور ساخت آسانی سے اُبھرآرہی ہو۔ یہ تینوں صورتیں یا علامتیں ستر کے خلاف ہیں۔ لباس اتنا ڈھیلا ڈھالاہو کہ جسم کے اعضاء کو نمایاں نہ کر ے ،ا تنا موٹا ہو کہ جسم کا کوئی اعضاء لباس میںسے نظر نہ آئے اور لباس اس طرح کا ہو کہ پورے جسم کو چھپا سکے ۔ یہ تینوں چیزیں خاص کر عورت کے لباس میں موجودہونا لازمی ہیں ،ورنہ ستر اور لباس کا پہلا بنیادی مقصد پورا نہیں ہوگا۔
آج کل غلط وبرہنہ فیشن کا ایسا دور چل پڑا ہے کہ ہم باریک لباس پہنیں جس کے اندر سے پورا جسم جھلک رہا ہو، چست کپڑے پہنیں جس سے ہمارے جسم کے اعضاء کی بناوٹ جھلک رہی ہو ، حتیٰ کہ ایسالباس بھی پہنیں کہ ہمارے آدھے جسم کے حصے کھلے ہوں ۔ا س بے حیائی کو ہم جدت پسندی، نفاست اور فخر یہ کام سمجھتے ہیں ۔ ان سب چیزوں کے سبب آج لباس کا اہم بنیادی مقصد فوت ہو کر رہ گیا ہے ۔ ایسی فیشن زدہ عورتوں کا لباس زیب تن ہونے کے باوجود ننگی ہونا ظاہر ہے اور ان کے سر کے بال بھی ایسے ہوتے ہیں جیسے اونٹنی کے کوہان ۔ لسان حق بیان ؐ نے ایسی ہی بنت حوا کے لئے فرمایا: وہ عورتیں اپنے لباس، اپنے زیب زینت سے اور بنائو سنگھار سے دوسروں کو اپنی طرف مائل کرنے والی ہوں گی اور تخت پر سوار ہو کر آئیں گی اور مسجد کے دروازوں پر اُتریں گی ۔ آج کے زمانے میں بے ہنگم وبائے فیشن سے آپ ؐ کی پیش گوئیاں سو فی صد پوری ہوتی دِکھ رہی ہے ۔ ہمیں اس بات کو اچھے سے سمجھ لینا چاہئے کہ یہ جو ہمارے دلوں میں، ہمارے گھروں میں سکون نہیں، ہر طرف فتنے اور فریب کا ماحول گرم ہے، تلخ کامی اوربے چینی کا عالم ہے ، یہ نتیجہ ہے اللہ کے حکموں سے بغاوت کا اور آپ ؐ کے احکام اور سنتوں کو ترک کر نے کا ۔
لباس کا دوسرا مقصد اللہ تعالیٰ یہ فرما تاہے کہ اس نے لباس کو انسانوںکے لئے زینت اور زیبائش ، خوبصورتی کی چیز بنایا ہے ۔ ایک متمدن ومہذب انسان کو لباس خوبصورت بناتا ہے، اس لئے لباس ایسا ہونا چاہئے جسے دیکھ کر انسان کا دل خوش ہو نہ کہ جس کو دیکھ کر ودسرے انسان کے اندر نفرت کا جذبہ اُمڈ آئے یا اسے گھن آئے۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ لباس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ لباس میں آدمی ساتر ہونا چاہئے اور ساتر ہونے کے ساتھ ساتھ اس سے آسائش کا مقصد بھی حاصل ہو، یعنی اس لباس سے انسان کو آرام راحت و سکون بھی ملے۔ ایسا لباس پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔اسی طرح اگر انسان اپنا دل خوش کرنے کیلئے کوئی قیمتی اور زیبائش والے لباس پہن لے تو اسلام میں اس کی بھی اجازت ہے ۔مثلاً کپڑے کا ایک گز 100روپے کا اور دوسرا200کا ہو، اگر 200والا خریدا جائے یہ سو چ کر کہ اس کی کوالٹی اچھی ہے، جسم کو آرام بھی ملے گا اور دل بھی خوش ہوگا اوراللہ تعالیٰ نے مجھے اتنی مالی وسعت بھی دی ہوئی ہے کہ میں سو کے بجائے دو سو والا کپڑا پہنوں تو اسلام اس کی ممانعت کرتا ہے بلکہ اسلام تحدیث ِ نعمت سکھاتا ہے، اس لئے نہ اسراف وتبذیر کیا جائے یہ بخل کیا جائے بلکہ میانہ روی کی روش اختیار کی جائے ۔ جو آدمی مال دار ہو اور اللہ نے اس کو قیمتی لباس پہننے کی وسعت بھی دی ہو ، پھر بھی وہ خراب اور گھٹیا قسم کا لباس پہننے تو یہ کوئی اچھی بات نہیں ۔ ایسا نہ ہو کہ اللہ نے سب کچھ دے رکھا ہو پھر بھی انسان فقیروں کی طرح پرانے کپڑے پہننے۔ یہ تو ایک طرح سے اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کی ناشکری ہے۔ لہٰذا جس انسان کی جو وسعت اور استطاعت ہو، وہاسی تناسب سے اپنے آرام کیلئے اچھا اورموزون کپڑا پہن سکتا ہے ۔اس میں کوئی ہرج نہیں۔ آپؐ کی  پاک زندگی جہاں سادگی میں گزری، وہیں آپؐ کے بارے میں یہ بھی منقول ہے کہ ایک مرتبہ آپ ؐ نے ایسا جبہ پہننا جس کی قیمت دو ہزار دینار تھی ۔ وجہ یہ تھی کہ آپ ؐ کا ہر عمل تاقیام قیامت شریعت کا حصہ بننا تھا یعنی اگر کوئی خود کے آرام اور خوشی کے لئے قیمتی لباس پہنے تو وہ بھی اسلام میں جائز ہے۔اس کے برعکس اگر نیت آسائش کی نہ ہو بلکہ نمائش کی ہو تو یہ سب چیز ٹھیک اور جائز نہیںہے۔ اس معاملے میں آج کل ہم خواتین کا مزاج اور اسلوبِ زندگی اصلاح طلب ہے ۔ہم عورتیں سب سے زیادہ لباس کو دکھاوے اور نمائش کے نکتہ نظر سے استعمال کرتی ہیں۔ ہم یہ سمجھتی ہیں کہ لباس  اپنے دل کی خوشی اور آرام کے لئے نہیں بلکہ دوسروں کو دکھانے اور ان پر اپنا رعب ڈالنے کے لئے مطلوب ہو، لوگ تعریفیں کریں دیکھو تو سہی اس محترمہ نے کتنا قیمتی ، خوبصورت اور جدید فیشن پوشاک پہنی ہے۔ دیکھنا والا ہمارے لباس کی تعریف کرے یہی آج کے جدید فیشن کا دردسر ہے۔ عورتیں اپنے گھر میں اپنے شوہروں کے سامنے میلے کچیلے کپڑے پہنتی رہیں حالانکہ زیبائش اور آرائش کا اصل مصرف شوہر کی نگاہ ہے ،اور اجر اور ثواب بھی اسی کا ملنا ہے لیکن ہمیںکبھی کسی محفل یا دعوت میں جانا ہو تو ہم بہت ہی اہتمام کے ساتھ گھنٹوں سجنے سنورنے میں لگادیتی ہیں تا کہ لوگ ہمیں حیسن وجمیل سمجھیں ، سلیقہ مند کہیں ، دولت مند کہیں اور ہمارے آرائش اور لباس اور زیوارت کی تعریفیں کریں۔ یہ سب اعمال بربادی اور گناہ کی طرف لے جانے والی چیزیں ہیں ۔ہمیں لباس زیب تن کرنے میں خود کی خوشی اور آرام کو ملحوظ نظر رکھنا چاہئے نہ کہ دکھائو ے کا غیر ضروری جذبہ ۔ اس سے بھی پہلے نمبر پریہ خیال اور فکر کہ شریعت اسلامی کو کوئی اسول پامال نہ ہو ۔اس لئے ہمیں دوسر وںکے سامنے آرئش اور نمائش کا شو پیس نہیں بننا چاہیے ۔
لباس کا تیسرا اصول ہے تشبہ سے بچنا اور خود کو اللہ کی ناراضگی سے بچانا ۔اس لئے ہمیں ایسا لباس زیب ِتن نہیں کرنا چاہئے جس کو پہن کر ہم مسلمان نہیں بلکہ کسی غیرقوم کے بہو بیٹیاںلگیں ۔ شریعت میں اس کو تشبہ بالکفار کہتے ہیں، یعنی ایسا لباس پہننا جس سے غیر مسلم قوم کی نقالی ہو تی ہو ۔ ایسا لباس پہننا اسلام میں منع ہے ۔حضور ؐ نے ارشاد فرمایا، ترجمہ:جو شخص کسی قوم کے ساتھ تشبہ اختیار کرے(یعنی غیر مسلموں کی نقل کرے گا) تو وہ مسلمان نہیں ہے۔
سب سے پہلی بات تشبہ کے بارے میںیہ سمجھ لینی چاہئے کہ کسی ایسے عمل میں غیر مسلم قوم کی نقل کرنا یا ان جیسا بننے کی کوشش کرنا جو دین کے خلاف براہ راست ہو یا بلواسطہ ہو تو ایسا کرنا گناہ  اور ناجائزہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ کسی ایسے کام کی نقل کرنا جو جائز تو ہو لیکن ہم نقل اس نیت سے کریں کہ ہم فلاں شخص کی طرح لگیں اور اس تعلق سے غیر مسلموں کے رسوم و رواج، روایات ، رجحانات ، معمولات یااُن جیسا بننے کا اہتمام کیاجائے، یہ تمام صورتیں نا جائزاور حرام ہیں ۔ تعلیمی میدان میں جائز حدود اور شرائط کے ساتھ اوروں سے استفادہ کر نے کی کی بات الگ ہے ۔   بہر حال اگر کوئی بھی لباس کسی غیر مسلم قوم کے ادر رسوم رواج کا جزو لاینفک بن چکا ہو، اس کی نقل تشبہ بالاغیار کے زمرے میں آئے گا۔ شریعت اسلامی اس کی نفی اور حوصلہ شکنی کرتی ہے ۔دو لفظ تشبہہ اور مشابہت الگ الگ چیزیں ہیں ، تشبہہ یعنی جان بوجھ کر، ارادہ کرکے کسی کی نقل کرنا ،تو یہ گناہ ہے ۔دوسری چیز ہے مشابہت یعنی کسی کے جیسے بننے کا مقصد تو نہیں تھا مگر ایسا عمل کرنے سے ان سے مشابہت ہوگی تو یہ حرام یا گناہ نہیں ہے مگر آپ ؐ نے بلا ضرورت مشابہت پیدا ہونے سے خود کو بچانے کی تاکید کی ہے۔
لباس کا چوتھا اصول جو شریعت نے بیان کیا ہے، وہ یہ ہے کہ ایسا لباس جس سے انسان دل میں تکبر، بڑائی اور دوسروں کے لئے حقارت کے منفی جذبات پیدا ہوں تو ایسا لباس زیب تن کرنا سراسر گناہ ہے ، مثلاً اگر کوئی انسان ایسا لباس پہننے جس کے پیچھے نیت اور مقصد یہ ہو کہ لوگ مجھے درویش، اللہ کا ولی اور بزرگ سمجھیں اور اس وجہ سے دل میں تکبر پیدا ہو جائے تو ایسا لباس ناجائزہے ۔حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ؐ نے فرمایا جو شخص اپنے کپڑے کو تکبر کے ساتھ نیچے گھسیٹے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو نگاہِ رحمت سے نہیں دیکھے گا۔ایک بزرگ حضرت سفیا ن ثوری ؒ فرماتے تھے کہ انسان کوتکبر کپڑے پہننے سے نہیں بلکہ دوسروں کی حقارت دل میں پیدا کرنے سے جنم پاتا ہے۔ 

لباس اور سائنس:

عورتوں کے باریک لباس اور بے پردہ کر نے والے لباس سے جہاں پاک دامنی، لاج شرم، خاکساری، حجاب و نیک نیتی کاجنازہ نکلتا ہے،وہیں اس کے کئی اور نقصانات بھی ہیں۔
(۱) ایک مشہورڈاکٹرجو کہ ماہر روحانی وجود کے متلاشی ہیں، ان کے مطابق جس کسی خاتون کے لباس سے اس کا جسم جھلکے یا نظر آئے، اس نسوانی جسم سے میں نے ناپاک، فحاشی اور ناسوری لہروں کو نکلتے دیکھا ہے۔
سورج سے جو UV Raysنکلتی ہیں، وہ ہمارے جلد کے ساتھ ساتھ ہمارے جسم کیلئے بھی بہت نقصان دہ ہیں ۔اگر ہمارا لباس موٹا ہوگا تو یہ کرنیں ہمارے لباس تک آکے رُک جاتی ہیں اور اگر لباس بالکل باریک ہو تو یہ کرنین ہماری جلد کیلئے بے حد مضمر ہیں ۔ان شاعوں سے حمرۃ الجلد ، جلد کی سرخی، قبل از وقت جلد کی ضعیفی اور جلد کا سرطان وغیرہ ہونے کا احتمال رہتاہے۔ایک شخص نے نبی کریم ؐ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ؐ میں چاہتا ہوں کہ میرا لباس عمدہ ہو، جوتے بھی شاند ار ہوں، اسی طرح اس شخص نے اور بہت چیزوں کا ذکر کیا، یہاں تک اس نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میرا کوڑا بھی عمدہ ہو۔ آپ ؐ اس کی باتیں سنتے رہے ،پھر فرمایا یہ ساری باتیں پسندیدہ ہیں اور اللہ تعالیٰ اس لطیف ذوق کو اچھی نظر سے دیکھتا ہے۔
اسلام امیر و غریب دونوں کا مذہب ہے۔ جو لوگ اسلام اور اسلامی درس و تدریس سے وابستہ اشخاص کو تنگی، افلاس و ناداری فاقہ کشی و غربت کے طعنے دیتے ہیں، تو ان کیلئے ڈاکٹر وارن جو کہ ایک مشہور ماہر شرقیات ہیں ،کا یہ جواب چشم کشا ہے۔ وہ کہتے ہیں جو اسلام کو مفلسی اور تنگی کی تعلیم دینے کا مذہب کہتے ہیں ، شاید ان کا مطالعۂ اسلام ادھورا اورغیر مکمل ہے۔ میں نے اسلامی تعلیم ، تاریخی واقعات کا مطالعہ کیا تو یہی پایا کہ اپنی حیثیت کے مطابق مال دار انسان کو بہترین لباس ، اچھی سواری، اچھی رہائش اور اچھے کھانے پینے کی مکمل اجازت ہے۔

لباس کا رنگ :

حضوراکرم ؐ سفید لباس پسند کرتے تھے، سفید لباس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ گرمی کے موسم میں سفید لباس گرم نہیں ہوتا کیونکہ یہ لُوکو اپنے اندر جذب نہیں ہونے دیتا اور سردی کے موسم میں سردی سفید لباس کو ٹھنڈا نہیں کرتی۔رنگ اور وشنی کے ماہرین ِخصوصی کے مطابق سفید لباس سرطان سے بچنے کیلئے ایک بہترین طریقہ ہے، یہاں تک کہ جو انسان بھی سفید لباس زیب تن کرے گا تو وہ شخص روم قطر دی کے امراض جیسے مہلک بیماریوں سے دور رہے گا۔ ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر یعنی جن کاانفشار ِدم زیادہ ہو،ان کے لئے بہتر ہے کہ وہ سفید لباس پہنیں۔ کرو موپیتھی کے اصولوں کے مطابق سفید لباس دل، دماغ اور جلد کے لئے ایک محافظ کی طرح کام کرتا ہے اور ہمارے اجزاء کو کئی مہلک بیماریوں سے بچاتا ہے۔ ابن بطوتہ کا کہنا ہے کہ میں نے ذیلی براعظم کے لوگوں کو سفید لباس زیب تن کرتے دیکھا اور میں سفید لباس کے شفا بخش اثرات سے متاثر ہوا۔

سوتی لباس:

آپ ؐ کا لباس سوتی تھا ،اور زیادہ تر سوتی لباس زیب تن فرمایاکرتے تھے۔ سائنس کی رُوسے جس بدن پر سوتی لباس ہوگا وہ بدن بہت کم جلدی امراض میں مبتلا ہوگا ۔ پولیسٹر اور نائلونی دھاگے سے جو لباس تیار کئے اور پہنے جاتے ہیں، ان سے جسم کو جب رگڑ لگتا ہے تو جسم میں گرمی پیدا ہوتی ہے ۔ یہ گرمی جسم کی گرم سے بڑھ کر ہمارے جلد کے کئی امراض کا باعث بنتی ہے۔ سوتی لباس نہ صرف جسم کی حرارت کومتناسب رکھتا ہے بلکہ انسان کو نفسیاتی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے۔ عورتوں میں لیکوریا اور مردوںمیں جنسی امراض کی وجوہات پر غور کرنے والوں کی تحقیق ہے کہ ان کے عارضے کی ایک وجہ پولیسٹر لباس کا زیب تن کرنا بھی ہے۔اگر ہم مصنوعی لباس کو ترک کریں اور سنت کے مطابق سوتی لباس کو اپنی روز مردہ زندگی میں اپنائیں تو ہماری زندگیاں کئی مہلک بیماریوں سے آزاد رہیں گی۔

موٹا لباس :

 آںحضور ؐ موٹا لباس پہنتے تھے۔ تمام صحابہ کرامؓ اور اولیاء کرامؒ ے بھی زندگی بھر معمولاً موٹا لباس زیب تن کیاکرتے ۔ اس حوالے سے سائنسی تجربات سے اخذشدہ نتائج کچھ یوں ہیں:ڈاکٹر لوتھر و کہ جرمنی کے ماہر سرطان ہیں، ان کے مطابق جب سے انسانوں نے موٹا لباس پہنناچھوڑ دیا تب سے ہم کئی مہلک بیماریاں کے شکار ہو چکے ہیں۔ ہمارے جسم سے ایک مادہ نکلتا ہے جو ہمارے جسم کی رنگت کو کنٹرول کرتا ہے لیکن جب ہمارے جلد پر دھوپ کی تپش ، حدت، سردی کی سختی یا موسم کی کوئی بھی تبدیلی اثر انداز ہوتی تو ہمارے جلد کی حالت میں تغیر آتا ہے اور ہماری جلدی منفی اندازمیں اثر انداز ہوتی ہے اور ایسا صر ف تنگ اور باریک لباس پہننے کے وقت ہوتا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ آیا ہم  پورے فہم وشعور کے ساتھ اپنے پیارے نبی کریم ؐکی سنتوں کو اپنے لئے فلاح و بہبود کا ذریعہ سمجھیں، اپنے بنی کریم ؐ کی سنتوںمیںمہلک بیماریوں کا علاج ڈھونڈیں یا اپنے رسول ؐ کی سنتوں پر عمل کرکے بیماریوں سے ہمیشہ کیلئے نجات پا لیں یا نہیں۔

سبز لباس :

سفید لباس آپ ؐ کو پسندیدہ تھا مگر رنگین لباس میں سبز لباس آپؐ کی طبعیت کو زیادہ پسند تھا۔ کرومو پیتھی کے ماہرین کے مطابق ہر رنگ کے لباس سے نہ رکھنے والی شاعیں نکلتی ہیں جو ہمارے دل ، دماغ کی کیفیت پر یہاں تک ہمارے جسم کی تمام کیفیات پر اپنااثر چھوڑتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق سبز لباس ہمیں بہت سی بیماریوں سے بچاتا ہے، جیسے معدے کے السر، معدے کی تیزابیت اعصابی اور دماغی کھچائو، دل کے امرض ،خاص طور پر ہائی بلڈ پشر وغیرہ سے۔

سرخ لباس:

حضور اکر م ؐ نے سرخ لباس کو ناپسند فرمایا مگر پہننے سے منع نہیں کیا۔ سائنس کے مطابق سرخ لباس پہننے سے مردوں کے ہارمونل سسٹم پر منفی اثر پڑتا ہے اورایک خاص قسم کی رطوبت خارج ہوتی ہے، جو خون میں مل کر کئی امراض پیدا ہونے کا باعث بنتی ہے ،جیسے ہائی بلڈ پریشر، جنسی ہیجان، جلد کے امراض وغیرہ۔

ٹخنوں کے اوپر لباس

حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ لنگی آدھی پنڈلی تک ہونی چاہئے اور اس کے نیچے ٹخنوں تک بھی کوئی مضائقہ نہیں، ٹخنوں کے نیچے جتنے حصہ پہ لنگی لٹکے گی وہ حصہ آگ میں جلے گا۔ کہا جاتاہے کہ کوئی طاہر منیر صاحب فوم کا کاروبا ر کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں امریکہ گیا تھا، وہاں ایک ہیلتھ سنٹر میں مجھے اپنا دوست یہ کہہ کرلے گیاکہ چلو میں تمہیں ایک مزے دار چیز دکھاتا ہوں۔ اس سنٹر میں مختلف شعبے تھے او ر ان میں سے ایک شعبہ لباس کا بھی تھا۔ جب ہم نے لباس کے شعبے میں پہنچے تو وہاں ایک جگہ لکھا تھا کہ شلوار ٹخنوں سے اوپر لٹکائو، اس سے ٹخنوں کے ورم،جگری کا اندرونی ورم، پاگل پن سے بچ جائو گے۔

ریشم کا لباس:

ریشم اسلام میںمردوں کیلئے حرام ہے اور اگر ہم میڈرل پوائنٹ آف ویو سے دیکھیں تو ریشم میں گرمی اور خشکی کی صفت ہے۔ ڈاکٹر برائون نے ریشم کے بارے میں کہا ہے کہ ایک بادشاہ ریشم کالباس بہت پسند کرتا تھا اور ہمیشہ اسے ہی زیب تن کرتا ۔ایک دفعہ اس کے جسم میں سخت حرارت محسوس ہوئی کہ بے چینی اور غصیلی طبیعت نے بے آرام کر کے رکھ چھوڑا ۔ اس نے جب معالجین سے مشورہ کیا تو انہوں نے کچھ دوائیںدیں لیکن فرق ندارد ۔ ایک دفعہ اس نے ریشم کا لباس اُتار دیا تو اُسے سکون و راحت محسوس ہوئی ، پھر اس نے کچھ دن کسی اور کپڑے کا لباس پہنا تو افاقہ ہوا ، بے چینی اور غصہ غائب کیونکہ اس نے ریشمی لباس چھوڑ دیا ، مرض اوردرد ختم ہوگیا اوربادشاہ سمجھ گیا کہ مرض کی وجہ ریشی لباس تھی۔ ا س کے بعد اس ے کبھی ریشم کا لباس نہیں پہنا۔

عورتوں کا پشت قدم تک شوار لٹکانا :

اسلام میں عورتوں کو ٹخنوں سے نیچے کپڑا رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ سائنسی تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ اگر عورتیں ٹخنوں سے اوپر شلوار لٹکائیں گی تو ان کے اندر نسوانی ہارمونز کی سطح میں کمی آتی ہے جس کی وجہ سے عورتوں میں کمردرد، دماغی اور اعصابی کمزوری جیسی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حضور اکرم ؐ میلے اور گندے لباس کو ناپسند فرماتے تھے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیںکہ اللہ کے رسول ؐنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومن کی تمام خوبیوں میں لباس کا صاف رکھنااور کم پر راضی ہونا، سب سے زیادہ پسند ہے۔ یورپ کو طہارتِ جسمانی کا تصوراور طریقہ کار اسلام نے ہی دیا حالانکہ یورپ کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ لوگ مہینوں غسل نہیں کرتے تھے۔مشہور ڈاکٹر سرجن ولیم کم فودڈاک کا کہنا ہے کہ یورپی لوگوں میں صفائی کا کوئی Conceptہی نہیں تھا اور انہیں لباس کو صاف کرنے میں ایسی کوفت ہوتی جیسے ناخن تراشنے، پھر ترکوں ( یعنی مسلمانوں )سے انہوں نے لباس کی صفائی ستھرائی سیکھی اور یا درکھئے ترک یورپی مسلمان تھے۔
�����