تازہ ترین

آبگاہوں کی حفاظت۔۔۔ اولین ترجیح ہو!

30 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 حکومت ریاست کے اندر آبگاہوں میں پیدا ہونے والی آلودگی اور ناجائز تجاوزا ت کے حوالے سے محترک ہوگئی ہے اور اس حوالے سے مؤثر اور مربوط ،کئی اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے، جن میں ہائوس بوٹوں کے بدرو کو پانی میں گھل مل جانے سے بچانے کےلئے ٹینکوں کے استعمال کاجائزہ لیا جائیگا۔ علاوہ ازیں جھیل کے داخلی حصے میں تجاوزات کو ہٹانے اور تعمیرات کو منتقل کرنے پر بھی خو ر و خوض کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے ایسے اقدام مثبت اپروچ کے حامل ہیں تاہم اس کےلئے ضروری ہے کہ اس عمل میں جن غیر سرکاری اداروں کی خدمات حاصل کی جائیں گی ان کےلئے ضوابط کو معقول بنیادوں پر استوار کیاجانا چاہئے تاکہ ایسے اقدامات صرف کسی کی جیبیں بھرنے کا سبب نہ بنے ہمارے لئے یہ ایک المیہ سے کم نہیں کہ ہم بحیثیت قوم اخلاقی اور انسانی قدریں ہی نہیں بلکہ حس انسانیت بھی  بڑی تیزی سے کھو رہے ہیں۔ اس ضمن میں ایک نہیں درجنوں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔اگر ہم صرف اس بات پر غور کریں کہ ہم پچھلی کئی دہائیوں سے اپنی خود غرضیوں اور غلط حرکتوں کی وجہ سے کس تیزی سے ماحولیات کو برباد کررہے ہیں اور اسکے نتیجے میں قدرتی وسائل کھو رہے ہیں تو  یقینا اندازہ ہوگا کہ ہم کس مقام پر کھڑے ہیں۔ ہمارے آبی وسائل اور ہماری جھیلیں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ سکڑ رہی ہیںاور ہمارے جنگلات کا پھلائو تسلسل کے ساتھ کم ہورہا ہے۔میڈیا رپورٹوں کے ذریعے  بار بار کشمیر میں جھیلوں اور آبگاہوں کی تباہی کا جو نقشہ ابھر کر سامنے آتا ہے، اس کو دیکھ کر کسی بھی ذی حس انسان کا جگر پاش پاش ہوسکتا ہے۔ایشیاء میں تازہ پانی کی سب سے بڑی جھیل ولر ، جسکا رقبہ 1911میں 217مربع کلومیٹر تھا، ایک رپورٹ کے مطابق سکٹر سمٹ کرمحض 58مربع کلو میٹر پر محیط رہ گئی ہے۔یہ انکشاف ویٹ لینڈ انٹرنیشنل ۔سائوتھ ایشاء نامی ایجنسی نے ایک  سروئے کے بعد کیا تھا۔جھیل کے سکڑنے کا سبب اسکے کناروں پر تسلسل کے ساتھ ناجائز تجاوزات کا عمل ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جھیل کے 70ہزار کنال رقبے کو بھرائی اور شجر کاری کے ذریعے اراضی میں تبدیل کیا گیا ہے ۔جھیل کا 28فیصدحصہ زرعی زمین میں تبدیل کیا جاچکا ہے اور 17فیصد حصے پر شجر کاری کی گئی ہے۔متذکرہ سروئے سے پتہ چلا ہے کہ جہلم کی وساطت سے ولر جھیل میں پہنچنے والی گندگی اور غلاظت کی وجہ سے اسکی حالت ابتر ہوگئی ہے ۔ یہ جھیل جو کبھی میٹھے پانی کیلئے مشہور تھی گندگی اور غلاظت سے اٹی ہوئی ہے۔زیادہ دور کی بات نہیں بلکہ چند دہائیاں قبل تک جھیل ولر وادی کشمیر میں موسم کی ناسازگاری کے بعد پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے تدارک کا ایک کلیدی ذریعہ تھی۔ یہ اپنے شکم میں سیلابی پانی کا ایک بڑا حصہ سمیٹ لیتی تھی۔ یہ جھیل مہاجر پرندوں کی بھی ایک بڑی آماجگاہ تصور کی جاتی تھی۔ اسکی اہمیت کے پیش نظر ہی 1990میں رامسر کنونشن کے تحت جھیل ولر کو بین الاقوامی اہمیت کی حامل جھیل قرار دیا گیا تھا۔بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ ہماری متواتر حکومتیں جس طرح ڈل ، نگین اور آنچار جھیلوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوگئی ہیں بالکل اسی طرح جھیل ولر کے تحفظ کے بارے میں اب تک کی حکومتوں کے تمام دعوے سراب ثابت ہوچکے ہیں۔ حالانکہ ریاست کے ان قدرتی وسائل کے تحفظ اور  بحالی کے لئے تسلسل کے ساتھ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اربوں روپے کی امداد حاصل کی گئی ہے۔ مرکزی سرکار نے صرف 7سال پہلے یعنی 2011میں جھیل ولر کے تحفظ کیلئے 389کروڑ روپے کی منظوری دے دی ۔لیکن بالخصوص گزشتہ چھ دہائیوں سے ہمارے حکمرانوں اور افسر شاہی کی لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے ریاست کے قدرتی وسائل تباہ ہی ہوتے چلے آرہے ہیں۔ بلکہ اب تو یہ ایک عام تاثر ہے کہ ہمارے قدرتی وسائل موٹی توند والوں کا شکم بھرنے کا ایک ذریعہ بن کر رہ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف ولر ہی نہیں بلکہ ڈل ، نگین اور آنچار جھیلوں  اور دیگر آبگاہوں کی حالت بھی دن بدن بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ہمارے اسلاف ’ناخواندہ ‘ تھے لیکن اسکے باوجود انہیں ماحولیات کے تحفظ کی ضرورت کا بھر پور احساس تھا۔زبان ذد عام مقولہ ’’ان پوشہ تیلہ یلیہ ون پوشہ‘‘ کے ذریعہ شیخ نور الدین نوارنیؒ نے صدیوں پہلے ہمیں وہ بات سمجھائی تھی جو آج ہمیں سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں پتہ چل رہی ہے۔ہمارے اسلاف جھیلوں اور دریائوں میں گندگی پھینکنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے لیکن ہم ’تعلیم یافتہ‘ لوگوں اورہمارے حکام نے گندی نالیوں اور ڈرنیج کا رخ آبی ذخائر کی طرف موڑنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی اور نہ کررہے ہیں۔ ہمارے بزرگوں کی زندگیوں میں ہمارے جنگلات پھل پھول رہے تھے ، لیکن ہماری خود غرضیوں کی وجہ سے اب یہ تسلسل کے ساتھ سکڑتے جارہے ہیں۔ہماری زرعی زمینوں پر کنکریٹ کے دیو قامت ڈھانچے تعمیر ہورہے ہیں اور ہم اس پر فخرکرتے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ مادیت کی دوڈ میں ہم بے حس ہوگئے ہیں اور’’کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا‘‘ کے مصداق ہمیں اپنے لٹنے کا کوئی ملال بھی نہیں ہے۔ متمدن معاشرے اور قومیں ہمہ وقت اپنے ماحولیات ، تمدن تہذیب اور اخلاق و اقدار کے تحفظ میں محو رہتے ہیںجبکہ ہم خود ان چیزوں کو تباہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ ہمیں اس بات کا بھی احساس نہیں کہ یہ معاشرہ اور یہ زمین ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو منتقل کرکے چلے جانا ہے۔ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے بارے میں بھی فکر مند نہیں ۔کیا اس سے بڑی کوئی خود غرضی ہوسکتی ہے؟