تازہ ترین

دفعہ35-اے ۔۔۔جذباتی صورتحال پر غور و فکر کی طالب!

28 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

آئین کی دفعہ35-اے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں دائر کلیدی درخواست پر سماعت کےبارے میں پھیلی افواہ کےنتیجے میں وادی کشمیر کے طول عر ض میں جو کھلبلی مچ گئی ہے وہ مرکزی حکومت اور ریاستی سماج کےلئے نہ صرف چشم کُشا ہے بلکہ انہیںاپنے اپنے طریقہ کار پر غور و خوض کرنے کی دعوت دیتا ہے ۔ صورتحال کا جائزہ لینے سے خاص طور پر دو اہم باتیں سامنے آتی ہیں ، جنکا سنجیدہ فکر حکومتی وسماجی حلقوں کو نیک نیتی کے ساتھ جائزہ لینا چاہئے۔ معاملے پر سماعت کی افواہ کے نتیجہ میں وادی بھر میں جو فوری ردعمل ظاہر ہوا اسکے نتیجہ میں آناً فاناً بازار بند ہوگئے اور سڑکیں سنسان ہو گئیں جبکہ متعدد مقامات پر احتجاج اور جھڑپیں بھی ہوئیں جس کے ردعمل میں پولیس نے طاقت کا بے تحاشہ استعمال کیا اور نتیجتاً زخمیوں کی ایک بڑی تعداد ہسپتالوں میں پہنچ گئی ۔ اس طرح یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ مذکورہ معاملے پر عوامی سطح پر کس نوعیت کی جذباتی صورتحال بنی ہوئی ہے اور اگر اس دفعہ کو ہٹانے کی کوششیں کی گئیں ، جیسا کہ کچھ حلقے بضد ہیں اورجنہیں مرکزی سطح پر حکمران طبقے کی طرف سے بھی حمایت مل رہی ہے،تو ظاہر بات ہے کہ یہ ریاست کے طول وعرض میں تباہ کن صورتحال پیدا کرسکتی ہے،جو غالباً کسی سے سنبھالے بھی نہیں سنبھل سکتی۔ لہٰذا نئی دہلی کے اُن حلقوں کےلئے یہ چشم کشائی کا سبب ہونا چاہئے جو مختلف سیاسی اغراض کی بنا پر ریاست کو حاصل داخلی خودمختاری کو ہمیشہ نشانہ بنائے رکھتے ہیں۔اگرچہ سات دہائیوں کےد وران اٹانومی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں نئی دہلی کی کم و بیش  سبھی صاحب اقتدار سیاسی جماعتیں پیش پیش رہی ہیں تاہم موجود ہ مہم جوئی کا ایک الگ انداز ہے۔ اسکے ذریعہ نہ صرف ریاست کی شناخت کو ختم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں بلکہ ریاستی عوام کے پشتینی حقوق کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ماضی میں حکمران کانگریس اور اسکی حلیف جماعتوں کا اگر چہ داخلی خودمختاری کو نقصان پہنچانے میں کلیدی رول رول رہا ہے لیکن اس وقت پسپائی کی پوزیشن میں ہونے کی وجہ سے اسکی مقامی قیادت دفعہ35-Aکے دفاع میں پیش پیش ہے، جو یقینی طور پر خوش آئند ہے۔ ایسا ہی جموں کے اُن سماجی گروپوں کا حال بھی ہے جو کبھی بھاجپا کے ہمراہ و ہمنوا رہے ہیں۔ گزشتہ روز پیدا شدہ صورتحال ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو فکر انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ سنجید توجہ کا طالب ہے۔ خاص کر اُن سیاسی جماعتوں کےلئے جو اس صورتحال کے حوالے سے متحرک ہیں، کیونکہ ایک افواہ کی بنیاد پر حالات میں اس قدر خرابی پیدا ہونے کا مطلب قیادت کے درمیان باہمی روابطہ کے فقدان کے بہ سبب صورتحال پر انکے عدم اختیار کی عکاسی کرتا ہے۔ فی الوقت جو جذباتی صورتحال بنی ہوئی ہےا ُسے ایک منظم ، معقول اور مؤثر سمت عطا کرنے کے لئے سیاسی خمیوں ، خواہ وہ مین اسٹریم سے تعلق رکھتے ہوں یا مزاحمتی طبقے سے، کے درمیان مناسب روابطہ کی انتہائی ضرورت ہے، کیونکہ ایسی صورتحال میں منفی ذہنیت رکھنےو الے مفاد پرست اور خود غرض عناصر کو کھُل کھیلنے کا موقع میسر آتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اگر کوئی عمل اپنی متعینہ اور مقرر ہ ڈگر سے ہٹ جائے تو مجموعی طور پر اس سے جان و مال اور معیشت کے نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔ لہٰذ ا سیاسی قیادت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ الگ الگ راستے اختیار کرنے کی بجائے مشترکہ موقف اختیار کرکے ایک مشترکہ پروگرام سامنے لانے کی کوشش کریں تاکہ مجموعی طور پر عوام کے جذبات کے ساتھ کسی کو کھلواڑکرنے کا موقع نہ ملے۔ ایسی صورتحال میں مفاد پرست حلقے اپنے مخصو ص عزائم کی تکمیل کے لئے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں، جنہیں اگر موقع ملتا ہے تو وہ سبھوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسا موقع پیدا نہ ہونے دیا جائے۔