تازہ ترین

نئی تاریخ

26 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

نیاز ؔ جیراجپوری
 اے مورِّخ لِکھ نئی تاریخ میرے دیش کی
لِکھ یہاں ہے روشنی مغلوب ، غالب تیرگی
لِکھ یہاں قیمت نہیں قانون کی دستور کی
لِکھ بِساطِ زیست پر پرچھائیاں ہیں موت کی
لِکھ فصیلِ جِسم و جاں پر جم رہی ہے برف سی
اے مورِّخ لِکھ نئی تاریخ میرے دیش کی
جبر و اِستحصال و رنجِش دُشمنی ہے ہر طرف
دوستی اخلاص و اُلفت کی کمی ہے ہر طرف
شمعِ امن و اماں بے نُور سی ہے ہر طرف
حادثوں کی تیز آندھی چل رہی ہے ہر طرف
اے مورِّخ لِکھ نئی تاریخ میرے دیش کی
سَرپہ ہے اندیشوں کی تلوار یُوں لٹکی ہُوئی
جیسے اِک زہریلی ناگن راستہ بھٹکی ہُوئی
شاخِ ذہن و دِل پہ ہے اِنسانیت اٹکی ہُوئی
ہر طرف جمہوریت کی لاش ہے لٹکی ہُوئی
اے مورِّخ لِکھ نئی تاریخ میرے دیش کی
جِسم نِیلے پڑ رہے ہیں نفرتوں کے زہر سے
آدمی ڈرنے لگا ہے آدمی کے قہر سے
پوچھ لے جا کر تُو ہر اِک گاؤں سے ہر شہر سے
کوہ ، صحرا سے چمن سے اور ندی کی لہر سے
اے مورِّخ لِکھ نئی تاریخ میرے دیش کی
نوچ کر شاخوں سے پھینکے غنچہ و گُل جِس طرح
اُڑ گیا ہے قومی یکجہتی کا چہرہ اِس طرح
کھینچ لے مجروح پنچھی کے کوئی پَر جِس طرح
جی رہے ہیں لوگ میرے دیش میں اب اِس طرح 
نسلِ آئندہ بھی سُن لے چیخ میرے دیش کی
اے مورِّخ لِکھ نئی تاریخ میرے دیش کی
 
 ۶۷؍جالندھری ، اعظم گڑھ (یُو۔پی۔) اِنڈِیا
+91  9935751213   /  9616747576