تازہ ترین

یہ قربتیں یہ دُوریاں!

افسانہ

26 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی
پروفیسرمجیب الحسن ایک بہت بڑا ادیب،نقاد،ڈرامہ نویس اورکئی ضخیم کتابوں کامصنف تھا۔وہ مقامی یونیورسٹی میں پروفیسرتھا۔اندرون ملک اوربیرون ملک کی بہت سی یونیورسٹیوں کاوزیٹنگ پروفیسرتھا۔ اپنی شخصیت قابلیت اوراپنی تقاریراورمقالات کی وجہ سے ہرجگہ مشہور تھا۔وہ جہاں بھی جاتاٹیلی وژن ، ریڈیو اور اخبار و الے ان کاانٹرویو لینے کے لیے بے تاب رہتے اور ہرکوئی اس معاملہ میں پہل کرناچاہتاتھا۔ ان سے انٹرویولینایہ لوگ اپنی کامیابی سمجھتے تھے۔ان کاانٹرویو سننے پڑھنے سے تعلق رکھتاتھا۔وہ ہرسوال کاجواب بڑی  دلچسپی اور ہنسی خوشی دیتے لیکن جب کوئی ان کی ازدواجی زندگی کے بارے میں سوال کرتا تو وہ  یہ کہہ کرٹال دیتے تھے کہ یہ ان کامعاملہ ہے اوراگرکوئی زیادہ ہی اصرارکرتاتووہ معذرت چاہتے ہوئے کہتے کہ آپ مجبورنہ کریں ورنہ مجھے بہت تکلیف ہوگی۔
آج انکی ایک اورکتاب،جو انکی زندگی سے تعلق رکھتی تھی،کی رسم رونمائی تھی ، اسے انہوں نے اپنی زندگی کی آخری کوشش بتایاتھا۔یونیورسٹی کاہال مدعوین سے کھچاکھچ بھراتھا جس میں شہر کے بڑے بڑے ادیب ، مصنف ،پبلشر اورطلباء ،ملک کی دوسری یونیورسٹیوں کے پروفیسرصاحبان اورعلم وادب سے جڑے اشخاص بھی شامل تھے۔ ’’سوانح حیات‘‘ کامختصر تعارف پروفیسرعرفان، جو مجیب الحسن کے پرانے شاگرد تھے اور اب خودبھی پروفیسربن چکے تھے، نے کرایا۔ اورباتوں کے علاوہ انہوں نے تعارفی تحریر کے دوران یہ انکشاف بھی کیاکہ انکے استادِ محترم نے تمام عمرجس ایک سوال کاجواب دینا مناسب نہیں سمجھاتھا، اس کے بارے میں انہوں نے اس کتاب میں ایک پوراباب لکھاہے ۔یہ سن کروہ مدعوین، جنہیں یہ کتاب تحفتاً دی گئی تھی،جلدی جلدی ورق گردانی کرتے نظرآئے۔ ’’میری ازدواجی زندگی‘‘ کے باب میں انھوں  نے جو کچھ لکھاتھا ہرکوئی اسے جانناچاہتاتھا۔  انھوں نے اس میں لکھا تھا:
انگریزی اور اردو میں ایم اے کرکے ڈاکٹریٹ مکمل کرنے کے بعد میں مقامی کالج میں لیکچررتعینات ہوا۔تو ہمارے خاندان ،جو سارے شہرمیں بڑاعزت دارماناجاتاتھا، میں خوشی کی لہردوڑ گئی۔ پڑھائی ختم ہوتے ہی جب نوکری بھی ملی تو میری سیرت وصورت اور شرافت کی وجہ سے رشتے  آنے شروع ہوئے۔کبھی اس گھرانے توکبھی اس گھرانے سے۔ کبھی ابوکے یہ دوست توکبھی اماں جی کی وہ سہیلی کسی نہ کسی لڑکی کی سفارش کرتے۔ چار پانچ لڑکیوں کے رشتے زیرغوررہے۔ ہررشتہ ایک سے بڑھ کرایک تھا۔ سبھی خاندان عزت داراورساری ہی لڑکیاں پڑھی لکھی، خوب صورت ،باکرداراور صوم وصلوٰۃ کی پابندتھیں۔ اس وجہ سے کسی ایک کاانتخاب کرنامشکل ہوگیاتھا ۔روزانہ ہی شام کواس معاملہ پر بحث ومباحثہ، چھان بین اورایک رائے قائم کرنے کی کوشش کی جاتی اورروزانہ ہی کوئی فیصلہ کئے بغیرمجلس برخاست ہوجاتی۔آہستہ آہستہ یہ ایک بڑامسئلہ بن گیاتھا، گھروالوں کے لئے، میرے لئے رشتہ داروں اور یاردوستوں کیلئے بھی۔ ایک روزمیں کالج کے سٹاف روم میں بیٹھاتھا کہ ایک معصوم سی لڑکی اجازت لے کرداخل ہوئی ۔سلام کیااورمجھ سے دومنٹ بات کرنے کی اجازت مانگی۔ پہلے تومیں حیران ہوگیاکہ اس انجان لڑکی کومجھ سے کیاکام ہوسکتاہے اورمیں نے یہ کہہ کرٹال دیاکہ میں مصروف ہوں مگرپھراسکے اصرارپرمیں نے حامی بھرلی اورکالج گرائونڈمیں دوکرسیاں لگانے کیلئے چپراسی کوکہاتاکہ کسی کوکوئی غلط فہمی نہ ہو۔میں نے پوچھا
 ’’جی محترمہ ! کیابات کرنی ہے ۔جلدی جلدی بولیں۔‘‘
’’میرا نام سلیمہ ہے۔ ایم۔اے بی ایڈ ہوں اوراسی شہرمیں رہتی ہوں ۔آپ کوکئی رشتے آرہے ہیں ۔مجھے معلوم ہے‘‘۔ اُس نے جواب دیا۔
اب میں سمجھ گیا کہ اس لڑکی کی کیاغرض ہے۔اب میرا برتائوذرابدل گیاکہ یہ لڑکی اتنی بے حیاہے کہ خودہی پرپوزکررہی ہے ۔یہ بات وہ بھی بھانپ گئی اس لئے جھٹ اصل موضوع پرآئی اورکہنا شروع کیا ۔
’’جن پانچ گھروں کے آپ کے لئے رشتے آئے ہیں وہ سبھی بہت اچھے ہیں۔ایک سے بڑھ کرایک ۔ان میں سے کسی میں کوئی کھوٹ نہیں ہے ۔مجھے معلوم ہے کہ آپ کواورآپکے گھر والوں کوحتمی فیصلہ لینے میں بڑی دقت آرہی ہے۔ان سبھی میں نجمہ، جومیری سہیلی ہے، آپ کے لیے بالکل موزوں ہے۔آپکی طبیعت سے میل کھائے گی ۔میری جو آپ دونوں کے بارے میں معلومات ہیں اُس سے مجھے یہ یقین ہوا ہے کہ آپ دونوں میڈفارایچ ادرہو۔ میری حقیرسی صلاح ہے کہ آپ میری اس سہیلی کاانتخاب کریں مگراُس کومیری اس ملاقات کااورمیری اسکی سفارش کاپتہ نہیں چلناچاہیئے ورنہ وہ بہت ناراض ہوگی ۔بڑی خوددارلڑکی ہے‘‘
اب میں سکون سے اسکی باتیں سننے لگا۔ اندرہی اندرمیں خوش ہواکہ آخرفیصلہ کرناآسان ہے۔میں نے اس کاشکریہ ادا کیا۔اس نے جاتے جاتے پھرایک بار کہا کہ ’’اس ملاقات کامیری سہیلی کوکبھی پتہ نہیں چلنا چا ہئے۔‘‘
 ’’چونکہ آپ نے مجھے اورمیرے گھروالوں کو اس پریشانی سے باہر نکالنے میں مددکی ہے۔ اس لئے میں آپ کو خوشی کے اُس موقعہ پر کچھ تحفہ دینا چاہتا ہوں‘‘ میں نے سلیمہ سے کہا ۔ وہ ذرا توقف کیساتھ بولی
’’ نہیں!نہیں!۔بھائی جان میرے پاس سب کچھ ہے۔بس ! آپ میری تجویز پر غور کریں‘‘۔ ’’نہیں ہمشیرہ سلیمہ جی ۔میں آپ کوضرورکچھ نہ کچھ دیناچاہتاہوں تاکہ یہ دن یاد گار بن کررہ جائے ۔ صر ف شکریہ کہنے سے ہی کام نہیں چلے گا۔‘‘میںنے اس سے دوبارہ کہا
’’ نہیں بھیا! کسی چیزکی بالکل کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘
’’نہیں بہن! کچھ تومانگو۔میں کچھ نہ کچھ دیناچاہتاہوں۔ تاکہ یہ لمحہ ایک یادگار بنے‘‘۔ میں نے اسرار کیا۔ ’’اچھابھائی جان !سنومیں اپنے والدین کی اکیلی اولادہوں ۔میراکوئی بھائی نہیں ہے۔آپ میرے بھائی بن جائیں، یہی کافی ہوگا‘‘۔’’ہاں ! یہ بالکل موزوں وصحیح فیصلہ ہے۔انشاء اللہ میں ایسابھائی بن کردکھائوں گاکہ لوگوں کوپتہ ہی نہ چلے گا کہ یہ سگے بھائی بہن نہیں ہیں‘‘میں نے بات ختم کی اورمجلس اختتام کو پہنچی۔‘‘
اب میرے دِل ودماغ کابوجھ ہلکاہوا ۔شام کوجب سبھی لوگ کھانے کے ٹیبل پر اکٹھے ہوئے توپوری بات چیت کرنے کے بعدحتمی فیصلہ لیاگیااور سب کی طرف سے قرہ نجمہ کے نام نکلا۔شادی ہوئی۔ہرکوئی خوش وخرم اورمطمئن تھا۔ سہیلی بھی بہت ہی خوش تھی کیونکہ اس کی وجہ سے یہ پیچیدہ مسئلہ حل ہوگیااوراسی کی صلاح پرعمل کیاگیا۔اب میراکام تھا کہ کسی طرح اس کابھائی بن کر ثابت کروں۔ سلیمہ کااپنی سہلی یعنی میری اہلیہ نجمہ کے گھرپہلے ہی سے آناجاناتھامگراب وہ کبھی کبھی ہمارے گھربھی آتی جاتی تھی۔ میں ہربات میں اس کوشامل رکھتا۔ نجمہ جب کبھی بازارجاتی یا کسی رشتہ دارسے ملنے کے لئے باہرجاتی تومیں سلیمہ کوساتھ لے جانے کیلئے کہتا۔ اب اس کاہمارے ہاں آنا جانا ایک معمول سابن گیا۔پہلے وہ نجمہ کی دوست تھی اوراب وہ ہماری خیرخواہ بن گئی تھی۔وہ میری ہرپسندو ناپسند کاخیال رکھتی اورمیں اسکی ہرکسی تجویزاورپسندکوخاطرمیں لاکر اس کی قدرکرتا۔اگروہ میرے کالج جانے کے وقت ہمارے ہاںہوتی تومیں اسکی پسندکاسوٹ پہنتا۔اسکی پسندکی ٹائی لگاتا۔ اسی طرح اگرکسی تقریب میں ہم مدعوہوتے تو میں سلیمہ کواپنے ہاں بلاتاتاکہ تینوں اکٹھے چلے جائیں۔عیدیااورکسی خوشی کے موقع پرمیں سلیمہ کوضرور بلاتایانجمہ کوکہتاکہ سلیمہ کوبھی بلائو۔میں اس کابھائی جوتھا۔اس سے کیا ہوا وعدہ نبھانے کی کوشش کرتاتھا۔
ایسا بہت عرصہ تک بڑی خوشی سے چلتارہا ۔میں بھائی ہونے کافرض نبھاتا رہا۔ایک روزہم نے پہلگام کرنے کے لئے پہلگام جانے کاپروگرام بنایا یہ طے پایا کہ صبح نکلیں گے ،کھاناوغیرہ ساتھ لے جائیں گے اورپھررات گئے واپس لوٹیں گے۔نجمہ نے بات مان لی۔حسب معمول میں نے اس سے کہاکہ کیوں نہ سلیمہ کوبھی ساتھ لے چلیں۔اس پرنجمہ نے ہاں توکی مگراندرہی اندراس پر یہ بات کچھ گراں گزری۔ وہ سوچنے لگی نہ جانے مجیب صاحب کیوں اسکی سہیلی میں اتنی دلچسپی لے رہے ہیں۔ہرجگہ ہرمسئلہ اورہربات میںا س کادخل ۔ہروقت سلیمہ سلیمہ کی رٹ لگارکھی ہے ۔ اُسے اب کچھ اورہی شک ہونے لگاہے۔وہ سوچنے لگی کی سلیمہ اب میرے بجائے اس کی سہیلی بن گئی ہے۔
 اس لئے اسکے بغیرکوئی بات ہی نہیں کرتے۔نہ جانے یہ کیامسئلہ ہے۔
خیر! ہم تینوں گاڑی میں بیٹھ کرپہلگام کی طرف چل پڑے۔تھوڑی ہی دورچلے تھے کہ گلزاراحمدزمیندار نظرآیا۔ بولے نجمہ آپ کویادہے میں نے آپ سے ایک دن کہاتھاکہ ایک شخص نے مجھ سے آٹھ ہزارروپے پندرہ دنوں کیلئے ادھارلئے تھے۔یہ وہی شخص ہے جوآگے سے پیدل چلا آرہاہے ۔ہاں مجھے یادآیا۔نجمہ نے کہا۔
’’میں آج اس کو نہیں چھوڑوں گا۔اپنے روپے لے کرہی رہوں گا۔ بے ایمان کہیں کا‘‘
 ’’ضرور۔روکوگاڑی اورمانگ لو۔اس سے اپنے پیسے‘‘  اس نے کہا۔
’’بالکل آج نہیں بخشوں گا اس کو۔پیسے لوٹانے تو دور کی بات شکل بھی نہیں دکھائی’’ میں نے کہا۔
اس بیچ سلیمہ نے کہا
’’بھیا! ایساکچھ بھی نہیں کرنا۔ہوسکتاہے اس پر کوئی مصیبت آئی ہو۔ کوئی بڑی مجبوری آن پڑی ہو۔فرمان رسولؐہے کہ قرض دار کی مجبوری کاخیال رکھناچاہیئے۔اسکومہلت دینی چاہیئے۔باقی آپکی مرضی‘‘
’’سلیمہ جی۔ٹھیک ہے۔آپ نے بڑی اچھی بات کہی‘‘۔اب یہ بات نجمہ کوبہت بُری لگی کہ اس نے اسکی نہیں بلکہ سلیمہ کی بات مانی۔نجمہ کاموڑ یکدم بدل گیا۔تھوڑا آگے چل کراس نے پیٹ درد اورسرچکرانے کابہانہ کیا۔
اس نے کہا’’میری  طبیعت بہت خراب ہورہی ہے میں آگے نہیں چل سکتی ہوں۔جلدی واپس گھرچلو‘‘اس نے کہا۔
بڑی منت سماجت کی مگرنجمہ نہ مانی۔آخرکار ہم واپس گھرچلے آئے۔ میں نے نجمہ کوگھرپرچھوڑا۔سلیمہ اپنے گھراورمیں کالج چلاگیا۔چھٹی منسوخ کی۔سیدھے کلاس روم میں گیا۔نجمہ نے گھرپہنچ کرتمام گھرسرپراٹھا یاتھا۔روروکربراحال کردیاتھا۔نوکروں کوپریشان کردیا۔اپنے ماں باپ ۔بھائی بہن کوایمرجنسی بتاکرفوراً بلایاتھا۔ان کویہ بھی بتایاوہ اپنے ساتھ مولوی صاحب کوبھی ساتھ لائیں۔کچھ ضروری معاملہ ہے ۔گھروالے بہت پریشان ہوئے۔انکی سمجھ میں ہی نہیں آرہاتھا کہ کیاوجہ ہوسکتی ہے، جواتناجلدی اوراتنی ایمرجنسی بتاکربلایاہے۔
آئودیکھانہ تائو۔وہ جیسے تھے جن کپڑوں میں تھے بھاگتے ہوئے ہانپتے ہوئے پہنچے۔نجمہ ایک کونے میں حیران وپریشان گم سم بیٹھی تھی۔ گھروالے اسکی یہ حالت دیکھ کراورزیادہ پریشان ہوئے۔پوچھنے پراس نے بتایاکہ ’’مجیب کاسلیمہ کے ساتھ چکربڑی دیرسے چل رہاہے ۔وہ شادی کے کچھ ہی دنوں کے بعدسے اسی میں دلچسپی لے رہاتھا۔مگروہ یہ سب دیکھ کرخاموش رہی کہ شایدوہ سنبھل جائے مگرحالت دن بد ن مایوسی میںبدل گئی۔مجیب اسی کی بات سنتےہیں۔اسی کی صلاح سے کھاناکھاتے۔اسی کی مرضی سے کپڑے پہنتے ۔اسی کے کہنے سے بازارجاتے ہیں۔مطلب اسکومجھ پر ترجیح دیتے ہیں۔میں اسکے سامنے نوکر انی بن کررہ گئی ہوں۔آج جب ہم پہلگام سیرکوجارہے تھے۔تو مجیب نے اس کوبھی اپنے ساتھ لیا، ہماری پرائیویسی میں خلل پڑا ۔ایساآج تک کئی بار ہوا ہے۔میں برداشت کرتی تھی مگربرداشت کی بھی حدہوتی ہے۔ مختصریہ کہ میں اب اورزیادہ برداشت نہیں کرسکتی اس لئے میں نے بالآخرفیصلہ کیاہے کہ میں ان سے طلاق /خلع لے لوں۔اس گھٹن سے علاحدہ رہنے میں ہی عقلمندی ہے۔‘‘اسکے والدین یہ سب سن کر پریشان ہوگئے، لیکن صورتحال دیکھتے ہوئے نجمہ کے فیصلے کے سامنے سرخم کیا۔ اب ان سب لوگوں نے مولوی صاحب سے کہا۔
’’جناب !ہماری بیٹی کوآزادکرائیں‘‘  
مولوی صاحب یہ سن کرتھوڑی دیرکیلئے سوچ میں پڑگئے کہ طلاق سب سے مبغوض عمل ہے۔اسکے بعدگھرمیں خاموشی چھاگئی۔اسی لمحہ مجیب بھی دفترسے گھرمیں داخل ہوئے۔وہ ان سب لوگوں اورمولوی صاحب کودیکھ کر خوش ہوئے۔ سلام دعاکے بعداس نے انکی آمدپر خوشی کااظہارکیا۔مگرسبھی کی طرف سے جواب خاموشی میں ملا۔آخرکارمولوی صاحب نے ساری بات بتا دی اوریہ کہاکہ نجمہ نے طلاق لینے کاآ خری فیصلہ کرلیاہے۔یہ توخلع کے دستخط شدہ کاغذات ہیں۔اب آپ میاں بیوی نہیں رہے۔
 اسی لمحہ سلیمہ بھی اندرآئی ۔سلام دعاکے بعداس مغموم ماحول کی وجہ پوچھی۔
سلیمہ کودیکھ کرنجمہ نے تڑاخ سے کہا۔
’’یہی لڑکی ہماری بربادی کی وجہ ہے۔سب کچھ اسی کی وجہ سے ہورہاتھا۔ جواب طلاق پراختتام پذیرہوا‘‘سلیمہ یہ سن کردم بخودہوگئی۔اسکی زبان گنگ ہوگئی۔
اب سلیمہ نے زبان کھولی اور مولوی صاحب سے کہا۔
’’جناب آپ میری بات کایقین کریں‘‘
مجیب کیسے کہتا کہ اس نے سلیمہ سے  وعدہ کیا تھاکہ وہ یہ بات نجمہ کونہیں بتائے گا۔
’’ہاں بیٹی ! بتائوسچائی کیاہے ‘‘ مولوی صاحب نے پوچھا۔اب سلیمہ نے وہ بات جومجیب سے انکے کالج گرائونڈمیں ہوئی تھی اپنی تھرتھراتی زبان سے بولی۔اس سے بات ہی نہیں نکل رہی تھی ۔کیسے بات نکلتی۔ الزام ہی اتناشرم آمیز تھا۔ بہرحال مولوی صاحب اورنجمہ کے گھروالے یہ حقیقت سن کردم بخود اور شرمندہ ہوکررہ گئے۔ اب نجمہ کوبھی اپنی حماقت کااحساس ہوا، مگراب کیاکیاجاسکتاتھاکیونکہ خلع کے کاغذپر سیاہی سوکھ چکی تھی۔یہ سب کچھ غلط فہمی کی وجہ سے ہواہے اگرمجیب نے کھل کرکہاہوتاکہ سلیمہ کو  اس نے بہن بنایاہے اورنجمہ نے بھی چھان بین کی ہوتی تو یہ بات یہاں تک نہ پہنچتی۔یہ سننے کے بعدمولوی صاحب نے کہاکہ اب بھی نجمہ کے لئے کورجوع کرنے کی گنجائش ہے ۔
اس بات کی اس کے گھروالوں نے بھی حمایت کی مگرمجیب نے صرف اتنا کہا۔
’’نہیں جناب اب ہمارے درمیاں بہت بڑی خلیج اس نجمہ کی بیوقوفی کی وجہ سے پیداہوگئی ہے۔اب یہ بھی اللہ کے سپرداورمیں بھی اللہ کے حوالے۔ جوعورت اپنے وفادارخاوند اور ہمدرد وشفیق سہیلی کونہ سمجھ سکی اب کیاسمجھ سکے گی۔آپ سب کو معلوم ہے کہ شادی کے لئے لڑکی کے انتخاب میں میرے لئے کتنی مشکل آن پڑی تھی۔ یہی وہ لڑکی ہے جس کے کہنے پر میں نے نجمہ کواپنی رفیق حیات بنایا اوراس سے شادی کی اور اس احسان کے عوض اسکوبہن بنایا اوربدلے میں اسکواتنی عزت دی۔ جس لڑکی کے کہنے پریہ شادی انجام کوپہنچی ،اسکواگر اتنی عزت دی ہوگی تو کیا آپ یہ اندازہ نہیں کرسکتے کہ اُ س کو کتنی عزت دی ہوگی، جس کے ساتھ شادی کی‘‘ ۔یہ سن کر نجمہ دم بخود ہوگئی۔
اتناکہہ کر اُس نے کہا کہ’’ اب بہترہے کہ ہم ایک دوسرے کوبھول جائیں۔ ‘‘
یہ سُن کر سلیمہ کو جیسے صدمہ ہوا۔ اُسے لگا کہ اپنے بھائی کی زندگی تباہ ہورہی ہے اور یہ ایک بہن کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ بالآخر وہ اُبل پڑی اور اُس نے مجیب کو مخاطب کرتے ہوئے مجلس میں کہا 
’’بھیا !میں بہن ہونے کے ناطے آپ سے آخری التجاکرتی ہوں کہ اب جب کہ سب غلط فہمیوں کے بادل چھٹ گئے اورہرایک کوایک دوسرے کی اوراپنی غلط فہمی کااحساس ہوگیا۔ آپ دونوں پھرایک بار آپس میں ازدواجی زندگی کی ڈورسے بندھ جائیں ۔یہی میری آپ دونوں سے ہاتھ جوڑکرالتجاہے ۔ورنہ میں اپنے آپ کوکبھی معاف نہ کرسکوں گی۔‘‘
اس طرح اسی مجلس میں پہلے طلاق/خلع کے کاغذات پردستخط ہوئے تھے پھراسی مجلس میں دوبارہ نکاح کے کاغذات پردستخط ہوئے اوریہ مبغوض کام کرکے ہم گنہ گارہونے سے بچ گئے۔
 
جموں،موبائل نمبر؛8825051001