تازہ ترین

شادی بیاہ کا سیزن

25 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

  وادی میں اگرچہ حالات35-اے کے حوالے سے بعداز بقر عید غیر یقینیت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں مگر اس کے باوجود شادیوںاور سگائیوں کا سیزن رُو بہ ترقی ہے اور حسب دستور یہ سلسلہ نومبر تک طول پکڑے گا۔ ہمارے یہاں شادی بیاہ اور منگنی کے مواقع پر اکثر وبیشتر اسراف وتبذیر اور نمود ونمائش کا ایک جشن یا میلہ سالگتا ہے جس میں فضولیات اور حماقتوں کی حد یں پارکی جا تی ہیں ۔ جہیزی لین دین، رسوماتِ قبیحہ، بے ہنگم وازہ وان، آتش بازی ، چراغاںاور ہمچو قسم کی فضول خر چیاں ہمیں اجتماعی طور حرافات کے کس دلدل میں پھنساکر دم لیتی ہیں ، اس سے ہر کو ئی ذی ہوش باخبر ہے ۔ ایک بدیہی حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں شادی بیاہ گھر پھونک تماشے کا دوسرانام ہے ۔ اس سلسلے میں وعظ وتبلیغ اور اصلاحی تحریکیںکم و بیش غیر موثر ثابت ہو رہی ہیں ۔ بلاشبہ وازہ وان ہماری روایت کا جزولا ینفک ہے مگر اس کی آڑ میں اشیائے خوردونوش کو بلاوجہ ضائع کر نے کا جو گناہ اجتماعی طور ہم سے سرزد ہو تا ہے، وہ ناقابل معافی ہے ۔ ظلم بالائے ظلم یہ کہ شادی بیاہ سے منسلک رسوماتِ بد کا پیٹ ہر گزرتے دن کے ساتھ پھولتا جاتا ہے ۔ نتیجہ یہ کہ جن گھرانوں میں اتنی سکت نہیں ہو تی کہ ان فضولیات وخرافات کا بار اٹھا سکیں ،ان کے یہاں لڑکے اور لڑکیاں شادی کی عمریں ڈھل جا نے کے باوجود رشتۂ نکاح میں بندھ جانے سے رہ جا تے ہیں ۔ اس صورت حال کے سماجی اور اخلاقی مضمرات کا تذکرہ کر نے سے قلم بھی قاصر ہے۔ چونکہ ہمارے یہا ں نو دولتیو ں کے ایک مخصو ص طبقے میں پیسہ کی ریل پیل ہے ۔اس وجہ سے بھی شادی بیاہ کے نام پر ایسی ایسی بدعتوں کا نازیبا کلچر درآ یاہے جس سے حیات ِاجتما عی کے رواں رواں میں مختلف مو ذی بیماریاں پیوست ہو رہی ہیں۔ ان بیماریو ںکے زیر اثر شادی بیاہ جیسے مقدس رشتے کی اصل شکل ناقابل یقین حد تک بگڑ کر رہ گئی ہے ۔ مذہبی معنیٰ میںشادی کا مطلب دو اجنبی انسانو ں کولافانی پیار محبت والے رشتے میں با ہم دگر پیو ست کرنااور انہیں ازدواجی زندگی کی گاڑی میںبٹھا کر شاہراہِ حیات کی منزل کی طرف گا مزن کر نا ہے تاکہ انسانی تمدن اور تواتر نسل کی منزل پائی جا سکے۔ ظاہر ہے اس عظیم رشتے کی اُٹھا ن نیک نیتی، خلوص اور با ہمی عزت واکرام کے اینٹ گارے پر اٹھنی چاہیے کیونکہ اسی کے طفیل دو غیر محرم ایک دوسرے کے واسطے شریکِ حیا ت بن کر سماجی زندگی کا مفہوم پاتے ہیں ۔ با لفا ظ دیگر شادی کے جو ڑ میں میاں بیوی کے لئے مذ ہبی ، روحا نی ، معاشرتی، نفسیا تی اور خا نگی زندگی کی ایک کثیرا لجہت دنیا بسی ہے۔ بدقسمتی سے ہما ر ے یہا ں شادی بیاہ کے ان اعلیٰ وارفع مقا صدکو ثانوی اہمیت بھی نہیں دی جا رہی جب کہ بے ہودہ رسو مات اور ضرر رساں روا جات کو اولیت مل رہی ہے ۔ بگاڑ اس قدر آ چکا ہے گو یا شادی کی تقریب اب صرف ہمسا یوں اور دوست احبا ب رشتہ داروں میں اپنی ناک اونچی رکھنے کاعنوان ہے ۔ اسے اجتما عی جبر کا شاخسانہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ شادی بیاہ کے موقع پر ہرکس و ناکس دیکھا دیکھی میں کچھ بھی کر نے کو اپنا ناقابل التواء فرض سمجھتا ہے۔ حد یہ کہ اگر کو ئی ذی فہم اور باشعور انسان مختلف اسباب کے تحت اس اجتما عی جبرو جنو ن کا حصہ بننے کو ٹھیک نہ بھی سمجھتا ہو لیکن عام تجربہ یہی ہے کہ ایسے لو گو ں کو بھی دیر سویر سما جی دباکے سامنے کلی یا جزوی طور سپر ڈالنے ہی پڑتے ہیں ۔ شادی غمی کے باب میں مروج رسوماتِ قبیحہ کی نامعقولیت اور بہ حیثیت مجمو عی ان سے گلو خلاصی حاصل کرنے کے نکتے پر فرداً فرداًہم میں کو ئی ا ختلا ف ِ رائے نہیںپا یا جاتا مگر پھر بھی اجتماعی سطح پر ان کی پیروی سے تقریباً ہر کوئی اپنا دامن بچا نے سے گریزاں رہتا ہے ۔ بے شک آج تک ہمارے یہاں شادی بیا ہ کو نا جا ئز رسوما ت کی زنجیروں سے آزاد کر نے کے لئے بہت ساری اصلا حی مہمیں چلا ئیں گئیں مگر وہ سب یکے بعد دیگرے نا کا می کا منہ دیکھتی رہیں۔با یں ہمہ اس حو صلہ افزا ء حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ گھٹاٹوپ اندھیرے میں بھی مٹھی بھر روشن ضمیرلوگ سادہ شادیوں کا متا ثر کن اور مثا لی اہتمام کرنے میں کامیاب نظر آرہے ہیں ۔ سادہ شادی کی قبولت میں کچھ سماجی اداروں کی کا وشیں واقعی قابل تعریف قرار پاتیںاگر یہ خلوص نیت سے مالامال ہوتیں ۔ دیکھا یہ جارہاہے کہ برسوں سے سادہ شادیوں کو ترویج دینے کی آڑ میں یہ ادارے اخبارات میں ا پنی خودستائی او ر تشہیر کے اتنے گن گان کرتے اورواتے ہیں کہ جس سے صرف ریاکاری کی بو آتی ہے ۔ البتہ کہیںکہیں دیندار اور باشعورلوگ انفرادی طور سادہ شادیوں کی حامی بھر کے صحت مند نقش ِ راہ ہی نہیں چھوڑتے بلکہ صحت مند مثالیں بھی قائم کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کے یہاں شادی کی تقاریب کو یہ چیزیں خاص طور منفرد بنا دیتی ہیں کہ ان میں فضو ل خرچیوں سے اجتناب ، اصراف و تبذیر سے پر ہیز، گو شت پو لٹری سمیت اشیا ئے خو ردو نوش کے ہو ش رُبا استعمال سے کنارہ کشی،وقت کے بلا وجہ اور بے دریغ زیاں سے گریز، دکھا وے کی مہمان نوازی اور اختلاط مردوزن سے اجتناب جیسی باتوں کا خاص الخاص خیال رکھا جاتاہے ۔ درحقیقت ایسی سعید رو حو ں کے فیض و برکت سے ہی ابھی تک سو سا ئٹی میں دھیما دھیما ہی سہی کچھ نہ کچھ اخلاقِ حسنہ اُجالا دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ اس میں دو را ئے نہیں کہ عمو ماً کشمیری سو سا ئٹی میں گزر بسر کر نے والے ایک عا م انسا ن کا خواب بلکہ اس کی پو ری زندگی کا ما حصل عا لی شان مکا ن کی تعمیر اور بعد ازا ں شادی بیاہ کی تقریب پر دوست احبا ب کی پرُ تکلف ضیافت کے علاو ہ کچھ اور نہیں ۔عالی شان بنگلے کی تعمیر کے لئے دیانت و امانت اور اخلا قی اُصولو ں کو روند ڈالنا، ضیافت کے نام پر بے شمار پکوانوںسے لوگوں کی واہ واہی بٹورنا،شادی کا جشن مناتے وقت مفت کی بجلی سے گھر کے درو دیوار کا چرا غا ں کرنا ، رات کو مائک لگاکرناچ نغمے کے شورو غوغاسے عوام الناس کی نیند یں حرام کرنا، آتش بازی میں بے حساب مال وزر اُڑانا اور ان جیسی بے ہودہ حر کات سے ان غریب نوجوا نو ں اور مہندی کو ترس رہیں دوشیزاؤں کا گو یا مذاق اُڑایا جا تا ہے جن کے یہاںاتنی مالی خوشحالی نہیں ہوتی کہ ان رسومات وفضولیات کااہتمام کرکے اپنے ہاتھ پیلے کراسکیں ۔ا ن بدبختانہ کارستانیوں کے منفی نتائج کو مد نظر رکھتے ہو ئے مذہبی سکالروں، صحافیوں دانش وروں اور سماجی اصلا ح کاروں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرہ اثر میں ان بدنما ناسوروں کا ا قلع قمع کر نے کی کمر ہمت باندھیں تاکہ کسی غریب نوجوان کا نکاح ناممکن العمل ہو نہ کسی لاچاردوشیزہ کی عمر فضولیات اوربدعات و رسومات کے سبب ہاتھ پیلے ہونے کا خواب دھرے کا دھرا رہے ۔ نیزہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ یہاں اٹھائیس برس سے انسانیت کامسلسل جنازہ اٹھ رہا ہے، اس ماتمی صورت حال کا پاس ولحا ظ کر تے ہوئے بھی سب لوگوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ماتم زدہ ماحول میں زیادہ سے زیادہ سادہ شادیوں کا اہتمام کرنے کو ترجیح دیں۔ یہ وقت کی پکار بھی ہے اور مظلومین کے ساتھ اظہار یکجہتی کاپیغام بھی ۔