تازہ ترین

دِل کی دُنیا

افسانہ

19 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

نواب دین کسانہ
ایک دِن دِل کی عدالت بڑے زوروں سے لگی ہوئی تھی۔ اِدھراُدھر وکیلوں اورمؤکلوں کی گہماگہمی تھی۔ اتفاق سے اُس دن وہاں میری بھی پیشی تھی۔ سچ کہوں تومجھے اپنی سچائی ،صفائی ،اچھائی اورنیک نامی پربڑانازتھا۔اس لیے اس عدالتی کاروائی اورعدالت کو کچھ زیادہ سنجیدگی سے نہیں لے رہاتھا ۔حاضر نہ ہونے کے مختلف حیلے بہانے تراش رہاتھا مگراس سب کے باوجود میری دِل کی دُنیاکے داروغہ کے آگے ایک نہیں چلی ۔ اس نے مجھ پراحساس کے کوڑے کچھ اِس شدّت سے برسائے کہ ہانپتے کاپنتے عدالت میں حاضرہوتے ہی بنی مگراندرہی اندر میری اناکا ناگ پھن پھیلاپھیلاکرکہہ رہاتھا کہ آخر اس طرح کی پیشیوُں سے تمہارے جیسے باکردار اوربااقدار آدمی کاکیابگڑتاہے ۔عدالت اسطرح کی حاضری کویقینی بناکراپنی اناکی تسکین کرناچاہتی ہے توشوق سے ہزاربارکرے ۔آخرتمہارا کیاجاتاہے ۔اندرکی اِس اُکساہٹ سے میری کچھ ہمت بندھی تو میں نے احاطہ عدالت میں وقت گزاری کیلئے ٹہلناچاہا کیونکہ میری پیشی میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔میں نے ٹہلتے ٹہلتے ایک طرف دیواروں پردیکھا تونگاہیں وہاں پیار،محبت اورنفرت کے مختلف رنگوں کی نقاشی دیکھ کر چُندھیا سی گئیں۔ دوسری طرف کی دیواروں پرچھوٹے بڑے بے شمار آبگینے آویزاں تھے، جن کی حفاظت پرچاک وچوبند پہرے دارتعینات تھے۔ میں نے اِن میں سے ایک پہرے دار سے اتنی سخت پہرے داری کی وجہ پوچھی تواُس نے بتایاکہ دِل کی دُنیاکے آبگینے بڑے نازک ہوتے ہیں اگرایک مرتبہ ٹوٹ جائیں توپھرہزارجوڑے بھی نہیں جُڑتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی حفاظت پر خصوصی توجہ مرکوزکی جاتی ہے۔میں نے پھر پوچھاکہ احاطہ عدالت میں آخران کواسطرح آویزاں کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ میرے اِس طفلانہ سوال پروہ سنجیدگی کی چادراوڑھ کر خاموش ہوگیا۔آخرکچھ دیربعد اُس نے اپنی اِس خودساختہ خاموشی کوتوڑتے ہوئے بتایا ،’’یہ بات سمجھانے کی نہیں بلکہ سمجھنے کی ہے ۔اگراللہ کی رضاشامل ہوتو آدمی ایک ہی جست میں اس کی سمجھ سے ہمکنار ہوجاتاہے اوراگرکوئی محض اپنے فہم وفراست کے غرورمیں سمجھنے کی کوشش کرتاپھرے توپھرساری عمربھی سمجھ نہیں آتی‘‘۔
اگرچہ اُس کایہ سارے کاسارا فلسفہ میرے سرکے اوپرسے گذرگیاتھامگر پھربھی اُسے مزید کریدنے کی ہمت نہیں ہوئی کیونکہ اُس پرکچھ ایسی کیفیت طاری ہوگئی تھی جس سے ایک ناقابل بیان رُعب اورجاہ وجلال کارنگ جھلکتاتھا۔پھرجو ،ان آبگینوں کے سامنے سے گزر ہوا تو مختلف خیالات کی لہریں میرے تخیل کے بلنددروازوں کوچھُوکر ایسے واپس لوٹ جاتی تھیں جیسے کوئی سادہ لُوح چڑیابند کھڑکیوں کے شیشوں سے ٹکرا ٹکراکر واپس ہوتی ہے ۔پھرنہ جانے میرے دِل میں کونساخیال آیا کہ میں نے ایک بڑے سے آبگینے سے ایک بچگانہ ساسوال پوچھ لیا ۔سوال تھاکہ ’’یہاں موجودلوگوں میں سب سے اچھاکون اورسب سے بُراکون ہے ؟‘‘۔
میرے اندر کاوہم ایک مرتبہ مجھے پھربھروسہ دِلا رہاتھاکہ آخریہ تمہارے سوااور کس کوسب سے بہترآدمی بتاسکتاہے۔ رہے بُرے تواُنکی بات ہی کیا۔اُن سے توایک جہاں بھراپڑاہے۔
مگراِتناپوچھناتھاکہ آبگینہ غصّے سے برس پڑا ۔گرج کربولا،’’تواِس زعم میں مبتلا ہے کہ یہاں توہی سب سے اچھا انسان ہے اورباقی سب برائیوں کے چلتے پھرتے پُتلے ہیں ۔آخرتم اندھے تونہیں ہو؟ نظرنہیں آتاکیا؟دوسروں کا پوچھنے سے پیشتر ذرامیرے عکس میں اپنا آپ تودیکھو‘‘۔
آبگینے کی اِس جھاڑ سے اپنی بڑائی کاسارانشہ تواُترگیا، اپنے آپ کودیکھتاتو کیسے دیکھتا۔دیکھنے کاعادی ہی نہیں تھا۔میںنے توعمربھردوسروں کوہی دیکھاتھا۔اپنے آپ کودیکھنے کی کبھی توفیق ہی نصیب نہیں ہوئی تھی۔یہی وجہ تھی کہ اپناآپ ہمیشہ ان دیکھارہ گیا۔مگر اب کی مرتبہ آبگینے کارُعب کچھ ایسا تھاکہ اپنے آپ کودیکھنے کے سواکوئی اورچارہ نہیں تھا۔
آبگینے کے عکس میں پہلی مرتبہ اپنے آپ پرایک احتسابانہ نگاہ دوڑائی تواپنی بڑائی ،اچھائی،صفائی اورنیکی کاسارے کاسارا پیراہن پوری طرح اُترگیااوراپنی بدگوئی اور بدخوئی، تمام منفی صفات کے ساتھ، بُری طرح بے نقاب ہوگئی۔ اتنا دیکھنا تھا کہ میں لمحہ بھرکیلئے پانی پانی ہوگیا۔ پھرشر م کا یہ پانی ایک بڑا سا دریابن کرموجیں مارتاہوا میری نگاہوں کے سامنے بہنے لگا ۔شرم کے احساس نے کچھ اِس شدّت سے میری خبرلی کہ میرااپنا آپ میرے بس میں نہیں رہا۔ سوچاایسی ذِلّت سے مرجانابہترہے ۔یہ سوچ کرمیں نے شرم کے اس دریامیں کودکرزندگی کاچراغ بُجھا لیناچاہا۔ مگرابھی دوقدم ہی بڑھائے تھے کہ میرا ایک ہمدمِ دیرینہ اچانک وہاں کہیں سے آنکل کھڑا ہوا ۔اس کااصل نام تواب یادنہیں مگراپنی رفاقت کے دنوں میں ہم اِسے پیارسے’’ بے شرمی‘‘کے نام سے پکاراکرتے تھے۔ اِس نے مجھے اس طرح دیوانہ وار موت کی طرف جاتے دیکھاتودوڑکرمیرا بازوپکڑلیا۔پھرموقع محل کی مناسبت سے ایک طویل لیکچردینے کے بعدبڑے پیارسے میرامنہ کھلواکر ’’مصلحت کی تین چارگولیاں  بے حسی کے تازہ تازہ پانی کے ساتھ حلق سے میرے اندرانڈیل دیں مگرشرم کے موذی بخارکو کم رفتاری سے اُترتادیکھ کر یہ میرا ہمدمِ دیرینہ ذراپریشاں ساہوگیا۔ اسی عالمِ اضطراب میں وہ پاس ہی واقعہ ’’فراست ‘‘کے کھیتوں میں گھس گیا۔ واپس آیاتو اُس کے ہاتھوں میں عقل وخرد کی نرم ونازک ٹہنیوں کاایک اچھاخاصا جھاڑوتھا۔اس جھاڑوسے اُس نے مجھے کچھ ایسے زوروں کاپھانڈاکیاکہ میراشرم کاسارے کاسارا بخار اُترگیا۔اس کے اُترتے ہی میری آنکھ کھلی تو میں نے پایاکہ میں بحفاظت اپنی نفس پرستی کی دُنیاکے ساحلوں پراُترچکاہوں ،یہاں خودغرضی کے سیاہ بادلوں میں اپنی ذات اورمفادکے سِوا کچھ نظرنہیں آتاتھا۔
 
کوہسارکرائی ادھمپور،رابطہ نمبر۔905555111