تازہ ترین

ملٹی مِلیَنر

افسانہ

19 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

راجہ یوسف
  حسن پور کا خوبصورت گائوں حیات ندی کے دونوں کناروں پر آباد تھا۔ صاف و شفاف پانی کی ندی جو  اوپر  پہاڑی ڈھلوان سے بل کھاتی اور اتراتی ہوئی اُتر آتی تھی،  جیسے کوئی خوبصورت باقرہ کمر لچکاتی اور پائل کی چھن چھن سے مدھر ساز بجاتی ہمارے کانوں میں رس گھولتی آرہی تھی۔  اور ہمارے گائوں کی ایک ایک کیاری کو سیراب کرتی اورہماری پیاس بجھاتی ایک شانِ اداکے ساتھ آگے بڑھ جاتی تھی۔ حسن پور انہی پہاڑی ڈھلانوں اور حیات ندی کا ایک حصہ تھا، جو قدرتی حسن سے مالا مال تھا۔ گائوں تک آنے جانے کا ایک لمبا اور اوبڑ کھابڑ پہاڑی راستہ تھا جو کچھ اور اوپر جاکر ختم ہوجاتا تھا۔ پھر اوپر تاحد نگاہ سر سبز میدان تھے۔دراز پہاڑی سلسلہ تھا اور جنگل ہی جنگل تھے۔ اس خوبصورت گائوں کاایک اکلوتا مالک بھی تھا۔ چودھری حیات خان ۔۔ ۔  یہاں کی ساری چراگاہیں ، یہ مال مویشی، یہ جنگل، یہ پہاڑ اور ہم سب اسکی ملکیت تھے ۔ 
میں حسن پورکے  ایک غریب کسان کا کمزور بیٹا تھا۔  گائوں کا کوئی بھی فرد چودھری حیات خان کے سامنے سر اٹھا کر بات نہیں کرسکتا تھا۔  لیکن لوگ چود ھری سے زیادہ اس کی ماں بڑی چودھرائن سارہ بی بی اور اس کی بیوی چھوٹی چودھرائن حاجرہ بی بی  سے ڈرتے  تھے۔  گائوں میں کسی کی مجال نہیں تھی کہ وہ ان دونوں کے سامنے کھڑا رہ سکتا۔ چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر ان کی سزائیں  بڑی خوفناک ہوتی تھیں  ۔۔۔بات صرف مرنے مارنے تک ہی ہوتی تو مسئلہ کوئی نہیں تھا ۔  یہ جنگلوں میں رہنے والے لوگ تو ہر روز موت سے کھیلتے رہتے تھے لیکن مارنے سے پہلے چودھرائن جو سزائیں دیتی تھیں، وہ بڑی عبرت ناک ہوتی تھیں ۔   چودھری خودبھی ڈرا سہمارہتا تھا۔ وہ  اپنی ماں بڑی چودھرائن سے بہت زیادہ  ڈرتا تھا اور کچھ کچھ اپنی بیوی چھوٹی چودھرائن سے بھی خوف زدہ رہتا تھا۔وہ  تو اُس وقت اپنی بیوی حاجرہ بی بی سے آنکھ اٹھاکر بات نہیں کرتا تھا جب وہ بڑی چودھرائن کے ساتھ بیٹھی ہوتی تھی ۔۔۔ لیکن چودھری کی اپنی ماںا ور بیوی سے ڈرنے کی ایک  وجہ اور بھی تھی ۔۔۔  چودھری حیات خان کا عشق ۔۔۔  وہ گائوں کے ایک غریب آدمی سلام کمہار کی خوبصورت بیٹی نازنین سے پیار کرتا تھا ۔ نازنین پہلے اس کی محبوبہ تھی ، پھر اس کی بیوی بن گئی ۔  جب حیات خان اور نازنین کے پیار کی بو اڑتی اڑاتی بڑی چودھرائن سارہ بی بی کی ناک تک پہنچی،  تب تک اس میں اتنی ملاوٹ ہو چکی تھی کہ یہ خوشبو سے بدبو میں بدل چکی تھی، جس وجہ سے بڑی چودھرائن نے مضبوطی سے اپنی ناک بند کر دی تھی۔ اس کی بہو حاجرہ چودھرائن، ـ ـ ’’جسے بڑی چودھرائن نے اپنی بہن سے مانگ کر لایا تھا۔ ‘‘ اس کے کانوں میں ایسے زہرانڈیلتی رہتی جیسے بدبودار روئی اس کی ناک کے ساتھ رگڑتی رہتی۔ اس نے بڑی چودھرائن سے یہ فیصلہ بھی صادر کروالیا تھاکہ  چودھر حیات خان اپنی دوسری بیوی  نازنین کو اپنے گھر نہیں لا سکتا ۔  البتہ وہ اپنی محبوبہ سے ملنے کے لئے اس کے میکے یعنی سلام کمہار کے گھر جا سکتا تھا اور ہفتہ کی رات اس کے ساتھ گذار سکتا تھا۔  لیکن ساتھ ہی یہ شرط بھی لگا دی گئی تھی کہ نازنین کسی بچے کو جنم نہیں د ے سکتی ۔ اگر وہ کبھی کسی بچے کو جنم دے بھی دے گی۔ وہ بچہ نہ تو چودھری خاندان کا چشم و چراغ بن سکتا اور نہ ہی اسے خاندان کا وارث تصور کیا جاسکتاتھا  ۔ 
      گائوں میں آٹھویں جماعت تک اکلوتا اسکول بھی تھا، جو چودھری کے ہی ایک مکان میںتھا ۔ یہاں بھی گائو ں کے بچے کم اور چودھری کے خاندان کے بچے زیادہ پڑھتے تھے ۔ ویسے بھی گائوں کا کوئی بچہ آٹھویں تک نہیں پڑھ پاتا تھا۔یا اگر کوئی آٹھویں جماعت پاس کر بھی لیتا تھا تو اسے آگے پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔  گائوں کے کسی کسان میں اتنی سکت بھی نہیں تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو مزید پڑھائی کرنے کے لئے شہر بھیجتا  ۔ گائوں سے صرف چودھر حیات خان کے دو بیٹے اوراس کی بیٹی سلمیٰ ہی پڑھنے کے لئے شہر گئے تھے ۔  میں اپنے ماموں کے پاس کسی کام کی غرض سے شہر آیا تھا لیکن شہر آکر جب ماموں نے میری قابلیت دیکھی  تو اس نے مجھے آگے پڑھائی کے لئے شہر کے ایک اچھے اسکول میں داخل کرایا۔کامیابیاں میرے قدم چومتی گئیں اور میرا داخلہ ایم بی اے میں ہوگیا۔ یہاں چاروں طرف میری قابلیت کا ڈنکا بجنے لگا ۔  چودھری کی بیٹی سلمیٰ بھی یہاں کی طالبہ تھی۔ گائوں کی یہ خود سر اور ہمیشہ ناک بھوں چڑھا کر رکھنے والی لڑکی یہاں کسی شمار و قطار میں بھی نہیں تھی۔ ۔۔ جب انسان کو یہ لگتا ہے کہ اُسے کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تو وہ جھنجلاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ اور اس جھنجلاہٹ میں وہ ایسا کچھ کربیٹھتا ہے جو اس کے اصولوں کے منافی ہوتا ہے۔ سلمیٰ بھی جھنجلاہٹ کے ساتھ ساتھ تنہائی کا شکار تھی اور اس تنہائی کو بانٹنے کے لئے و ہ میرے قریب آگئی تھی۔ میرے قریب آنے کا اس کا مقصد یہ بھی تھا کہ میں اس کے گائوں کا تھا اور میں اس کے سامنے اسی طرح جھکا کے رہوں گا جس طرح گائوں والے ان کے سامنے جھکے جھکے رہنے کے عادی تھے ۔ اس کی تنہائی بھی بٹے گی اور اس کی خود سری اور انا بھی بچی رہے گی۔  لیکن مجھ پر اب کسی کی خود سری اثر انداز نہیں ہوتی تھی کیونکہ میری تعلیمی قابلیت نے مجھے سب سے زیادہ خود سر اور انا پسند بنادیا تھا۔۔۔ سلمیٰ کا میرے قریب آنا میری تنہائیوں میں تسکین کا سامان بن سکتا تھا۔ میری خشک راتیں رنگین بن سکتی تھیں۔  میں اسے پھانسنے کے لئے اس پر پیار کا جال پھینکتا گیا اور وہ پھنستی چلی گئی۔ یوں تو سلمیٰ کو پھانستے وقت میرے لاشعور میں کہیں تھورا سا ڈرا ور خوف بھی موجود تھا کہ  اگر کچھ ایسا ویسا ہوگیا تو گائوں میں میرے ماں باپ کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی تھی۔وہ ظالم چودھرائن کے عتاب کے شکاربھی ہو سکتے تھے۔  لیکن سلمیٰ کا شباب میری عقل و خرد پر بھاری پڑ رہا تھا  اور  میرے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی میں ہوس کے بدمست ہاتھی کی نوکیل کس نہ سکا اور ایک شام میں سلمیٰ کو زیر کرنے کے قریب پہنچ بھی گیاتھا کہ اچانک  جیسے اس میں کسی ڈائن چودھراین کی  بد روح گھس آئی تھی۔ اس نے ایک زناٹےدار تھپڑ میرے بائیں گال پر جڑ دیا۔  میں ہکا بکا ہ رہ گیا ا ور جب تک میں سنبھل پاتا تب تک وہ کمر ے سے چلی گئی تھی۔ بات ہم دونوں کے بیچ ہی رہتی تو کو ئی ڈر نہیں تھا۔ لیکن اس کے کمرے سے باہر جاتے جاتے میری رسوائی کی بات ہمارے گائوں تک پھیل چکی تھی۔  میرے ماں باپ کی زندگی خطرے میں پڑگئی تھی۔   چودھری حیات خان سے زیادہ بڑی چودھرائن سارہ بی بی انہیں سزا دینے کے درپے تھی۔ وہ  ان دونوں کو مار ہی ڈالتی کہ چودھری کی محبوبہ نازنین نے مداخلت کی  اوران کی جان بچ گئی۔  لیکن انہیں اپنے گائوں سے جلا وطن ہونا پڑا تھا۔  وہ بڑی کسمپرسی کی حالت میں شہر ماموں کے گھرپہنچے  تھے۔۔۔  اس دوران ایم بی اے کے امتحانات ختم ہوتے ہی ایک بڑی کمپنی میں میری جاب لگ گئی اور میں دوسرے شہر منتقل ہوگیا۔میرا ایم بی اے کا رزلٹ آگیاتو میں امتیازی پوزیشن کے ساتھ پاس ہوگیا ۔ کمپنی نے میرے پاس ہونے کی خوشی میںمجھے کنفرم کردیا ۔ راتوں رات میرا اسٹیٹس  بدل گیا۔ کہاں وہ گائوں کا گھاس پھوس والا گھر، اور شہرمیں ماموںکا وہ سیلن زدہ کمرہ، جہاں دم گٹھتا تھا۔۔۔  اب میرے پاس ساری آسائشوں سے آراستہ  خوبصورت فلیٹ اور آفس جانے آنے کے لئے ایک بڑی سی گاڑی تھی۔ صرف ایک سال کے بعد کمپنی کے مالک میری صلاحیتوں کے قا ئل ہوچکے تھے۔ وہ میرے تیارہ کردہ سارے پراپوزلز آنکھ بند کرکے  پاس کرتے تھے۔  مجھے اپنی قابلیت پر بڑا ناز ہورہا تھا اور اب میرے چھوٹے سے ایم بی اے دل میں بھی ایک بڑی ملٹی ملینیر خواہش جنم لے رہی تھی کہ کاش میں بھی ایک بڑی کمپنی کا مالک بن سکتا اور اپنے مالکان کی طرح میں بھی سوسائیٹی میں کروڑ پتی کہلاتا ۔۔۔  
آج میرے ایک بڑے پراپوزل کی وجہ سے میرے مالکان بہت زیادہ خوش ہوگئے تھے۔ اس خوشی کو بانٹنے کے لئے وہ مجھے شہر کے سب سے بڑے ہوٹل میں لے آئے۔ یہ میرے لئے ایک دم نئی دنیا تھی۔ یہاں وہ سب کچھ تھا جو میں نے چند ایک فلموں میں دیکھا تھا۔ یہاں عالی شان بار (BAR)تھا۔رنگین کیبرے (CABREY)تھا۔اور میرے لئے بہت ہی مہنگا سویٹ بک کیا گیاتھا۔ میں شراب میں دھت تھا اور ایک وہیٹر کی مدد سے کمرے میں پہنچا۔  شراب سے زیادہ میں اپنی کامیابی کے نشے میں چور تھا اور اس نشے سے شاید میں صبح تک بھی باہر نہ آپاتا کہ اچانک درواز کھلا اور ہوا میں بال لہراتی ہلکا ریشمی لباس زیب تن کئے ایک اپسرا  میرے کمرے میں آگئی ۔ اس کے بدن سے اٹھتی خوشبو سے سارا کمرہ معطر ہوگیا تھا ۔ ۔۔  میں اسے دھندلی  دھندلی نظروں سے دیکھنے  لگا  ۔۔۔
 ’’  اوووو ہ  ۔۔۔ یہ کون  ہے۔۔ ۔ اپنے چودھری کی بیٹی  ۔۔۔ سلمیٰ ۔۔۔ میرے کمرے میں ۔۔۔ یا سلمیٰ جیسی کوئی اور اپسرا ۔۔  جانے مجھے ہر لڑکی میں سلمیٰ ہی کیوں نظر آتی تھی۔۔۔ سلمیٰ۔۔ ۔ ہمارے چودھری حیات خان کی بیٹی، جو میرے ذہن و دل پر میری کامیابی کے نشے کی طرح چھائی ہوئی تھی ۔۔۔جو میری ہر اک سانس میں رچ بس چکی تھی۔۔۔ جو میری رگ رگ میں شراب کی طرح دوڑ رہی تھی ۔۔۔ جو ۔۔۔ نہیں نہیں ۔۔۔ ہاں ہاں ۔۔۔ ہاں جو میری بانہوں کی مضبوط گرفت سے مچھلی کی طرح پھسلتی نکل گئی تھی اور میرے چہرے پر وہ زناٹے دار تھپڑ رسید کر گئی تھی جس کی گرم گرم تپش آج بھی میں اپنے چہرے پر محسوس کررہا تھا ۔ آج بھی جب  میںصبح  یا  شام  آئینے میں اپنا چہرہ  دیکھتا ،  تو اس کے ہاتھ کی وہ قلم ایسی انگلیاں میری گال پر ابھرتی ڈوبتی نظر آتی تھیں ۔۔۔ اور بے خودی میں بھی میرا ہاتھ میرا گال سہلاتا رہتا تھا ۔۔۔
میں ہرلمحہ ہر وقت سلمیٰ کو ہی سوچتا رہتا تھا اور اسے کسی بھی قیمت پر حاصل کرنا چاہتا تھا ۔ اگرچہ میں سلمیٰ کے نام پر روز سلمیٰ جیسی کسی نہ کسی لڑکی کو بھنبوڑتا ، نوچتا رہتا تھا، جانے پھر بھی سلمیٰ کے محبت کی پیاس کیوں نہیں بجھتی تھی۔ سلمیٰ میرا پیار۔۔۔ میری محبت ۔۔۔ نہیں ۔ نہیں سلمیٰ میری محبت نہیں ۔ وہ میرا پیار نہیں۔ میری ضد تھی۔ ہاںوہ  ضد بن کر میرے ذہن و دل میں تلاطم برپا کئے  ہوئے تھی ۔  میری انا اور میری خود سری کی ضد۔۔۔
    آخر میں اپنی ضد کے سامنے ہار گیا اور میں نے اپنے ماں باپ کے سامنے اپنی زندگی کا سب سے بڑا پراپوزل (Proposal)رکھ دیا۔۔۔  پر یہ کیا میرے ماں باپ کے ساتھ ساتھ میرا ماموںبھی پریشان ہوگیا۔ تینوں ہکا بکا ہوکر رہ گئے۔۔ وہ حیران و پریشان نگاہوں سے میری طرف دیکھ رہے تھے اور میںان کی حیرانی پر  حیران ہوکر انہیں دیکھ رہا تھا۔  آخر میرے ماموں نے دوٹوک لفظوں میں میرا  لائف پراپوزل مسترد کردیا ۔
 ’’  نہیں ۔۔۔ یہ نہیں ہو سکتا ۔۔۔ کبھی بھی نہیں ۔‘‘  میں غصے سے اپنے ماموں کو دیکھنے لگا اور غصے میں ہی اپنی نگاہیں اپنے ماں باپ کی طرف پھیر لیں ۔ وہ دونوں مجرموں کی طرح نظریں جھکائے ناخنوں سے قالین کھرچ رے تھے۔ میں تھوڑی دیر دونوں کو دیکھتا رہا اور وہ لگاتار مجھ سے نظریں چرا رہے تھے،  تو میں نے بڑے اعتماد کے ساتھ ماما سے کہہ دیا۔
 ’’ ماموں ۔۔۔ اگر تم لوگ چودھری حیات خان سے مرعوب ہو  تو میں آپ کو بتا دوں ۔ اس کی چودھراہٹ اپنے گائوں تک ہی محدود ہے۔  باقی دنیا میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس کے لئے یہ فخر کی بات ہے جو میں اس کی بیٹی کا ہاتھ مانگ رہا ہوں ۔۔۔  ایک بات اور بتا دوں اگر وہ بھی آپ لوگوں کی طرح اسی چودھراہٹ کے زعم میں مبتلارہے۔تو میں اس کی اجازت کے بغیر بھی  یہ شادی کرکے رہوں گا۔۔۔ 
 ’’ نہیں بیٹا نہیں ۔۔۔ ایسا نہیں ہوسکتا ۔۔۔ تم ایسا نہیں کرسکتے‘‘  میری ماں نے روہانسی آواز میں مجھ سے مخاطب ہوکر کہا ۔ 
 ’’ کیوں نہیں ماں ۔۔ ۔ میں ایسا کیوں نہیں کرسکتا۔ ہماری شادی کیوں نہیں ہوسکتی۔۔۔  ماں بولو ۔ ۔۔ بولو ماں بولو۔۔۔‘‘ میں نے ماں کے دونوں کندھے پکڑلیئے اور اسے جھنجوڑ کر رکھ دیا ۔ 
  ’’ کیونکہ تم چودھری حیات خان کا خون ہو۔ سلام کمہار کی بیٹی نازنین اور چودھری حیات خان کے بیٹے ہو ۔   تم بڑی چودھرائن کے حکم کے مطابق ان کے گھر کے وارث نہیں بن سکتے تھے۔ اس لئے بڑی چودھرائن سارہ بی بی نے تجھے میری گود میں ڈال دیا ۔ میں بھی بہت خوش تھی کیونکہ میری کوئی اولاد نہیں تھی۔  میں نے دل و جان سے تمہاری پرورش کی ۔‘‘
    میری ماں میری بلائیں لے رہی تھی،  میرا باپ بھی کچھ کہہ رہا تھا ۔ماموں بھی بہت کچھ سمجھا رہا تھا ۔۔۔  لیکن میرے ذہن و دل پر ہوائیاںاُڑ رہی تھیں۔  میری ایم بی اے والی سوچ کا احاطہ اور وسیع ہوتا جارہا تھا۔ میرے خیالوں میں ملٹی ملینیر کمپنیاں گڈ مڈ ہو رہی تھیں۔ حیات ندی کے دو نوںکناروں پر آباد حسن پور ۔   اوپر تاحد نگاہ سر سبز میدان ۔جنگلات۔ وہاں کی ساری چراگاہیں۔ مال مویشی اور لوگ، سب میری ملکیت ۔۔۔ 
    میری انا کی ٹوپی اور اونچی ہوتی جا رہی تھی اور میری خود سری اب سر چڑھ کے بول سکتی تھی۔ ۔۔  سلمیٰ اب میری تیز دھار چُھری تھی،جو میں اب  چودھری حیات خان اور اس کے خاندان کے گلے پر آرام سے پھیر سکتا تھا۔ ۔۔  اب مجھے کوئی بھی طاقت لکھ پتی ،کروڑ پتی بننے سے نہیں روک سکتی تھی ۔۔۔
میں ملٹی ملینر
���
 اسلا م آباد،فون نمبر9419734234