تازہ ترین

اورنگ زیب عالمگیرؒ

ہندوستان کا عادل حکمراں

17 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

مولانا صدرِعالم قادری مصباحی
حضرت  اورنگ زیب عالمگیرغازی علیہ الرحمة والرضوان ۳نومبر 1618 کواتوار کے دن ملکۂ ارجمندبانو(ممتازمحل بیگم)کے بطن سے قصبہ دَوحَد(صوبہ گجرات)میں پیداہوئے۔آپ کانسب یہ ہے حضرت اورنگ زیب عالمگیربن شہاب الدین شاہجہاںبن نورالدین جہانگیربن اکبر بن نصیرالدین ہمایوں بن ظہیرالدین بابر۔ حضرت اورنگ زیب عالمگیرغازی ؒ نے اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماءکرام سے تعلیم حاصل کی۔عربی ،فارسی اورہندی کے بہترین عالم ہوئے،ترکی زبان سے بھی کامل طورپرواقف تھے۔ حضرت علامہ مولانامُلّااحمدجیون علیہ الرحمة والرضوان
 (مصنف ’’نورالانوار)جوہندوستان کے بہت مشہورومعروف جید عالِم گزرے ہیں ، آپ کانام احمدہے اوروالدکانام ابوسعید،آپ مُلّاجیون کے نام سے مشہورومعروف ہیں،آپ نے اپنی پوری زندگی درس وتدریس اورتصنیف وتالیف میں صرف کی اُصول فقہ میں ’’نورالانوارشرح المنار‘‘ آپ کی زندہ یادگارہے جس سے دنیائے علم کابچہ بچہ بخوبی واقف ہے ، یہ کتاب آپ نے مدینہ منورہ کے قیام کے دوران صرف دوماہ کے اندرلکھی ہے۔حضرت اورنگ زیب عالمگیرغازی ؒنے ان کی شاگردی کابھی شرف حاصل کیاہے۔مغل بادشاہوں میں جس نے سب سے پہلے حافظ قرآن کریم ہونے کی شرف وعزت پائی ،وہ حضرت اورنگ زیب عالمگیرغازی ؒ ہیں۔مذہبی تعلیم سے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ آپ نے فوجی تعلیم میں بھی مہارت تامہ پیداکی۔جنگی داو ٔپیچ میں آپ ایک بہترین سپہ سالار تھے، ہمت وشجاعت اوربہادری کاعالم یہ تھاکہ چودہ برس کی عمرمیں ایک مست ہاتھی سے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔بچپن ہی میں آپ روزہ ،نمازوغیرہ احکام ِشرع کے سخت پابندتھے۔شہزادگی کے زمانے میںشاہجہاں بادشاہ نے آپ کومغل فوج کا سپہ سالاربناکربلخ کی مُہِم سرکرنے بھیجا۔جب آپ لشکرلے کربلخ پہنچے تومقابلہ پرعبدالعزیزخان سپہ سالاراپنابلخی لشکرلے کرآیااورطرفین میں خوب لڑائی ہونے لگی۔ 9جون 1646کوسنیچرکے دن مغل فوج اوربلخی لشکرکے درمیان گھمسان کی لڑائی ہورہی تھی کہ نمازِظہرکاوقت آگیا۔حضرت شاہزادہ اورنگ زیب عین میدانِ جنگ میںاپنے گھوڑے پرسے اُترپڑے اورنمازشروع کردی ۔یہ دیکھ کراَغل بغل کے سپاہی بھی نماز میں شریک ہوگئے۔آپ نے توپوں کی چنگھاڑ اورتلواروں کی جھنکارکی پرواہ وفکرکئے بے غیرنہایت اطمینان وسکون اوروقارسے فرض ،سُنّت اورنفل اداکئے۔آپ کی جرا ٔت و ہمت کایہ نقشہ دیکھ کربلخی فوج کاسپہ سالار عبدالعزیز خاں بہت متاَثِّرہوااَوراپنے جنگی افسروں سے کہنے لگاکہ عالمگیرجیسے شخص سے لڑنااپنے آپ کوتباہ و بربادکرناہے پھروہ صلح کاخواستگارہوااورجنگ مکمل ختم ہوگئی۔شاہجہاں کے چار(4)شاہزادےتھے:(1)دراشکوہ،(2)حضرت اورنگ زیب عالمگیر،(3)محمدشجاع، (4)مُرادبخش۔ اِن میں سب سے زیادہ داناو ہوشیار،سنجیدہ مزاج،پیکرحُسن واخلاق،تحمل وبُردبار،جفاکش،تجربہ کار،شجاعت و بہادر اورپختہ کردارحضرت اورنگ زیب عالمگیرغازی ؒتھے۔ان باتوں کے ساتھ ساتھ آپ دین کے عالِم ،شریعت مطہرہ کے حامی،پاکیزہ چال چلن کے آئینہ دارتھے۔تمام بھائیوں میں سب سے بڑادَارَاتھالیکن پست ہمت،بزدل،مزاج کاچڑچڑا،عمل کانِکمَّا،سمجھ کابوداتھااورپھرمسلمان کہلاتے ہوئے اسلامی شرع کادشمن،ملحدوں کاساتھی اورطرف دارتھا۔برہمنوں اوریوگیوں کی صحبت میں رہ کراُس نے نمازاورروزہ سب چھوڑدیاتھا۔ (ہندوستان کی مذہبی روحانی تاریخ،ص138)اس کواپنے تمام بھائیوں میں سب سے زیادہ چڑ،بغض،دشمنی،حسد اورجَلن حضرت اورنگ زیب عالمگیرغازی ؒ سے تھی۔ چنانچہ شاہجہاں کی علالت کے زمانہ میںجب اس نے سلطنت کی باگ ڈوراپنے ہاتھوں میں لے لی تھی تواُس وقت اُس نے حضرت اَورنگ زیب عالمگیرغازیؒ کونیست و نابود کردینے میںکوئی کسرباقی نہیں رکھی لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل ومہربانی نے حضرت اورنگ زیب عالمگیرغازیؒ کو ہرموڑپرکامیابی وکامرانی عطافرمائی اوردَارَاشکست پرشکست ہی کھاتاگیا۔ 25جون 1658  کوحضرت اورنگ زیب عالمگیرغازی ؒ نے شہنشاہ ہندوستان کی حیثیت سے زمام سلطنت اپنے ہاتھ میں لی ،اورتاجپوشی کی رسم یکم جون 1659کواداکی گئی۔بادشاہ ہوتے ہی آپ نے شراب نوشی ممنوع قراردی،بھنگ اورگانجے کی کاشت روک دی۔قماربازی وجُوابندکردیا۔ناچنے اورگانے بجانے کی سخت ممانعت کردی۔طوائفوں کوحکم دیاکہ وہ مردسے نکاح کرلیں یاملک چھوڑدیں،پھران احکام کی تعمیل کے لئے آپ نے محکمہ ٔاحتساب قائم کیاجس کے افسروں کاکام یہ تھاکہ جوشخص ان احکام کی خلاف ورزی کرے اس کوسخت سے سخت سزادیں۔
آپ نے اپنے سرپرشہنشاہی تاج اس لئے نہیں پہناتھاکہ خودعیش وآرام کی زندگی گزاریں،سُکھ کی نیندسوئیں،اپنے ٹھاٹ باٹ کے لئے رعایاپرطرح طرح کے ٹیکس لگائیں بلکہ بادشاہت آپ نے اس لئے قبول کی تھی تاکہ رعایااَمن وسکون کی زندگی بسرکرے۔ ناجائز ٹیکسوں کابوجھ عوام کے کندھوں سے اُتاردیاجائے۔ملک میں عدل وانصاف کاجھنڈالہرائے۔طاقت والے کمزورںپرظلم نہ کرپائے۔مسلمان اسلامی قانون پرعمل کریں۔ چنانچہ آپ نے ساری توجہ رعیت کی خوشحالی وترقی پرلگادی۔رعایاکے ذمہ سے تقریباً اَسِّی فیصد ٹیکس معاف کردئیے گئے۔راستے اورسڑکوں کی حفاظت کاعمدہ انتظام کرکے تجارت کوخوب فروغ دیا۔آپ نے عدل وانصاف کاایساشامیانہ تاناجس کے نیچے پھیڑیابھی ایک دُبلی کمزوربکری پرحملہ کرنے کی ہمت وجرأت نہ کرسکتاتھا۔آپ نے ملک میں تعلیم کوخوب ترقی دی۔دینی مدرسوں پرزمینیںوقف کیں۔اساتذہ کرام کے لئے شاہی خزانے سے مشاہرے اورطلبۂ عظام کے لئے وظائف بھی مقررکئے۔ فریادیوں، دُکھیوں،غریبوں،مسکینوں،یتیموں،بیواؤں اورمظلوموں کے لئے آپ کاوجودرحمتِ اِلٰہی کادریاتھا،لیکن ظالموں ،شریروںاورسرکشوں کے حق میںآپ شمشیربرہنہ تھے۔آپ ہندوستان کے ایک عظیم شہنشاہ تھے۔شاہی خزانوں کادریاآپ کے قدم کے نیچے سے بہہ رہاتھااوراس دَریاسے ساراہندوستان مکمل طورسے سیراب ہورہاتھالیکن دنیایہ سن کرحیرت کرے گی کہ آپ نے اپنی ذات کے لئے شاہی خزانہ سے ایک پیسہ نہیں لیا۔آپ نے ایک بے نوافقیرکی طرح بڑی سادہ زندگی بسرکی۔ٹوپیوں کے پلّے میںبیل بوٹے کاڑھ کراس کوفروخت کرتے ،نیزاپنے ہاتھ سے قرآن مجیدلکھ کراُس کوہدیہ کرتے اوران دونوں کی آمدنی سے اپناذاتی خرچ پوراکرتے تھے۔آپ نے وقت ِوصال وصیت کردی تھی کہ چارروپے دوآنے جومیں نے ٹوپیاں بناکرکمائے ہیں،وہ میرے کفن پرخرچ ہوں اورتین سوپانچ (305)روپے جومیں نے قرآن شریف کی کتابت سے حاصل کئے ہیں ،وہ غریبوںاورمسکینوں میں خیرات کردئے جائیں۔آپ کے اسی ایک کردارسے واضح طورپرثابت ہوگیاکہ آپ نے ہندوستان کی شہنشاہی کامنصب عیش وآرام اُٹھانے یااپنی عظمت وشان بڑھانے کے لئے قبول نہیں کیاتھا۔ہاں یہ اوربات ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جوعظمت و جلال آپ کوعطافرمایاتھا وہ مغل بادشاہوں میں تیمورلنگ سے لے کربہادرشاہ ظفرتک کسی کوبھی حاصل نہیں۔آپ کے عہدِ حکومت میںبے شمارمسجدیں تعمیرہوئیںاوراسلامی قوانین کوپھولنے اورپھلنے کاموقع خوب ملا۔عدالتوں میں مفتی اورقاضی مقررتھے۔جنہیں شریعت اسلامیہ کے مطابق فیصلہ کرناپڑتاتھا۔آپ نے قاضیوں کی آسانی کے لئے قانون شرع کی ایک بہت ہی ضخیم کتاب تیارکرائی جس کانام ’’فتاویٰ عالمگیری ‘‘ہے۔آپ نے اس کتاب کی تیاری کے لئے پانچ سو(500)قابل ومستندعلماءکرام کی ایک جماعت قائم کی اورشاہی خزانے سے اُن کاوظیفہ مقررکیا۔آٹھ سال کی محنت شاقہ و جہدمسلسل کے بعدیہ کتاب مرتب ہوئی اوراس کی تیاری میں دولاکھ ر وپےخرچ ہوئے۔اس کارنامہ کی بدولت آپ کی عظمت ورفعت کاجھنڈابھی ہندوستان سے مُلک مصرتک لہرارہاہے۔آپ کے دورِحکومت میں مسلمانوں کے ساتھ غیرمسلم رعایابھی سُکھ اورچین کی زندگی گزارتی رہی۔ملازمت کادروازہ آپ نے سب کے لئے یکساں طورپرکھول رکھاتھا۔آپ کی حمایت ووفاداری میں جس طرح ایران اورتوران کے مسلمان اپنی شمشیروں کے جوہردکھاتے تھے یونہی آپ کے جھنڈے تلے ہندوستان کے ہزاروں راجپوت سپاہی اورافسران بھی آپ کے دشمنوں پرتلواریں چلاتے رہے۔آپ کی سلطنت کارقبہ بہت وسیع تھا،ہندوستان،افغانستان اورتِبت ان تینوں ملکوں کے آپ واحدشہنشاہ تھے۔آپ نے پچاس (50)سال ایک ماہ پندرہ(15)یوم حکومت کی اور 11فروری 1707کوجمعہ مبارکہ کے دن اَحمدنگر(صوبہ دکن)میں انتقال فرمایااورقصبہ ٔخلدآبادمیں جوشہراورنگ آباد(مہاراشٹر)سے بارہ میل کے فاصلے پرہے دفن ہوئے۔
Email: misbahisadrealam@gmail.com
Mobile: 09108254080