تازہ ترین

اسلام میں اخلاقِ حسنہ

فلاحِ انسانیت کا نقشِ راہ

17 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

منظور احمد گورکھو المدنی۔۔۔ سری نگر
 اللہ تعالی نے قیامت تک آنے والے لوگوںکے لئے زندگی گزارنے کا جوآخری طریقہ مقرر فرمایا وہ اسلام ہے ۔اسلام کے بغیر کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرنا اللہ تعالی کے ہاں قابل قبول نہیں۔رب کائنات نے خود اس کی صراحت کی ہے:’’جو شخص اسلام کے سوا اور دین(طریقہ)تلاش کرے اسکا دین (طریقہ)قبول نہ کیا جائے گا‘‘(ا ٓ ل عمران آیت  :85)۔اسلام ایک ایسا ضابطہ حیات ہے جس میں انسان کی ہر طرح سے رہنمائی کی گئی ہے۔زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کی رہنمائی نہ کی گئی ہو ۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اوراس مکمل ضابطہ حیات میں ہر ایک چیزکا مکمل ہونا لازمی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’آج میں نے تمہارے لئے دین (اسلام )کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھر پور کردیا‘‘(المائدہ  آیت  :3)۔
اسلام جہاں زندگی کے ہر شعبہ میں انسان کو صحیح معنوں میں زندگی گزارنے کا سلیقہ فراہم کرتا ہے وہی ہر اس شعبہ میں اخلاق حسنہ کو لازم قرار دیکر اپنی عملی زندگی میں اس کو نافذ کرنے کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔اس امت کے داعی اول رسول اکرم  ﷺ کی بعثت کا ایک بنیادی مقصد اخلاق حسنہ کا اتمام بھی تھا۔جس کی وضاحت اللہ کے رسول ﷺ نے یوں فر مائی:’بیشک میںاچھے اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں‘‘(المؤطاکتاب حسن الخلق باب ما جاء فی حسن الخلق :حدیث 1609)ثابت ہوا کہ اسلام کے ماننے والے اخلاق حسنہ کے بھی مالک ہو ں۔اخلاق حسنہ کا مطلب لوگوں کے ساتھ خندہ پیشانی ،نرم گوئی ،سچائی ،بردباری اور کریمانہ انداز میں گفتگو کرکے جھوٹ ،تندخوئی ، بیہودگی اوربرے انداز سے گفتگو کرنے سے پرہیز کرناہے ۔اسلام کے جو بنیادی ارکان ہیں ان میں اخلاق حسنہ کی تعلیم بھی دی گئی ہے۔ اگر توجہ کی جائے تو اخلاق حسنہ اور ارکان اسلام کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔سب سے پہلے اسلام کے بنیادی ارکان کو دیکھیں وہ کیا اور کتنے ہیں۔اللہ کے رسول  ﷺ نے فرمایا: ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے۔اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیںاور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں،نماز قائم کرنا ،زکاۃ اداء کرنا ،حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا‘‘(صحیح بخاری کتاب الایمان حدیث :8)
اب رکن اول شھادتین کا پہلا حصہ توحید(شھادۃ ان لاالہ الااللہ) کو دیکھیں جس کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مسلمان اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کولوگوں تک پہنچانے کے لئے اللہ تعالی نے بے شمار انبیا کرام مبعوث فرمائے اور اللہ تعالی نے اس کے متعلق لوگوں سے عہد بھی لیا۔مگر اس توحید کے ساتھ اخلاق حسنہ کو بھی لازم قرار دیا اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے وعدہ لیا کہ تم اللہ تعالی کے سوا دوسروں کی عبادت نہ کرنا اور ماںباپ کے ساتھ اچھاسلوک کرنا،اسی طر ح قرابتداروں،یتیموںاور مسکینوںکے ساتھ اور لوگوں کو اچھی باتیں کہنا‘‘(البقرہ  آیت :83)
علامہ ابن کثیرؒ مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرماتے ہے’’ کہ سب سے پہلا حق انسان پر اللہ تعالی کا ہے اور وہ یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے اور اسکے بعد حقوق العباد ہے‘‘۔انہی حقوق العباد میںلوگوںکے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا بھی شامل ہے جس کی ایک صورت اخلاق حسنہ ہے ۔تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کی عبادت کے ساتھ اچھے اخلاق کا ہونا بھی ضروری ہے۔
اب رُکن اول شہادتین کے دوسرے حصے کودیکھیںجس کا معنی ہے اس بات کی گواہی دینا کہ حضرت محمد  ﷺاللہ تعالی کے آخری رسول اور ہادی،رہبر کامل اوراللہ تعالی کے دین کی طرف بلانے والے آخری پیغمبر ہیں۔جن کا طریقہ مبارک لوگوں کے لئے بہترین نمونہ قرار دیاگیا{لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃٌ حسنۃٌ} ’’یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ ﷺمیں عمدہ نمونہ (موجود) ہے‘‘(الاحزاب آیت :21)یعنی اے لوگو! زندگی گزارنے کے لئے تمہاری باپت رسول اللہ ﷺ کی ذات کے اندر بہترین نمونہ ہے زندگی کے ہر شعبہ میں تم اللہ کے رسول ﷺ کی پیروی اختیار کرو ۔اور یہ پیروی عبادات، معاملات اوراخلاقیات وغیرہ سب میں لازمی ہے۔جہاں تک اخلاقیات کا تعلق ہے تو قرآن نے آپ  ﷺ کے اخلاقیات کی صراحت یوں فرمادی:’’اور بیشک آپ ﷺتو بہت بڑے اخلاق پر ہے‘‘(القلم  آیت :4) یعنی آپ میں تہذیب وشائستگی،نرمی اور شفقت،امانت و صداقت،حلم وکرم اور دیگر اخلاقی خوبیاں ہیں۔لھٰذاآپ کی پیروی کرنے والے پر ان چیزوں کو اختیار کرنا لازمی ہے۔تو ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت،پیروی کے ساتھ اچھے اخلاق کا ہونا بھی ضروری ہے۔
 اب اسلام کا دوسرا رکن (اقام الصلاۃ)’’نماز قائم کرنا‘‘کی طرف غور کریں۔شھادتین کے بعد نماز دین اسلام کا پہلا اہم ترین رکن ہے۔ایک بالغ،عاقل مسلمان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی گئی ہیں۔جو انکی حفاظت اور سنت نبوی ﷺکے مطابق ان آداب و شرائط کے ساتھ ان کو پڑھتا ہے جو اس کی صحت و قبولیت کے لئے ضروری ہیں تو اللہ تعالی کے ہاں اسکے لئے اجر عظیم کا وعدہ ہے۔بلکہ پانچ وقت کی نمازیں درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔لیکن قرآن نے نماز کے ساتھ اخلاق حسنہ کی تعلیم یوں فرمائی ہے‘ (العنکبوت  آیت  :45)اللہ تعالی نے نماز کے اندر ایسی روحانی تاثیر رکھی ہے کہ یہ انسان کو بے حیائی اور برائی (جس کی ایک صورت اخلاق رزیلہ ہے)سے روکتی ہے ۔معلوم ہوا کہ نماز انسان کو اخلاق رزیلہ سے پاک اور اخلاق حسنہ سے متصف کردیتی ہے۔اب جو شخص نماز پڑھکربھی فاحشات اور منکرات (اخلاق رزیلہ)سے پرہیز نہیں کرتا تو اس کو نماز کی وہ روحانی تاثیر حاصل نہیں ہوتی جو اس نمازکے اندر اخلاق حسنہ کی صورت میں موجود ہے۔
اب اسلام کا رکن ثالث (زکواۃ)دیکھیں۔زکواۃ دینے سے اللہ تعالی زکواۃ دینے والے کا مال اور جسم دونوں پاک کرتا ہے۔زکواۃ صاحب نصاب پر سال میں ایک مرتبہ فرض ہے اور جو شخص اللہ تعالی کا حکم جان کر، رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقہ پر زکواۃکو اس کے پورے آداب و شرائط سے ادا کرتا ہے تو اللہ تعالی کے ہاں اس کے لئے اجر عظیم کی بشارت ہے۔ اسلام نے اس اہم رکن کے ساتھ بھی اخلاق حسنہ کی تعلیم دی ہے ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’آپ ان کے اموال میں سے صدقہ(زکوٰۃ)لیجئے جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک وصاف کردیں‘‘(التوبۃ آیت:103) آیت مذکورہ سے یہ واضح ہوا کہ  زکواۃ کا اصل مقصد تزکیہ ہے اور تزکیہ کہتے ہی ہے: اخلاق حسنہ کی تربیت کرنا ۔اسی طرح اللہ کے رسول ﷺ کے اس فرمان:’’اپنے بھائی کے ساتھ خندہ پیشانی (اچھے اخلاق)سے ملنا بھی صدقہ ہے ‘‘(سنن ترمذی کتاب البر والصلۃ باب صنائع المعروف :1956)سے بھی واضح ہو جاتا ہے کہ صدقہ اور اخلاق حسنہ کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔
اب اسلام کے چوتھے رکن (حج)پر غور کریں۔حج مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے۔حج اللہ تعالی کا حکم جان کر رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقہ پر اس کے پورے ارکان و واجبات کے ساتھ ادا کرنے والے کے لئے جنت کی بشارت دی گئی ہے۔حج کہتے ہیں ’مخصوص اوقات میں مخصوص اعمال کو انجام دینے کے لئے مکہ مکرمہ کی طرف سفر کرنا ‘ایک مسلمان کا اپنے اہل وعیال کو چھوڑ کر اللہ کی رضا کیلئے مکہ مکرمہ کا سفر کرنا توکل علی اللہ کا ثبوت اوروہاں پہنچ کرمختلف رنگ ونسل ہونے کے باوجودایک ہی لباس میں مخصوص کلمات کا ورد کرنا مساوات کی دلیل ہے ۔اور احرام (حج اور عمرہ کا مخصوص لباس)پہن کر اسکی پابندیوں کا احترام کرنا اخلاق حسنہ کی واضح اور کھلی دلیل ہے۔جیسے کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’حج کے مہینے مقرر ہیں اس لئے جو شخص ان میں حج لازم کر لے وہ اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے، گناہ کرنے اور لڑائی جھگڑے کرنے سے بچتا رہے‘‘(البقرۃ  آیت :197)۔تو معلوم ہوا کہ حج جوکہ اسلام کا اہم رکن ہے میں بھی اخلاق حسنہ کی تعلیم موجود ہے۔
اب اسلام کا آخری رکن (روزہ)دیکھیں۔فرض روزہ سال میں ایک مرتبہ رمضان میں رکھا جاتا ہے۔ روزہ کے اخروی فوائد کے ساتھ ساتھ بے شمار دنیاوی فوائد بھی ہیں۔روزہ اس امت پر اللہ تعالی کی طرف سے سابقہ امم کی طرح فرض کیا گیا ہے اللہ تعالی کا ارشادہے:’’اے ایمان والو !تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے‘‘(البقرۃ  آیت:183)روزہ کا شرعی معنی ہے ’صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور بیوی سے ہم بستری کرنے سے اللہ کی رضا کے لئے رکے رہنا‘۔یہ عبادت نفس کی طہارت اور تزکیہ کے لئے بہت اہم ہے اور اس کا سب سے بڑا مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔اور تقویٰ انسان کے اخلاق و کردار کے سنوارنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔لھٰذا روزہ میں بھی اخلاق حسنہ کی تعلیم موجود ہے جس کی مزیدتائید اللہ کے رسول ﷺ  کے اس فرمان سے ہوتی ہے:’’جب تم میں سے کسی کے روزہ کا دن ہو تو وہ بیہودگی اور جہالت سے باز رہے اور اگرکوئی اس کے ساتھ جہالت کی بات کرے تو کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں (سنن ابن ماجہ کتاب الصیام  :حدیث 1691 :)
تو ثابت ہوا کہ روزہ میں بھی اخلاق حسنہ کی تعلیم موجود ہے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اسلام کے جملہ ارکا ن میں بالواسطہ یا بلا واسطہ اخلاق حسنہ کی تعلیم دی گئی ہے ۔اللہ تعالی جملہ مسلمانوں کو اخلاق حسنہ کی دولت سے سرفراز فرمائے۔(آمین )
