تازہ ترین

گھریلو باغبانی

آرائش

16 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ثروت زیدی
اگر  کہا جائے کہ ’’وجودِ گل سے ہے تصویر کائنات میں رنگ‘‘ تو مجھے یقین ہے کہ اکثر لوگ مجھ سے اتفاق کریں گے۔ ذرا سوچیے تو، اگر ہماری دنیا میں یہ پھول بوٹے اور ہریالی نہ ہوتی تو ہماری زندگی کتنی بے رونق اور بدنما ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر انسان کی جمالیاتی حس کو ناپنے کا پیمانہ ہی بعض اوقات چمن آرائی کو سمجھا جاتا ہے۔ پھول ہماری معاشرت کا حصہ ہیں، کہیں کہیں تو انہیں باقاعدہ صنعت کا درجہ دے دیا گیا ہے، اور کہیں یہ صرف تعلیم دینے کے طور پر استعمال ہورہے ہیں۔ آج کل تو پھولوں کی سجاوٹ اور باغبانی کا علم دینے کے باقاعدہ ادارے وجود میں آچکے ہیں۔ آج کی بھاگ دوڑ کی طرزِ معاشرت اور زمین کی قلت نے باقاعدہ طور پر کسی قطعہ زمین پر باغبانی کے شوق کو کسی حد تک ختم کردیا ہے…لیکن پریشان نہ ہوں، اگر آپ بھی باغبانی کا شوق رکھتے ہیں لیکن زمین کی قلت یا فاضل زمین نہ ہونے سے پریشان ہیں تو فکر کرنا چھوڑ دیں۔ ہم آپ کو ذیل میں مکان، بنگلے یا فلیٹ میں باغیچہ بنانے کے لیے چند ضروری معلومات فراہم کررہے ہیں جن پر عمل کرکے آپ یقینا اپنا شوق پورا کرسکیں گے۔
اگر آپ کے گھر میں باغیچہ ہے یا زمین کا کوئی چھوٹا سا ٹکڑا ہے تو پھر آپ باآسانی اس میں پھلواری پیدا کرسکتے ہیں۔ اس کام کے لیے سب سے ضروری چیز موزوں زمین کا ٹکڑا ہے۔ ایسی زمین، جس میں اگر ملبہ وغیرہ پڑا رہا ہے یا پھر اسے وہیں دبا دیا گیا ہے تو ملبے میں شامل تلف نہ ہونے والی چیزیں کافی تکلیف دہ ہوتی ہیں اور یہ باغیچہ کے پروان چڑھنے میں بھی رکاوٹ ڈالتی ہیں۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ پھلواری لگانے کی تو بہت کوشش کی لیکن زمین ہی خراب ہے یا پانی کھارا ہے وغیرہ وغیرہ۔
آپ اگر باغیچہ بنانے کے خواہش مند ہیں تو سب سے پہلے زمین کی قسم معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ آیا زمین ریتیلی ہے، پتھریلی ہے یا کلر زدہ ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک گلاس میں تھوڑی سی مٹی ڈال کر اسے پانی میں خوب حل کریں۔ پھر گدلا پانی پھینک دیں، جو ریت گلاس میں نیچے بیٹھی ہوئی ملے گی اْس سے اندازہ کرلیں کہ ریت میں مٹی کی کتنی آمیزش ہے۔ اچھی مٹی میں ریت اور مٹی کی مقدار برابر برابر ہوتی ہے، جس کی وجہ سے پودوں کو جڑوں تک ہوا اور نمی یکساں مقدار میں ملتی رہتی ہے۔
پھلواری لگانے سے پہلے مجوزہ باغیچے کی مٹی تیار کریں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ مٹی میں ریت اور گوبر کی کھاد کو مکس کرکے دو دن تک پڑا رہنے دیں۔ اس کے بعد کیاریوں میں یا گملوں میں یہ ملی جلی مٹی منتقل کرلیں۔ آپ موسمی پھول لگانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے زیادہ موٹی تہہ لگانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ موسمی پھول اپنی جڑیں زیادہ سے زیادہ 4 انچ تک ہی پھیلا سکتے ہیں، لیکن اگر آپ سدا بہار یا کسی اور قسم کے پودے اگانا چاہتے ہیں تو پھر مٹی کی تہہ زیادہ موٹی رکھنی پڑے گی۔ اگر آپ ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں کی مٹی چکنی ہے تو پھر مٹی میں بھل ملانا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ چکنی مٹی میں جڑیں نشوونما نہیں پا سکتیں۔ اچھی زمین بنانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کم از کم ایک فٹ تک اس علاقے کو جہاں پھلواری لگانے کا سوچ رہے ہوں، اُلٹ پلٹ کرتے رہیں تاکہ سورج کی الٹراوائلٹ شعاعوں اور تازہ ہوا سے مٹی میں تبدیلی آسکے۔
آپ نے اگر مجوزہ طریقے سے زمین تیار کرلی ہے تو آپ نہ صرف اس زمین پر باغیچہ بنا سکتے ہیں، بلکہ اگر باغیچہ بنانے کے لحاظ سے زمین کم ہے تو پھر اس مٹی کو گملوں میں بھر کر اس میں بھی پھول کھلا سکتے ہیں۔
اچھی پھلواری اُگانے کے لیے دوسری چیز کھاد ہے جو آپ باآسانی گھر پر بھی تیار کرسکتے ہیں۔ اگر جگہ کم ہے تو لان کے کونے میں ایک گڑھا کھود کر پتّوں اور سبزیوں کے چھلکوں کو جمع کرتے جائیں۔ گڑھا کم از کم پانچ فٹ گہرا ضرور ہونا چاہیے۔ خزاں کے موسم میں تو اس گڑھے کو بھرنے میں صرف دو روز ہی لگیں گے۔ گڑھا جب پتّوں سے بھر جائے تو اس پر مٹی کی کم از کم چھ انچ موٹی تہہ لگا دیں اور اوپر سے پانی ڈالیں تاکہ مٹی کی نمی قائم رہ سکے۔ زیادہ پانی نہ ڈالیں کیونکہ اس طرح سے کھاد خراب ہوجائے گی۔ تین سے چار مہینے میں یہ کھاد تیار ہوجائے گی۔ یہ جانچنے کے لیے کہ آیا کھاد تیار ہے کہ نہیں، درست طریقہ یہ ہے کہ آپ کھاد والے گڑھے کو کھود کر دیکھیں کہ ان چیزوں کی جن کے ذریعے کھاد بنائی جارہی ہے، رنگت تبدیل ہوئی ہے یا نہیں۔ ان کی بدبو ختم ہوئی ہے یا ابھی باقی ہے۔ یہ بھربھری ہوئی ہے یا نہیں۔ اگریہ تینوں علامات ان میں نظر آجائیں یعنی کہ ان چیزوں کی اصل مہک ختم ہوجائے، اصل رنگت تبدیل ہوجائے اور وہ بھربھری ہوجائے تو پھر سمجھیں کہ کھاد تیار ہے، ورنہ کچھ دن اور انتظار کریں۔ یہ کھاد پھلواری کے لیے بہت موزوں ہے کیونکہ اس میں اتنی تیزی نہیں ہوتی، اور یہ موسمی پھولوں کے لیے بہترین ہے۔ اگر یہ کھاد میسر نہ آسکے تو پھر گوبر کی کھاد استعمال کریں، لیکن بہت تھوڑی مقدار میں… ورنہ کھاد زیادہ استعمال کرنے سے ننھے منے بیج اور نوزائید پودے ختم ہوجائیں گے۔
زمین کی تیاری، کھاد اور مٹی کی تیاری کے بعد موسمی پھلواری کے لیے ایک اہم عمل یہ بھی ہے کہ جب تک بیج میں سے نوزائیدہ پودے نکل نہ آئیں آپ انہیں تیز دھوپ اور سردی سے بچائیں۔ بیج پر ہلکی سی تہہ ہی کھاد ملی مٹی کی ہو۔ زیادہ گہرائی میں بیج ڈالنے سے بھی بیج خراب ہوجاتا ہے۔ زیادہ اونچائی سے پانی نہ دیں کہ مبادا بیج گہرائی میں چلے جانے کی کوشش کریں۔ فوارے سے پانی دیں تاکہ یکساں پھوار سے پانی پڑے۔
تو یہ تھیں وہ تراکیب جن کی مدد سے آپ بہترین نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔ اگر احتیاط کی جائے اور ان عوامل کو نظر میں رکھا جائے تو مجھے امید ہے کہ بہار کے موسم میں آپ کی کیاریاں اور گملے صحیح بہار کا نمونہ پیش کریں گے۔
