تازہ ترین

حیاء حیات ہے!

حسن وجمال کا یہی لب لباب ہے

16 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(   دکتور عبداللطیف الکندی ۔۔۔سرینگر    )

اسماء بنت
قرآن   پاک میں اللہ فرماتے ہیں:’بے شک اللہ حکم دیتا ہے عدل کا ، احسان کا، اور رشتہ داروں کو دینے کا اور وہ روکتا ہے بے حیائی سے ، برائی سے اور زیادتی سے وہ تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو، سبق سیکھو۔‘‘اس آیت میں کچھ چیزوں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے او رکچھ چیزوں سے روکا گیاہے ۔ ممانعت جن چیزوں کی گئی ،ان میں ایک چیز بے حیائی ہے جس کے لئے یہاں لفظ فحشاء استعمال ہوا ہے۔ فحشاء سے مراد بے حیائی اور بے شرمی کی باتیں ہیں اور ایسے اعمال جو حیاء کے منافی ہوں۔ جو شخص شرم و حیاء سے کام لیتا ہے وہ اپنے ایمان کو مکمل کرتا ہے اور بے حیائی ایمان کی دشمن ہے۔ حیاء ہی وہ چیز ہے جس سے انسان اور حیوان میںفرق ہوتا ہے۔ انسان جانوروں سے مختلف ہے۔ انسان کو اللہ نے عقل او رشعور عطاء کیا ہے۔ اس عقل و شعور کا تقاضا یہ ہے کہ انسان حیاء سے کام لے۔ نبیﷺ نے فرمایا: ’’شرم وحیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں لے جانے والی ہے اور بے حیائی ظلم و زیادتی کی چیز ہے اور ظلم و زیادتی جہنم میں لے جانے والی ہے‘‘۔ ایک اور حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا: الحیاء خیر کلہ’’حیاء بھلائی ہی بھلائی ہے‘‘ یعنی حیاء انسان کو نیکیوں کی طرف متوجہ کرتی ہے، حیاء انسان کے لئے نیکیوں کے دروازے کھولتی ہے اور بے حیائی انسان کو برائی کی طرف لے جاتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ ہر دین کی ایک صفت ہوتی ہے (جو اُس میں غالب ہوتی ہے) اور دین اسلام کی صفت حیاء ہے‘‘ جو عمدہ ہے۔ امام ابن القیم الجوزی ؒ نے بڑی خوبصورت بات لکھی ہے:’’الحیاۃ‘‘ زندگی کو کہتے ہیں اور ’’الحیاء‘‘ شرم و حیاء کو کہتے ہیں، دونوں کا مادہ ایک ہی ہے، لہٰذا ((الحیائُ ھو مادۃُ الحیاۃ)) زندگی اُسی شخص کی زندگی ہے جس کے اندر صفت حیاء پائی جاتی ہے۔ 
زبان کی حفاظت کرنا بہت بڑا حیاء ہے اور حیاء تو بہت بڑی خوبصورتی کا نام ہے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ زندگی کے کسی بھی پہلو میں عریانی کے الفاظ ، فحش کلام، فحش گفتگو آجائے وہ پہلو بدنما بن جاتا ہے اور جس چیز میں حیاء پیدا ہوجائے۔ ((الإیمان عریانٌ))۔ ایمان ننگا ہے ((ولباسہ التقویٰ)) اور اس کا لباس تقویٰ ہے ((وزینتہ الحیاء)) اور حیاء ایمان کی زینت ہے۔ 
عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں : (ولباسہ الحیاء) اس کالباس حیاء ہے۔ جس کے پاس حیاء ہے وہ خوبصورت سا لباس پہنے ہوئے ہیں اور جس کے پاس حیاء نہیں ہے وہ لباس پہننے کے باوجود بھی ننگا ہے اور ایمان کی جو اصل رأس ہے وہ ہے (العفو) کسی کو معاف کردینا۔ (إسمع یسمع لک)’’تم معاف کرو، تمہیں معاف کردیا جائے گا یعنی تم دنیا میں کسی کو معاف کرو تو قیامت کے دن اللہ تمہیں معاف کردے گا۔ حیاء جہاں ایمان کا حصہ اورخوبصورتی( بمعنی نیک سیرتی ) کا نام ہے، وہاں یہ خوبصورت لباس ہے۔ من کساہ الحیائُ ثوبہ لم یراہ الناس عیبہ
جس کے اوپر اللہ تعالیٰ حیاء کی چادر ڈال دیتے ہیں وہ جب تک زندہ رہتا ہے ،اللہ سبحانہ وتعالیٰ اُس بندے عیبوں کو دنیا کے سامنے ظاہر ہونے نہیں دیتا ۔
 اتنا بڑا انعام انسان میں کمی کوتاہیاں ہوتی ہے کوئی کمی کوتاہیوں سے مبّرا نہیں ہے جیسا کہ حدیئث میں آتا ہے: ’’آدمیت تو پوری کی پوری خطاکار ہیں لیکن بہترین وہ ہیں جو توبہ کرلیتے ہیں‘‘۔ کمی کوتاہی تو ہوتی ہے لیکن جو چیز اس کمی کو تاہی کو چھپاتی ہے وہ ہے اللہ کے حیاء کی چادر۔ اپنی نظرحیاء کا پہلو ہمیشہ اُجاگر رکھو۔ نظر کا حیاء بہت بڑا زیور ہے۔ جس کی نظر یں نیچی ہوتی ہیں پوری دنیا کے شیطان مل کر بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ نظر یں جھکانے سے جو طاقت حاصل ہوتی ہے وہ طاقت انسان کو بلند یوں پر لے جاتی ہے۔ حیاء تو ایک ایسی چیز ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے اِسے ایمان کی ایک شاخ قرار دے دیا۔ صحیح بخاری کی حدیث ہے آ پﷺ نے فرمایا: ’’لوگو! اللہ نے ایمان کی ستر70 کے قریب شاخیں بنائی ہیں سب سے اونچی شاخ لاإلہ إلا اللہ ہے ۔ سب سے چھوٹی شاخ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹادینا ہے اور حیاء بھی ایمان کی ایک شاخ ہے‘‘ ۔اس میں سب زیادہ اُونچی شاخ ہے لا إلہ إلا اللہ، یہ حق اللہ ہے اور ادنیٰ شاخ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا نا حقوق العباد ہے اور درمیانی شاخ حیاء ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’ حیاء اور ایمان اِکٹھے ہی ہوتے ہیں‘۔ ان میں سے ایک اگر چلاجائے تو دوسرا بھی رخصت ہوجاتا ہے، مطلب حیاء ہے تو ایمان بھی ہے اور اگر حیاء نہیں تو ایمان بھی باقی نہیں رہتا ہے۔ اگر اللہ سے حیاء کرنا آجائے تو توحید خالص ہوجاتی ہے ، ایمان بڑھ جاتا ہے۔ اگر اللہ کے بندوں سے حیاء کرنا آجائے تو پھر معاشرے میں محبت اور سکون آجاتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اے(مومن ) عورتو! اپنے گھروں میں بیٹھی رہو کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو لوگوں کو برائی کی طرف دعوت دیتی ہے ۔‘‘ لیکن اسلام نے جو پردے کی ضرورت رکھی ہے اس میں فائدہ دونوں کے لئے ہے۔ اللہ نے پردے کا حکم جب نازل کیا وہ پہلے مردوں پر پھر عورتوں پر کیا ہے تاکہ سب پاک باز رہیں یعنی قرآن پاک میں اللہ نے پہلے مردوں کو نگاہ نیچی کرنے کا حکم دیا پھر عورتوں کو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی کریں۔ اسلام کا یہ قانون ہے تاکہ انسان کے اندر شرم و حیاء پیدا ہوجائے اور بے حیائی کا مظاہرہ نہ کرے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ہم نے تم پر لباس اُتارا جو تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو چھپاتا ہے‘‘ یعنی لباس کا مقصد جسم کے قابل شرم حصوں کو چھپانا ہے اور اگر انسان لباس پہننے کے باوجود ننگا رہتا ہے تو پھر حیاء کے تقاضے کیسے پورے ہوسکتے ہیں ، یعنی عریانیت میں زینت نہیں ہے لباس پہننے میں زینت ہے اور تقویٰ کا لباس یعنی ایسا لباس جسے پہن کر انسان کے اندر اللہ کا خوف نظر آئے وہ زیادہ بہتر ہے بہ نسبت اس کے جو انسان ایسا لباس پہنے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسے اللہ کا خوف ہی نہیں ہے لیکن ایک بات واضح رہے کہ دین کے معاملے میں حیاء نہ ہو، انسان کو دینی معاملات سمجھنے، سمجھانے کے لئے شرمانے کی ضرورت نہیں ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: جس شخص کو اپنے ایمان کی فکر ہوگی وہ لازماً حیاء کے تقاضوں کو پورا کرے گا۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر تھے۔ آپ ﷺ کے پاس شرم و حیاء کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ سے پوچھا گیا یارسو ل اللہ ﷺ کیا حیاء دین سے ہے یعنی کیا حیاء کا تعلق دین سے ہے ؟ تو آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا : ’’نہیں  بلکہ حیاء مکمل دین ہے‘‘ یعنی صرف یہ نہیں کہ دین سے تعلق ہے بلکہ سارا دین حیاء پر مبنی ہے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’حیاء، عفت اور کم سخنی ایمان سے ہے ۔ اس کا مطلب بلا ضرورت بولنا مناسب نہیں ہے کیونکہ بلا ضرورت بولنے سے عمل میں بے کاری آجاتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگو! اللہ سے حیاء کرو جیسا کہ حیاء کرنے کا حق ہے‘‘ ۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ ’’اے اللہ کے رسول ہم تو حیاء کرتے ہیں۔‘‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ یہ نہیں بلکہ حیاء وہ شخص کرتا ہے جو آنکھ وغیرہ کی حفاظت کرتا ہے اور موت اور گلنے سڑنے کو یاد رکھتا ہے۔‘‘ اور آخرت کو چاہنے والا دنیا کی زیب و زینت چھوڑدیتا ہے اور جس نے ایسا کیا اس نے اللہ سے شرما نے کا حق ادا کیا یعنی حیاء کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس میں سر کی حفاظت یعنی سر کے اندر پائے جانے والے خیالات کی حفاظت ، نگاہ کی حفاظت، زبان کی حفاظت اور انہی کے ساتھ شرم گاہ کی حفاظت پھر اِسی طرح موت کی یاد اور اُس کے بعد گلنے سڑنے کو یاد رکھنا ہے ۔ جس نے یہ سب کیا اُس نے اللہ سے شرمانے کا حق ادا کیا۔ 
بے حیائی کے انتہائی مضر نقصانات ہیں جیسے سب سے بڑا نقصان انسان کے دل سے ایمان رخصت ہوجاتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں حیاء نہ رہے تو جو چاہے کرو‘‘ یعنی جب انسان بے حیاء ہوجاتا ہے تو ضمیر مرجاتا ہے اور پھر برائی برائی محسوس نہیں ہوتی ۔ جب دور جدید کاانسان بے حیائی کے نکتۂ عروج پر پہنچ جاتا ہے تو پھر وہ برائی کی Advertising کرنے لگ جاتا ہے FB ، Whatsapp وغیرہ کے ذریعے یہ بے حیائی کو اپنے تک ہی محدود نہیں رکھتا بلکہ اپنے دوست و احباب کو بھی اس گناہ میں شامل کردیتا ہے۔ 
سوشل میڈیا کی آج کل جتنی ایکٹیوٹی ہے۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے لے کر انٹرنیٹ کی ویب سائٹیں تک اور اپنی مسیجیس سے لے کر ملٹی میڈیا (Multi Media) کی (MSGs) مسیجیس تک، ایک ایک چیز اس قابل ہے کہ ہم ا ن کاجائزہ لیں کہ کیا یہ حیاء کے تقاضوں پر پورا اُترتے ہیں۔ یہ سب اُمت کے لئے اس وقت ایک بہت ہی بڑی آزمائش او رامتحان ہے ۔ حیاء کا پردہ چاک کرنے کے لئے یہ چیزیں انتہائی خطر ناک بھی ہیں ۔ اگر ان سہولیات اور وسائل کا مثبت(positive) استعمال کیا جائے تو انتہائی اہم ، مؤثر اور عظیم چیز ہے۔ بے حیائی ایک ایسا جرم ہے جس کی سزا اللہ نے دنیا میں بھی رکھی ہے اور آخرت میں بھی۔ سورۃ النور میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’بے شک وہ لوگ جو چاہتے ہیں مسلم معاشروں میں بے حیائی پھیل جائے اُن کے لئے دنیا میں بھی دردناک عذاب ہے اور آخرت کے اندر بھی دردناک عذاب ہے۔ دنیا میں درد ناک عذاب کی تفصیل ایک حدیث سے پتہ چلتی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جب بھی کسی قوم کے اندر فحاشی عام ہوجائے یہاں تک کہ وہ اُس کے ذریعے ( فحاشی کا)اعلان کرنے لگ جائے تو اس قوم کے اندر اللہ کی طرف سے طاعون اور دردانگیز بیماریاں آجاتی ہیں جن کا نام اُن کے باپ داداؤں نے نہیں سنا ہوتا ہے۔‘‘
عزتوں کو لوٹنے والی بے حیائی یہ ایک ایسا رُسواکن قرض ہے جو ایک راہ بھٹکا نوجوان اپنے سر پہ اُٹھاتا ہے تو اکثر اُس کی بہن یا بیٹی جوان ہوکے اس کے قرض کو پھر واپس کرتی ہے۔ دین کے متوالے اسلاف بالخصوص امام شافعی ؒ کہا کرتے تھے کہ زناایک قرض ہوتا ہے جو اُسے دوبارہ چکانا پڑتا ہے۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: ’’مجھے خواب کے اندر سیر کروائی گئی، میں نے ایسا منظر دیکھا جس میںایک تندور دیکھتا ہوں، اُس کا اوپر والا حصہ تنگ اور نیچے والا حصہ کھلا ہے۔ اُس کے اندر مرد عورتیں ہیں، بالکل برہنہ اور ننگے اور اُن کو نیچے سے آگ لگائی جارہی ہے۔ میں اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھتا ہوں ۔جب فرشتہ نیچے سے آگ لگاتا ہے تو وہ یوں اُبل کے اوپرتندور کے منہ تک آجاتے ہیں ،میں محسوس کرتا ہوں کہ شاید یہ باہر نکل جائیں گے۔ وہ شور کرتے ہیں پھر نیچے جاتے ہیں پھر آگ لگائی جاتی ہے ،پھر اُوپر چلے جاتے ہیں ۔ تندور کے منہ پرلگتا ہے کہ باہر نکل جائیں گے۔مجھے بتایا جاتا ہے یہ آپ کی اُمت کے زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورتیں ہیں‘‘۔جو معاشرہ بے حیاء ہوجائے، جو نمازی بے حیاء ہوجائے، جس کی نماز اُس کے اندر حیاء پیدا نہ کرلے ، جو آنکھیں، دل ، زبان بے حیاء ہوجائیں، اللہ رب العزت اس سے نفرت کرتا ہے اور اس سے ناراض ہوجاتا ہے کیونکہ اللہ غیرت مند ہے۔ 
اسلام نے مومنین کو ہمیشہ بے حیائی سے روکا ہے۔ بے حیائی سے نماز کی لذت ختم ہوجاتی ہے، تلاوت کی حلاوت ختم ہوجاتی ہے۔ دل میں بے حیائی اور اللہ کی محبت اکٹھے بسیرا نہیں کرسکتے ہیں۔ بعض دفعہ ایک دفعہ کا زنا (ایک شخص کی عزت کو تار تار کرنے سے) برسوں کی عبادت کو ہلکا کردیتا ہے۔ ابن ماجہ کی حدیث ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میری اُمت میں کچھ ایسے لوگ بھی آئیں گے جن کی نیکیاں پہاڑوں جیسی ہوں گی لیکن اللہ ان کو گردوغبار کی طرح اُڑاکے رکھ دے گا۔ جب پوچھا جائے گا کہ یہ کون لوگ ہوں گے تو کہا جائے گا یہ وہ بے حیاء لوگ ہوں گے جب بھی ان کوتنہائی میں موقع ملے گا تو اللہ کی حرمت کو پامال کردیں گے‘‘۔اُمت اسلامیہ کے خلاف سب سے بڑی سازش اگر کوئی ہورہی ہے تو وہ بے حیائی کو عام کرنے کی سازش ہے جو ایک بہت قہر انگیز سازش کہلاسکتی ہے۔ بے حیائی اور بے شرمی جس چیز میں بھی آجائے اُس چیز میں کمی اور نقص آجاتا ہے ۔ حدیث میں آیا ہے ’’جہاں حیاء آجائے چیز خوبصورت ہوجاتی ہے اور جہاں بے حیائی آجاتی ہے چیز بدصورت ہوجاتی ہے ‘‘۔ رشتے ناطے میں بے حیائی آجائے ، تعلقات میں بے حیائی آجائے ، معاملات میں بے حیائی آجائے ، گفتگو کے اندر بے حیائی آجائے، غرض جہاں بھی یہ درآئے، وہ چیز معیوب وپلید ہو کر رہ جائے گی۔ ہم آج عمل کی دنیا میں ہے، امتحان گاہ کے اندر نتیجے نہیں سنا ئے جاتے ، امتحان گاہ میں صرف پیپرPaper لئے جاتے ہیں ، نتیجے تو بعد میں سنائے جاتے ہیں ۔ اس امتحان گاہ میں اگر ہم نے حیاء کا پرچہ ٹھیک ٹھیک حل کیا تو ہماری زندگی اور معاشرت کے اندربالفعل اعتدال ، پاکیزگی ،خوش اخلاقی، فطری حسن اور خوب سیرتی آہی جائے گی جو ہماری کامیابی کا خود بخود اعلان کر ے گی۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو حیاء کے حسن سے نوازے اور پورے معاشرے کو با حیاء بنا دے ۔آمین یارب العٰلمین 