احترامِ آدمیت ۔۔۔ انسانیت کا جوہر

حکایت

10 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد یوسف مکرو ۔۔۔ آرونی اسلام آباد
 ایک خدا ترس آسودہ حال باپ نے پیرانہ سالی میں اپنے تین بیٹوں کے درمیان اپنی میراث تقسیم کی ۔اس تقسیم کے بعد دانا و زیرک اللہ والے بزرگ نے ایک انتہائی قیمتی جوہر اپنے بیٹوں کو دکھاکر کہا کہ یہ جوہر اس بیٹے کو دیں گے جس سے عظیم و برتر نیکی کا صدور ہو ۔۔۔۔خیر بات ہوئی ،آئی، گئی ۔۔۔۔کچھ وقت کے بعد ایک بیٹا بزرگ باپ کے ہاں حاضر ہوا اور کہنے لگا ،اباجان!میں نے ایک عظیم نیکی یوں انجام دی کہ ایک بندۂ خدا نے میرے پاس پانچ ہزار دینار کسی بھی گواہ کی غیر موجودگی میں بطور امانت یہ کہہ کر رکھ دئے کہ بوقت ضرورت میری یہ امانت مجھے لوٹا دینا ۔۔۔بوقت ضرورت میں نے یہ بھاری بھرکم رقم پوری کی پوری مالک کو لوٹا دی،حالانکہ اگر میں یہ رقم اسے لوٹا نا بھی نہ چاہتا تو ایسا بھی کرسکتا تھا کیونکہ اس معاملہ سے متعلق اس کے اور میرے درمیان کوئی گواہ بھی نہ تھا ، لہٰذا اس عظیم نیکی کے عوض میں ہی اس قیمتی جوہر کا مستحق ہوں۔دانا و زیرک خدا ترس باپ نے بیٹے سے جواباً کہا کہ میرے نور چشم ! امانت داری مسلمان کا شیوہ ہے لہٰذا یہ ایسی نیکی نہیں جو آپ کو اس قیمتی جوہر کا مستحق قرار دے۔۔۔کچھ وقت کے بعد دوسرا بیٹا یہ کہہ کر والد بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوا کہ میں نے ایسی نیکی کی جو بہر صورت مجھے قیمتی اور بیش بہا جوہرا کا مستحق قرار دے۔اپنی نیکی کی بابت بیٹا کہنے لگا کہ ہم ایک کشتی میں عریض و بسیط دریا میں سفر کررہے تھے کہ دوران سفر کشتی غرق آب ہوئی ،تما م مسافر بجز ایک نوجوان کے دریا کے کنارے صحیح سلامت پہنچے جبکہ نوجوان تیرنے کی صلاحیت سے محرومی کی بنا پر دریا میں ڈوبنے لگا ۔میں فوراً دریا میں کود پڑا اور نوجوان کو تھام کر کنارے کی اور لایا اور اس طرح وہ ڈوبنے سے بچا ۔۔۔عقلمند باپ نے کہا :میرے لخت جگر!یہ عمومی نیکی ہے ، خصوصی نہیں۔جس کے دل میں انسانیت کے تئیں ذرا بھی ہمدردی و غمگساری کا جذبہ ہو اس کے لئے ایسی نیکی کا ارتکاب از بس لازم ہے ،لہٰذا یہ ایسی عظیم نیکی نہیں جو قیمتی جوہر جیسے معاوضے کی حقدار ٹھہرے۔۔۔۔مدت مدیر کے بعد تیسرا بیٹا بزرگ باپ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنی نیکی کا ذکر یوں کرنے لگا کہ اباجان!میرا ایک جانی دشمن تھا ، وہ شرابی تھا اور اکثر شراب میں دھت رہتا تھا ۔۔۔ایک بار کیا ہوا کہ میں بستی کے نزدیک پہاڑی پر مویشیوں کے لئے گھاس لانے گیا تو دیکھا کہ میرا یہ جانی دشمن شراب میں بدمست پہاڑی کی چوٹی پر اس طرح پڑا ہوا تھا کہ اس کے کروٹ بدلنے کی دیر تھی کہ وہ لڑھک کر نیچے تیز بہائو والی پانی کی ندی کی نذر ہوجاتا اور اس طرح اس کی حیاتِ مستعار کا خاتمہ یقینی تھا ،مجھ سے اس کی یہ گھمبیر حالت برداشت نہ ہوئی ،میں نے اسے کندھوں پر اٹھا کر اس کے گھر پر ڈالدیا اور ایسا میں نے صرف رضائے الٰہی کی نیت سے کیا نہ کہ آپ کی طرف سے معاوضے کی لالچ میں۔۔۔۔باپ جو اللہ والے بزرگ تھے نے اپنی بصیرت کی بناء پر قیمتی جو ہر نکالا اور یہ کہہ کر بیٹے کو معاوضے کے طور دیا کہ لختِ جگر ! آپ کا یہ عمل ایسی عظیم و برتر نیکی ہے ۔۔۔’’دشمنی کے بدلے میں خیر خواہی‘‘۔۔۔جو جوہرِ انسانیت ہے کیونکہ انسانیت کی غایت اولیٰ و اعلیٰ یہی تو ہے کہ برائی کا بدلہ نیکی سے دیا جائے ۔۔۔ایسا کرنا شریعت ِ مصطفوی ؐ کا طرۂ امتیاز ہے اور ہمارے لئے مشعل راہ۔   ؎
سلام اس پر کہ جس نے خون کے پیاسوں کو قبائیں دیں
سلام اس پر کہ جس نے  گالیاں  سن کر  دعائیں دیں
رابطہ:9906603748
 
 

تازہ ترین