تازہ ترین

’’شرحِ اورادِ فتحیہ‘‘

ایمان واحسان کا انمول مرقع

3 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ایم ایس رحمن شمس
’’شرح  اوراد فتحیہ‘‘ عالم اسلام کے مشہورو معروف داعیٔ اسلام ، ولی ٔ کامل، مصنف ، دانش ور، سخن ور، ماہر اقتصادیات وسیاسیات سالا رِ عجم حضرت شاہ ہمدان امیر کبیر میر سید علی ہمدانیؒ کی’’ اوراد ِ فتحیہ‘‘ کی عام فہم ترجمانی ، ترتیب ِ نواور آسان تشریح کا مرقع ہے جس کا سہراسیداعجاز انداربی صاحب کے سر بندھتا ہے ۔ ’’اورادِ فتحیہ‘‘ محسن کشمیر حضرت شاہ ہمدان کا وہ بے مثال تحفہ اور منفرد و بے نظیر وظائف کا مجموعہ ہے جسے خصوصیت سے آپؒ نے اہل کشمیر کو عطا کیاہے ۔ حضرت امیر کبیر کی شخصیت ان کی داعیانہ زندگی اور دین اسلام کے حوالے سے ان کے حساس ذہن، جذبہ ٔ ایثار، توحید کے تئیں ان کا بے مثال فہم وادارک اور دیگر روح پرور تفصیلات سے قطع نظر جہاں حضرت امیر کبیر ایک بلند پایہ داعی  ٔاسلام اور عظیم مصنف و منصوبہ ساز تھے کہ جس نے مختلف موضوعات اور عنوانات پرتقریباً ایک سو کتابیں صدقہ ٔ جاریہ کے طور چھوڑیں( جن میں ’’ذخیرۃ الملوک‘‘ جیسی معرکتہ الآراء اور بے نظیر کتاب اور ’’اوراد فتحیہ‘‘ نامی وظیفے کی نادر کتاب کو نمایاں حیثیت اور مقبولیت حاصل ہے ) وہاں حضرت کی اصل خصوصیت اور خوبی ان کا داعیانہ مزاج اور دین اسلام کے آفاقی پیغام کو چہار دانگ عالم تک کا میابی کے ساتھ پہنچانے کا سعی وعمل ہے ۔ 
حضرت امیر کبیرؒ جو فی الحقیقت اپنے دور کے مجدد اسلام تھے ،اللہ تعالیٰ نے آپ ؒکے مبارک ہاتھوں سے وادیٗ کشمیر بے نظیر میں اسلام کی دعوت کو عام کرنے اور اہالیانِ کشمیر کو ایمان و اسلام کی دولت سے مالا مال کرنے میں ایک بنیادی اور کلیدی کردار ادا کیا۔ دراصل یہ حضرت امیر کبیرؒ کے اندر غیرت دین اور پر جوش دعوتی جذبہ ہی تھا جو آپ ؒ کو ایران کبیر سے ایران صغیر آنے پر مجبور کیا اور انتہائی غیر معمولی طور مشکل حالات میں جب کہ سفر کے وسائل اور ذرائع انتہائی محدود تھے اور ایران سے کشمیر تک کا سفر جوئے شیر لانے کے مترادف تھا، محض اسلام کی دعوت عام کرنے کیلئے آپؒ کشمیر تشریف آور ہوئے۔
حضرت امیر کبیرؒ کو یہ احساس تھا کہ کشمیر ایران صغیر ہے جہاں کم وبیش پوری کی پوری آبادی ایک اللہ کی چوکھٹ کو چھوڑ کر غیر اللہ کے سامنے اپنا سر جھکا رہی ہے ۔اس لئے لازم بنتا ہے کہ اس ملک وقوم تک دین اسلام کی وحدانیت کا پیغام پہنچایا جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ برصغیر میں جہاں کہیں ہمیں آج مسلمان نظر آتے ہیں یہ اولیائے کرام اور بزرگان دین کی لاثانی تبلیغی محنتوں اور  دعوتی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ جگہ جگہ کلمہ گو موجود نظر آرہے ہیں ۔ ہندوستان کی بات کی جائے تو حضرت خواجہ خواجگان سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سنجریؒ جن کے مبارک ہاتھوں میں ۹۰؍ لاکھ لوگوں نے اسلام قبول کیا، پھر آپ کے خلفاء اور مریدین مثلاً حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ، حضرت خواجہ بختیار کاکیؒ، حضرت صابر کلیریؒ اور پنجاب کی سرزمین میں حضرت بو علی قلندرؒ اور  پاکستان کی سرزمین میں حضرت خواجہ عثمان ہارونؒ ، حضرت بہائو الدین داتا گنج بخشؒ آپ کے رفقا ، خلفاء اور مریدین وغیرہم کی  دینی خدمات اور کارناموں کے حوالے سے اسلام کا فیض پورے برصغیر میں جاری و ساری ہے ۔
کشمیر میں بلا شبہ حضرت امیر کبیر کی وسیع تر دعوتی اور اصلاحی خدمات کے تناظر میں انہیں محسن کشمیر کہا جاتا ہے، گوکہ یہاں اسلام کا تعارف آپؒ کے وردوِ مسعود سے قبل حضرت خواجہ عبدالرحمن بلبل شاہ ؒ کے مبارک ہاتھوں ہو چکا تھا اور وقت کا حاکم رینچن شاہ حضرت خواجہ عبدالرحمن بلبل شاہؒ کی کرامتی شخصیت دیکھ کر اسلام کی دولت سے مالا مال ہوچکا تھا، تاہم وسیع پیمانے پر بلکہ زیادہ مناسب الفاظ میں یدخلون فی دین اللہ افواجا کا منظر حضرت امیر کبیرؒ کے مبارک ورود کارہین منت ہے ۔ 
مورخ کشمیر مفتی محمد سعادت نے لکھا ہے کہ روایت ہے ۱۲؍ سال کی عمر میں ہی حضرت امیر کے قلب مبارک پر روحانی اسرار ورموز روشن ہونے لگے تھے، چنانچہ کہا جاتاہے کہ اسی عمر شریف میں آپ ؒنے خواب میں ایک دفعہ دیکھا کہ حضرت رسول رحمت ﷺ ، صحابہ کرامؓ اور اولیائے عظامؒ کے ساتھ ایک شاندار اور سربفلک عمارت میں تشریف فرما ہیں ، حضرت امیر نے حضور پُر نور ﷺ کی طرف بڑھنے کی کوشش کی مگر یہ کوشش بار آور نہیں ہوسکی، آپؒ وہاں تک نہیں پہنچ سکے، اس پر حضور ﷺ نے اپنی مبارک زبان سے فرمایا    ؎ 
اے فرزند پیش من نمی توانی رسید
تاپیش شیخ شرف الدین مزدقانی نہ روی
یعنی اے بیٹے! تو اُس وقت تک ہم تک نہیں پہنچ سکتے جب تک شیخ شرف الدین مزدقانیؒ کا شرف تلمذحاصل نہیں کرلیتے۔ دراصل یہی سے آپ کو تزکیہ ٔ  نفس اور سلوک کے مدارج کا سفر شروع ہوا اور آگے آپؒ نے’’ سیرو فی الارض‘‘ کے حکم قرآن کے پیش نظر عرب و عجم ، ہندوستان، ماوراء لنہر، ترکستان اور دوسرے بلاد اسلامیہ کی دینی اغراض سے سیر و سیاحت اختیار کی ، اس سیر و سیاحت میں آپؒ نے جہاں مناظر قدرت کا مشاہدہ کیا، وہاں بڑے بڑے کبارعلماء و مشائخ سے بھر پور دینی و روحانی فائدہ اُٹھایا۔ چنانچہ آپؒ نے ۲۱؍ سال اور بقول بعض ۲۲؍ سال کا طویل عرصہ اس سیر و سیاحت میں گذارا اور اس سفر میں ۱۴۰۰؍اولیاء اللہ سے فیوض و برکات حاصل کئے ۔ اس طرح آپؒ نے علوم و فنون ، تزکیۂ اخلاق اور سلوک کے مدارج میں اپنے معاصرین اور وقت کے برگزیدہ علماء اور مشائخ پر اتنی فوقیت حاصل کی کہ آپؒ کو علماء اور مشائخِ زمانہ نے امیر کبیرؒ جیسے معزز القاب سے پکارنا شروع کیا۔
مورخین کے مطابق حضرت امیر کبیرؒ نے وقفے وقفے سے کشمیر کے تین دورے کئے اور پھر پوری وادیٔ کشمیر اسلام کی دولت سے بہرہ ور ہو گئی اور اسلام اہل کشمیر کی تاریخ ہی نہیں بلکہ تقدیر کا حصہ بن گیا ۔حضرت امیر کبیرؒ نے مختلف جہات سے اہالیان کشمیر کی اصلاح اور تربیت کا فریضہ انجام دیا اور اس ضمن میں ’’اوراد فتحیہ ‘‘ حضرت امیر کبیر کا ایک ایسا تیر بہدف مجموعہ ٔ وظائف ہے جس کی اہمیت اور افادیت صدیاں گزرنے کے باوجو دآج بھی تروتازہ ہے ۔’’ اوراد فتحیہ‘‘ بنیادی لحاظ سے مسنون اور ماثور قرآن و حدیث کی دعائوں کا ایک مستند مجموعہ اور گنجینہ ہے، یہ دراصل توحید باری کاسر نامہ ہے جسے اگر پڑھنے والا سمجھ کر پڑھے  اور دل میں اتارے تو عقائد ، افکار اور اعمال میں ایک فکر انگیز انقلاب پیدا ہو سکتا ہے ۔
’’اوراد فتحیہ‘‘ کے حوالے سے جملہ تفصیلات ، اس کا پس منظر اور حضرت امیر کبیرؒ کی مختصر سوانح کے ساتھ ساتھ’’ شرح اوراد فتحیہ‘‘ دراصل بہت پہلے کسی اہل دل اور اہل فکر عالم باعمل کا مرتب کردہ ہے اور مرور زمانہ سے شارح کا نام نامی مرتب جناب سید اعجاز احمد اندرابی کے ہاتھ نہیں آسکا ۔ یہ ایک ایسی شرح ہے جو ہر اعتبار سے مفصل، مدلل اور مکمل ہے۔ ’’ شرح اوراد فتحیہ‘‘ کا یہ نایاب اور نادر نسخہ جناب مرتب کو اپنے نامور والد گرامی مرحوم سید محمد سعید اندرابی کے کتب خانے سے ہاتھ آیا لیکن بقول مرتب شومئی قسمت سے اس نسخہ کے بہت سارے صفحات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حذف ہوکے رہ گئے ، جن میں شروع کے کئی ایک صفحات بھی شامل ہیں اور بدقسمتی سے اصل شارح کا اسم گرامی تلاش و جستجو کے باوجود ہاتھ نہیں آیا۔ چنانچہ خود مرتب نے اہل علم اور ’’اوراد فتحیہ‘‘ کی مختلف شروحات پر کام کرنے والوں سے گزارش کی ہے کہ اگر انہیں اس حوالے سے کوئی سراغ ہاتھ آجائے تو وہ ضرور ادارے کو مطلع کرکے اجر عظیم حاصل کریں۔ 
اگرچہ اس سے قبل بھی کشمیر کے کئی سرکردہ علماء اور شخصیات نے ’’اوراد فتحیہ‘‘ کی بڑی اور چھوٹی شرحیں لکھی ہیں اور اپنے طرز پر اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم متذکرہ شرح اپنی گوناگوں خصوصیات، محاسن اور خوبیوں اور تشریح و توضیح کے سبب انفرادی اہمیت کی حامل ایک علمی کاوش ہے ۔ واضح ہے کہ کتاب کے مندرجات وحواشی کی تفہیم عام قارئین کے لئے آسان بنانے کی غرض سے فاضل مرتب نے تین حروف۔۔۔م ،ت، ش۔۔۔ لائے ہیں ۔ یہاں بالترتیب ’’م‘‘ سے مراد متن، ’’ت‘‘ سے مراد ترجمہ اور ’’ش‘‘ سے مراد شرح ہے۔ نیز اسمائے حسنیٰ کے ضمن میں بھی ترجمہ اور خاصیت میں اضافات کرکے ان کو نمایاں کیا ہے۔ یہ بھی ایک قابل ذکر حقیقت ہے کہ اوراد و وظائف کی اپنی ایک الگ شناخت اور پہچان ہے اور یہی وجہ ہے کہ روز اول سے سرکردہ مشایخ اور اولیائے کرام نے قرآن حکیم اور احادیث مقدسہ سے مستفاد دعائوں کا انتخاب کرکے مختلف انداز سے وظائف کی کتابیں مرتب کی ہیں جنہیں قبولیت عامہ حاصل ہے اور لوگ ان سے استفادہ کررہے ہیں۔
بہر حال’’ اوراد فتحیہ‘‘ کی یہ زیر بحث شرح ہر لحاظ سے سالکین کے واسطے روحانی غذاور علمی چیز ہے ،اس میں مذکورہ اوراد کی قرآن حکیم اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں عالمانہ اور عارفانہ شرح کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے ۔ اس مرحلے پر اس کرب اور بے چینی کا اظہار ضروری ہے کہ آج کے مشینی اور نفسانفسی کے دور میں جب لوگ فرائض کو ادا کرنے تک سے جی چراتے ہیں، وظائف کا ورد کرنا کار دارد والا معاملہ ہے، تاہم ایسے خوش نصیبوں کی کمی نہیں ہے جو موجود ہ نفسانفسی کے عالم میں بھی فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اوراد و وظائف کے معمولات میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔’’اوراد فتحیہ‘‘ کے بارے یہی بات کہی جاسکتی ہے   ؎  
اگر گیتی سراسر باد گیرد
چراغ  مقبلاں ہرگز نہ میرد
’’شرح اوراد فتحیہ‘‘ کے مرتب جناب سید اعجاز احمد اندرابی مبارکباد اور تہنیت کے مستحق ہیں جنہوں نے اس تالیف کو خوبصورت انداز میں ترتیب، تدوین اور اضافات کے ساتھ نہ صرف اہل کشمیر بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے ایک قیمتی نسخہ عام سے عام تر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ الحمد اللہ کتاب کی پروف ریڈنگ جناب مفتی غلام رسول سامون صاحب نے کی ہے ، راقم نے بھی مسودے پر سرسری نگاہ ڈالی ہے اور کتاب کو Compose کرنے میں ماہر فن جناب محمد یعقوب بٹ نے انتہائی محنت اور لگن کے ساتھ اسے دور حاضر کے معیار کے مطابق پیش کرنے کی سعی ٔ جمیلہ کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان سب کی مخلصانہ محنتوںکو قبول کرے اور عامتہ المسلمین کو ’’اوراد فتحیہ ‘‘ کی اس روح پرور شرح سے فیض یاب ہونے کی زیادہ سے زیادہ توفیق فرمائے۔ آمین۔
�