تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

3 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(   صدرمفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیراحمد قاسمی
سوال: میری طرح ہزاروں لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ آج کے اس دور میں آنکھوں کی حفاظت بہت مشکل کام ہے۔ فیشن ، عریانیت اورمیک اپ سے سجنے سنورنےکی دوڑ لگتی ہوئی ہے۔ دکانوں ، دفتروں، پارکوں ، سڑکوں،  تعلیمی مراکز ، غرض کون سی جگہ ہے جہاں ہماری بہنیں اور بیٹیاں بن سنور کر مردوں کےلئے امتحان بنی ہوئی نہیں ہوتی  ہیں۔ ظاہر ہے اب مرد گھروں میں بندہو کر بیٹھ تو نہیں سکتے۔ ایسی حالت میں دل کو گندے خیالات سے اور نگاہوں کو نامحرم خواتین کی طرف دیکھنے سے روکنا آسان نہیں۔ اب صورتحال میں اسلام کی رہنمائی ہمارے لئے کیا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیکر رہنمائی فرمائیں؟
پیر رؤف احمد بمنہ سرینگر
 
بد نگاہی سے بچنا ضروری.........چند تراکیب
 جواب :۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے ۔ اےنبی ایمان والے مردوں کو حکم کریں کہ وہ ا پنی نگاہ نیچی رکھیں اور اسی طرح مسلمان خواتین کو بھی حکم دیجئے کہ وہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ( النور۳۰۔۳۱
قرآن کے اس حکم کو جان لینے کے بعد ہر ایمان والے مر د و عورت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی آنکھوں کی حفاظت کی ہر ممکن تدبیر کرے۔ انسان کوبیت الخلاء جانا لازم ہے اور وہاں اگر ناپاک چھنٹیں لگنے کا خدشہ ہو تو ہر شخص اُن سے بچنے کی ہر ممکن تدبیر کرےگا۔ مگر یہ تدبیر اُسی وقت کرے گا جب بچنے کا پختہ عزم ہو۔ اسی طرح جب نگاہ کو بچانے کا پختہ عزم ہوگا تو مفید سےمفید تدبیر اور مکمل پرہیز کرنے میں انسان کامیاب ہو جائے گا۔ اگر کوئی انسان خار دار جھاڑی میں پھنس جائے تو اپنے جسم اور کپڑوں کا کانٹوں سے الجھنے سے بچانے کےلئے ہر ممکن تدبیر ضرور اختیار کرے گا۔ بس اسی طرح جب نامحرم کی طرف نگاہ سے بچنے کا عزم قوی ہو اور اس کے دینی ودنیوی نقصانات کا پورا احساس ہو اور اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کا پختہ ارادہ ہو تو یقیناً نگاہ کی حفاظت کرنے میں کامیاب ہو نا ممکن ہے۔
انسان کی نگاہ جب قابو میں نہ رہے تو پھر یہ اکثر فواحش اور اس سے آگے بڑھ کر بڑے گناہ تک پہونچنے کا سبب بنتی ہے۔ جو عورتیں قسم قسم کے میک اپ کرکے، بن سنور کر کےنیم عریاں حالت میں بازاروں، دفتروں ، سکولوں کا لجوں اور مخلوط مجلسوں میں پہنچتی ہیں اور نگاہوں کو قابو میں نہ رکھنے والے مرد للچائی ہوئی بے قرار نظروں سے اُن کو دیکھتے ہیں تو ان دونوں طبقوں پر اللہ کی لعنت برستی ہے۔ حدیث میں ہے اللہ کی لعنت ہوتی ہے دیکھنے والوں پر بھی اور اپنا جسم دکھانے والیوں پر بھی۔ جب انسان کسی نامحرم کو شوق اور اضطراب کے ساتھ دیکھتا ہے تو اس وقت اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگ جاتا ہے ۔ پھر جب وہ بار باردیکھتا ہے تو کالے دھبوں سے اُس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے ۔اس کے بعد گناہ کا احساس اُس کےدل سے نکل جاتا ہے۔ اس کی نگاہ مسلسل زناکاری کرتی رہتی ہے اور آنکھوں کا زنانامحرم کو دیکھنا ہے۔ یہ بھی حدیث سے ثابت ہے۔ یاد رہے اگر اچانک کسی نامحرم پر نگاہ پڑجائے اور فوراً ہٹائی گئی تو اس شخص پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔ ہاں اگر دوبارہ نگاہ ڈال لی یا پہلی نظر کے بعد مسلسل دیکھتے رہے تو یہ سخت ترین گناہ ہے ۔نامحرم عورتوں کی طرف نگاہ کرنے سے بہت سارےنقصانات اور خرابیاں ہوتی ہیں اور نگاہ کو بچانے اور اس کےلئے اپنے آپ سے مقابلہ کرنے، اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کےلئے اپنے آپ سے جو جہاد کرنا پڑے تو اس پر دنیا و آخرت دونوں جگہ بہت انعامات سے نوازا جاتا ہے۔
جس شخص نے دنیا میں اپنی نگاہ کی حفاظت کی اور جتنی مرتبہ نگاہ کو بچایا اتنی ہی مرتبہ اُس کو قیامت میں اللہ جل شانہ کا دیدار نصیب ہوگا اور اس کی آنکھ قیامت میں رونے اور آنسو بہانے سے محفوظ رہے گی۔
قرآن کریم میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں۔ وہ ( اللہ ) نگاہ کی خیانت اور دلوں میں چھپے ہوئے بُرے خیالات کو بھی جانتا ہے۔ بلا شبہ نگاہ کی حفاظت آج کے دور میں مشکل ترین امتحان ہے مگر جب انسان پختہ ارادہ کرے تو پھر کوئی مشکل نہیں ورنہ کیا یہ کہنا درست ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ؐ نے ناممکن بات کا حکم دیا ہو۔ ایسا ہر گز نہیں۔ نگاہ کی حفاظت کےلئے چند مفید تدابیر ملاحظہ ہوں۔
انسان اپنے آپ سے پوچھے کہ آج تک ہزاروں مرتبہ بے شمار نامحرم عورتوں کو اگر شوق سے دیکھا تو اس دیکھنے سے کیا ملا؟ اندر سے ایمان والا دل جواب دے گا کہ کچھ نہیں ملا۔ بس اس کے بعد اپنے آپ سے کہیں کہ اب عہد کرو کہ یہ کام ہر گز نہیں کروگےجس سے ہاتھ کچھ نہیں آتا کیونکہ خود کا تجربہ ہے کہ کچھ نہیں ملتا۔ دوسری تدبیر یہ ہے کہ جب سامنے کوئی نامحرم آئے تو اُس کی طرف دیکھنے سے پہلے اپنے آپ سے کہیں کہ اللہ تم کو دیکھ رہے اور جائزہ لے رہے ہیں کہ بندہ میرا کہنا مانے گا یا اپنے نفس کا ۔ اگر تم نے اللہ کا کہنا مان لیا تو اللہ خوش ہونگے اور انعام دینے کا وعدہ کریں گے۔ یہ سوچ کر نامحرم کی طرف نگاہ کرنے سے اپنے دل کو صاف منع کر دیں ۔بلکہ روک دیں تیسری تدبیر یہ کہ جب کسی نامحرم پر نگاہ پڑے تو اپنے آپ سے پوچھیں کہ اگر کوئی آوارہ شخص تمہاری ماں ، بہن یا بیٹی یا بیوی پر اسی طرح نگاہ ڈالے تو کیا تم برداشت کرو گے؟ ایمان والا دل کہے گا ہر گز نہیں ہر گز نہیں ۔ بس اسی وقت اپنے آپ سے کہہ دیں کہ تم بھی جس پر نگاہ ڈال رہےہو یہ بھی کسی کی بیٹی کسی کی بہن ہوگی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کسی ماں یا کسی کی بیوی ہو۔چوتھی تدبیر یہ کہ صبح کو اپنے دفتر، دکان، بازار وغیرہ نکلنے سے پہلے دو رکعت نما زپڑھ کر اللہ سے دُعا کریں کہ یا اللہ میں نے ارادہ کر لیا کہ نامحرم کو ہر گز نہ دیکھوں گا۔ مگر عین موقعہ پر میں اپنے آپ کو روک سکوں گا یا نہیں ۔ میں اس کی گارنٹی نہیں دے سکتا تو اے اللہ اس وقت آپ میرے دل میں نامحرم کی طرف نگاہ سے بچا دیجئے۔ پھر ساتھ ہی یہ عہد کرکے اُٹھیں کہ آج جان بوجھ کر ہر کسی کو نہ دیکھوں گا پھر شام کو اپنے آپ سے حساب کریں کہ کتنی مرتبہ بچنے میں کامیاب اور کتنی مرتبہ ناکام ہوئے۔ کامیاب ہونے پر شکرکریں اپنے آپ کو شباشی دیں اور ناکام ہونے پر معافی اور استغفار کریں۔ اور کتابوں پر جہاں جہاں ننگی تصاویر ہوں اُن کو دیکھنا بھی بند کریں جہاں ننگی عورتیں آتی ہوں۔ اس سے بچنے کی عادت پیدا ہوگی۔ مخلوط مجالس چاہئے وہ شادیاں ہوں، کالجوں کے پروگرام ہوں یا پکنک ہوں، اُن میں جانے سے پرہیز کریں ۔کسی دفتر، کائونٹر پر، اسپتال میں کوئی خاتون نرس ہو اور اس سے بات کرنے کی مجبور ی پڑے تو اس سے بات کرتے ہوئے اس کی طرف نگاہ نہ کریں۔ چھٹی تدبیر یہ کہ راستے چلتے ہوئے نگاہ پائوں پر رہے۔ کسی بھی آنے والے کے چہرے پر ہر گز نگاہ نہ ڈالیں۔ پائوں دیکھ کر اگر اندازہ ہو جائے کہ آنے والا مرد ہے توپھر چہرے کے لئے نگاہ اُٹھائیں ورنہ نہیں۔ اور آخری اہم ترین تدبیر یہ ہے کہ اپنے آپ سے کہہ دیں کہ اگر ایک مرتبہ کسی نامحرم کو بالقصد دیکھا اور اس پر قیامت کے دن آگ سے شدید ترین گرم شدہ لوہے کہ سلائی آنکھوں میں لگائی گئی تو کیا برداشت کرسکوں گے۔ دل کہے کہ نہیں برداشت کر سکوں گا۔ تو فوراً اپنے آپ پرہیز پر تیار کریں آخر میں بس اللہ کےناراض ہونے کی فکر ہو ، سخت عذاب کا خوف ہو ، دل سیاہ ہونے کا ڈر ہو اور اپنے گھر کی خواتین کے ساتھ کسی اور کے دیکھنے پر غیرت آئے اور اپنے اندر ہمت اور اپنے نفس کو قابو میںرکھنے کا جذبہ راسخ ہو تو بدنگاہی سے بچنا ممکن  ہے پھر انسان کشمیری محاورہ میں یہ کہے میری نگاہ میں’’ کنہِ تہ زنیہِ برابر ہیں ‘‘یعنی پتھر اور اجنبی عورت ایک  برابر ہیں۔
.......................
سوال:۔ دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ کی طرف سے اجراء شدہ مقیات صلواۃنے بے شک نما ز پنجگانہ کے اوقات صحیح اور باریک بنائے مگر میرے تجربے نے مجھے اس نتیجے پر پہنچایا کہ اس مقیات صلواۃ کی وجہ سے وادی کے طول وعرض میں بہت سے حضرات، خاص کر بزرگ افراد اور ریٹائیر ملازمین، اس کا ہر روز باریک بینی سے استعمال کرتے ہیں اور اوقات نماز کو تقریباً روزانہ تبدیل کرتے رہتے ہیں، جس وجہ سے اکثرکام میں مشغول نمازیوں کو ہر روز اوقات نماز یاد رکھنا بہت مشکل پڑتا ہے اور اس طرح نماز باجماعت سےبہت سارے لوگ رہ جاتے ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ حضور ؐ نے اول وقت سے لیکر آخر وقت تک ہر نماز با جماعت پڑھائی ہے،  جو اس بات کو صاف کرتا ہے نماز کے اوقات اتنے باریک نہیں ہیں جتنا ہماری مسجدوں میں عملایا جاتا ہے۔ میں نے ایک مہینے( جنوری) کےلئے کوشش کی ہے کہ نماز کے اوقات کو اس اجراء شدہ میقات صلواۃ کے ہی مطابق آسان اور قابل عمل بنایا جائے تاکہ جماعت کے چھوٹ جانے کے کم سے کم مواقع رہیں باقی گیارہ مہینوں کےلئے اسی انداز پر ایک چھوٹا میقات صلواۃ بنایا جاسکتا ہے۔ میرے خیال میں دن میں دو ہی اوقات باریکی سے ملحوظ نظر رکھنے ہیں۔ فجر اور مغرب جو آسانی سے یاد رکھے جاسکتے ہیں۔ ظہر کا وقت تقریباً سال بھر ایک ہی ہوتا ہے جبکہ عصر اور عشاء کے اوقات ہر پندرہ دنوں کے بعد بدلنا بہتر رہےگا باقی اطلاعات ( طلوع وغروب آفتاب، زوال اوقات وغیرہ) کے لئے پہلے سے ہی اجراء شدہ میقات صلواۃ ٹھیک ہے۔
حبیب اللہ راتھر 
ساکن  گاندربل 
 
جماعت کے اوقات اور میقات....... چند اہم حقائق
جواب :۔ میقات الصلواۃ ہو یا دنیا بھر میں دوسرے ناموں کےساتھ اوقات نماز واضح کرنے والے کلینڈر ہوں یا ڈیجٹل ٹائم ٹیبل ہوں یا الفجر نام کی گھڑی جو اوقات نماز بھی دکھاتی ہے۔ یہ سب صرف نماز کا وقت آغاز ظاہر کرتے ہیں۔ جماعت کےا وقات خود مسجد کی انتظامیہ یا امام مسجد کو طے کرنے ہوتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی تاریخ کو نماز ظہر کا وقت آغاز ساڑھے بارہ بجے  ہو اور مسجد میں جماعت کا وقت ڈیڑھ بجے رکھا گیا ہے، تویہ درست ہے ۔ اسی طرح مثلاً صبح صادق اگر پانچ بجے ہو تو فجر کی جماعت کا وقت مقرر کرنا مسجد کےنمازیوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر اول وقت  میں سارے یاا کثر نمازی مسجد میں حاضر ہوں تو اول وقت فجر کی جماعت ادا کرنا افضل ہے اور ہمارے خطہ میں بھی رمضان شریف میں اول وقت نماز فجر کی جماعت ہوتی ہے کیوں کہ سحری کھانے کے بعد اکثر نمازی مسجد میں موجود ہوتے ہیں اور اگر سارے یا اکثر نمازی حاضر نہ ہو ں تو فجر کی جماعت دیر سے روشنی نمودار ہونے پر بھی کرسکتے ہیں اور اس کے متعلق حدیث مبارک ہے کہ فجر کی جماعت روشنی آنے کے بعد پڑھو اجر زیادہ ہوگا۔ (ترمذی) اسی طرح ظہر کی جماعت کے متعلق حکم ہے کہ سردیوں میںاول وقت پڑھو اور گرمیوں میں دیر سے پڑھنے کا حکم ہے۔ یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے۔
اس صورتحال میں جماعت کا ایک ہی وقت مقرر کرنا تنگی پیدا کرنا ہے۔ بلا شبہ دین آسان ہے۔ اسلئےاوقاتِ نماز میں بھی وسعت رکھی گئی۔ مسجد میں جماعت کا وقت مسجد کے نمازی یا منتظمین مقرر کریںاور ہر نماز ی اُس وقت جماعت میں شامل ہو جائے۔ جو شخص کسی بھی وجہ جماعت میں شامل نہ ہو پائے وہ بہر حال اپنی نماز ادا کرے۔ چاہئے دوسری جماعت یا انفرادً پڑھے۔ ہر روز اوقات نماز یار رکھنا یقیناً مشکل ہے مگر یہ ضروری بھی کہاں ہے کہ ہر دن منٹوں کے حساب سے اوقات یاد رکھے جائیں یا ہر دن جماعت کا وقت منٹوں کے حساب سے تبدیل کیا جائے ۔ اگر کہیں ایسا ہو رہا ہے تو یہ خود کی پیدا کردہ مشکل ہے نہ کہ شرعی حکم۔ میقات نے وقت شروع دکھا دیا۔ اب اُس کے بعد مسجد والے دس پندرہ دن کےلئے جماعت کا وقت مقرر کرلیں پھر جب تبدیلی کرنے کا وقت آئے تو جماعت کا وقت بدل دیں اور اعلان بھی کر دیں کہ کل سے فجر یا ظہر یا عشاء کی جماعت فلاں وقت پر ہوگی۔ یہی طریقہ مفید بھی ہے اور پورے عالم میں بلکہ خود یہاں کشمیر میں بھی اکثر مساجد میں اس پر عمل ہوتا ہے۔
جماعت کے اوقات کےلئے میقات تیار کرنا ممکن نہیں، اسلئے کہ جماعت کے اوقات الگ الگ ہوسکتے ہیں۔ مثلاً جو حضرات ہر نماز اول وقت پر پڑھنا افضل سمجھتے ہیں اُن کےلئے وقت جماعت اول وقت ہوگا اور جو نماز فجر یا گرمیوں میں نما زظہر دیر سےپڑھنے کو افضل سمجھتے ہیں اُن کا وقت جماعت دوسرا ہوگا۔ نماز عشاء کا اصل وقت یہ ہے کہ میقات الصلواۃ میں جو شروع عشاء دکھایا گیا ہے اُس کے بعد اذان پڑھی جائے پھر دس پندرہ منٹ کے بعد جماعت کا وقت طے کیا جائے۔ گرمیوں میں رات چھوٹی اور عشاء کا وقت دیر سے ہوتا ہے اس لئے یہاں کشمیر کے لوگ عشاء کی نماز چند منٹ پہلے پڑھنے کے لئے بے تاب ہوتے ہیں اُن کے اصرار اور اضطراب کی بنا پریہ فیصلہ کیا گیا کہ گرمیوں میں اذانِ عشاء میقات میں دکھائے گئے وقت سے دس منٹ پہلے پڑھیں۔ یہ شفق احمر ہوگا۔ اور تین ائمہ امام مالک ؒ، امام شافعیؒ ،امام احمد ؒ اور حنفیہ میں سے امام ابو یوسف ؒ اور امام محمد  ؒ اس کے قائل ہیں کہ نماز عشاء شفق احمر سے شروع ہوتی ہے ۔ لہٰذا گرمیوں میں اس پر عمل کرنے کا متفقہ فتویٰ یہا ں کشمیر کے اہل فتویٰ نے جاری کیا اور اس پر عمل بھی ہے مگر افضل یہ ہے کہ میقات کے وقتِ عشاء پر اذان ہو۔ یہ شفقِ ابیض ہوگا پھر جماعت ہو۔ خلاصہ یہ کہ سائل کا جذبہ قابل تحسین ہے مگر تجویز قابل عمل نہیں ہے اور آج تو بہت ساری مساجد میں وقت جماعت کا بورڈ بھی لگا ہوتا ہے لہٰذا صرف جماعت کے اوقات دکھانے کےلئے الگ سے میقات بنانے کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ اس سےکسی الجھن کا حل ہوگا۔ ویسے کوئی الجھن یا مشکل ہے بھی نہیں۔ یقیناً حضرت نبی کریم ﷺ  نے اول وقت بھی نماز پڑھائی اور آخر وقت بھی۔ مثلاً بخاری میں حدیث ہے کہ آپ نے ایک دن عشاء کی نماز تقریباً نصف شب کے وقت پڑھائی ہے۔
