تازہ ترین

اسلامی بھائی چارہ

اُخوت کا بیاں ہوجا

27 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(   استاذ :الکلیۃ السفیۃ بٹہ مالو    )

منظور احمد گورکھو المدنی
اللہ تعالیٰنے انسان کوبے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ۔ان بے شمار نعمتوں میں ایک نعمت اُخوت(بھائی چارہ) کی وہ نعمت عظمیٰ ہے جس کی بنیاد اللہ رب العٰلمین نے انسانی معاشرے کی تشکیل کے روز اول سے ہی قائم کی اور اس اخوت کو استحکام بخشنے کے لئے حقوق و آداب کا تعین کرکے ارشاد فرمایا:’’اے لوگو ! اپنے پرور دگار سے ڈرو جس نے تمہیںایک جان سے  پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلادی۔‘‘(سورۃ النساء آیت:1)۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسانی معاشرے کی بنیاد کا ذکر فرماکر اس معاشرے کو مضبوط سے مضبوط ترین بنانے اور اس سے وابستہ لوگوں کو آپس میں جوڑنے اور افتراق و انتشار سے بچنے کیلئے کچھ حقوق متعین کئے ہیں اور ہر فرد سے ان حقوق کی پاسداری کا تقاضا کیا گیا ہے تاآنکہ امت ِمسلمہ اُخوت اور اسی جیسے اوصاف حمیدہ سے متصف ہو جائے،اور ہر شخص اپنے اخلاقی عیوب تلاش کر کے ان کا موثر علاج کر سکے ۔ چونکہ ہرمسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی اور مانند آئینہ ہے، اس لئے بھائی چارے کے دوام کے لئے معاشرے میںافتراق وخرابات کا بروقت علاج ہو،اختلاف و انتشار کو دور کر کے اصلاح ِاُمت کا جذبہ پیدا ہو ، اُمت کی خیرو بھلائی کے عزمِ صمیم کا احیائے نوہو، اس لئے معاشرتی زندگی میں اخوت کو بنیادی پتھر کی حیثیت حاصل ہے۔ اسی وساطت سے انسانی معاشرے میں سکون و اطمینان ،رافت و رحمت،ہمدردی وغمگساری اور ادب و احترام ہوتا ہے جسے قائم ودائم رکھنے کیلئے نرمی،اچھی صحبت،پیار و محبت،ایک دوسرے سے تعاون جیسے اصول و آداب کو اوصافِ ایمان قرار دیاگیا ہے ۔ یہ اوصاف اسلامی معاشرہ کی روز بروز ترقی کے لئے کلیدی اہمیت حاصل سکے۔
اخوت:۔
علمائے کرام نے اخوت کی مختلف تعریفیں کی ہیں جن کا خلاصہ درج ذیل ہے:’’ یہ کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے ساتھ وہی معاملہ کرے جو وہ اپنے بھائی کے ساتھ کرتا ہے، اس کی مدد کے لئے پیش پیش رہنا،اس کے لئے خیر کا چاہنا ،شر سے اس کو محفوظ رکھنا، جب وہ مدد کا  محتاج ہو تو اس کی مدد کرنااور ہر وہ چیز اختیار کرنا جس کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اپنے بھائی کے حق میں اختیار کرنے حکم دیا ہو‘‘یعنی مسلمانوں کو آپس میں اسی طرح زندگی گزارنی ہے جس طرح وہ اپنے بھائی کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں،ان کے ساتھ مودت و محبت،شفقت و رافت کا طریقہ اختیار کر نا، خیر میں ان کا تعاون اور شر سے ان کو محفوظ رکھنا اور مشکلات و مصائب میں اس کو تنہا نہ چھوڑ اس ضمن میںناقابل ذکر امور ہیں۔
اخوت کی اہمیت:۔
اخوت ایسا ایمانی رابطہ ہے جسے اللہ تعالی نے اپنے مؤمن بندوں( چاہے ان کا تعلق مشرق و مغرب یا شمال و جنوب سے ہو) کی خاطر وضع کیا اور اسے مؤ من بندوں پر اپنااحسان قرار دیا ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’اور اللہ تعالی کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے ،تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی ،پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہو گئے‘‘(سورۃ  آل عمران آیت:103)۔اُخوت کی اتنی اہمیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو قائم رکھنے کی نسبت اپنی ذات مبارکہ کی طرف کی اور ارشاد فرمایا: ’’ زمین میں جو کچھ بھی ہے تو اگر سارا کا سارا بھی خرچ کر ڈالتے تو بھی تو ان کو آپس میں نہ ملا سکتے ،یہ تو اللہ ہی نے ان میں الفت ڈال دی ہے‘‘(سورۃ  الأنفال  آیت:63)۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ اور مومنوں پر جو احسانات فرمائے ان میں سے ایک احسان کا ذکر فرمایا کہ ان کے درمیان پہلے جو عداوت تھی، اُسے محبت و الفت میں تبدیل فرمایا ،پہلے وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، اب ایک دوسرے کے جانثار بن گئے،پہلے ایک دوسرے کے دلی دشمن تھے، اب آپس میں رحیم و شفیق ہو گئے۔صدیوں پرانی باہمی عداوتوں کو اس طرح ختم کر کے باہم پیار اور محبت پیدا کرنا ،یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی اور اس کی قدرت و مشیت کی کارفرمائی تھی ،ورنہ ایسا کام تھا کہ دنیا بھر کے خزانے بھی اس پر خرچ کردئے جاتے تب بھی یہ گوہر مقصود حاصل نہ ہوتا ۔
اخوت کی اہمیت اس بات سے بھی واضح ہو جاتی ہے کہ یہ اللہ کی محبت کا سبب ،جنت میں جانے کا ذریعہ اور تکمیل ایمان کا موجب ہے۔اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:’’ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم لوگ اس وقت تک جنت میں نہیں جا سکو گے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ۔اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو۔‘‘(سنن أبی داود کتاب الأدب باب في افشاء السلام ،ح :5193)۔آپس میں محبت و مودت رکھنا ایمان کی علامت اور ایمان جنت میں جانے کا سبب ہے، آپس میں محبت تب ہوسکتی ہے جب اخوت قائم ہو۔ اسلام میں اخوت کی اتنی اہمیت اور افادیت ہے کہ جب اللہ کے رسول ﷺ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لائے جہاں پہلی اسلامی ریاست کا قیام ہوا، اُس اسلامی ریاست کی بنیاد ایسی اخوت پرقائم کی گئی کہ آج تک اس کی نظیر قائم نہ ہو سکی ۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے کی اللہ کے رسول  ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات قائم کی(سنن أبی داود کتاب الفرائض  باب في الحلف ،ح :2926)۔ایک حدیث میں اللہ کے رسول  ﷺ نے فرمایا :’’اسلام کا بھائی چارہ افضل ہے‘‘(صحیح البخاری کتاب المناقب  باب قولہ ﷺ لو کنت متخذا خلیلا  ، ح :3657)۔جس اسلامی اُخوت کے قیام کا اللہ رب العٰلمین نے حکم دیا اور اللہ کے آخری رسول محمد  ﷺ نے جسے امت میں نافذ کیا ،جو تکمیل ایمان کا ذریعہ اور جنت میں جانے کا سبب ہے، اس اُخوت کی کتاب و سنت میں بے شمار فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔
اخوت کی فضیلت:
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ماننا نیکی اور نہ ماننا گناہ ہے۔اللہ اور اس کے آخری رسول ﷺ کے احکام میں ایک حکم اُخوت کو قائم کرنا بھی ہے۔جس طرح باقی شرعی احکام پر عمل کرنا باعث سعادت اور فضیلت کا ذریعہ ہے اسی طرح اخوت کو قائم رکھنا بھی باعث اجر و ثواب ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سے فضائل کا سبب ہے جیسے:
اللہ تعالی کی محبت کا سبب : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول  ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک شخص اپنے بھائی کی زیارت کے لئے اس کے علاقے میں گیا اللہ تعالی نے اس جانے والے کو ایک فرشتہ بھیجا اور اس فرشتے نے اس سے کہا: تم کہاں جارہے ہو ؟ اس شخص نے کہا کہ میں اپنے فلاں بھائی کی اللہ کی رضا کے لئے زیارت کرنے جارہا ہوں ۔فرشتے نے کہا : کیا تمہیں اس کے پاس کوئی حاجت ہے؟ اس شخص نے کہا نہیں ۔فرشتے نے کہا :کیا تمہاری آپس میں رشتہ داری ہے؟اس شخص نے کہا نہیں۔فرشتے نے کہا:کیا اس کی کوئی امانت تمہارے پاس ہے ؟اس شخص نے کہا نہیں۔میں اس سے اللہ کی رضا کے لئے محبت کرتا ہوں (اس لئے اس کی زیارت کرنے جارہاہوں)فرشتے نے کہا : میں اللہ کی طرف سے تمہیں یہ پیغام دینے آیا ہوں کہ جس طرح تو اس بھائی سے محبت کرتا ہے اللہ بھی تجھ سے محبت کرتا ہے۔(سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ للألباني جلد 3  ص 36،ح :1044)۔
ایمان کی مٹھاس پانے کا ذریعہ :انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:’’تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ  پیدا ہوجائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا۔(ان تین خصلتوں میں ایک) یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لئے محبت رکھے‘‘(صحیح البخاری کتاب الاِیمان  باب حلاوۃ الِایمان  ،ح :16)۔
سایۂ رحمت کے حصول کا سبب : جس دن آفتاب سروں کے اوپر بہت قریب ہوگا اور لوگ پسینے میں ڈوبے ہوںگے اس دن اخوت و محبت اللہ کے سایہ رحمت کا سبب بنے گاجب اس کے علاوہ اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:’’سات طرح کے آدمی ہوں گے جن کو اللہ اس (قیامت کے)دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔۔اور ان میں ۔۔۔دو ایسے شخص جو اللہ کے لئے باہم محبت رکھتے ہیں اور ان کے ملنے  اور جداہونے کی بنیاد یہی محبت ہے  ‘‘(صحیح البخا ری کتاب الأذان  باب من جلس في المسجد ینتظر الصلاۃ وفضل المساجد  ،ح :660)۔
اللہ کی رضامندی اور جنت کا حصول : اخوت و مودت میں ایسی تاثیر اورفضیلت ہے کہ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت حاصل ہو جاتی ہے۔اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص کسی مریض کی عیادت کرے یا کسی دینی بھائی سے ملاقات کرے تو ایک اعلان کرنے والا بلائے گا اور کہے گا کہ تمہیں مبارک ہو تمہارا چلنا مبارک ہو۔تم نے جنت میں اپنے ٹھہرنے کی جگہ بنالی‘‘(سنن الترمذي أبواب البر والصلۃ  باب ماجاء في زیارۃ الاِخوان  ،ح :2008)۔
 قیامت کے دن نور اورخوشحالی کا سبب :آپسی محبت و اخوت قیامت کے دن منور چہرے اور خوشحالی کا باعث ہوگا  رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے :’’اللہ کے بندوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو  نہ نبی ہوں گے نہ شہید مگر قیامت کے روز اللہ کے ہاں (بلند)مراتب و منازل کی وجہ سے انبیاء  ؑو شہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔صحابہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ !ہمیں بتائیں وہ کون لوگ ہوں گے ؟آپ ﷺ نے فرمایا:یہ وہ لوگ ہوں گے جو آپس میں اللہ کی کتاب (یا اللہ کے ساتھ محبت)کی بنا پر محبت کرتے تھے۔حالانکہ ان کا آپس میں کوئی رشتہ ناتا یا مالی لین دین نہ تھا۔اللہ کی قسم! ان کے چہرے نور ہوں گے اور وہ لوگ نور پر ہوں گے۔جب لوگ خوف زدہ ہورہے ہوں گے تو انہیں کوئی خوف نہ ہوگا۔جب لوگ غمگین وپریشان ہورہے ہوں گے تو انہیں کوئی غم اور پریشانی نہ ہوگی‘‘(سنن أبي داود أبواب الاِجا رۃ  باب في الرھن  ،ح :3527)۔
اُخوت لوگوں کے درمیان ہمدردی محبت اور خیرخواہی کا سب سے مضبوط ذریعہ اورمختلف علاقوں و شہروں سے وابسطہ ہونے کے باوجود آپس میں متحد و متفق رکھنے کا سبب ہے۔ قرآن و سنت میں اخوت کی اتنی اہمیت او رفضیلت بیان کی گئی وہ صرف زبانی دعوں سے مستحکم نہیں رہتی بلکہ اس کے آداب و شرائط کے ساتھ ساتھ اخوت کے استحکام کے لئے اس کے حقوق بھی اہمیت کے حامل ہیںہے ۔
اخوت کے حقوقـ:
اللہ تعالیٰ نے جن حقوق کا تعین کرکے ان کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے، اُن میں ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان بھائی کے حقوق بہت ہی اہمیت کے حامل بلکہ جن کے پورا کرنے ،ان کی حفاظت کرنے اور ان حقوق کی پامالی نہ کرنے کی کتاب و سنت میں بہت تاکید وارد ہوئی ہے۔ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پرجتنے حقوق ہیں ان میں سے چند قابل ذکر ہیں:
خلوص نیت کا ہونا :  اخوت کے حقوق میں سب سے پہلا حق یہ ہے کہ انسان اپنے بھائی سے جو محبت و مودت رکھتا ہو وہ صرف اور صرف اللہ تعالی کی رضا کے لئے ہو اس میں کوئی دنیوی غرض و غایت،لالچ اور حرص نہ ہو بلکہ یہ اخوت صرف اللہ کی خاطرہو، جیسا کہ   اللہ کے رسول  ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ پیدا ہوجائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا‘‘ان میں ایک  یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لئے محبت رکھے‘‘(صحیح البخاری کتاب الاِیمان  باب حلاوۃ الِایمان  ،ح :16)۔
 اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند کرنا جو اپنے لئے پسند ہو:اخوت کو مضبوط اور مستحکم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہ دوسروں کے لئے بھی پسند کرے۔اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے: ’’تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہوگا جب تک اپنے بھائی کیلئے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کیلئے چاہتا ہے‘‘(صحیح البخاری کتاب الاِیمان  باب من الِایمان أن یحب لأخیہ ما یحب لنفسہ  ،ح :13)۔
 اپنے بھائی کا ہر وقت معاون و مددگار بننا :اللہ تعالیٰ نے نیکی اور تقوی کے کاموں میں باہمی تعاون کی تلقین کی اور فرمایا: ’’اورنیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو‘‘(سورۃ  المائدۃ  آیت: 2)۔نیکی اور تقوی کے کاموں میں اپنے بھائی کی مدد و نصرت بھی شامل ہے اور انسان کو ہر حال میں اپنے بھائی سے تعاون کرنا چاہئے ۔اخوت کے اس متبرک  رشتے کو مضبوط رکھنے نیز اس کو فائدہ مند بنانے کے لئے آپس میں نصرت و امداد کا جزبہ موجود رکھنا اخوت کے حقوق میں شامل ہیں ۔اللہ کے رسول  ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اپنے بھائی کی مدد کر چاہے وہ ظالم وہ یا مظلوم‘‘(صحیح البخاری کتاب المظالم والغصب  باب أعن اخاک ظالما أو مظلوما  ،ح :2443)۔
(بقیہ اگلے جمعہ ایڈیشن میں ملاحظہ فرمائیں ؕ)