تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

27 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(   صدرمفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیراحمد قاسمی
سوال:-برائے کرم کشمیرعظمیٰ کے ان صفحات میں حج کا مکمل طریقہ بہت اختصار کے ساتھ درج فرمائیں تاکہ سفر حج میں جانے والے ایک مختصر اور مستند گائڈ پیپر ساتھ رکھیں۔
ارشاد احمد  -----رعناواری ،سرینگر
حج کا مخـتصر طــــریقہ
 
منیٰ: 8ذی الحج کو حج کا احرام باندھ کر سارے حاجیوں کومنیٰ روانگی نیت حج کریں ۔یہاں سے کثرت سے تلبیہ پڑھنا شروع ہوگا۔ منیٰ کا فاصلہ مکہ معظمہ سے تین چارکلومیٹر ہے اور پیدل جانا افصل ہے ، اگلی صبح تک منیٰ میں ٹھہرنا ہی عبادت ہے 8سے  9ذی الحج صبح تک نمازیں پڑھنا اورعبادتیں کرنا ہے ۔
عرفات:9ذی الحج کی صبح کو تمام حاجیوں کی منیٰ سے عرفات روانگی ،عرفات میں زوال کے بعد سے غروب آفتا ب تک کا وقت نہایت اہم اور قیمتی ہے ۔ روئیں ، گڑگڑائیں ،اُٹھتے بیٹھتے اور کھڑے ہوکر شام تک دعائیں ہی مانگتے رہیں۔شام میں ضرور جبل رحمت پر جاکر دعائیں مانگیں کیونکہ اسی پہاڑ پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کا خطبہ ارشادفرمایا تھا۔ عرفات کا فاصلہ منیٰ سے چھ کلومیٹر ہے ۔ تھک جانے کا اندیشہ نہ ہو تو پیدل ہی جانا افضل ہے ۔عرفات میں ظہر کے بالکل شروع وقت میں مسجد نمرہ میں نماز ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ہوگی یہی شریعت کا حکم ہے اور آفتاب غروب ہونے تک عرفات میں ہی رہنا ہے اور مغرب کی نمازپڑھے بغیر یہاں سے مزدلفہ جاناہے ۔
مزدلفہ: 9ذی الحج شام کے قریب مزدلفہ روانگی ، یہ رات بڑی بابرکت ہے ، ضائع نہ کریں ، رحمتیں نازل ہونے کی رات ، قبولیت کی رات، بخششوں کی رات،حضور اکرم ؐ کی امت کے واسطے آخری دعائوںکو  اللہ نے یہیں قبولیت بخشی تھی ۔مزدلفہ کا کل فاصلہ عرفات سے تین کلو میٹر ہے ۔ پیدل جانا زیادہ افضل ہے جس طرح عرفات میں ظہر اور عصرملا کرپڑھے تھے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء ملا کر پڑھنا ہے اور رات بھر عبادت کرناہے اور صبح فجرکی نماز بھی یہیں اداکرناہے۔
مزدلفہ منی :10ذی الحج بعد نماز فجر سورج نکلنے کے وقت قریب آجائے ، منی کے لئے روانگی ۔ زول سے پہلے سات کنکریاں سات دفعہ میں کلمہ والی انگلی اور انگوٹھے سے پکڑ کر مارنا ہر بار بسم اللہ اللہ اکبر کہنا ضروری ہے ۔ شیطان کوکنکریاں مارنے کے بعد تلبیہ پڑھنے کا سلسلہ ختم ہوجاتاہے۔اس کے فوراً بعد قربانی کیجئے۔مزدلفہ سے منی تین کلو میٹر ہے ، آج بہت سارے اہم فرائض نبھانے ہیں سب سے پہلے تین جمروں (شیطانوں) میں جو آخرمیں ہے سات کنکریاں زوال سے پہلے اسی کومارنی ہے ، کنکریاں مارتے وقت منیٰ داہنی جانب اور مکہ معظمہ بائیں جانب ہو خیال رکھیں ۔ کنکریاں مارنے کے بعد قربان گاہ جا کر جانور کی قربانی کرکے سر کے بال منڈوائیے۔
مکہ معظمہ :10ذی الحج زول کے بعد قربانی اور اس کے بعد مکہ معظمہ روانگی حج زیارت کے لئے وہاں عمرہ کے طور طریقے پر ہی حج زیارت ہوگی ، نیت حج طواف زیارت ہوگی ۔مکہ معظمہ کا فاصلہ منیٰ سے تین کلو میٹر ہے ،پیدل یا گاڑی پر جاکر قربانی کے بعد بھی حج کا احرام بھی ختم ہوگا چاہیں تو دوسرے کپڑے پہن لیںیا پھر اسی احرام کی حالت میں مکہ معظمہ میں جاکر اللہ کے گھر کا طوافِ زیارت کریں ۔ 
مکہ معظمہ طواف زیارت :10ذی الحج آج ہی کے دن منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنا ہے ، زوال کے بعد قربانی کرناہے اور آج ہی مکہ معظمہ جاکر حج زیارت بھی کرناہے ۔ طریقۂ طواف وہی عمرہ کے طریقے سے ہوگا۔ طواف سے فارغ ہوکر طواف کے بعد والی دو رکعتیں پڑھیں اور ملتزم پر جاکر دعا کریں ۔یہ طواف زیارت اور اس کے بعد کی سعی اگر کسی وجہ سے 10ذی الحج کو نہ کی جاسکے تو 12ذی الحج کو غروب سے پہلے تک کی جاسکتی ہے ۔منیٰ میں کنکریاں مارنے کے بعد جوتلبیہ حج کا احرام باندھتے وقت شروع ہوا تھا اور جس کو چلتے پھرتے اُترتے چڑھتے آپ برابر پڑھے تھے ، اب وہ سلسلہ ختم ہوگا کیونکہ اب اس کا حکم نہیں رہالیکن ذکر کرکے دوسرے کلمے پڑھنا لازم ہے قربانی کے بعد سر کے بال منڈوانے کے بعدآپ کے حج کااحرام بھی گویا ختم ہوگیا اور مکہ معظمہ جاکے طواف زیارت کے بعد آپ سلے ہوئے کپڑے پہن سکتے ہیں اور بیوی سے ہمبستری کے علاوہ وہ سارے کام کرسکتے ہیں جو احرام کی وجہ سے آپ کے لئے منع ہوگئے تھے ۔
رمی منیٰ:11، 12،13ذی الحج کی رمی ،ان تین دنوں کے لئے مکہ معظمہ سے پھر منیٰ آنا ہے۔یہاں 11,12کو تینوں جمروں کی رمی کرناہے۔ یعنی تینوں ستونوں کو کنکریاں مارنی ہیں ۔صرف گیارہویں او ر بارہویں کو رمی کرکے وہاں سے آجانا بھی جائز ہے لیکن اگر 13ویں کو بھی وہاں ٹھہرکرادن بھی رمی کرکے واپس ہوں تو یہ کہیں زیادہ افضل ہے ۔تینوں دنوں میں ہر روز جمروں کی رمی ہوتی ہے اور تینوں دنوں میں کنکریاں مارنے کا وقت زوال کے بعد کاہے ۔تین دنوں سے پہلے اور دوسرے جمرہ پر کنکریاں پھینکنے کے بعد جمرہ سے آگے بڑھ کر قبلہ رُخ کھڑے ہوکر کچھ دیر تک ضرور دعا کرناچاہئے البتہ آخری جمرہ کی رمی کرکے دعا کرنی چاہئے ۔بغیر دعاکے واپس آجائیے۔
رُخصتی مکہ معظمہ الوداعی طواف:-۱۲،۱۳ ذی الج منیٰ سے مکہ معظمہ واپس آنے پر الحمد للہ اب آپ کا حج پورا کا پورا ادا ہوگیا ہے بس ایک آخری رخصتی طواف باقی ہے جو مکہ معظمہ سے رُخصتی کے دن آپ کو کرناہے ،اللہ کے گھر سے رُخصتی کی جلدی بالکل نہیں کرناچاہئے ۔ حج کے ۱۳ ذی الحج تک کے سبھی ارکان پورے ہونے پر لوگ مکہ سے جلد ازجلد جانے کی تیاریوں میں لگ جاتے ہیں اور الوداعی طواف کرتے ہیں جس میں کعبہ شریف کی جدائی کا غم آخری مرتبہ آب زم زم شریف ،ملتزم پر جاکر لپٹ کررونا ، حجراسود کاآخری دیدار یہ سب حج کی قبولیت کے درجات ہوتے ہیں۔
نوٹ:-اگر آپ حج کے پہلے مدینہ منورہ میں اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاراقدس پر حاضری دے کر آگئے ہیں تب آپ کو دوبارہ مدینہ منورہ جانا نہیں ہے۔  ll
سوال:۱-اگر باپ اور بیٹی حج بیت اللہ کے لئے جانا چاہیں گے تو وہ کس طرح اور کیسے مناسک ادا کرسکتے ہیں ؟
سوال :۲-عام پر حاجی صاحبان حج پر نکلنے سے پہلے گھر گھر جاکر رُخصت لیتے ہیں ۔ دُھوم دھام سے کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں ۔پھر لوگوں کو کھانے کی دعوت دیتے ہیں ۔کیا اس کا کوئی جواز ہے ۔براہ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں ۔    
غلام محمد   …،اسلام آباد،کشمیر
 
باپ بیٹی کی ادائیگی ٔ حج
جواب:۱- باپ او ربیٹی اگر ایک ساتھ حج کے لئے جائیں تو ہ اُسی طرح ارکانِ حج اداکریں گے جیسے بیٹا اور ماں اداکرتے ہیں۔البتہ اُن ایام میں جب بیٹی نسوانی عذرکی حالت میں ہوتو جس طرح ممکن ہو باپ سے اس حالت کو چھپانے کی کوشش کرے باقی حج کے تمام ارکان مرد اور عورت دونوں کے لئے یکساں ہیں۔البتہ صرف طوافِ وداع عورت کو بوجہ عذرنسوانی معاف ہوجاتاہے۔ 
 
ادائیگی حج کے بعد شکرانے کی دعوت میں مضائقہ نہیں 
جواب:۲-حج سے پہلے بطور رسم گھر گھر جاکر معافی تلافی اور رُخصت واجازت اور دعوت کھانے او رکھلانے کا یہ سلسلہ شرعاً مطلوب اور پسندیدہ نہیں ہے جو یہاں کشمیر میں رائج ہے ۔ بہتر او رافضل طور یہ ہے کہ جس شخص کے ساتھ کوئی تلخی یا ناراضگی ہو، یا جس شخص کو کوئی بھی تکلیف پہنچائی ہو اس سے دل کی گہرائی سے خلوص اور طلب صادق کے ساتھ معافی تلافی کرائیں او رپھر بغیر کسی نام ونمود اور بغیر کسی شور وشرابے کے چپکے سے سفر حج پر روانہ ہوں ۔دعوت کھانے اور کھلانے کا سلسلہ سفر حج سے واپسی کے بعد بطور شکرانہ کے کیا جائے تو مضائفہ نہیں ہے ۔حج سے پہلے دعوتوں کا یہ سلسلہ نہ زمانۂ رسالتؐ میں تھا نہ دورِ صحابہؓ میں اور نہ ہی اس پر کسی اجروثواب کا کوئی وعدہ ہے ۔    lll
سوال: آج کل بڑی تعداد میں نوجوان لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو منہ بولا بھائی بہن وغیرہ جتلا کر فون پر گھنٹوں باتیں کرتے ہیں ۔کیا اس طرح سے کوئی کسی کا بھائی یا بہن بن جاتاہے اور پھر کیا بھائی بہن کی طرح اپنی نجی زندگی کے مسائل شیئر کرنا صحیح ہے ۔ کیا اس طرح سے فون کے ذریعہ یا پھر انٹرنیٹ کے فیس بُک وغیرہ کے ذریعہ غیر محرموں کا آپس میں دوستیاں گانٹھنا شریعت کی رو سے جائز ہے ۔ براہ کرم مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔
عبداللہ شوپیانی 
 
نامحرموں کا موبائل ، انٹرنیٹ اور فیس بُک کے ذریعہ دوستیاں گانٹھنا شیطانی خطرات کا حامل 
 
جواب:- نوجوان لڑکوں او رلڑکیوں کا اس طرح باتیں کرنا سراسر حرام ہے ۔ چاہے موبائل فون کے ذریعہ یا انٹرنیٹ کے ذریعہ یا فیس بُک کے ذریعہ ہو۔ پھر اس پر یہ کہنا کہ یہ میرا منہ بولا بھائی یا بہن ہے ۔ یہ دراصل اپنے جرم پر پردہ ڈالنے اور ایک حرام کو حلال بنانے کی غیر شرعی شیطانی کوشش ہے ۔ 
نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اولاً اس طرح کی گفتگو سے آغاز کرتے ہیں او رپھر عشق بازی اور آگے بدکاری کے جال میں پھنس جاتے ہیں ۔اس وقت جو نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بے حیائی اور بدکاری کے دلدل میں لت پتہیں اور پھر اُس کے نتیجے میں صورتحال اُس طرف جارہی ہے کہ کسی پاکدامن لڑکے یا لڑکی کا ملنا خواب بن جائے گا۔ یہ سب اسی شیطانی سلسلہ کا تلخ نتیجہ ہے ۔
اس وقت جنسی جذبات کے بے قابو ہونے کا حال یہاں تک پہنچ چکاہے کہ حقیقی بھائی بہن اگر جوان ہوں ،فحش فلمیں دیکھتے ہوںاور ناچ گانے کے ماحول میں ہوں توحقیقی بھائی بہن ہونے کے باوجود شیطانی حملوں کا شکار ہوسکتے ہیں اور اس طرح کے حادثہ ہوسکتے ہیںجو سوچنا بھی مشکل ہے ۔جب حقیقی بھائی بہن کو خطرے ہیں تو کسی بھی نامحرم چاہے وہ قریب ترین رشتہ دار کیوں نہ ہواُس سے فون پر رابطہ قائم کرنا ہی حرام ہے اور زیادہ ہی خطرہ ہے ۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ اے نبی کی بیویو! اگر تم سے کوئی نامحرم بات کرے تو کرخت اور تلخ لہجے میں جواب دو ۔تاکہ اُس کے نفس میں تمہارے متعلق غلط خیال پیدا نہ ہوں ۔ (سورہ احزاب)
اسی لئے عورتوں کو حکم ہے کہ وہ کسی بھی نامحرم سے بات ہی نہ کریں اور اگر مجبوراً بات کرنی پڑے تو بہت پھیکے اور ناگوار انداز میں کریں تاکہ یہ آگے غیر شرعی تعلقات کا ذریعہ نہ بنے۔
جب مسلمان اس حکم کو چھوڑ دیتے ہیں تو اس سے کیسے کیسے جرائم وقوع پذیر ہوتے ہیں وہ ہمارے معاشرے میں چاروں طرف سے نمایاں ہیں ۔لڑکوں کے لڑکیوں سے غلط تعلقات، مردوں کے دوسروں کی بیویوں کے ساتھ اور عورتوں کے دوسرے مردوں کے ساتھ روابط اور پھر کتنوں کی زندگیاں تباہ وبرباد ہورہی ہیں ۔
اس لئے کسی مسلمان لڑکے یا مرد کے لئے اور کسی مسلمان عورت یا لڑکی کے لئے ہرگز یہ رابط اور بات چیت کاسلسلہ جائز نہیں ہے۔
حق یہ ہے کہ کامیاب لڑکا وہ ہے جو نکاح کے بعد اپنی زوجہ سے ڈنکے کی چوٹ پر یہ کہہ سکے کہ میرے روابط کسی نامحرم کے ساتھ نہیں ۔میرادل بھی پاک ، جسم بھی پاک اور نگاہ بھی پاک ہے ۔ میری عفت بھی محفوظ اور میری حیاء بھی برقرار ہے۔اورکامیاب بیٹی وہ ہے جو اپنے ہونے والے شوہر کو رخصتی کے بعد پہلی ہی ملاقات میں یہی سب کچھ کہے اور اس میں وہ سچی بھی ہواور یہ اسی صورت میں ہوگا جب موبائل ،فیس بک اور انٹرنیٹ وغیرہ کے اس جال میں اپنے آپ کو پھنسانے سے بچا کر اپنی جوانی کے نازک دن گذاریں۔