تازہ ترین

غزلیات

22 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 لاکھ چہروں میں نظر آتی ہے صورت کوئی 
کون سمجھے گا محبت کی ضرورت کوئی 
 
رنگ بھرتی ہے مرے شعر میں طاقت کوئی 
استعارہ کوئی، فن کوئی، علامت کوئی 
 
دل کے ایوان پہ کرتا ہے حکومت کوئی 
جانتا خوب ہے نظروں  کی سیاست کوئی
 
وہ تو بدنام ہے گلشن کی فضاوءں میں بہت 
شاخ پر کرتا ہے پھولوں کی  حفاظت کوئی
 
اس کے پیچھے ہے کوئی نور کا دریا بہتا 
میں یہ کہتا ہوں ' ہے سورج بھی علامت کوئی 
 
ایک طوفان سمندر میں گرجتا ہے بہت 
دے رہا ہے مجھے ساحل کی بشارت کوئی
 
کتنے نمکین تھے پہلے ترے آنسو عادلؔ
کرتا ہے لذتِ گریہ سے شکایت کوئی 
 
اشرف عادلؔ
کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر ،رابطہ؛ 9906540315 
 
 
وقت تنہا تیری یادوں میں گزر جاتا ہے 
عکس آنکھوں میں ٹھہرتا ہے اُتر جاتا ہے
 
ایک میں ہوں کہ زمانے کو بُھلا بیٹھا ہوں
ایک تُو ہے کہ گھڑی بھر میں مُکر جاتا ہے
 
پھڑ پھڑا اٹھتی ہیں سانسیں شبِ تنہائی میں
جانے کیا روگ ہے سینے سے اُبھر جاتا ہے
 
دستِ نازک مرے ماتھے پہ جو رکھ دیتے ہو
زخم دل کا ہو کہ پھر روح کا، بھر جاتا ہے
 
شمع تنہا نہیں جلتی ہے غمِ ہجراں میں
ساتھ اس کے تو یہ پروانہ بھی مر جاتا ہے
 
سانس کی ڈور سے نازک ہے یہ رشتہ جاوید ؔ
ایک بھی تار جو ٹوٹے تو بکھر جاتا ہے
 
سردار جاوید خان
مہنڈر، پونچھ،رابطہ؛ 9697440404
 
 
خدا جانے یہ کس نے خط پہ تیرا نام لکھا ہے
تمہارے واسطے شاید کوئی پیغام لکھا ہے
 
طلاطم خیز یہ دریا تیری آنکھوں سے ہے جاری
مجھے لگتا مرے خط میں کوئی الزام لکھا ہے
 
قلم عُریان کرتا ہے وہ پردوں میں بھی چُھپ جائیں
بھلے سے صبح صادق کو کسی نے شام لکھا ہے
 
حقیقت سے مُکر جانا یہ خصلت ہے فرنگی کی
غلاموں میں ہمارا بھی اُسی نے نام لکھا ہے
 
مسافرؔ نے ادائے حق کیا بے باک لفظوں میں
بڑی مدّت سے کس نے پھر خطِ گُمنام لکھا ہے
 
وحید قریشی مسافرؔ
باغات کنی پورہ، چاڈورہ، موبائل نمبر؛ 9419064259
 
 
خدا جانے یہ سچ تھا یا نہیں تھا
مقابل اُنکے تھا، پسپا نہیں تھا
بیاباں در بیاباں کربلا تھا
ہزاروں پیڑ تھے سایہ نہیں تھا
برستی رُت کا نوحہ کون کرتا
شجر پر ایک بھی پتہ نہیں تھا
مجھے مرنے کے بعد یاد آگیا ہے
جیا جس کیلئے، اپنا نہیں تھا
لہو دل، خواب آنکھیں اور آنسو
یہ سب کچھ تھا مگر چہرہ نہیں تھا
ہتھیلی پر لکھا تھا نام سیدؔ
مگر اس نے مجھے دیکھا نہیں تھا
 
سعید احمد سیدؔ
احمد نگر سرینگر، موبائل نمبر؛8082405102
 
 
توُ خوش رہے آباد رہے
ہر غم سے تُو آزاد رہے
 
تُجھکو نہ آ ئے یاد مِری
اپنے جہاں میں شاد رہے
 
پُرنم نہ ہوں آنکھیں تِری
میری دُعا ہے، یاد رہے
 
گاتے خُوشی کے گیت رہو
 ساتھی بجا تا ناد رہے
 
تُم نے کِیا تھا عشق منیؔ
بس اِسی لئے برباد رہے
 
ہریش کمار منیؔ
موبائل نمبر؛9596888463
 
 
  
توڑنے کی جو اس نے ٹھانی ہے
جو بھی اقرار ہے زبانی ہے
ایک وہ ہی نظر نہیں آتا
ہر طرف جس کی حکمرانی ہے
غم کا موسم اُداس سا موسم
جیسے خوشیوں کی رُت سہانی ہے
خواب کب سے نظر نہیں آئے
نیند سے دشمنی پرانی ہے
جیسے صحراؤں میں ہے ٹھہراؤ
ویسے دریاؤں میں روانی ہے
دل میں مہماں کے گھر بناتے ہیں
اپنا انداز میزبانی ہے
ہونٹ بھر مسکراہٹوں کے لیے
میں نے در  در کی خاک چھانی ہے
دایٔرے میں بندھی ٹکی ہر شے
اور دیکھو تو بیکرانی ہے
فائدہ گفتگو سے کیا ہو گا
تم نے کب میری بات مانی ہے
زندگی کاہے کی ہوئی یارو
اک تسلسل میں نوحہ خوانی ہے
وقت کتنا طویل ہے بلراجؔ
اور اک مختصر کہانی ہے 
 
 بلراج ؔبخشی،
۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی، 
اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر)
 
 
 
کِس کایُوں اِنتظار کرتا ہے
دِل کو کیوں بے قرار کرتا ہے 
 
یہ زمانہ کرے گا جور و جفا
ذِکر کیوں بار بار کرتا ہے
 
تجھ پہ کرتا ہوں زِندگی یہ نثار
تُو بھی کیا مُجھ سے پیار کرتا ہے
 
سِلسلہ یہ نہیں ہے رُکنے کا
دِل میں کیوں غم شُمار کرتا ہے
 
دور رہ کر جہانِ جاناں سے
خُود کو کیوں دِل فگار کرتا ہے 
 
جِس کی فِطرت میں پیار کرنا ہے 
وہ زمانے سے پیار کرتا ہے
 
وہ کہ اپنے سِتم سے ہی ہتاشؔ
خُود کو دُنیا میں خوار کرتا ہے
 
پیارے ہتاشؔ
دور درشن لین، جموں
موبائل نمبر؛8493853607
 
 
جون ایلیاکے شعر 
یہ غم کیا دل کی عادت ہے؟ نہیں تو
کسی سے کچھ شکایت ہے؟ نہیں تو
     کی طرح میں
 
کسی کی بھی ضرورت ہے؟ نہیں تو!
تو کیا دنیا سے نفرت ہے؟ نہیں تو !
سنا ہے اسکو تکتے رہتے ہیں سب
 وہ اُتنا  خوبصورت ہے؟ نہیں تو!
وفا،ماہ و مہر، اخلاص و الفت
اب ان لفظوں کی قیمت ہے؟ نہیں تو!
کوئی بچھڑا ہے ہم سے بن ملے ہی
اسے پانے کی چاہت ہے؟ نہیں تو!
بہت اُکتا گئے ہو زندگی سے 
وجہ اسکی محبت ہے؟نہیں تو!
تیری اس رائیگاں سی زندگی میں 
ابھی بھی کوئی حسرت ہے؟ نہیں تو!
بہت حیرت زدہ ہے زندگانی
کسی کو اس پہ حیرت ہے؟ نہیں تو!
ہیں بس بربادیاں مقسوم جس میں 
وہی تیری حکایات ہے؟ نہیں تو!
عقیل ؔاس بے مروت بے وفا سے
تمہیں کوئی شکایت ہے؟ نہیں تو!
 
عقیلؔ فاروق
طالبِ علم، شعبہ اُردو کشمیر یونیورسٹی سرینگر
موبائیل نمبر:-8491994633
 
 
نہیں کہتا ہوں میرے خانۂ دل کو مکیں دیدے
جو مثلِ صورتِ تُو ہو، مجھے وہ مہ جبیں دیدے
 
جہانِ جدل میں تنہا بپا ہنگامہ کرتا ہوں
میری آغوش میں درد آشنائے دل نشیں دیدے
 
تیرا جلوہ میری مایوس نظروں کیلئے راحت
میرے افسُردہ دِل کو گرمئی سوزِ یقین دیدے
 
ہوئی مُدّت نہ دیکھی رونقِ قلب و نظر ہم نے
میری محفل میں آکر جلوئہ ناز آفریں دیدے
 
گُمان و وہم سے آلودہ تر ہے زندگی اپنی
دِلِ آگاہ دے مجھ کو، نگاہ پاک بیں دیدے
 
اُجاڑا وادیٔ گُلپوش کو معلوم دشمن نے
اِلٰہی صبحِ رنگیں دے، ہمیں شامِ حسیں دیدے
 
مشتاق کاشمیریؔ
رابطہ، سرینگرموبائیل نمبر؛9596167104
 
 
رسوا کیا کہ داد دی؟پیدا سوال کر دیا
ساقی نے جام تو دیا لیکن اچھال کر دیا
 
آنکھوں کو اشک دے دیئے دل کو نڈھال کر دیا
تم نے تو قیدِ عشق سے مجھ کو بحال کر دیا
 
بزمِ تخیلات میں دل نے تو بات مان لی 
جسمِ طلب کو کیا کہوں جس نے سوال کر دیا
 
شیشہ دلِ حزیں کا جب چھلکا تو خوں ٹپک پڑا
چہرے پہ پھر سجا کے غمِ دل کو ڈھال کردیا
 
اس عشق کے خیال نے ، تیری طلسمی چال نے
ہر دن نئے سوال نے، جینا محال کر دیا
 
میرے تو ہوش گم ہی تھے، تم بھی کہاں پہ کھو گئے
عہدِ وفا کے نام پر تم نے کمال کردیا
 
ریلا تھا وقت، بہہ گیا! راشدؔ اکیلا رہ گیا
حالانکہ فرطِ عشق میں دل بھی نکال کر دیا
 
ڈاکٹر راشد ؔعزیز
شعبۂ اردو،سینٹرل یونیورسٹی کشمیر
موبائل نمبر؛ 8803766036
 
 
مجھ کو ہر روز سخاوت میں مزہ آتا ہے
اپنے مولا کی عبادت میں مزہ آتا ہے
کوئلیں شاخ پہ کرتی ہیں صبح الله ہو
اور مجھ کو بھی تلاوت میں مزہ آتا ہے
اپنی عادت ہے کہ چلتا ہوں جھکا کر آنکھیں
اپنے تن من کی طہارت میں مزہ آتا ہے
اُن کے ہونے سے میرے دل میں خودی آتی ہے
آلٕ احمدؑ کی مؤدت میں مزہ آتا ہے
پونچھ کر اشک، لگاتا ہوں انہیں سینے سے
ہاں یتیموں سے محبت میں مزہ آتا ہے
رزِق اچھے سے کمانا ہے جہادِ اکبر
اس ڈگر والی شہادت میں مزہ آتا ہے
اپنےگھر میں نہ اجازت ہے الگ چولہے کی
بھائی چارہ و اخوت میں مزہ آتا ہے
اجلے رنگوں سے سجائی ہے کیا تصویرِ جہاں؟
اس مصُوِر کی عقیدت میں مزہ آتا ہے
اپنے دشمن کو بھی سینے سے لگاتا ہے فلک
ان کو ہرگز نہ عداوت میں مزہ آتا ہے
جس کا جو حق ہے وہاں جاکے اسے ملتا ہے
ہاں نبیؐ جی کی عدالت میں مزہ آتا ہے
 
فلک ؔریاض 
حسینی کالونی۔چھترگام۔
فون۔9596414645