تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

20 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(   صدرمفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیراحمد قاسمی
خ: -عرض یوں ہے کہ مسئلہ ذیل کی وضاحت مطلوب ہے:۔
حج کی کتنی اقسام ہیں؟
  بعض لوگ کہتے ہیں کہ حج قرآن نہیں ہے اس کی وضاحت فرمادیں؟ نیز یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ نبی علیہ الصلوٰة والسلام نے کون سا حج کیا تھا۔ ہم لوگ کشمیر عظمیٰ نیٹ پر دیکھتے ہیں اس لئے ’کشمیر عظمیٰ‘ ہی میں جواب کے منتظر ہیں۔
انجینئر منظور احمد ریشی کشمیری
 

 حج کی اقسام اور حج قِران کی وضاحت

د:- حج کی تین قسمیں ہیں: حج افراد، حج تمتع، حج قِران۔
حج افراد یہ ہے کہ حج کا سفر کرنے والا میقات سے صرف حج کا احرام باندھے اور حج ادا کرنے تک اُسی احرام میں رہے۔ حج سے پہلے کوئی عمرہ نہ کرے۔ حج تمتع یہ ہے کہ سفر حج کےلئے روانہ ہونے والاشخص میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھے پھر مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ کرے اور احرام کھول دے۔ پھر آٹھ ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھے اور پھر حج کرے۔تمتع کے معنی فائدہ اُٹھانا ۔ جب کوئی شخص ایک سفر میں حج کے ساتھ عمرہ کرنے کا فائدہ اُٹھائے تو اس کو متمتع کہتے ہیں اوراس کا حج، حج تمتع کہلاتا ہے۔
حج قران یہ ہے کہ سفر حج کرنے والا میقات سے عمرہ اور حج دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھے اور دونوں کےلئے تلبیہ پڑھے۔ اگر حج و عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھنے کے باوجود صرف لبیک عمرةً پڑھے یا صرف لبیک حجة پڑھے تو یہ بھی کافی ہے لیکن چونکہ میقات سے حج و عمرہ دونوں کی نیت ایک ساتھ پائی گئی تو یہ قران ہوگا۔
قران کے معنی ملانا۔ چونکہ حج و عمرہ دونوں کو ایک ساتھ ملا کر نیت کی جاتی ہے اس لئے اس کو قرِان کہتے ہیں اور جس نے اس طرح کیا اُس کو قارن کہتے ہیں۔
حج کی یہ تینوں قسمیں احادیث سے ثابت ہیں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حج قران ثابت نہیں وہ یا تو جہالت کا شکار ہیں یا لاعلمی کی بناءپر ایسا کہتے ہیں یا بے جا تعصب و عناد میں مبتلا ہیں۔ حدیث و فقہ کے پورے ذخیرہ میں ان تینوں قسموں کا تفصیلی بیان موجود ہے۔ اس بات میں تو اختلاف ضرور ہے کہ حج کی ان تینوں اقسام میں سے افضل کونسا ہے لیکن حج قران کا منکر آج تک امت میں کوئی بھی پیدا نہیں ہوا ہے اس لئے جو شخص یہ کہے کہ حج قران ہے ہی نہیں اُس کے اس باطل قول کی طرف دھیان ہی نہ دیا جائے۔
دراصل کچھ لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر صرف انتشار اور کنفیوژن پیدا کرنے میں مشغول ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ یا تو اُن کی بات سرے سے سنی ہی نہ جائے یا محقق اہل علم سے صحیح بات معلوم کرنے کا اہتمام کیا جائے تاکہ غلط مسائل پیدا کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔
حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سا حج کیا تھا۔ افراد ،تمتع یا قرن، اس سلسلے میںروایات مختلف ہیں۔سترہ صحابہ سے صحیح سندوں کے ساتھ مروی ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج قران کیا تھا۔ پانچ صحابہ سے مروی ہے کہ حضور نے حج تمتع کیا تھا اور چار صحابہ سے مروی ہے کہ آپ نے حج افراد کیا تھا۔ اس اختلاف کی وجہ بھی شروحات حدیث مثلاً فتح الباری، عمدہ القاری، فیض الباری، لامع الدراای میں موجود ہے۔ یہ سب بخاری کی شروحات ہیں۔ اسی طرح فتح اعلہم شرح مسلم، معارف السنن شرح ترمذی میں موجود ہے۔ دراصل حضور نے ذوالحلیفہ سے صرف حج کا احرام باندھا اور لبیک پڑھ کر روانہ ہوئے یہ حدیث حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت جابر سے مروی ہے۔ اسی حدیث کی بناءپر امام مالک اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ حج افراد ہی افضل ہے۔
امام ابو حنیفہ، امام سفیان ثوری، امام اسحق وغیرہ کا کہنا یہ ہے کہ ذوالحلیفہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا لیکن جونہی وادی عقیق پہنچے تو آپ نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔ بس یہاں سے آپ کا حج، حج قران ہوگیا۔ یہ بات صحیح سے ثابت ہے اس سلسلے میں چند دلائل یہ ہیں:۔
صحیح بخاری میں روایت ہے ،حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ آپ سب لوگ حج اور عمرہ دونوں عبادات کر کے ساتھ واپس ہوں گے اور میں صرف حج کر سکی ہوں۔ اس سے واضح ہوا کہ حضور اور صحابہ نے حج و عمرہ دونوں کئے تھے۔ اب یہ دونوں یا تو تمتع میں ادا ہوتے ہیں یا حج قران میں ادا ہوتے ہیں۔ یہ بات طے ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کرنے کے بعد احرام نہیں کھولا ہے لہٰذا آپ نے حج تمتع نہیں کیا تو واضح ہوا کہ یہ حج قران تھا۔ حضور کا عمرہ کے بعد احرام نہ کھولنا صحیح احادیث میں موجود ہے۔
بخاری میں ایک دوسری حدیث ہے حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ سنا۔ آپ نے حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھا۔ یہ حدیث مسلم میں بھی ہے۔ حضرت انسؓ کی اس روایت کو بیس سے زائد تابعین نے نقل فرمایا ہے۔ اس سے بھی ثابت ہوا کہ آپ نے قران کیا تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے سفر میں عمرہ کا فائدہ بھی اُٹھایا۔ یہ حدیث نسائی میں ہے اب اگر آپ نے تمتع کیا ہوتا تو کہا جاسکتا تھا کہ آپ نے حج تمتع کیا مگر ایسا نہیں ہے۔ اس لئے قران ثابت ہے۔
بخاری میں حدیث ہے حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ وادی عقیق پہنچ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک (فرشتہ) آیا اور اُس نے کہا کہ آپ مبارک ترین وادی میں پہنچ گئے اس لئے حج کے ساتھ عمرہ کا تلبیہ بھی پڑھئے۔یہی حج قران ہے۔
صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ حضرت علیؓ نے حضرت عثمان سے عرض کیا کہ ہم نے ایک ہی سفر میں حضور کے ساتھ حج و عمرہ دونوں کا فائدہ اُٹھایا تھا۔ حضرت عثمانؓ نے فرمایا بے شک، یہاں بھی تمتع نہیں بلکہ قران ہی ہے۔ اس لئے کہ حضرت علیؓ نے یمن سے آکر جو نیت بیان کی تھی وہ یہ تھی جو حج حضور کا ہوگا وہی ہمارا بھی ہوگا تو حضور نے عمرہ کے بعد احرام نہیں کھولا تھا ۔ اس لئے حضرت علیؓ نے بھی اسی پر عمل کیا تو اُنہوں نے بھی قران کیا تھا۔
ترمذی میں روایت ہے کہ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، حضرت ابوبکرؓ نے اور حضرت عمرؓ نے اور حضرت عثمانؓ ایک ہی سفر میں حج و عمرہ دونوں کئے۔ یہ قران تھا کہ کچھ ا ور نسائی میں حضرت براءبن اعاذب کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ یمن سے حج کرنے آئے اور حضور سے مکہ میں ملاقات کی۔ حضور نے پوچھا تم نے کس حج کی نیت کی ہے ، اُنہوں نے عرض کیا جو آپ کی نیت وہی میری نیت ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا میں قربانی کا جانور لے کر آیا ہوں اس لئے میں نے قران کر لیا ہے۔اس حدیث میں صاف واضح ہے کہ حضور نے فرمایا میں نے قران کیا ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں مدینہ سے قربانی کا جانور لے کر آیا ہوں اس لئے میں نے حج و عمرہ کا قران کر لیا ہے۔
بخاری میں حدیث ہے۔ حضرت حفصہؓ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ لوگوں نے عمرہ کے بعد احرام کھول دیا ہے لیکن آپ نے کیوں نہیں کھولا تو حضور اکرم نے ارشاد فرمایا میں نے اپنے سر میں تلبیہ کیا ہے اور قربانی کا جانور لے کر آیا ہوں۔ اس لئے حج کے بعد جب قربانی ہو جائے گی اس وقت میں احرام کھولوں گا۔ یہی حج قران ہے۔
مسند احمد میں روایت ہے کہ حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا ۔اے محمد کے اہل خانہ عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھو۔ اس سے صاف واضح ہوا کہ آپ نے حج قران کا حکم دیا۔
خلاصہ یہ کہ قران کے متعلق یہ بات ثابت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حج قران ہی کیا تھا اور جو جو صحابی قربانی کا جانور لے کر آیا اُس نے بھی حج قران ہی کیا تھا جیسے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ وغیرہ۔ حج قران کرنے کا حضور نے حکم دیا۔ اس میں اجر و ثواب بھی زیادہ ہے۔ اس لئے کہ جتنی زیادہ مدت احرام میں گذرے گی اتنا ہی میل کچیل بھی زیادہ ہوگا اور تلبیہ بھی زیادہ پڑھا جائےگا ااور حج کے متعلق حضور نے فرمایا کہ یہ عج اور ثج ہے یعنی میلا کچیلا ہونا۔تلبیہ کثرت سے پڑھنا اور قربانی کرنا اسی لئے حضرت عبد اللہ بن عمر بھی بکثرت حج قران کرتے تھے جیساکہ بخاری و مسلم کی روایت میں موجود ہے۔
حدیث و شروحات حدیث کے حج کے ابواب میں یہ ساری بحث قبولیت حق سے پڑھی جائے تو اوپر کی حقیقت واشگاف ہو کر سامنے آئے گی۔ اس کے بعدکسی کے دجل و فریب میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں گے۔

دورانِ حج نمازوں میں قصر کرنا

پ:-ہمارے والد صاحب اس سال حج کےلئے جارے ہیں ایک مسئلہ نے اُن کو کنفیوژن میں ڈال دیا ہے۔ عرفات اور منیٰ میں اُن کو نمازیں کس طرح پڑھنی ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہر حاجی کو نمازوں میں قصر کرنا ضروری ہے جبکہ ہمارے پاس کچھ کتابیں ہیں اُن میں لکھا ہے کہ اگر مسافر ہوں تو قصر کریں ورنہ پوری پڑھیں۔ براہ کرم تفصیل سمجھائیں۔
خورشید احمد
ت:- سفر کوئی سا بھی ہو نمازوں کے قصر کرنے اور مکمل پڑھنے کے احکام ہر شرعی مقدارِ سفر میں یکساں ہیں۔
چنانچہ علمی، تجارتی،سیاحتی سفروں میں نمازوں میں قصر کرنے کا حکم ہے۔اسی طرح سفرِ حج میں بھی نمازوں میں قصر کرنے کا حکم ہے۔
اب اگر کوئی حج کے دوران شرعی مسافر ہے ہی نہیں تو اُسے ہرگز قصر کرنے کی اجازت نہیں مثلاً کوئی شخص مکہ مکرمہ میں ہی مقیم ہے یا وہ مکہ کا ہی باشندہ ہے تو ظاہر ہے جب وہ حج کی وجہ سے منی، عرفات مزدلفہ جائے گا تو اُس کےلئے قصر جائز ہو ہی نہیںسکتا۔ اس لئے کہ وہ مسافت قصر تک گیا ہی نہیں۔ مسافت قصر اڑتالیس میل ہے جو ستہتر کلو میٹر بنتے ہیں۔
ایسے شخص کو ہر جگہ اپنی نمازیں مکمل پڑھنی ہوں گی۔ اسی طرح جو حاجی مکہ مکرمہ میں پندرہ یوم مسلسل قیام کر چکا ہے تو وہ مقیم کے حکم میں ہے لہٰذا اُسے مقیم ہونے کی وجہ سے تمام نمازیں پوری پڑھنا ضروری ہے بلاشبہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم نے اپنے سفر حج میں ان تمام مقامات پر قصر پڑھی ہے مگر اس لئے نہیں کہ یہ قصر پڑھنا مناسک حج کا ایک جز ہے بلکہ اس لئے کہ وہ سفرِ شرعی کے حکم میں تھے۔ اور مکہ میں اُن کی مدت اقامت نہایت کم تھی۔ اس کے برخلاف حضرت عثمان غنیؓ نے نمازیں پوری پڑھیں اور وجہ یہ بیان فرمائی کہ میں نے یہاں مقیم ہونے کی نیت کرلی ہے۔
ظاہر ہے عملِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ اُن کے سامنے بھی تھا مگر اس کے باوجود اُن کا پوری نمازیں پڑھنا اسی امر کا واضح ثبوت ہے کہ قصر کا تعلق سفر سے ہے۔
لہٰذ ا ہر حاجی مکہ پہنچ کر حساب لگائے اگر آٹھ ذی الحجہ کی شام تک اُس کا پندرہ دن کا قیام تسلسل کے ساتھ طے ہو جاتا ہے تو یہ حاجی مقیم مکہ کہلائے گا اور اب اسے قصرکرنا جائز نہ ہوگا۔ نہ منیٰ میں، نہ عرفات میں اورنہ مزدلفہ میں۔اور اگر کسی کے پندرہ دن پورے نہ ہوں تو وہ مسافر ہی رہے گا۔ اُسے ہر جگہ قصر کرنا ہوگا۔
یاد رہے پندرہ دن کی مدت آٹھ ذی الحجہ تک ہی شمار کرنی ہے اگر حج سے پہلے اور حج کے بعد کے ایام جمع کر کے پندرہ دن ہو جائیں تو یہ شخص بھی مسافر ہی رہے گا تو اُسے قصر ہی کرنا ہوگا۔ جو لوگ قصر کرنے پر اصرار کریں اُن کے اصرار کے سامنے اپنی نمازیں خراب کرنے کاشدید نقصان ہرگز نہ کیا جائے اور اُن سے عرض کر دیا جائے کہ آپ کو قصر پر ہی اطمینان ہو تو آپ جانیں مگر ہمارا پیچھا چھوڑ دیں۔
