تازہ ترین

جہیز۔۔۔۔حرص وہوس کی بیماری

دستک

19 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد فیصل افضل
 کہنے کو سبھی قومیں زندہ ہوتی ہیں لیکن بہ نظرغائر دیکھا جائے تو زندہ کہلانی والی قومیں بہت کم ہوتی ہیں۔قوموں کو بقا ء اور زندگی کے لیے اپنی اجتماعی اصلاح کرنی پڑتی ہے، حکومت ہو یا عوام ،فرد ہو یا قوم، بھیک یا محتاجی زندہ قوموں کو زیب نہیں دیتی۔ہماری ریاست میں مسلمان تو بہت ہیں لیکن اسلام بہت کم نظر آتا ہے، اکثر لوگ شارٹ کٹ مار کر راتوں رات امیر بننے کے چکر میں نفس کے ہاتھوں لٹتے ہیں تو کچھ کسی بھی حد کو پار کرنے پر تل جاتے ہیں اور اپنی عزت تک بھی داو پرلگادیتے ہیں ۔ہماری معاشرتی خرابیوں میں بیٹی والو ں سے جہیز کامطالبہ کرنے جیسی روایت بھی ایک بہت بڑی لعنت ہے جس میں مال و زر کے حریص بڑی بے غیرتی سے جہیز کی بھیک لڑکی والوں سے مانگتے ہیں اور رشتہ منہ مانگے جہیز کی شرط پر طے کرتے ہیں۔ بعض اوقات سب کچھ طے ہوجانے کے بعد جب شادی کے کارڈ چھپ جاتے ہیں تو اپنے بھاری بھرکم جہیزی مطالبات سامنے رکھ دیے جاتے ہیں ۔ایسے لوگوں کے معیادر دوہرے ہوتے ہیں ،اگر ان کی اپنی بیٹی کی شادی ہو تو وہ توقع کرتے ہیں کہ ان سے کم سے کم جہیز کا مطالبہ کیا جائے اور وہ جہیزکو کھلے عام لعن طعن کرتے نظر آتے ہیں مگر بات جب اپنے بیٹے کی ہو تو دوسروں کی بیٹی کو اپنی بیٹی نہیں سمجھتے اور جہیز کے حوالے سے پینالٹی سٹروک لگانے کے چکر میں رہتے ہیں اور بڑئے خوبصورت منجھے ہوئے انداز میں اپنے مطالبات کمال ڈھٹائی سے گنوادیتے ہیں۔
 
آج کسی بھی فرد کی فیس بک پوسٹس اور سٹیٹس دیکھ لیں تو یوں لگتا ہے جیسے آپ اخلاقی لحاظ سے دنیا کی کسی بہترین شخصیت کو ملاحظہ فرمار ہے ہیں لیکن عملی طور پر اکثریت کا کردار اس کے برعکس ہوتا ہے۔ شخصیت کی یہ خوبصورتی کسی دکھلاوے اور دھوکے سے کم نہیں ہوتی۔ یہ سب جانتے ہیں کہ غیر اسلامی اور غیر انسانی رسم و رواج کی وجہ سے غریب غرباء کی نیک پاک پارسا بیٹیاں بے بسی اور بے چارگی کی چادر اوڑھے حجاب و حیاء کی چار دیواری میں بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہوجاتی ہیں ۔والدین اپنی غربت افلاس اور غیر اسلامی رسم و رواج کی وجہ سے ان کی شادی خانہ آبادی کا اہتمام نہیں کرسکتے اور اگر کوئی بغیر جہیز کے اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے کر بھی دیں تو خانہ آبادی نہیں بلکہ خانہ بربادی مقدر ہو جاتی ہے ۔اپنے بیگانے اور بیگانے دیوانے ہوجاتے ہیں، بہو کے گھر آتے ہی سسرال والے طرح طرح کے طعنے دینے لگتے ہیں ۔زمانہ جاہلیت والا ظلم تو یہ ہے کہ ہم سب جانتے ہیںجو والدین اپنی نازوں میں پلی لاڈلی بیٹی جوان کی غم گسارتھی کو غیر کے سپرد کردیا، جس کے بغیر وہ پل بھر بھی چین سے نہیں بیٹھتے تھے اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت کردیا ۔جو کچھ بن پڑا بطور جہیز دے دیا اپنی مفلسی اور غربت کے باعث نمودو نمائش اور فرسود رسومات سے پرہیز کیا مگر سسرال تو درکنار اپنے پرائے سب باتیں بناتے ہیں۔ غریب کی غربت اور مفلسی کا مزاق اڑاتے اور طعنے دے دے کر والدین کا جگر چھلنی کرکے خوب ستاتے ہیں ۔ان ضمیر فروش اور بے غیرت لوگوں کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ نادار و مفلس والدین تو بڑی مشکل سے گزراوقات کرتے ہیں ، حرام کھاتے نہیں اور حلال میسر نہیں آتا ۔ادھر انہیں جوان بیٹی کی ڈھلتی ہوئی جوانی پر ترس آتا تھا ایسے حالات میں مرتے کیا نہ کرتے خیر یہ پیشہ وروں کی بات ہے جو ہر اچھی بات کو برا سمجھتے ہیں ۔ان کی سنی اَن سنی کردینا تو ممکن ہے مگر بیٹی کے سسرال والے پہلے بیٹی بیٹی کہتے نہیں تھکتے تھے اور اب بہو بیٹی اور معمولی جہیز دیکھ کر نہ بہو نہ بیٹی دیکھتے دیکھتے ہی لوگ بدل جاتے ہیں اور ایک ہی چہرے پر کئی چہرے سجالیتے ہیں ۔ہمارے بڑے بڑے رہنما ، سیاسی ٹھیکیداراور افسران بالا غریب پرور غریبوں کے غمگسار گمراہ توہوگئے ہیں مگر انہیں دُکھی دلوں کی آہ سنائی نہیں دیتی ہے۔ اس سے بڑی جہالت اور غفلت اور کیا ہوگی کہ ہماری معصوم اور بے زبان بیٹیاں اپنے ارمانوں سمیت بوڑھی ہورہی ہیں مگر کرتا دھرتا لوگ اس معاملے میں اندھے بہرے گونگے اور پتھردل بن کر تماشہ دیکھ رہے ہیں؟
 
ہم یورپی ممالک کی تنقیدیں کرتے نہیں تھکتے حالانکہ وہاں تو جہیز کا کوئی تصور ہی نہیں مگر ہم نے ’’جہیز دو دولہا لو‘‘کو اپنا سلوگن بنالیا ہے ۔جہیز کی بھیک مانگ کر غریب لڑکی والے کا گھرانہ لوٹ کر اوراس کی جمع پونجی اجاڑ کر ہمیں شرم تو نہیں آتی کہ ماں باپ نے اپنی جوانی کی توانائیاں اپنی بیٹی پر صرف کرکے اسے پال پوس کر جوان کیا ،تعلیم و تربیت دی اور اس کے بدلے خود بڑھاپا کمایا ،والدین کی اس عظیم پرورش کا صلہ دینے کی بجائے مال و زر کی بھیک مانگنے سے بھی گریز نہیں کرتے ،اگر بیٹی کے والدین صاحب استطاعت ہیں تو پھر بھی ان کی مرضی منشاء پر چھوڑ دینا چاہیے کشکول لے کر سوال نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس ذلیل روایت کو ختم کرنے میں اپنے حصے کا دیا جلانا چاہیے ۔ہمارے سرور کائنات فخر موجوداتؐ کی عملی مثال موجود ہے کہ آپ ؐ نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی شادی کتنی سادگی سے سرانجام دی اور پھر ساتھ میں کیا دیا، وہ ساری دنیا جانتی ہیں ۔ آپؐ نے جہیز جمع کرنے کی بجائے وقت پر اپنی بیٹی کی شادی خانہ آبادی فرمادی۔ عرب کی طرح ہمارے معاشرے میں بھی دولہے کو چاہیے کہ محنت کرکے شریک حیات اور اپنی ضروریات زندگی کا انتظام خود کرے اور سسرال والے اپنی حیثیت اور مرضی کے مطابق اگر اپنی بیٹی کو کچھ دیں تو ٹھیک، لیکن لڑکے والے جہیز کو بھیک جان کر اس کا ہر ممکن  بائیکاٹ کریں ۔بیٹی والوں کو بھی جہیز کی بجائے اسلام کے مطابق موروثی جائیداد میں دولہن کا پورا حق اسے دینا چاہیے۔
 
