تازہ ترین

شوہر برائے نیلامی

بولی کتنی لگے جی!

19 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

مستنصرحسین تارڑ
میری بیگم مسکرائے چلی جارہی تھی۔ میں بھی مسکرارہا تھا۔
میری بیگم پتہ نہیں کیوں نہیں کیوں مسکرائے چلی جارہی تھی لیکن میں ریلوے کا ایک اشتہار جو اس روز اخبار میں چھپا تھا دیکھ رہا تھاا ور مسکرارہاتھا۔ اس میں ایک ریلوے لائن کی تصویر تھی کچھ فاصلے پر ریلوے کاایک انجن کھڑا تھا۔ ریلوے لائن کو چن دبھینسیں یا بھینسے عبورکررہے تھے اور اشتہار ہر لکھاتھا خبردار! ریلوے پھاٹک عبور کرتے وقت ہمیشہ رکیے۔ ریلوے پھاٹک کو عبور کرنے سے پہلے رک کر دونوں جانب دیکھیں کہ کہیں گاڑی تو نہیں آرہی۔ یہ اطمینان کرنے کے بعد ہی پھاٹک عبورکریں۔ احتیاط کیجیے اور خطرناک حادثات سے بچئے ۔آپ کاتعاون‘ حفاظت کاضامن۔۔۔ ریلوے اور تصویر میں دورد ور تک کسی ریلوے پھاٹک کانام ونشان تک نہ تھا اور چند مویشی ریلوے لائن کو عبور کررہے تھے، شاید ریلوے والوں نے یہ اشتہار مویشیوں کے لئے ہی اچھایا تھا اور میرے لئے نہیں تھا۔ اب پتہ نہیں مویشی اخبار دیکھتے ہیں یا نہیں۔ اگر دیکھتے ہیں تو کون سا اخبار دیکھتے ہیں۔ ریلوے والوں کے لئے لمحہ فکریہ۔۔۔ کہیں ان کے اشتہار ضائع تو نہیں جارہے؟ انہیں مویشیوں کی بجائے انسان پڑھ رہے ہیں۔ 
 
میری بیگم ابھی تک مسکرائے چلی جارہی تھی۔ یہ کچھ کچھ تشویش ناک بات تھی کہ میری بیگم اتنی دیر سے باقاعدہ مسکرائے جارہی تھی کیونکہ اس کاکہنا تھا کہ شادی سے پیشتر انسان کوجی بھر کے مسکرالینا چاہئے ،اس کے بعد گنجائش نہیں رہتی ۔بیگم کا باقاعدگی سے مسکرانے پر مجھے تھوڑا ساشک بھی ہوا کہ کہیں ماشاء اللہ اللہ ،میرا مطلب ہے خدانخواستہ کوئی دماغی خلل وغیرہ توظہور پذیر نہیں ہوگیا۔۔۔ 
 
کیوں بھئی بیگم !آج شاید صبح انتہائی خوبصورت ہے عشق وپیچاں کے سرخ اور سفید پھول کھلے ہوئے ہیں اور ہار سنگھار کے پھول درخت سے سفید آنسوؤں کی طرح ٹپ ٹپ گررہے ہیں جو تم مسکرائے چلی جا رہی ہو؟ میں نے بالآخر زبان کھولی۔ 
 
بیگم نے مسکراہٹ فوراََ سمیٹ لی اور حسب معمول خشمگیں نگاہوں سے مجھے دیکھا اور کہنے لگی‘ اس عمر میں بھی عشق وپیچاں کے حوالے دیتے ہو ،کچھ شروم کرو۔ 
 
میں نے عرض کیا کہ اس پھول کو انگریزی میں مارننگ گلوری یاآئی پومیا کہتے ہیں اور اْردو میں عشق وپیچاں ہی کہا ں جاتا ہے تو اس میں میرا کیا قصور؟ 
 
بیگم کہنے لگی‘  بس مارننگ گلوری کہہ لیاکرو۔ اس کے بعد اس نے سرجھکایا اور اخبار پڑھنے لگی۔ 
 
یہ ایک ایسی صبح تھی جب بچے سکول جاچکے تھے اور ہم دونوں ناشتے سے فارغ ہو کر اپنے اخباروں پر سر جھکائے امن اور آشتی کی ایک فضا میں سانس لے رہے تھے۔ 
 
تھوڑی دیر کے بعد میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو بیگم پھر مسکرارہی تھی۔ 
 
کوئی خاص خبرہے؟ میں نے پوچھا
 
ہاں تمہارے سفر ناموں کاپول کھل گیا ہے’’ وہ خوش ہوکر بولی! یہ دیکھو‘‘ اس نے اخبار میں چھپی ایک خبر پر انگلی رکھ دی اور پڑھنے لگی’’ ہیمبرگ (مغربی جرمنی) جرمن عورتیں کس قسم کے مرد پسند کرتی ہیں یہ معلوم کرنے کیلئے جب ایک جریدے نے سروے کیا تو پتہ چلا کہ جرمن عورتیں نیلگوں آنکھوں والے سنہری بالوں والے‘ دبلے پتلے‘ داڑھی مونچھ صاف اور تقریباََ چھ فٹ لمبے مرد کو پسند کرتی ہیں جب کہ توندوں والے مردانہیں سخت ناپسند ہیں۔ 
 
اس خبر کا میرے سفرناموں سے کیا تعلق؟ میں نے ناراض ہو کرسوال کیا۔ 
 
کیا تمہاری آنکھیں نیلگوں ہیں؟ بیگم نے پوچھا 
نہیں۔ 
تم سنہری بالوں والے ہو؟ 
ہر گزنہیں‘‘ 
دبلے پتلے ہواور قد چھ فٹ ہے؟ 
نانانانا نا‘‘ 
تو تم میں کوئی ایک بھی خاصیت ایسی نہیں پائی جاتی جو جرمن خواتین پسند کرتی ہیں؟ 
اس خبر کے حوالے سے تویہی ثابت ہوتا ہے۔ 
تو پھر جرمنی کے حوالے سے تم نے اپنے سفر ناموں میں جو کچھ لکھا ہے۔ خاص طور پر خواتین کے حوالے سے وہ سب کچھ تو پول کھل گیا۔ 
 
بھئی یہ بہت پرانی بات ہے جب ہم سیاحت پر گئے تھے‘‘ میں نے کھسیانے ہو کر جواب دیا‘‘ ان دنوں جرمن خواتین کے پسند ناپسند کے پیمانے مختلف ہواکرتے تھے اور آپس کی بات ہے میں یہ نہیں ہوا کرتا تھا۔ جواب ہوں قدرے مختلف ہوتا تھا اور بہت بہتر ہوتا تھا۔یہ زوال جو ہے یہ تو شادی کے بعد کی بات ہے۔ 
 
بیگم کی مسکراہٹ تھمنے میں نہیں آرہی تھی اور یہ مسکراہٹ میرے سفرناموں کا پول کھلنے کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ یہ اس کی روح کی گہرائیوں میں سے پھوٹ پھوٹ کر اس کے چہرے پر چمک رہی تھی اور خوشی اور مسرت کے دمکتے ہوئے ذرے اس کے ہونٹوں پر بکھیررہے تھے۔ وغیرہ وغیرہ 
 
بیگم کیاتم اپنی مسکراہٹ کی اصل وجہ بتاسکتی ہو؟ میں نے بے حد نرم اور مودہانہ انداز میں دریافت کیا۔ 
 
ہاں بتا سکتی ہوں‘‘ اس نے بھی بے حدنرم لیکن رعب دار انداز میں کہا’’ میں یہ سوچ رہی تھی کہ تم کتنے میں فروخت ہوسکتے ہیں۔ 
 
ہیں؟ حیرت اور غصے سے میری آنکھیں پھیل گئیں‘‘ غضب خداکاتم مجھے فروخت کرنا چاہتی ہو؟ایک انتہائی سلیقہ مندوفاشعار اور ’’ جی حضور‘‘ قسم کے شوہر کو بیچ دینا چاہتی ہو؟ 
 
نہیں فی الحال تو نہیں تو صرف سوچ رہی تھی کہ تم کتنے میں بک سکتے ہو۔ دیکھوناں ہم ہر معاملے میں مغرب کی پیروی کرتے ہیں تو لنڈن کی ایک خبر ہے کہ ایک بیوی نے اپنے کاہل اور سست شوہر کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پریشاں حال خاتون نے اپنایہ اشتہار شائع کروایا ہے کہ ایک شوہر فروخت کے لئے موجود ہے۔ قیمت صرف پانچ سوروپے اور اس میں کمی بھی ہوسکتی اور تم خو دبھی مانتے ہو کہ تم کاہل اور سست ہو۔ 
 
اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ مجھے باقاعدہ فروخت کردیاجائے‘‘ میں بے حداَپ سیٹ ہورہاتھا’’ نہیں‘‘ بیگم نے ناک چڑھا کر کہا’’ تم کس طرح فروخت ہوسکتے ہو۔ تمہیں تو کوئی مفت میں بھی نہ قبول کرے۔ 
 
 میں بھڑکا ’’ مجھے نہیں، مستنصر حسین تارڑ کو کوئی مفت میں نہ قبول کرے۔ میں تو لاکھوں کا ہوں۔ تم ذرا میری کلیرنس سیل لگاکر تودیکھو ۔ تمہیں لگ پتہ جائے گا کہ میں کتنا قیمتی ہوں اور کتنی جلدی فروخت ہوتا ہوں۔صرف ایک چھوٹا اشتہار اخبار میں دے دوکہ۔۔۔۔!‘‘ 
 
اس تقریر کے دوران بیگم کچھ میں جاچکی تھی اور میں خواہ مخواہ میز بجابجا کراپنے آپ کوقابل فروخت کموڈٹی ثابت کررہاتھا۔ میرا موڈ آف ہوچکا تھا۔ یہ تو شرافت کا زمانہ ہی نہ تھا۔ آپ اگر نظریں نیچی کرکے سرجھکائے اپنی بیگم کی ہاں میں ہاں ملاتے رہیں تو وہ بجائے اس کہ آپ کی قدر کرے آپ کو فروخت کرنے کے بارے میں سوچنے لگتی ہے۔ یہ مجھے ایسے شریف شوہروں کے ساتھ بے حد زیاتی تھی۔ 
 
لیکن فرض کیجیے اگر سچ سچ مجھے فروخت کردیاجائے تو کتنی آمدنی ہوگی؟ میں نے سوچا۔ 
 
مصر کے اس بازار میں کون کون آئے گا اور کیاکیا لائے گا۔ 
 
چائے کادوسرا کپ ابھی پیوگے یاتھوڑی دیر کے بعد؟ کچن میں سے بیگم کی آواز آئی۔ 
 
تھوڑی دیر کے بعد‘‘ میں نے جواب دیا۔ 
 
میری فروخت کااشتہار کس قسم کاہوگا؟انتہائی آفت انگیز بھی ہوسکتا ہے اور دردناک بھی ہوسکتا ہے اور صرف حائق بیان کردینے والا بھی ہوسکتا ہے۔۔۔ میں نے سوچا کہ لگے ہاتھوں اپنی فروخت کاایک عدد اشتہار کیوں نہ تیار کرلیا جائے تاکہ بوقت ضرورت بیگم کے کام آجائے اشتہار کی عبارت کچھ یوں ہوسکتی ہے۔ 
 
شوہر کی لوٹ سیل۔ 
 
پہلے آیئے پہلے پائیے کی بنیاد پرایک شوہر برائے فروخت جہاں ہے جیسا ہے جیسا بھی ہے کہ ایک شوہر فروخت کے لئے کم ازکم زندگی کے پچھلے پندرہ برسوں میں انتہائی شریف‘ سلیقہ شعار اور ’’ جی بیوی‘‘ ہاں بیوی‘‘ کہنے والا۔ 
 
ایک ہی گرج سے پلنگ کے نیچے گھس جانے والا قابل اعتماد شوہر۔ 
 
پھر نہ کہنا ہمیں شوہر فروختگی کی خبر نہ ہوئی۔ 
 
ہم نے الگ باندھ کے کوئی مال نہیں رکھا‘ صرف یہی مال ہے اور کیامال ہے۔ بیوی کی موجودگی میں دیگر خواتین کی طرف آنکھ نہ اٹھانے والا شوہر۔ 
 
بیوی کے شاپنگ بیگز اٹھا کر پیچھے پیچھے چلنے والا شوہر گالیاں کھانے بھی بے مزہ منہ ہونے والا شوہر۔ جہاں ہے جیسا ہے ‘ جیسا بھی ہے کہ ایک شوہر فوری فروخت کے لئے۔ 
 
اس اشتہار کی عبارت ایک کاغذ پر لکھ کر میں کچن میں لے گیا اور بیگم کی خدمت میں پیش کی۔ اس نے پیش کی۔ اس نے عینک لگاکر بے حد سنجیدگی سے پوری عبارت کا معائنہ کیااور ہر سطر کے بعد سرہلاکر’’ ٹھیک ہے ٹھیک ہے‘‘ کہتی گئی۔ 
 
’’تم نے قیمت نہیں لکھی ‘‘ اس نے عینک اتار کردریافت کیا۔ 
 
میرا خیال تھا کہ قیمت تم لگادو گی ‘‘ میں نے انتہائی بردباری سے عرض کیا۔ 
 
وہ سوچ میں پڑگئی سوچتی رہی سوچتی رہی اور پھر سراٹھا کر کہنے لگی‘‘ نہ نہ، تمہارا کوئی ایک پیسہ نہیں دے گا ۔۔۔نہ نہ نہ تم فروخت نہیں ہوسکتے۔ 
 
میرا خیال ہے سوروپے تومل جائیں گے‘‘ میں نے پھر عرض کی۔ 
 
لومیں تمہیں سوروپے میں بیچتی ہوں؟ بیگم ہنسنے لگی۔ 
 
نہیں بیچو گی؟ میں نے خوش ہوکر پوچھا۔ 
 
بالکل نہیں‘ سوروپے ماہوار میں تو آج کل تھپڑبھی نہیں ملتااور تم اس کے علاوہ بھی بہت سارے کام کرتے ہواور پھر میں اتنی مغربی بھی نہیں ہوئی کہ اپنے خاوند کو ہی بیچ ڈالوں‘‘ 
 
خواتین وحضرات !اب تو آپ یقین کر لیجئے کہ مشرقی بیویاں اپنے خاوندوں سے کتنی محبت کرتی ہیں۔
