تازہ ترین

غزلیات

15 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

نہ سمجھویہ کہ دنیا میں خوش و خرم ہر انساں ہے
یہاں ہیں بیشتر وہ جن کے دل میں درد و حرماں ہے
جو خود ہی وقت کا چنگیز ہے ظالم حکمراں ہے
وہی دہشت پسندی کا لگاتا ہم پہ بہتان ہے
خدایا ظالموں اور غاصبوں کے اس جہاں میں اب
جو مظلوموں نے تھاما ہے فقط تیرا ہی داماں ہے
ہٹے گا ظلم تب ہی جب ہٹایا جائے ظالم کو
فقط اخراجِ دنداں ہی علاجِ دردِ دنداں ہے
کرے کیا بیکس و مظلوم بیچارہ کہاں جائے
کہ اب دنیا میں ہر سُو اقتدارِ چیرہ دستاں ہے
سنو اے غاصبو! تم کو ملا اس ظلم سے بس یہ
کہ بدامنی بغاوت کا جہاں میں اب یہ بحراں ہے
جہاں میں جس بھی خطے پر مسلط آج ہیں غاصب
سمجھ لو اہلِ خطہ کا وہ قبرستاں و زنداں ہے
حماقت ہے سمجھنا موت ہوگی دور ہی ہم سے
حقیقت میں کہ جب انساں فنا کی زد میں ہر آں ہے
ہزاروں خواہشیں کیا، لمبی چوڑی آرزوئیں کیوں؟
جہاں میں زندگی دائم نہیں بس ایک مہماں ہے
بشیرؔ اب تک تو ہم نے زندگی کا حال یہ دیکھا 
یہ بیچاری جہاں میں بیشتر اُفتاں و خیزاں ہے
 
بشیر احمد بشیرؔابن نشاطؔکشتواڑی
 جموںوکشمیر،موبائل نمبر؛7006600571
 
 
 
چاند دھرتی پہ لانے کی ضد نہ کرو 
روشنی میں نہانے کی ضد نہ کرو
میں ہوں شمعِ و فا اور پروانے تم 
جان مجھ پر لُٹانے کی ضد نہ کرو
شوق سے تم مرا گھر جلادو مگر 
تُم مرا دل جلانے کی ضد نہ کرو
میں وفادار تھی میں وفادار ہوں 
اب مجھے آزمانے کی ضد نہ کرو
سارے موتی یہ پانی سے ہوجائیں گے
میرے آنسو اٹھانے کی ضد نہ کرو
آگ میں میری صورت نظر آئے گی 
پھاڑ کر خط جلانے کی ضد نہ کرو
فطرتیں میری کندن ہیں زریابؔ ہوں 
مجھ کو پیتل بنانے کی ضد نہ کرو
 
ہاجرہ نور زریابؔؔؔ
 گنگا نگر آکولہ مہاراشٹر انڈیا
موبائل نمبر؛9922318742
 
 
سب کی موجودگی سمجھتا ہے 
دل کسی کی کمی سمجھتا ہے
 
ایک ہی شخص سے میں واقف ہوں 
جو مجھے اجنبی سمجھتا ہے
 
گو مجھے جانتا نہیں لیکن 
وہ مری شاعری سمجھتا ہے
 
وصل کے اشک ہجر کے آنسو 
وہ نمی کو نمی سمجھتا ہے
 
وہی میری زباں سے ہے واقف 
جو مری خامشی سمجھتا ہے
 
یہی اردو زباں کا ہے جادو 
اب مجھے ہر کوئی سمجھتا ہے
 
میں اُسے بات دل کی کہتا ہوں 
وہ اُسے شاعری سمجھتا ہے
 
اتنا نادان بھی نہیں ہے وہ 
جو تمہاری ہنسی سمجھتا ہے
 
کون مہتابؔ اب تمہارا ہے 
کون دل کی لگی سمجھتا ہے
 
بشیر مہتاب
رام بن،ربطہ 9596955023
 
 
سوز و گداز اوروں کا دل میں چُھپائے تھا
اِک شخص سارے شہر کو اپنا بنا ئے تھا
 
اُس کے لہو میں سر کشی مدت سے پلی تھی
دارو رسن کی خاک سے دامن سجائے تھا
 
حیراں ہوں اُس کے عشق کے جذبے کو دیکھ کر
کیسے وہ ایسے کرب میں ایماں بچائے تھا
 
رُخصت ہو ا مگر کئی یادوں میں بس گیا
جیسے سدا سے سانس میں میری سمائے تھا
 
وہ جانتا تھا میں ہی سخن نا شنا س ہوں
پھر بھی وہ دل میں بات کو اب تک دبائے تھا
 
پھر یوں ہوا کہ آنسوں برابر چھلک پڑے
وہ میرے سامنے کھڑا نظریں جھکائے تھا
 
فرقت میں ضیاءؔ اب بھلا تیرا ہے کیوں یہ حال
وہ بھی ترے لئے کبھی پلکیں بچھائے تھا
 
عذراضیاءؔ
طالبہ شعبہ اُردو، کشمیر یونیورسٹی سرینگر
bintegulzaar@gmail.com
 
 
کر رہا ہوں میں نام اپنوں میں
اپنا جینا حرام اپنوں میں
بات کیجے نہ گرم لہجے میں 
جھک کے کیجے سلام اپنوں میں
چند صدیوں سے لے کے قایم ہے
خاندانی نظام اپنوں میں
کوئی شکوہ گلہ نہ کیجے گا
بن کے رہئے غلام اپنوں میں
ڈھونڈ لیجے گا چپکے چپکے سے
اپنا اپنا مقام اپنوں میں
کوئی اپنا نہیں ملا تابشؔ
میں نے ڈھونڈا تمام اپنوں میں
 
جعفر تابشؔ
مغلمیدان کشتواڑ،رابطہ؛8492956626
 
 
تو قائد ہے زمانے کا اگر یہ ہو ادا تیری
فقط سر ہو تیرا اونچا زمیں پر ہونگاہ تیری
بنا ہے جو بڑا تو پھر سنبھل کر سیکھ چلنا بھی
زمانے بھر کو دِکھتی ہے ذرا سی بھی خطا تیری
جو کرتا ہے وکالت تو زمانے بھر کے لوگوں کی
خبر لے اپنے گھر کی بھی، ہے ماں تجھ سے خفا تیری
چمک تو اس اَدا سے اب منوّر کر زمانے کو
زمانہ منتظر تیرا کہ کب چمکے ضیا تیری
عطا کر تو میرے آقا ضیائیؔ کو بھی وہ دولت
رسولِ پاکؐ ہوں دل میں، زباں پر ہو ثنا تیری
 
امتیاز احمد ضیائیؔ
پونچھ، موبائل نمبر؛9697618235
 
 
ارضِ جنت پہ زندگی گم سُم 
آسماں پہ ہے چاندنی گم سُم 
ہے چمکتی یہ اوس بھی گم سم 
اور سورج کی روشنی گم سم 
دیکھ لو گے جہاں، سبھی گم سم
تم بھی، میں بھی، یہ بھی، وہ بھی گم سم 
دور مجھ سے ہوئے تھے سارے غم
پر خوشی ہوکے بھی خوشی گم سم
روٹھے ہیں گھونسلے پرندوں کے 
بَن کے پیڑوں کی تازگی گم سم
سیر کو باغ میں گیا تھا کل
پر وہاں تھی کلی کلی گم سم
خامشی چھا گئی قلم پر بھی 
لکھتا ہے اب یہ شاعری گم سم
مائیں، بچّے، جوان، بوڑھے سب
رہتے ہیں آج کل سبھی گم سم
دیکھ کے ندیاں خوں کی ہر جانب
ہے سمندر کا پانی بھی گم سم 
کیا ہوا ہے تجھے اے بسملؔ جی
ہوگئی کیوں تری ہنسی گم سم
 
سید بسمل مرتضٰی 
شانگس اننت ناگ کشمیر 
طالب علم :ڈگری کالج اترسو شانگس
موبائل نمبر؛9596411285 
 
 
شباب و رنگ کو، خوشبو کو عام کرتا ہے
"ہمیں بہار کا موسم سلام کرتا ہے"
 
تمہاری سمت سے آتا  ترا خیال ہے یہ
سرور و کیف جو شب بھر قیام کرتا ہے
 
وہ دھوپ آج بھی شاید یہاں سے گزرے گی
طوافِ ابر جو اذکارِ بام کرتا ہے
 
ہرے جو رنگ کی اوڑھی رِدا ہے تم نے سنو
اسی کا موسمِ سبزہ خرام کرتا  ہے
 
متاعِ گُل ہے لے  آتا ترے دریچے  پر
ہر ایک   برگ تمہارے  ہی نام کرتا  ہے
 
اُٹھائے ساز ہے جھرنا تمہاری پایل کا
تمہارے گیت میں دریا  کلام کرتا  ہے
 
خُمارِ  ابرِ بہاراں چھلکتی آنکھوں میں
اُسی پہ ناز یہ میخانہ، یہ جام کرتا ہے
 
گماں  پھر آج کہ  بادل سے زلف  ٹکرائے
کہ رنگِ شعر بھی شیداؔ جو فام کرتا ہے
 
 
علی شیداّ ؔ
 نجدون نیپورہ اسلام آباد،   فون نمبر9419045087
 
 
بوجھ جذبوں کا مرے سر سے اُتارا جائے
میں تو دیوانہ ہوں پتھرمجھے  مارا  جائے
ساری دنیا ہمیں جب یوں ہی ستاتی جائے
تو بتا دو کہ کہاں درد کا مارا جائے
ان کو کچھ اور سجائوکہ کمی ہے خَم میں
چار دن اور بھی زلفوں کو سنواراجائے
دن کو تو دور رہا ان کے خیالوں سے دل
اب شبِ غم کو بھی کیسے یوں گزارا جائے
جب بھی جاتا ہوں تماشہ وہ بنا لیتے ہیں
اس گلی میں کوئی پھر کیسے دوبارہ جائے
دن کہیں اُس کو جو رو رو کے کٹے دنیا میں؟
دن وہی ہے کہ جو ہنس ہنس کے گزارا جائے
سب ہے منظور مجھے جو بھی دیا ہے اس نے
پر کبھی دورنہ راشکؔ وہ خدارا جائے
 
راشک اعظمی
طالب علم کشمیر یونیور سٹی
فون نمبر;؛9697763697