تازہ ترین

غزلیات

10 جون 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 فلسطینی حالات سے متاثرہوکر
آج غزہ خون کا تالاب ہے
پورا عالم پھر بھی محوِ خواب ہے
بند پنجرے میں فلسطینی زمیں
حبسِ بیجاکے تلے بے تاب ہے
گھر کے اندر مفلسی کا شور ہے
اور باہر آگ کا سیلاب ہے
پلتے ہیں جو آگ میں بارود کی 
پانی ان میں خوف کا کمیاب ہے
آگ و خوں میں ڈوبی جہدِ للبقا
جاگتی آنکھوں میں کیسا خواب ہے
ناخدا بن کر نہ آجائیں وہ لوگ
زندگی جن کی تہِ گرداب ہے
خوفِ نادیدہ کی بے مہری تلے
زندگی بے خواب ہے، بیتاب ہے
دیکھ اے امکانِ جبرِ مستقل
زندگی اب آگ میں شاداب ہے
چپ ہیں کیوں کعبے کے وارث آج بھی
دینِ حق جب کہ تہ گرداب ہے
بچہ بچہ اب فلسطینی حنیفؔ
جہدِ آزادی کی اک محراب ہے
 
حنیف ؔترین
نئی دہلی،موبائل نمبر؛9971730422
 
 
تمہاری عظمتوں کا اعتراف کرنا ہے
کئی بلائوں کو اپنے خلاف کرنا ہے
خطائیں کرتے ہیں جِن کو خطائیں کرنی ہیں
معاف کرتے ہیں جِن کو معاف کرنا ہے
میں آفتاب نہیں ہوں زمین تُو بھی نہیں
تو کس لئے تجھے میرا طواف کرنا ہے
تھما کے چھوٹا سا پتھر یہ کہتا ہے مجھ سے
اب آسمان میں تجھ کو شگاف کرنا ہے
تِری رضا میں ہے جینا کمال کا جینا
زمیں بچھونا فِضا کو لِحاف کرنا ہے
جمی ہوئی ہے ابھی اِک پرت کدورت کی
کسی کا ہونا ہے تو دل کو صاف کرنا ہے
تذبذب ایسا ہے کُچھ بھی سمجھ نہیں آتا
کہ دل کی ماننا یا اِنحراف کرنا ہے
ابھی بھی آرسیؔ گِرہیں کئی کھلی ہی نہیں 
کہ جِن کا ہم کو ابھی اِنکشاف کرنا ہے
 
دیپک آرسیؔ
203/A، جانی پور کالونی جموں
رابطہ :9858667006
 
 
شمع جب بھی ہوا بجھاتی ہے 
روشنی دل کی لڑکھڑاتی ہے 
 
تم گریبان چھوڑ دو میرا 
اب ضرورت مجھے بلاتی ہے 
 
جینے دیتا نہیں اجل کا غم 
زندگی جب سکون پاتی ہے 
 
موت کے دن قریب ہیں لیکن 
پھربھی تقدیر آزماتی ہے 
 
مال و زر کی نہیں طلب ہم کو 
ایک مجبوری یوں جھکاتی ہے 
 
واہ ہردل سے ہی نکلتی ہے 
جب کرشمہ غزل دکھاتی ہے
 
کس قدر خوش نصیب ہے ساحل ؔ
زندگی دکھ میں مسکراتی ہے۔
 
مراد ساحل ۔۔ممبئی 
 
 
جتنی برسی ہے ترے غم کی گھٹا، کچھ بھی نہیں 
اب تو لگتا ہے کہ سینے میں جَلا کچھ بھی نہیں
 
عشق نے تیرے مرا خاتمہ کر ڈالا ہے
ہو گیا راکھ مرا جسم بچا کچھ بھی نہیں 
 
کر کے تجھ سے یہ محبت ہوا معلوم ہے سب
بے وفائی ہے بہت تجھ میں، وفا کچھ بھی نہیں
 
زندگی عشق کے سینے میں گزاری لیکن 
اس میں نفرت کے سوا مجھ کو ملا کچھ بھی نہیں 
 
زخم تو تیری محبت کے مجھے روز ملے
پھر بھی اس کربِ جدائی میں ہوا کچھ بھی نہیں 
 
اک مری جان تھی وہ بھی ہے لٹا دی بسملؔ
یار کہتے ہیں مگر تو نے کیا کچھ بھی نہیں
 
سید بسمل مرتضٰی 
شانگس اننت ناگ کشمیر 
طالب علم :ڈگری کالج اترسو شانگس
 
 
شکوہ کوئی کرے کیا سرکار تیرے آگے
نہ دل ہی کوئی شے ہے نا پیار تیرے آگے
 
ہرگز ترس نہ کھائے ہے نام کا مسیحا
کتنا بھی چاہے تڑپے بیمار تیرے آگے
 
لے دے کے اب تو اپنی بس آبرو بچی تھی
خدمت میں پیش کردی سرکار تیرے آگے
 
یوں ہی نہیں تو کہتے پتھر کا بُت تجھے ہم
نالے دل و جگر کے بیکار تیرے آگے
 
تیری رضا کی خاطر اب اور کیا کریں گے
جاں تک لُٹا چکے ہیں سو بار تیرے آگے
 
تاثیر ہے تمہارے جام و صبو میں کیسی
دیکھے ہیں شیخ و برہمن لاچار تیرے آگے
 
خورشیدؔ وہ حیا کا پیکر ہے اس غضب کا
شائد نہ کرسکے گا اظہار تیرے آگے
 
سید خورشید حسن خورشید
چھمکوٹ کرناہ، 
موبائل نمبر؛959623223