تازہ ترین

غزلیات

3 جون 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 دلِ حِساس کے جذبات کسے پیش کروں
زندگی کی یہ شروعات کسے پیش کروں
 
بے مُروّت یہ جہاں مجھ میں مگر ہے شفقت 
اپنے اخلاص کی سوغات کسے پیش کروں
 
ہر طرف اب تو کدورت ہی دلوں میں دیکھی
صاف اور شُستہ خیالات کسے پیش کروں
 
شعر و موسیقی سے بھی پاتا کوئی دل ہے سکوں
اپنے پُرسوز یہ نغمات کسے پیش کروں
 
قتلِ عام، آگ زندگی، آبرو ریزی تو ہوئی
اب جگر سوز یہ حالات کسے پیش کروں
 
میری ملت کے بھی، میرے بھی جلے سب ارماں
اب یہ افسُردہ سے دن رات کسے پیش کروں
 
کیا سُدھر بھی کبھی سکتا ہے یہ ملّت کا عمل!
جل چکے کھیت ہیں برسات کسے پیش کروں
 
اس جہاں نے کبھی مانا ہی نہیں میرا وجود
اب بھلا اپنی یہ خدمات کسے پیش کروں
 
میری ملّت یہ تو فرعون ہیں اب محوِ ستم
اس کی حالت کے اشارات کسے پیش کروں
 
عدل اور حق کے ہی دشمن ہیں جہاں کے نمرود
یہ فیوض اس کے یہ برکات کسے پیش کروں
 
نہ تو مظلوم نہ حقدار کو مل پایا حق
اب یہ میزانِ مساوات کسے پیش کروں
 
اے بشیرؔ اب تو سچائی رہی نہ ہی انصاف
عدل اور حق کی یہ بارات کسے پیش کروں
 
بشیر احمد بشیر( ابن نشاطؔ)کشتواڑی
جموں وکشمیر،؛7006606571
 
 
یہاں جو چیز پائی جا رہی ہے
وہی پیہم گنوائی جا رہی ہی
 
اسے مجھ سے نکالا جا رہا ہے 
محبت آزمائی جا رہی ہے
 
مراسم ٹوٹنے اب لگ گئے ہیں 
تمنا بھی گنوائی جا رہی ہے 
 
طلب جس کی تھی بن دیکھے ہی وہ شئے
ہمارے پاس لائی جا رہی ہے
 
طریقے سے دلوں میں رکھ کے نفرت 
سلیقے سے نبھا ئی جا رہی ہے 
 
ہے برپا حشر سا شاہراہِ دل پر
کہ بستی دل کی ڑھائی جا رہی ہے
 
عقیلؔ ہم کو ہی ہم سے چھین کر اب
یہ سازش کیا رچائی جا رہی ہے
 
عقیل ؔفاروق
طالبِ علم:- شعبہ اْردو 
کشمیر یونیورسٹی سرینگر 
موبائیل نمبر:-8491994633
 
 
مجھے دل سے نہیں عقل و خرد سے پوچھنا ہوگا
کہ ہر ایک فیصلہ لینے سے پہلے سوچنا ہوگا
دلِ مضطر نہ چشم ترا ثر انداز ہوتے ہیں
ہمیں ماضی کا ہر اِک پُل ہمیشہ بھولنا ہوگا
درِ ندوں کے نگر میں اس قدر بُہتات لگتی ہے
کہیں ایسا نہ ہو یہ شہر ہی اب چھوڑنا ہوگا
جُھلستی دھوپ اور صحر، یہ منزل کا ہی کھوجانا
میرے اِس قافلے کو اور کیا کچھ دیکھنا ہوگا
ہے منظر روزِ محشر کا ہماری عقل سے باہر
سبھی منہ تالہ بند ہونگے، عضو کو بولنا ہوگا
دریچے دل کے سارے واکرو تطہیر کی خاطر
مسافرؔ قلبِ صالح کی دوا کو ڈھونڈنا ہوگا
 
مسافرؔ عبدالوحید قریشی
باغات کنی پورہ،9419064259
 
 
درد میں ڈُوبی فضائیں کہہ رہی ہیں الوداع 
اور اشکوں کی گھٹائیں کہہ رہی ہیں الوداع 
ظلمتِ شب ہے ! مگرایسا یہ جشنِ مرگ کیوں؟ 
ساتھ اپنوں کی دعائیں کہہ رہی ہیں الوداع 
تُجھ پہ مِٹ جانا مرا معمول ہے خاکِ وطن 
عزمِ نو کی یہ صدائیں کہہ رہی ہیں الوداع 
 رونقِ گل بھی نمایاں کیوں ہے میرے خون سے 
یہ شجر اور یہ ہوائیں کہہ رہی ہیں الوداع 
وہ مسیحا ہے کہاں جو بن سکے مرہم میرا؟ 
چار سُو کی یہ دِشایئں کہہ رہی ہیں الوداع 
اور کتے گل ابھی  اس خزاں کی نذر ہوں
اس قفس کی یہ صدائیں کہہ رہی ہیں الوداع 
 
ارشد شیدا
چاڈورہ، کشمیر.... 9906860926