تازہ ترین

مرحوم محمد اسمٰعیل بٹ

دعوت و عزیمت کی ایک مثال

11 اکتوبر 2017 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد سلیم بٹ
مرحوم محمد اسمٰعیل بٹ محتاج تعارف نہیں۔انہوں نے دعوتِ دین اور اصلاحی امور کے محاذ پر جو کارہائے نمایاں انجام دئے ان کا ہر کس ناکس کو اعتراف ہے ۔مرحوم نے بحیثیت ایک ماہر تعلیم ،داعیٔ اسلام اورسماجی اصلاح کار کے طور ایسی گراں قدر خدمات انجام دیں جن کا تاریخ دعوت وعزیمت میں ہمیشہ سنہرے حروف سے ذکر ہوگا۔ان کی شخصیت میں بلند اوصاف کی شرینی ان کی مسکراہٹوں میں دل نوازی ،اُن کی تحریر وتقریر میں خلوص کی گرمی ،ان کی جلوت و خلوت میں خدا خوفی اور انسان دوستی جیسی اوصاف اس طرح گندھی ہوئی تھیں کہ آج بھی ان کے جاننے والے مرحوم کو اشک بار دعائوں سے یاد کرتے ہیں۔بظاہر وہ ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن ان کی دینی فکر اور تحریکی خدمات آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔با لخصوص ان داعیان دین کے واسطے جو سرزمین کشمیر میںخلق خدا کو ہدایت وفلاح کے پُرامن راستے پر گامزن کرنے میں پیش پیش ہیں۔
مرحومحمد اسمٰعیل بٹ1946میں تحصیل چاڈورہ کے مانچھواہ نامی گائوں میں پیدا ہوئے۔یہ گائوں سرینگر سے آٹھ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے ،انہوں نے جس گھرانے میں آنکھیں کھولیں و ہ زمیندار گھرانہ تھا۔مرحوم محمد اسمٰعیل کو ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے لئے پرائمری اسکول کرالہ پورہ میں داخل کیا گیا ۔پھر انہوں نے مڈل اسکول برزلہ میں آٹھویں جماعت پاس کیا ۔مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے انہوں نے ایس پی کالج سرینگر کا رُخ کیا اور بعد اذاں امر سنگھ کالج سرینگر میں گریجویشن کی۔موصوف بچپن سے ہی بڑے ذہین اور علم دوست تھے۔اس لئے انہوں نے کشمیر یونیورسٹی میں داخلہ لے کر ایم ایس سی ریاضی کی ڈگری امتیازی نمبرات کے ساتھ حاصل کی۔قبل ازیں 1963 میں ان کی شادی ہوچکی تھی اوروہ اس وقت میٹرک پاس کرچکے تھے ۔اسماعیل صاحب صغر سنی سے صوم و صلواۃ کے پابند تھے اور دین کی جانب ان کو ایک خاص لگائو تھا ۔گو فطرتاً وہ بڑے صالح اور حق پسند تھے البتہ اس کے ساتھ ہی وہ بڑے ذہین اورعقلمند بھی تھے ۔چونکہ ان دنوں مرحوم کا خاندان سیاسی لحاظ سے محاذ رائے شماری سے وابستہ تھا ۔ان کے بڑے بھائی غلام محمد بٹ صاحب محاذ کے سرگرم رکن تھے۔دوسری طرف ان کے گھرانے میں بہت سے پیر حضرات اور درویش قسم کے لوگ آیا کرتے تھے ،انہی ایام میں ان کی بستی کی جامع مسجد میں جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے زعماء کرام میں محترم قادری سیف الدین صاحب مرحوم خطاب کرنے آئے ۔خطاب میں قاری سیف الدین نے دین حق کی حقیقت بیان کی اورواضح کیا کہ اسلام ایک مکمل نظام زندگی اورضابطۂ حیات ہے۔یہ جہاں عبادت وبندگی اور ذکر ودعا کے اصول و آداب بتاتا ہے ،وہی یہ سیاست و عدالت ،معیشت و معاشرت ،صحافت و ثقافت اور تجارتی معاملات کے اصول وقواعد واضح کرتا ہے ۔اس فکر انگیز خطاب نے مرحوم کی زندگی کی کایا پلٹ دی ، وہ ان ارشادات ربانی پر سنجیدہ غور وتدبر کرنے لگے ۔اس سے پہلے ان کے ذہن میں ایسے بہت سے سوالات تھے جن کے وہ جوابات تلاش کررہے تھے ۔اس خطاب سے انہیں ان سارے سوالات کے جوابا ت بھی مل گئے ۔مرحوم دینی کتابوں کے ساتھ ساتھ تحریک اسلامی کے لٹریچر کا مطالعہ بھی بغور کرنے لگے جس کے پڑھنے کے بعد ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ دین اسلام اصل میں انسان کو زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی کرتا ہے اور انسان ہر جگہ اور ہر وقت اللہ کا بندہ ہے پھر وہ مسجد و خانقاہ میں ہو یا ایوان وعدالت میں ،بازار و گھر میں ہو یا اور کہیں۔
محترم اسماعیل صاحب 1968میں زعماء جماعت کے کہنے پر درسگاہ نواب بازار سرینگر میں بحیثیت استاد قلیل معاوضہ پر درس و تدریس کا کام شروع کیا ۔اس طرح موصوف عملاً تحریک اسلامی سے وابستہ ہوگئے۔چونکہ اس زمانے میں ایسے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے سرکاری ملازمت کے دروازے پوری طرح کھلے تھے مگر موصوف نے اس جانب کبھی دیکھنے میں دلچسپی نہ د کھائی۔انہوں نے شب و روز دعوت دین،تبلیغ اسلام اور شہادت حق کے لئے سعی وجہد کی ۔ شہر خاص نواب بازار سرینگر درس گاہ کے ساتھ انہوں نے کئی اور اسکولوں میں بھی درس و تدریس کا کام حسن و خوبی سے انجام دیا،جن میںدرسگاہ نواب بازار ،کرالہ پورہ اور بٹہ مالو کی درس گاہیں قابل ذکر ہیں۔ مرحوم نے بستی بستی ،قریہ قریہ اور گھر گھر جاکر تحریک اسلامی کا لوگوں میں تعارف کرایا اور ضلع بڈگام کے دور دراز علاقوں اور دیہات میں جاکر وہاں کے مسلمانوں کو دین کے آفاقی نظام حیات سے آشنا کرایا اور ہزاروں افراد کے ذہن و ضمیر میں دینی ذوق و شوق پیدا کیا ۔انہوں نے قرآن و حدیث اور دینی تعلیم سے نئی نسل کو روشناس کرانے کے لئے ضلع بھر میں سینکڑوں یومیہ ،صباحی اور مسائی درسگاہیں اوربہت سارے اسلامی کتب خانے بھی قائم کرائے۔انہی مخلصانہ کوششوں اور دعوتی کاوشوں کا نتیجہ تھا کہ ضلع بھر میں اسلامی تحریک نے برگ وبار لائے ۔مرحوم دعوت دین و اصلاح کے مردم ساز کام میں اتنے مصروف عمل تھے کہ دو دو ،تین تین دنوں کے بعد گھر آتے تھے۔گوان کے اپنے آبائی گائوں میں بھی دین کا زیادہ چرچا نہ تھا لیکن موصوف نے اپنی سعی و جہد اور کردار وعمل سے اس بستی کو ہر لحاظ سے ایک دیندار بستی بنادیا ۔تحریک اسلامی سے وابستگی کی پاداش میں محترم اسماعیل کوبھی کئی بار گرفتا ر کیاگیا ۔1989میں جب یہاں عسکری تحریک شروع ہوئی توان پُر آشوب حالات میںمحترم اسماعیل صاحب کو کئی بارطاقت سے مرعوب کر نے کی کوششیں کی گئیں لیکن مرحوم بغیر کسی خوف وڈر کے تحریک اقامت دین کا کام کرتے رہے۔یہاں تک اس شریں سخن اور اصلاح پسند مبلغ اسلام کو 5 اکتوبر 1994میں دارالفلاح گندی چک پورہ(کنی پورہ)کے مقام پر جاں بحق کردیا گیا ۔واضح رہے کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں اس وقت ’’جامع العلوم ‘‘کے نام سے ایک دارالعلوم چل رہا ہے ۔اس مقام پر اُن دنوں موصوف کی سربراہی میں ایک مسجد شریف تعمیر ہورہی تھی ۔ وہ اسی سلسلے میںوہاں آئے تھے کہ ان کے وصال دائمی کا وقت آن پہنچا اور ضلع بڈگام کے دین پسند حلقے بالخصوص اورتحریک اسلامی کشمیر بالعموم ایک مخلص اور سرگرم داعی سے محروم ہوکر رہ گئی۔