تازہ ترین

آدھار کارڈ پر زندگی کا دارو مدار ہے؟

میری آواز سنو

19 اگست 2017 (00 : 01 AM)   
(      )

ممتاز میر ۔۔۔برہانپور
دسمبر ۲۰۱۲ء میں دلی میں گینگ ریپ ہوا تھاجس نے زنا بالجبر کے معاملے میں پورے ملک کو ہلا دیا تھا ۔حکومت بھی ہلی تھی اور اس نے حسب معمول سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج محترم جے ایس ورما کی سربراہی میں اس قسم کے جرائم کے تدارک کے لئے ایک کمیٹی بنا دی تھی آزادی کے بعد سے ہماری حکومتوں کا یہ وتیرہ ہے کہ وہ بندر کی بلا طویلے کے سر ڈالنے کے لئے ایک کمیٹی بنا دیتی ہے ۔اس سے ہوتا یہ ہے کہ بہت سے بے کار لوگ باکار ہو جاتے ہیں ،عوام بھی خوش ہو جاتے ہیں کہ ہمارے ہلنے کا بلکہ ہلانے کا کچھ تو نتیجہ نکلا۔اتنا بھی نہ نکلتا تو ہم کیا کرلیتے۔۔خیر۔مگر آنریبل جسٹس ورما کی اس کمیٹی نے جو خود بھی ہلی ہوئی تھی، بڑی سنجیدگی کے ساتھ زانیوں کے خلاف سخت قوانین ملک کو دئے تھے۔مثلاً یہ کہ اگر کوئی مرد کسی عورت کے پیچھے چل رہا ہے تو عورت اس مرد پر یہ الزام لگا سکتی ہے کہ مرد بری نیت سے اس کا 
پیچھاکر رہا ہے ۔گھور کر دیکھنے کے الزام میں وکیل کیا جج بھی دھر لیا جاسکتا ہے ۔ایسی حالت میں کیا کوئی جج کسی عورت کے خلاف فیصلہ سنا سکتا ہے۔ کمیٹی کا حاصل قانون یہ تھا کہ شوہر بھی زور زبردستی کی صورت میں بیوی کے ساتھ زنا کا مر تکب ٹھہرایا جاسکتا ہے ۔ گذشتہ ایک سال  کے دوران حکومت جس طرح ہر ہر چیز کے لئے سپریم کورٹ کی ہدایات کے باجودآدھار کارڈ کو لازمی قرار دے رہی ہے ، ہمیں لگتا ہے بس چند ہی دنوں میں شہریوں کو بیت الخلاء میں جانے کے لئے آدھار کارڈ کی ضرورت لازمی قرارا دی جائے گی ۔ یہ وہ جھنجھلاہٹ ہے جو پچھلے چند مہینوں میں ہر باشعور شہری کے دماغ میں کلبلارہی ہے ۔قریب دو ماہ سے ہمیں مسیج آرہا تھا کہ  Idea کی کسی بھی قریبی گیلری میں جا کرآدھار کارڈ verify  کروائیں۔ہم رمضان سے قریب ایک ہفتہ پہلے آئیڈیا کی گیلری میں گئے تو کہا گیا کے ۶؍جون بعد آئیں ، جولائی کے پہلے ہفتے میں پھر Idea  کی گیلری چلے گئے مگر ہمارا کارڈلنک نہ ہو پایا کیونکہ وہ ممبئی کا تھا ۔کہا گیا کہ اسے برہانپور کا کروائیے،حالانکہ جب ۲۰۱۰ء میں ہم نے آدھار کارڈبنوایا تھا تو کہا گیا تھا کہ یہ قومی سطح کا کارڈ ہے، ملک میں ہر گلی کوچہ چلے گا ۔بہر حال ہم نے آدھار کارڈ میں مقامی سطح کی تبدیلی کروائی اور پھر گیلری جاکرverify  کروایامگر اب پھر سے Reverify کے میسیج آنا شروع ہو گئے ہیں ۔جب ہم آئیڈیا کی گیلری میںverify   کرا رہے تھے تو وہاں کچھ ایسے بھی لوگ تھے جن کے موبائل verify  نہ کروانے کی بنا پر بند ہو چکے تھے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ آدھار کارڈ سے لنک کروانا Mandatory ہے جب کہ سپریم کورٹ اسے Voluntary  کہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت خود سپریم کورٹ کے احکامات ماننے سے انکار کرے تو پھر عوام کیا توقع کرنی چاہئے؟ موجودہ حکومت روز اول سے دستور کوہی ماننے سے انکار کرتی ہے۔ہماری اصل شکایت پیارے منموہن سنگھ سے ہے ۔ان کے دور حکومت میں بھی ان کے وزیرخوراک نے سپریم کورٹ کے ساتھ اس سے بد تر سلوک کیا تھا ۔سپریم کورٹ بے چاری گوداموں میں سڑنے والے اناج کے فری ڈسٹری بیوشن کے لئے سر پٹخ پٹخ کے رہ گئی مگر وزیررسدات نے سپریم کورٹ کے احکامات کو مان کر نہ دیا۔ ۲۶؍جولائی کو تیسری بار جب ہم بنک آف انڈیا میں اپنی ماہ جون کی پنشن لینے گئے تو پتہ چلا کہ وہ اب بھی نہیں آئی ہے ۔کیشئر کو بھی تعجب ہوا،تھوڑی دیر سوچنے کے بعد ہم سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنا آدھار کارڈ لنک کروایا ہے ۔ہم نے جب کہا نہیںتو اس نے شبہ ظاہر کیا کہ شاید اسی وجہ سے نہ آرہی ہو ۔جب جب بھی آدھار کارڈ کی بات نکلتی ہے ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے یاد آتے ہیں۔
(۱)سپریم کورٹ نے اپنے ۲۷؍ مارچ ۲۰۱۷ء کے فیصلے میں کہا تھا کہ سماجی اسکیموں کے لئے آدھار کارڈ لازمی نہیں ہے 
(۲)۹؍جون ۲۰۱۷ء کے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے تین شہریوں کی رٹ پٹیشن پر شنوائی کرتے کہا کہ وہ لوگ جن کے پاس آدھار کارڈ نہیں ہیں انکے لئے اسے پین کارڈ سے لنک کرنا ضروری نہیں ہے مگر ساتھ ہی کورٹ نے کچھ ایسی باتیں بھی کہیں جس کی بنا پر حکومت کو آدھار کارڈ کو شہریوں کی زندگی کا لازمی جز بنانے کے لئے ہمت افزائی ہو سکتی ہے 
(۳)۲۰۱۵ء میں سپریم کورٹ کے ایک بنچ نے کہا تھا کہ ہم یہ صاف کر دینا چاہتے ہیں کہ آدھار کارڈ اسکیم بالکل اختیاری ہے اور یہ کسی حالت میں لازمی نہیں کی جاسکتی جب تک سپریم کورٹ اس پر حتمی فیصلہ نہیں سنا دیتی۔
  اب مسئلہ یہ ہے کہ ۱۸؍ جولائی کو سپریم کورٹ میں ۹ ؍ججوں کے بنچ نے آدھار کارڈاور شہریوں کی پرائیویسی معاملے پر سنوائی تو کی ہے مگر تا دم ِتحریر اس نے کوئی فیصلہ نہیں سنایا ہے مگر صاحبانِ ایمان میں کچھ ایسے دانش ور بھی ہیںجو کہتے ہیں کہ اگر آپ صاف ستھرے ہیں تو آپ کو حکومت کی نظروں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔آپ پرائیویسی رکھتے کیوں ہیں ؟اسی لئے حکومت شہریوں کے ساتھ دادا گیری کر رہی ہے کہ آدھار کارڈ ہر سوشل اسکیم کے ساتھ نتھی کرواؤورنہ کسی اسکیم کا آپ کو فائدہ حاصل نہ ہوگا۔آپ کو گیس کی سبسڈی نہیں ملے گی ۔آپ کو راشن نہیں ملے گا ۔آپ موبائل نہیں چلا سکیں گے۔بنک سے خود اپنا جمع کردہ پیسہ بھی جلد یا بدیر نکالنے کے قابل نہ رہیں گے ۔جلدہی وہ وقت بھی آئے گاجب آدھار کارڈ کے بغیر خرید و فروخت بھی نہ کر سکیں گے۔سفر بھی مشکل ہو جائے گا اور سپریم کورٹ۔۔۔۔سپریم کورٹ غالباً یہ انتظار کرے گی کہ حالات بہتر ہوں تو فیصلہ سنائے جب کہ لاء کالجوںمیں یہ پڑھا یا جاتا ہے کہ : 
Justice delayed is justice denied 
7697376137  
