تازہ ترین

پولیس اسٹیشن گنڈ کاالمیہ

کشمیری نہیں کشمیر ہمارا

29 جولائی 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

ایم شفیع میر۔۔۔گول
 کشمیر میں ہو رہے خونِ ناحق اور ظلم و جبر کی تصویر پوری دنیا کے سامنے ہے۔اس تباہ کن سلسلے کو چلتے دہائیاں ہونے کو آئی ہیں ،طاقت ور بدستور اپنی وحشیانہ طاقت کا استعمال کررہا ہے خواہ گولی سے، خواہ بشری حقو ق کی خلاف ورزی سے ، خواہ استحصالی ہتھکنڈوں سے یا پھر نئی سیاسی اصطلاح ’’بولی اور ہرے زخموں کی مرہم پٹی سے ‘‘کے ڈھونگ رچا کر۔ایسی ناقابل برداشت مثالیں تو کہیں نہ کہیں دیکھنے کو ملتی ہی رہیں گی کیونکہ دشمن تو آخر دشمنی ہی کرے گا ،جس میں اسے کوئی مضائقہ نظر نہیں آتا چاہے انسانی دنیا اس کی کتنی بھی سرزنش کرے۔ آپ کشمیر کی موجودہ ناگفتہ بہ صورت حال دیکھئے کہ اس پر …… دوست دوست نہ رہا…… صادق آتا ہے ۔ ہمارے تو’’ دوست‘‘ کہلانے والے ہی بدل گئے ہیں لیکن انہیں جن اغیار کی پیالہ برداری فرصت نہیں ملتی، اُنہی خاکی وردی والوں نے طاقت کے نشے میں دُھت چند روز قبل گنڈ کنگن میں دو اسسٹنٹ سب انسپکٹر وںسمیت 7 پولیس اہلکاروں کا شدید زدکوب کیا ۔ پولیس اہلکاروں کی مارپیٹ کے بعد فوجی اہلکار قیامت بن کر گنڈپولیس تھانہ میں گھس گئے اورانہوں نے وہاں موجود سامان، ریکارڈ اور الیکٹرنک مصنوعات کی توڑ پھوڑ بھی کی ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق بروز جمعہ شام کے وقت سادہ کپڑوں میں ملبوس 24 ؍آ رآ ر سے وابستہ اہل کار چار سومو گاڑیوں میں امرناتھ یاترا سے واپس لوٹنے کے بعد گاڑیوں میں سوار سونہ مرگ پہنچے جہاں یا ترا ڈیوٹی دینے والے پولیس کی ایک ناکہ پارٹی نے ان سے کہا کہ شام کے وقت کسی بھی یاتری گاڑی کو سر ینگر کی طرف روانہ ہونے کی اجازت نہیں ہے، لہٰذا ان کو سونہ مرگ میں ہی رات کیلئے ٹھہرنا پڑے گا ۔ از رُوئے قانون پولیس اہل کار ہر اعتبار سے قاعدے ضابطے کی بات کر رہے تھے مگر جو وردی پوش خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہوں ،اُن کو قانون کا پاٹھ پڑھانا عقل وفہم سے ماوراء بات ہے ، چناںچہ فوجی ا ہلکاروں نے پولیس اہلکاروں کی  ایک بھی نہ سنی اور آ گے چل پڑے جس پر ناکہ پارٹی نے پی سی آ ر گاندربل کو مطلع کیا ۔ پی سی آ ر کی نوٹس میں معاملہ آنے کے ساتھ ہی گنڈ پولیس کو اس بارے میں اطلاع دی گئی ۔ رات گیارہ بجے کے قریب سو مو گاڑ یوں میں سوار فوجی اہل کار جب گنڈ پہنچے تو پولیس کی ایک ٹیم نے ان کو روکا اورنظم وضبط کے ساتھ مزید آ گے نہ جانے کی فہمائش کی جس پر فوجی اہلکار طیش میں آ گئے اور انہوںنے سومو گا ڑیوں سے نیچے اترکر اند ھا دُ ھند طریقے سے ڈیوٹی کر رہے کشمیر پولیس کے اہلکاروں کو مارناپیٹنا شروع کردیا ۔ فوجی اہلکار وں نے وحشیا نہ طریقہ سے پولیس اہلکاروں کا زدکوب کیا اور اس حملے کے نتیجے میں دو اسسٹنٹ سب انسپکٹروں سمیت سات اہلکار موقعہ ٔ واردات پر اتنے شدید زخمی ہو ئے کہ اسی حالت میں انہیںگنڈ اسپتال منتقل کیا گیا۔ فوجی اہلکاروں کے بلاجواز غم و غصے کے شکار پولیس اے آیس آ ئی بشیر احمد، آ ئی ایس آ ئی غلام رسول، ہیڈکانسٹیبل عبدالحمید، کا نسٹیبل عبدالرشید، کانسٹیبل شکور احمداور کا نسٹیبل محمد اسلم سے درد سے کراہتے رہے اور کہتے ہیں کہ اگر مقامی آبادی بیچ بچاؤ نہ کر تی تو سادہ کپڑوں میں ملبوس فوجیوں نے نہ جانے پولیس اسٹیشن میں کیا کہرام مچایا ہوتا۔  لوگوں کوا س قابل مذمت واقعہ سے سری نگر میں لعل دید زنانہ ہسپتال کے سامنے تیس پنتیس برس پرانے واقعے کی یاد تازہ ہوئی جب وقت کے ڈی آئی جی علی محمدوٹالی کے دانت بادامی باغ سے ہاتھوں میں ہاکیاں لئے فوجیوں نے سر راہ توڑ دئے اور لوگوں کی بے تحاشہ مر مت کی اور وقت کا وزیراعلیٰ شیخ محمد عبداللہ اس پر اُف بھی نہ کر سکا۔
      افسپا جیسے کالے قانون نے جموں کشمیر میںقتل غارت کا بھوت وردی پوشوں کے سر پر اس قدر سوار کیا ہوا ہے کہ قاعدے قانون اور ڈسپلن بے اصل چیزیں بن کر رہ گئی ہیں۔ گزشتہ ستائیس سال مٰن ہم نے دیکھا کہ فوجی اہلکاروقتاًفوقتاً پولیس اہلکاروں پر بھی اپنے دست تظلم آزماتے رہے ہیں ۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ وردی میں ملبوس فورسز آپس میں لڑ پڑے، کئی بار یاخود کشی  کر گئے یا اپنے ساتھیوں اور افسروں تک میں گولیاں پیوست کیں ۔ گزشتہ دنوں ایسا ہی ا یک ہیبت ناک سانحہ فورسز کیمپ میں رونما ہو ا جس مین ایک فوجی افسر اپنے ہی ماتحت کے ہاتھوں قتل ہو ا۔ اس صورت حال سے عالمی سطح پرکشمیرکے تعلق سے کئی ایک ایسے راز افشاء ہوتے آئے ہیںجو واقعی مسئلہ کشمیر کو فوری طور حل کر نے کی نشاندہی کر تے ہیں ۔ اس حقیقت سے مفر نہیں کہ حکومت ِہند بندوق کے بل بوتے پر ہی اس قضیے سے گلو خاصی چاہتی ہے مگر اسے سمجھنا چاہیے کہ کالے قانون کے سہارے فوجی اہلکار وں نے آج تک خود قانون کی مٹی پلید کر کے نہ صرف عام شہریوں کو اہدافی قتل کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اُتار دیاصرف اس ’’جرم ‘‘ کہ یہ لوگ آزادی کا بے ضرر نعرہ لگا رہے تھے جو کشمیری عوام کا پیدائشی حق ہے۔ اس لئے یہ کوئی حیران کن بات نہیںہے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس  فوجیوں نے گنڈ تھانہ کے پولیس اہلکار وں پر دست آزمائی کی۔ ڈیوٹی پر مامور زیر بحث پولیس والوں کی حالت ِزار پر اگرچہ عوامی سطح پر کوئی ردعمل ظاہر نہ ہو امگر یہ سب کے لئے چشم کشا ہے اور حقائق سے چشم پوشی  نہیں کی جانی کرتی چاہیے ۔غور طلب ہے کہ بھارت کشمیر کو اپنا’’اٹوٹ انگ ‘‘کہتے تھکتانہیں مگر گنڈ پولیس تھانے پر افسوس ناک حملے یہ حقیقت عیا ں ہوئی کہ نئی دلی کو کشمیر سے مطلب ہے نہ کہ کشمیریوں سے اور کشمیر کا نواجوان چاہیے پولیس اہل کار ہو یاافسر ہو، کوئی اعلیٰ سرکاری عہدیدار ہو یا پھر ہند نواز سیاسی نیتار ہو، دلی والوں اور اس کے محافظین کیلئے کشمیری ہونے کے ناطے وہ پرایا ہے اور بے بھروسہ کشمیری مسلمان۔ خدائے لم یزل کے فیصلے بے شک ٹھیک ہوتے ہیں جنہیں سمجھنے میں انسان کو کبھی بہت وقت لگتا ہے،اس لئے ہمارے وہ پولیس بھائی جو کبھی یہ مانتے نہیں کہ ان کے اپنے ہی کشمیری بھائیوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑتے ہیں، ربِ ذولجلال نے اس واقعہ سے ان کی بند آنکھیں شاید کھول دی ہیں ۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے    ؎
ڈوبے کشتی تو ڈوبیں گے سارے 
نہ رہیں گے ہم نہ دشمن ہمارے
جموں و کشمیر پولیس سمیت ہم سب ایک ٹوٹتی کشتی میں سوار ہیں، طوفانوں میں ہچکولے کھاتی اس کشتی میں مسافر ہونے کے تعلق سے ہمیں ظلم اور انصاف کے درمیان فرق کر نے کا سلیقہ سیکھنے کا ایک اہم موقع ہم سبوں کو نصیب ہوا ہے ،اس لئے ہم وقت کی نزاکت کو سمجھیں اور اس پرعمل کریں، ہم باہم دگر’’اپنوں پر ستم غیروں پہ کرم ‘‘کا منفی رویہ چھوڑ دیں۔ ایک ودسرے کے دُکھ سکھ سمجھنے کی کوشش کریں، حق وصداقت جانیں اور صرف حق کا ساتھ دیں ، اپنے ضمیر کو جگائیں، خصوصی طورپولیس وردی پہنے لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کے دروازے کھول دینے چاہیے ۔نئی دلی کو بھی نوشتہ ٔ دیوار پڑھنے میںدیر نہ کر کے کشمیر کو بندوق کے سائے سے نکال کر اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہیے ۔ الغرض فوجی اہلکاروںکا پولیس اہلکاروں کو شدید زد کوب کرنا ریاست جموں و کشمیر کے سیاسی حکمرانوں کے لئے بھی ایک ایسا سبق آموز واقعہ ہے جس پرا نہیں پر سنجیدہ ہونا چاہیے۔ وہ یہ حقیقت جتنی جلدی سمجھیں اتنا بہتر ہے کہ بھلے ہی وہ خود کو پکا ہندوستانی ثابت کر نے کے لئے نئی دلی کے سامنے لاکھ جھک جائیں اور قسمیں کھا کھا کے اپنی وفاداریوں کا یقین دلائیںلیکن نئی دلی کو ہمیشہ کشمیرسے مطلب ہے نہ کہ کشمیریوں سے ۔ حکمرانوں کو وقت کی نازک صورت حال سمجھتے ہوئے ناپائیدارکرسی کی لالچ میں اپنی قوم کا سودا نہیںکرنا چاہیے کیونکہ نئی دلی کے ہاتھ قومی مفادات بیچ کھانا ان کے لئے سودا مہنگا ثابت ہوگا۔
zahid.shafi22@gmail.com
9797110175