تازہ ترین

گائے پر انتہا پسندانہ سیاست!

تیر وخنجر اِک طرف ہے جگر مسلم اِک طرف

20 مئی 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

غلام نبی کشافی
اس وقت ہندوستانی مسلمان تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں، کہنے کو تو ہندوستان ستر سال پہلے آزاد ہوا تھا، مگر ہندوستانی مسلمان پہلے بھی غلام تھے اور آج بھی غلام ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے وہ انگریزوں کے نشانہ پر تھے اور آج ہندو انتہاء پسندوں کے نشانے پر، اگر تاریخ کے اوراق کو پلٹا جائے تو پھر مسلمانوں کی خون ریزی کی ایک لمبی اور اندوہناک داستان پڑھنے کو ملے گی۔ زیادہ دور مت جایئے۔ پچھلی چند دہائیوں پر ہی نظر ڈالئے، جیسا کہ مالیگائوں کا بم دھماکہ ہو یا اجمیر شریف، مکہ مسجد حیدر آباد اور سمجھوتہ ایکسپریس کے بم دھماکے ہوں اور یاپھر گودرا ٹرین کے پُر اسرار طریقے سے جلائے جانے کی بنا پر گجرات کے نہتے اور بے قصور مسلمانوں کا قتل عام، یہ تب کی بات ہے کہ جب گجرات کے وزیر اعلیٰ، آج کے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی تھے اور جس قتل عام پر اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری نے کہا تھا کہ گجرات کے اس سانحہ سے میرا سر جھک گیا، اور اسی سانحہ پر کسی مسلم دل جلے شاعر نے یہ دو شعر کہے تھے    ؎
قلم حق و صداقت پر تمہارا جب کبھی اٹھے
تمہارے دل میں جو تڑپیں وہ احساسات لکھ دینا
تصرف اتنا کرلینا اپنی عبارت میں
جہاں مقتل لکھنا ہو تم گجرات لکھ دینا
بلکہ جب سے نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی سرکار مرکز پر قابض ہوگئی اور سارے کا سارا اقتدار نریندر مودی کے ہاتھ میں آگیا، تب سے مسلمان ایک نئی اذیت ناک صورت حال سے دو چار ہوگئے ہیں۔ آر ایس ایس اور دوسری ہندو انتہاء پسند تنظیموں نے غنڈہ گردی کے تمام ریکارڈ توڑ کر رکھ دئے ہیںاور پورے ہندوستان میں خوف و دہشت کا ماحول بنادیا ہے جس کے سب سے زیادہ شکار مسلمان نظر آرہے ہیں۔ آج کل ہندوستان کی کئی ریاستوں میں گائو کشی کے جھوٹے واقعات کا بہانہ بنا کر بے قصور مسلمانوں کا خون بہایا جاتا ہے اور گائو کشی کے ان مفروضہ واقعات کے ذریعہ مسلم علاقوں میں خوف و دہشت پھیلادی گئی ہے اور یہاں تک کہ اس موجودہ غنڈہ گردی نے اب سیاسی روپ دھار لیا ہے، جب کہ بی جے پی اس میں مزید مرچ مسالہ ڈال کر ظالم گاؤ رکھشکوںکے لئے مسلمان لقمہ ترٔ بنادیا ہے۔ اپنے مذموم حکومتی و سیاسی مقاصد کی خاطر بھاجپا نے مسلم اقلیت کے خلاف جنگ جیسی تنگ طلبی بڑے پیمانے شروع کردی ہے ۔ الٹی کھوپڑی والے ان گائے بھگتوں کو معلوم ہے کہ ہندوستان کے کچھ مخصوص طبقوں کو چھوڑ کر دنیا بھر کے انسان خواہ وہ کسی بھی مذہب و ملت اور رنگ و نسل سے ہوں، ہمیشہ گائے کا گوشت کاٹ کھاتے آئے ہیں اور آج بھی دنیا کی ایک بڑی آبادی کا یہی مرغوب خوراک مانا جاتا ہے۔ یہ بات ہندو اہل دانش بھی جانتے اور مانتے ہیں کہ ویدک دھرم کی کسی بھی مقدس کتاب میں کہیں پر بھی یہ نہیں لکھا ہوا ہے کہ گائے کو ذبح نہ کیا جائے یا اس کا گوشت نہ کھایا جائے بلکہ قرآن میں بھی ان چوپایوں اور مویشیوں کا ذکر آیا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی بنیادی ضرورت کے طور پر پیدا فرمایا ہے جن میں گائے بھی سرفہرست کے طور پر شامل ہے ۔ قرآن میں حیوانات کا ذکر کئی طرح کے فائدے اٹھانے اور ان سے سبق حاصل کرنے کی غرض سے کیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:(۱)’’اور تمہارے چوپایوں میں بھی عبرت کا سامان موجود ہے۔ ان کے پیٹ میں جو گوبر اور خون ہے، ہم ان ہی کے درمیان میں سے خالص دودھ مہیا کرتے ہیں۔ جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہوتا ہے‘‘۔ (النحل: ۶۶)۔(۲)’’اور تمہارے لیے چوپایوں میں بھی سبق موجود ہے ہم ان کے اندر سے جو ان کے پیٹ میں ہے (خالص دودھ نکال کر) تمھیں پلاتے ہیں اور تمہارے لیے ان میں بہت سے فائدے ہیں اور تم ان میں سے بعض (کے گوشت) کو کھاتے بھی ہو‘‘۔ (المومنون: ۲۱)
قرآن کے یہ ارشادات انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں اور جن لوگوں تک قرآن کا یہ پیغام ابھی تک نہیں بھی پہنچا ہو مگر پھر بھی وہ فطری طور پر ان چوپایوں سے خالص دودھ کے ساتھ ساتھ ان کو ذبح کر کے ان کا گوشت بھی کھاتے ہیں، نیز قرآن نے ان چوپایوں کے دوسرے فوائد کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور جسے انسان کی صواب دید پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ خود ہی ان سے دوسرے فائدے کی چیزوں کو تلاش کریں۔ مثال کے طور پر ان کو سواری کے طور پر بھی استعمال میں لایا جاتا ہے۔ ہل چلانے کا کام بھی ان سے لیا جاتا ہے۔ اور ان کو ذبح کر نے کے بعد ان کے جسموں سے اُتاری جانے والی کھالوں سے سردی سے بچنے کے لیے گرم ملبوسات اور جوتے چپل بھی بنائے جاتے ہیں۔ اور جن کو ہند و مسلمان اور دوسرے مذاہب ماننے والے سبھی انسان استعمال میں لاتے ہیں اور جس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا ہے اور سچ بات یہ ہے کہ آج تک پوری دنیا اسی قانون فطرت پر چل کر یہی کچھ کرتی آئی ہے اور اس کے خلاف کسی قابل ذکر ملک یا قوم کی استثناء نہیں ہے کہ جو چوپایوں سے اس طرح کے فوائد حاصل کرنے کے خلاف ہو، بلکہ سب ان سے دودھ سے لیکر کھال تک فائدہ اٹھاتے آئے ہیں۔
لیکن آج کل ہندوستان میں جو کچھ گائے رکھشا کے نام پر ہورہا ہے، وہ محض مکار سیاست دانوں اور ہندو انتہا پسندوں کی شرارت کے سوا کچھ نہیں ہے بلکہ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا گائے صرف مسلمان ہی پالتے ہیں؟ ہندوستان میں ہندوئوں کی اکثریت ہے، ان کے ہاں بھی گائیں کثرت سے پالی جاتی ہیں اور وہ صرف ان کو اپنے دنیاوی فائدے کے لیے پالتے ہیںلیکن گھر میں ان کی کوئی پوجا نہیں کرتا ہے بلکہ جن گائو خانوں میں گائیں رکھی جاتی ہیں وہ ان کے پیشاب اور گوبر کی وجہ سے انتہائی بدبو دار ہوتی ہیں اور جس کی وجہ سے وہاں پر کسی عبادت یا پوجا کرنے کا خیال بھی آنا ناممکن بات ہوتی ہے۔ نیز جب یہی گائیں بوڑھی ہوجاتی ہیں تو پھر یا تو ان کے مالک ان کو کھلا چھوڑ دیتے ہیں اور یا پھر ان کو چوری چھپے ہوٹل والوں کو سستے داموں میں بیچ دیتے ہیں اور پھر انہی ہوٹلوں میں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ ان کا گوشت سے بنے لذیز پکوانے کھاتے رہتے ہیں۔ چونکہ اگر وہ گائیں واقعی اپنے مالکوں کے ہی گھروں میں مرجاتی ہیں تو پھر ان کی لاشوں کو کیا آسمان کھا جاتا ہے یا پھر زمین نگل جاتی ہے؟ تقریباً ڈیڑھ دہائی قبل کی بات ہے کہ میں دہلی میں چند مہینے قیام پذیر تھا اور اس دوران میں روزانہ اخبار ’’قومی آواز‘‘ پڑھتا تھا۔ اس کے ایک شمارے میں ایک یہ خبر چھپی تھی کہ ایک گائے کو ذبح کرنے کے بعد اس کے پیٹ سے چالیس کلو پالی تھین برآمد ہوئے اور یہ اس ملک کا واقعہ ہے، جہاں مکار سیاست دان اور ہندو انتہاء پسند گائے کو ماں اور بھگوان کا درجہ دینے کا راگ الاپتے رہتے ہیںلیکن جب وہی گائے بوڑھی ہوجاتی ہیں تو وہ اپنے مالک کے لیے بوجھ بن جاتی ہے اور پھر اس کے لیے خوارک مہیا کرنے کے ڈر سے اسے بھوکا چھوڑ کر اس کو کوڑا کرکٹ اور پالتھین تک کھانے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے تو وہی لوگ بہتر ہیں جو گائیوں کی دیکھ ریکھ بھی کرتے ہیں، ان سے دودھ بھی حاصل کرتے ہیں اور جب وہ بوڑھی ہوجاتی ہے تو وہ ان کو کھلا آوارہ نہیں چھوڑتے ہیں بلکہ ذبح کر کے ان کا گوشت کھاتے کھلاتے ہیں اور ان سے کھالیں اُتار کر ان کمپنیوں کو بیچ دیتے ہیں جو ان سے گرم ملبوسات کے ساتھ ساتھ جوتے چپل کمربند بیگ وغیرہ بنادیتے ہیں اوریہ پائدار بھی ہوتے ہیں۔ ہندئووں کے ہاں بوڑھی گائیوں کی جتنی بے قدری ہوتی ہے، اس کی مثال دنیا کے کسی بھی ملک یا قوم میں نہیں ملتی ہے۔ اصل میں ہندو انتہاء پسند اور مکار سیاست دان جس طرح کی گائیوں کے ساتھ جھوٹی ہمدردی اور عقیدت کا تماشہ دکھاتے ہیں، اس کے پیچھے دو مقاصد کارفرما ہیں :ایک تو سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے اور دوسرا مسلمانوں کو ذبح گائے کے نام پر مظالم کا شکار بنانا۔
گاندھی جی بھی ہندوئوں کی اس متشدادانہ طرز فکر سے سخت دل برداشتہ تھے اور مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے سے روکنے کے سخت خلاف تھے۔ چنانچہ ۱۹۴۷ء میں مظفر پور کے کانگریس اجلاس میں گاندھی جی نے تقریر کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ قانوناً مسلمانوں کو ذبیحہ گائے سے روکنا ایسا ہی ہے جیسا کہ پاکستان میں ہندئوں پر شرعی قانون نافذ کردیا جائے۔ اُن کی یہ تقریر راج گھاٹ دہلی میں واقع گاندھی سنگھرالیہ میں محفوظ ہے۔ (ہندوتو: اہداف و مسائل، ص: ۲۵۰)فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والے جتنے بھی افراد میڈیا سے وابستہ ہوتے ہیں خواہ وہ اپنے ملک کے میڈیا سے جڑے ہوں یا ملک سے باہر کسی دوسرے ملک کے میڈیا میں کام کرتے ہوں مگر ان پر لبرل یا آزادیٔ رائے رکھنے والے میڈیا کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے۔ ان کے اندر تعصب و تنگ نظری اور فرقہ پرست ذہنیت ہمیشہ پروان چڑھتی رہتی ہے جس کا ثبوت ان غیر ملکی اداروں میں اس طرح کے کام کرنے والے افراد سے ملتا ہے جس کی ایک مثال پاکستان کے مشہور عالم و مفکر ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم کے ایک انٹرویو کے ذریعہ ملتی ہے۔ انہوں نے اپنی ایک کتاب میں اپنے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا ہے۔ اس انٹرویو میں دو اور اہل ِدانش ان کے ساتھ تھے اور ان سے بھی انٹرویو لیا گیا تھا، انہوں نے یہ انٹرویو بی بی سی کو اگست ۱۹۹۴ء میں دیا تھا۔ انٹرویو لینے والا ہندو تھا جس کے اندر ہندو فرقہ پرست ذہنیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ چنانچہ اس انٹرویو کا ایک سوال اور اس کا جواب ڈاکٹر مرحوم کے الفاظ میں اس طرح ہے:
’’اس نے کہا کہ پاکستان کے بعض قوانین بڑے مضحکہ خیز ہیں، آپ تو بڑھے پڑھے لکھے آدمی معلوم ہوتے ہیں، سمجھ دار معلوم ہوتے  ہیں اور مجھے یہ بھی کسی نے بتایا ہے کہ پاکستان میں قوانین وغیرہ سے آپ کا تعلق رہا ہے، تو آپ کی موجودگی میں، آپ کے ہوتے ہوئے یہ مضحکہ خیز قوانین کیوں ہیں؟ مجھے معلوم تھا کہ وہ کس قانون کی طرف اشارہ کرے گا، اس لیے میں نے اس کا ذکر نہیں کیا، وہ فوراً اینٹی قادیانی لاء کے بارے میں کہتا، توہین رسالت والے قانون کے بارے میں کہتا، یہ دو مثالیں دیتا، یا پھر حدود رجم کی مثال دیتا، میں نے کہا: دیکھئے کون سا قانون مضحکہ خیز ہے، کون سا نہیں ؟ یہ فیصلہ کرنے کا اُس ملک کے لوگوں کو اختیار ہے جنہوں نے قانون بنایا ہے، اب مثلاً ہندوستان اتنی بڑی جمہوریت ہے، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، میں بطور قانون کے طالب علم کے آپ کے ملک کے قوانین کا مطالعہ بھی کرتا رہتا ہوں، آپ کے دستور میں جہاں ریاست کے بنیادی فرائض لکھے ہیں، ایک باب میں ریاست کی بنیادی ذمہ داریاں بیان ہوئی ہیں، وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ ریاست گائے کا تحفظ بھی کرے گی تو مجھے یہ بات بڑی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریاست گائے کا تحفظ کیوں کرے گی، بکری کا کیوں نہیں کرے گی؟ بھینس کا کیوں نہیں کرے گی؟ مرغی کا کیوں نہیں کرے گی؟ یہ سارے جانور انسانوں کے لیے مفید ہیں تو مجھے یہ بات مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے‘‘۔ (محاضراتِ تعلیم، ص: ۱۴۱)
اسی ضمن میں ایک اور قابل غور بات یہ ہے کہ مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رُکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی صاحب نے اپنی ایک تقریر میں بی جے پی کو سخت الفاظ میں ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ بڑے جانور کا گوشت اور گائے کے ذبیحہ کے معاملہ میں بی جے پی کا رویہ منافقانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوپی میں بی جے پی کے لئے گائے ماں کا درجہ رکھتی ہے اور شمال مشرقی ریاستوں میں گائے کا گوشت روز مرہ کی غذا کا حصہ ہے یعنی شمالی ہند میں گائے ’’ممی‘ ‘ہے اور شمالی مشرقی ہند میں ’’یمی‘‘ (Yammy) ہے۔
یہ ۱۹۹۶ء کی بات ہے کہ جب اٹل بہاری واجپائی کی پہلی بار ۱۳؍ دنوں کی سرکار بنی تھی ، اس وقت بھی گائے کے ذبیحہ پر پابندی کی بات سامنے آئی تھی اور اس وقت بی جے پی نے انگریزی زبان میں ایک پریس نوٹ جاری کیا تھا ، اس میں ایک من گھڑت حدیث کا بھی حوالہ دیا گیا تھا کہ ’’دودھ میں شفاء ہے اور اس کا گوشت زہر ہے‘‘۔ (Cow's milk is medicine, cow's flesh is poison)حالانکہ اُس وقت بعض اہل علم نے اسے انتہائی لغو قرار دیا تھا اور واضح کیا تھا کہ اسلام عقل کی تعلیم دیتا ہے۔ جب ایک مویشی کا دودھ شفاء کی تاثیر رکھتا ہے تو اس کا گوشت کیسے مضر ہوسکتا ہے؟ہندوستان میں آج کل اس بات کی بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر گائے کے معاملہ میں ہندو انتہاء پسندوں کی طرف تشدد کی مہم میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا اور مسلمانوں کا قتل عام بھی جاری رہا تو پھر ہندوستان سے گائے کی نسل ہی ختم ہوجائے گی بلکہ اس سلسلہ میں پلاننگ کمیشن کے سابق رُکن کرت پاریکھ نے ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ میں شائع ایک مضمون میں خبر دار کیا کہ ’’اگر گائے کو ذبح کرنے پر سختی سے پابندی لگادی گئی تو اس ملک سے گائے کی نسل ختم ہوجائے گی اور اگر گائو رکھشک سزا کے خوف سے بے نیاز ہو کر اس طرح لوگوں کو خوف زدہ اور قتل کرتے رہیں گے تو یہ بات یقینی ہے کہ کوئی گائے کی پرورش نہیں کرے گا۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے، افکار ملی، مئی ۲۰۱۷ء، ص: ۳۳۔ ۳۴)آج ہندوستان میں جہاں ایک طرف گائے کے نام پر مسلمانوں کا خون بہایا جاتا ہے، وہاں دوسری طرف آسام او رناگالینڈ کے لوگ بھیڑ بکریوں کے مقابلے میں کتوں کے گوشت کو کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں اور یہ وہی ملک ہے جس میںکتوں کو قانونی طور پر مارنا منع ہے۔ باوجود یکہ پچھلی تقریباً دو دہائیوں کے دوران انہی کتوں نے ہزاروں انسانوں کو کاٹ کر شدید زخمی کردیا ہے، جن میں زیادہ تر بچے ہیں اور سینکڑوں افراد کی صرف اس لیے جانیں گئیں کہ یا تو ان کو بروقت علاج نہیں ملا اور یا پھر مناسب علاج نہ ملنے کی وجہ سے ان کی موت ہوگئی۔ یہ سلسلہ آج بھی ہر جگہ جاری ہے مگر حکمران ٹولہ اس صورت حال سے ٹس سے مس بھی نہیں ہوتا جب کہ قانون کے ٹھیکیدار بھی اس سے آنکھیں چرائے ہوئے ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ سارے متضاد و مضحکہ خیز قوانین اس ملک کے ہیں، جو پوری دنیا میں اپنی جمہوریت اور سیکولرزم کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے۔ مگر ملک کے اندر گائے کے نام پر جو غنڈہ گردی جاری ہے اور جس طرح سے اس گائے کے نام پر ہر جگہ مسلمانوں کو مارا جارہا ہے،وہ پوری دنیا دیکھ بھی رہی ہے اور پوری انسانیت کے لیے لمحۂ فکریہ بھی ہے۔ اگر مسلمان اس ظلم کو سہتے رہیںاور چپ سادھ لئے بیٹھ گئے تو پھر آگے سہ طلاق اور دوسرے شرعی وعائلی مسائل و قوانین کو لے کر ہند وانتہاء پسندوں کی بلاجواز مداخلت فی الدین اور بڑھتی جائے گی کہ پھر اس کو روکنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بن جائے گا۔ اس لیے اس وقت ہندوستانی مسلمانوں کے لیے سب سے اہم بات متحد ہو کر کسی بھی طرح کی شرعی معاملات میں مداخلت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص کر گائے کے معاملہ کو لے کر صحیح شرعی نقطہ نظر کے ساتھ ساتھ عالم انسانی کے نقطہ نظر کو بھی سامنے رکھ کر اپنے دین و ایمان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں مولانا سید ابو اعلیٰ مودودیؒ کی مشہور کتاب ’’رسائل و مسائل‘‘ جو حال ہی میں پاکستان سے ایک ہی جلد میں ایک ضخیم کتاب کی صورت میں منظر عام پر آئی ہے، میں ’’ہندوستان میں گائے کی قربانی کا مسئلہ‘‘ کے تحت ایک سوال اور اس کا جواب بہت ہی مدلل انداز میں موجود ہے جسے موقع کی مناسبت سے یہاں آخر پر نقل کیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں تمام قارئین بالخصوص تمام علماء عظام و مفتیانِ کرام سے گزارش ہے کہ وہ درج ذیل سطور کے ساتھ ساتھ بین السطور پر بھی غور کر کے عوام الناس کی صحیح رہنمائی کرنے پر آگے آئیں۔ 
’’سوال: مسلمان قوم اگر ہندوستان میں گائے کی قربان کو روک دے تو اسلام کی نگاہ میں کوئی قیامت نہیں آجاتی، خصوصاً جب کہ اس فعل میں نفع کم اور نقصان زیادہ ہے۔ پھر کیوں نہ ایک ہمسایہ قوم کا اتحاد حاصل کرنے کے لیے رعایت سے کام لیا جائے؟ اکبر اعظم، جہانگیر، شاہجہاں اور موجودہ نظام حیدر آباد نے عملی مثالیں اس سلسلے میں قائم کی ہیں‘‘۔ 
جواب: ’’آپ نے جن بڑے بڑے ’’اماموں‘ ‘کا نام لیا ہے مجھے ان میں سے کسی کی تقلید کاشرف حاصل نہیں ہے۔ میرے نزدیک مسلمانوں نے ہندوستان میں ہندوئوں کو راضی کرنے کے لیے اگر گائے کی قربانی ترک کی تو چاہے وہ کائناتی قیامت نہ آجائے جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے، لیکن ہندوستان کی حد تک اسلام پر واقعی قیامت تو ضرور آجائے گی، افسوس یہ ہے کہ آپ لوگوںکا نقطہ نظر اس مسئلے میں اسلام کے نقطۂ نظر کی عین ضد ہے۔ آپ کے نزدیک اہمیت صرف اس امر کی ہے کہ کسی طرح دو قوموں کے درمیان اختلاف و نزاع کے اسباب دور ہوجائیں، لیکن اسلام کے نزدیک اصل اہمیت یہ امر رکھتا ہے کہ توحید کا عقیدہ اختیار کرنے والوں کو شرک کے ہرممکن خطرے سے بچایا جائے۔
جس ملک میں گائے کی پوجا نہ ہوتی ہو اور گائے کو معبودوں میں شامل نہ کیا گیا ہو اور اس کے تقدس کا بھی عقیدہ نہ پایا جاتا ہو، وہاں تو گائے کی قربانی محض ایک جائز فعل ہے، جس کو اگر نہ کیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیںہے لیکن جہاں گائے معبود ہو اور تقدس کا مقام رکھتی ہو، وہاں تو گائے کی قربانی کا حکم ہے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا، اگر ایسے ملک میں کچھ مدت تک مسلمان مصلحتاً گائے کی قربانی ترک کردیں اور گائے کا گوشت بھی نہ کھائیں تو یہ یقینی خطرہ ہے کہ آگے چل کر اپنی ہمسایہ قوموں کے گائو سپرستانہ عقائد سے وہ متاثر ہوجائیں گے اور گائے کے تقدس کا اثر ان کے قلوب میں اس طرح بیٹھ جائے گا جس طرح مصر کی گائو پرست آبادی میں رہتے ہوئے بنی اسرائیل کاحال ہوا تھا کہ -وَأُشْرِبُواْ فِیْ قُلُوبِہِمُ الْعِجْلَ - (البقرۃ: ۹۳) پھر اس ماحول میں جو ہندو اسلام قبول کریں گے وہ چاہے اسلام کے اور دوسرے عقائد قبول کرلیں، لیکن گائے کی تقدیس ان کے اندر بدستور موجود رہے گی۔ اسی لئے ہندوستان میں گائے کی قربانی کو بھی واجب سمجھتا ہوں اور اس کے ساتھ میرے نزدیک کسی نو مسلم ہندو کا اسلام اس وقت تک معتبر نہیں ہے۔ جب تک وہ کم از کم ایک مرتبہ گائے کا گوشت نہ کھالے۔ اسی کی طرف وہ حدیث اشارہ کرتی ہے، جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جس نے نماز پڑھی جیسی ہم پڑھتے ہیں اور جس نے اسی قبلے کو اختیار کیا جو ہمارا ہے اور جس نے ہمارا ذبیحہ کھایا وہ ہم سے ہے‘‘۔ یہ ’’ہمارا ذبیحہ‘‘ دوسرے الفاظ میں یہ معنی رکھتا ہے کہ مسلمانوں میں شامل ہونے کے لیے ان اوہام و قیود اور بندشوں کا توڑنا بھی ضروری ہے، جن کا جاہلیت کی حالت میں کوئی شخص پابند رہا ہو‘‘۔ (رسائل ومسائل، ص: ۲۴۲، ایڈیشن ۲۰۱۵ء، لاہور)کسی نے بجا فرمایا   ؎
کب تک بہے گا خونِ مسلم کوئی بتائے تو
دہشت کا یہ ننگا ناچ گائے کے نام پر
...........................
رابطہ:آنچار (صورہ) سرینگر کشمیر ۱۹۰۰۱۱
موبائل  +91 9419 734 878
